قلم کا جنم__________4

(رابعہ نثار)

افسانہ نگار
**********************
میرا نام رابعہ ہے اور تعریف کے لیے کچھ خاص ہے نہیں اس لیے تعارف ہی کرواؤں گی…
24 دسمبر کو راولپنڈی میں پیدا ہوئ
بچپن کی یادیں شاید خوبصورت نہیں تھی اس لیے ذہن پر نقش نا ہو سکیں …
گھر کا ماحول مذہبی اور غیر ادبی تھا … غیر ادبی اس لیے کہ لٹریچر کو گناہ سمجھا جاتا تھا.. خاندان میں دور دور تک کسی کا تعلق ادب سے یا لکھنے لکھانے سے کوئ تعلق ثابت نہ ہو سکا…میرے تین بھائ ہیں اور میں ایک ہی بہن یہی وجہ ہے کہ پابندیاں تقسیم نہ ہوسکی اور میرے حصے میں آئیں… لیکن مجھے ہمیشہ سے شاعری اور کہانیاں بہت پسند تھی.مجھے نہیں یاد کہ ہمارے گھر میں ایک بھی ناول ہو یا کبھی کسی کو پڑھتے دیکھا ہو..
میں یہ کام چھپ چھپا کر ہی کیا کرتی تھی..
شاعری سننے کے لیے ایک چھوٹا ریڈیو عیدی کے پیسے جمع کر کے خریدا تھا ریڈیو پر نائٹ شو ہوا کرتے تھے جس میں ابرار عمر بہت عمدہ شاعری سنایا کرتے تھے اور کئ سال میں نے ابرار عمر کا کوئ پروگرام مس نہیں کیا…
کہانیاں پڑھنے کو دل چاہتا تو اخبار جہاں خرید لیتی کیونکہ وہ اگر اماں کو نظر آ بھی جائے تو قہر و غضب کا خدشہ ذرا کم ہی ہوتا تھا … ایک بار خالہ کے گھر گئ تو وہاں ایک ڈائجسٹ دیکھا میں نے وہ تھوڑا سا پڑھا تو مجھے بہت دلچسپ لگا.. لیکن گھر میں ایسا خطرناک میٹیریل نہیں لا سکتی تھی اس لیے اخبار جہاں پر ہی گزارہ کرنا پڑا بہر حال شاعری کا خواب ابرار عمر کے “خواب دریچے” سے خوب پورا ہوا کرتا تھا..
پڑھنے لکھنے میں کافی محنتی بھی تھی اور ذہین بھی لیکن پرائیویٹ ایف اے کیا اور ایف اے کے فورا بعد 2011 میں شادی ہو گئ..
یہ میری لائف کا ٹرننگ پوائینٹ تھا… میرے ہیزبنڈ انگریزی لٹریچر میں ماسٹرز تھے اور آزاد خیال تھے انھوں نے میرے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے پڑھنے لکھنے کی نا صرف کھلی آزادی دی بلکہ رہنمائ بھی کی
اگر چہ شادی بعد مجھے پر ملے لیکن ذمہ داریوں کے بوجھ نے اونچی اڑان اڑنے سے باز رکھا..
بہرحال میں ایک منزل کی جانب گامزن ہو گئ اور میں نے ریگولر بی ایس اردو لٹریچر میں داخلہ لیا.. اب پڑھنے کو بہت کچھ تھا بس وقت نہیں تھا… شادی کے فورا بعد ہی اللہ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا.. بیٹا ایک سال کا تھا جب میں نے پڑھنا شروع کیا.. میری خواہش کی تکمیل تو ہوئ لیکن اسکی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی ….
رات بھر بچہ جگاتا اور دن بھر ذمہ داریاں…آرام …سکون گھومنا..پھرنا.. سب قربان کرنا پڑا… میں انسان سے ذیادہ مشین بن گئ تھی تب کہیں جا کر 2018 کو چار سال بعد میری ڈگری مکمل ہوئ… اب میری فیملی کی کئ لڑکیاں شادی کے بعد پڑھ رہی ہیں اور اب کوئ بھی شادی کے لیے یہ شرط نہیں رکھتا کہ پڑھائ پوری ہو گی تو شادی ہو گی… اب ہر زبان سے بے ساختہ نکلتا ہے کہ رابعہ نے بھی تو پڑھا ہے..
اور اب میں نے ایم ایس میں داخلہ لے لیا ہے…
لکھنے لکھانے میں چونکہ ابتدا میں شاعری تک رسائ ذیادہ تھی اس لیے شاعری ہی سے آغاز کیا اور جب تک کوئ اصول کوئ باریکی کا علم نہیں تھا تب تک بے دھڑک لکھا بس پھر کسی نے اوزان کی طرف متوجہ کر دیا اور سکھائے بھی نہیں اسکا نقصان یہ ہوا کہ بے دھڑک لکھنا تھم سا گیا… بی ایس کے دوران بہت سے افسانے پڑھے تو لکھائ میں بھی کہانی کی طرف متوجہ ہوئ…. اب تک ہلکی پھلکی چند کہانیاں لکھی ہیں ایک دو الیکشن کے دنوں میں لکھی تھی جو فارم پر پوسٹ بھی کی.. کہانی لکھنے میں ینگ وومن رائیٹر فارم بہت مددگار ثابت ہو رہا ہے… اور اب اتنے اچھے استاد تک رسائ بھی فارم کی بدولت ہی ممکن ہوئ..
________________
گل ارباب

شاعرہ،افسانہ نگار
آج لکھ رہی ہوں تتلیوں جگنوؤں اور رنگوں سے مزین اک خاص بچی کے عام سے بچپن کی سچی کہانی وہ بچی جسے چنبیلی ٬ نیلوفر ٬ بنفشہ نرگس اور سفید گلاب کے پھول بہت پسند تھے مگر نہ ہاتھوں میں نہ اپنے بالوں میں نہ کتابوں میں نہ گلدانوں میں نہ آنگن میں گھڑونچی پر رکھے مٹی کے گھڑوں کے گرد ہار کی صورت میں لپٹے ہوئے وہ تو شادی بیاہ یا حج عمرے سے واپس آنے والوں کے گلے کے ہاروں میں پروئے ہوئے پھولوں کو بھی چپکے چپکے گنتی اور دکھے دل کے ساتھ حساب لگاتی کہ کتنے پودوں کو ان پھولوں کی جدائی سہنی پڑی ہوگی اور اب عین اوائل بہار میں خزاں بال کھولے نوحہ کناں گلستان میں پھرتی ہوگی کانٹوں کی قدر آئی ہوگی اسے گلوں سے عشق تھا مگر وہ عشق کا احترام کرتی تھی اسے وہ گل اپنے مقام پر پسند تھے کسی کو اس کے مقام سے گرا کر نفرت اور دشمنی تو کی جا سکتی ہے لیکن عشق و محبت نہیں ۔اس حساس بچی کی سوچ منفرد تھی بالکل الگ دروازے پر فقیر آتے اور وہ دروازہ کھولتی تو فقیر اسے دیکھ کر کھل سے جاتے کیونکہ باقی لوگوں کی طرح وہ ایک سکہ یا پلیٹ میں آٹا نہیں لاتی تھی چپکے سے باپ کے بٹوے میں سے بڑا سا نوٹ یا ماں کی نظروں سے بچا کر ان کی کوئی قیمتی چیز فقیر کو دے دیتی تھی اپنے حصے کی روٹی چھوٹی سی سرخ اوڑھنی میں چھپا لیتی اور دودھ کی وہ پیالی جو ماں اسے پینے کی تاکید کرتے ہوئے پکڑا جاتی وہ چپکے سے گھر سے جوتے مار کر دھتکاری جانے والی بلی کے لیے صحن میں لگے شہتوت کے درخت کے نیچے رکھ دیتی تھی اس دودھ میں چھوٹے چھوٹے روٹی کے بھورے بھی شامل ہوتے تھے جو بلی مزے سے کھا کر اک شکر گزار نظر اس پر ضرور ڈالتی تھی اسی سے تو اس نے مالک و رازق کی شکر گزاری سیکھی تھی وہ پیٹ میں جاتے ہر لقمے کو حق نہیں سمجھتی تھی احسان سمجھتی تھی ۔
۔وہ اچھے اور نئے کپڑے پہنتی تو اداس ہوجاتی پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس اپنے آپ سے کہیں زیادہ خوبصورت بچوں کو ننگے پاؤں دھوپ میں جلتے دیکھ کر اپنا ریشمی رنگین پیرآھن اسے کاٹنے کو دوڑتا ننگے پاؤں دھوپ میں چلتے کسی بچے کو اپنے جوتے دے کر جب تپتی زمین پر پاؤں رکھتی گھر پہنچتی تو ماں کا تھپڑ منتظر ملتا یوں اس کے گال ہر وقت لال رہتے ۔۔ماں بھی تھک جاتی لیکن وہ نہ تھکتی تھی ۔۔جلتی دوپہر سب مزے سے اے سی والے کمرے میں سو رہے ہوتے اور وہ جلے پیر کی بلی کی طرح گرمی میں ٹہل رہی ہوتی ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کے لیے جنہیں پنکھا بھی دستیاب نہیں تھا ۔جوں جوں بڑی ہوتی گئی اس نے اپنے اندر ایک ایسی دنیا بسا لی تھی جو صرف اس کی تھی وہ اس دنیا کی شھزادی بھی تھی اور رعایا بھی وہ اس دنیا کے سارے دکھ وہیں چھپائے رکھتی تھی بظاہر قہقہے لگاتی ہنستی مسکراتی رہتی لیکن اندر کی دنیا کے دکھ اس کے مسکراتے چہرے پر چمکتی دو اداس آنکھوں میں سے ہمہ وقت جھانکتے رہتے تھے ان چھوٹے چھوٹے دکھوں کی وجہ سے اس دنیا کے سارے منظر دھندلے سے نظر آتے تھے دکھ معاشرتی ناہمواریوں کے غریب کو غریب تر اور امیر شہر کو امیر تر بنانے کے اس ظالمانہ نظام کے جو بدلنے کے لیے کوئی نہیں اٹھتا تھا ۔دکھ ان کھلی فضاؤں سے محرومی کا جو کٹے ہوئے پروں پر ہنستی ہیں اڑان کی کوششوں کی داد نہیں دیتیں ٬ دکھ اپنے آس پاس مرد و زن میں تفریق کا ٬دکھ خواہشوں کا حسرتوں میں مدغم ہو جانے کا ٬دکھ ان متضاد رویوں کا جو مذہب اور معاشرے کے اصولوں کے نام پر ہر شخص نے دھرے معیار اپنا کر عورت کا استحصال کرنے میں لگا رکھے ہیں دکھ ۔غیرت کے نام پر بیچ چوراہے خون میں لتھڑی ہوئی اس عورت کی لاش کا جس نے اپنی پسند کی شادی کی ۔اور قاتلوں کی فہرست میں وہ بھی تھے جنہوں نے قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑھ رکھا تھا یہ ہی قاتل عالم بھی کہلاتے تھے اور قتل گاہ کا نام انہوں نے جرگہ رکھا ہوا تھا ۔
دکھ علم حاصل کرنے کی جائز خواہش کے قتل کا اور قاتل بھی کون ؟ وہ جو اپنے تھے ۔
دکھ مردوں کی اس معتصب سوچ کا جو عورت کو انسان نہیں فقط عورت سمجھ کر زیر کرنے کی تگ و دو میں لگے رہو ۔دکھ وراثت سے اس بیٹی کو نکل دینے کا جو قرآن پاک کے پہلے سیپارے میں صاف صاف لکھا اپنا حق دیکھ کر بھی چپ رہتی ہے اور اک ٹھنڈی آہ بھر کر حق بخشش دینے کے لیے انگوٹھا بھی لگا دیتی ہے ۔
انہی دکھوں نے جب اندر کی دنیا میں فساد ڈالنے شروع کر دئیے اور ضبط کی بنیادیں لرزنے لگیں تب اس نے اپنی ہم صنفوں کے لیے علم بغاوت بلںد کرنے کی سعی کی ۔۔لیکن اپنے اس پاس کی باغی لڑکیوں کا انجام اسے چپکے چپکے سماعتوں میں یہ سرگوشیاں کرتا دھمکیاں دیتا محسوس ہوتا ” اپنی حد میں رہو ورنہ زبان کاٹ دی جائے گی دیواریں آج بھی ویسی ہی پکی ہیں انارکلیاں چنوانے کے لیے اور انار کلیاں آج بھی آس بھری بصارتوں سے بزدل شہزادوں کی طرف دیکھ رہی ہیں اور شھزادے آج بھی شاہوں کے جلال اور تاج و تخت سے دستبرداری کے ڈر سے نظریں چرائے سمجھ رہے ہیں کہ وہ جی رہے ہیں ۔
اسے لگتا اپنوں کی یہ انکھیں جو آج تنبیہ کر رہی ہیں یہ کسی دن سوئی بن کر لبوں کو سی دیں گی
ایسے میں اس نے اپنے بچاو کے لیے جو پہلا ہتھیار استعمال کیا وہ قلم تھا ۔۔۔قلم سے اپنا بچاو اپنا دفاع کرتی رہی ٬ قلم سے اپنی بقا کی جنگ لڑتی رہی ٬ قلم سے اپنے اندر کی دنیا کا نقشہ بناتی رہی ٬ قلم سے اپنے خوابوں کی تعبیریں لکھتی رہی ٬ قلم سے اندر کی دنیا کی سب گھٹن نکالتی رہی قلم ہی تھا جو زخم سیتا تھا قلم ہی تھا جو درد کا زہر پیتا تھا قلم ہی تھا جو تنہائی بانٹتا تھا قلم ہی تھا جو مسیحائی کرتا تھا قلم میں روشنائی آنسوؤں کی تھی قلم میں اس پگلی کا قلب دھڑکتا تھا۔—قلم سے ہی کرب ٹپکتا تھا قلم سے عشق کرنے والی اس لڑکی نے کبھی خود کو عام نہیں سمجھا تھا کیونکہ جنہیں محبت اور رحم ودیعت ہوتا ہے وہ خاص ہوتے ہیں وہ جانتی تھی اس کا رب اس کا تخلیق کار اپنی ہر تخلیق میں اپنا کوئی رنگ اپنی کوئی صفت تھوڑی سی ضرور شامل کرتا ہے اسے اپنا آپ خاص لگتا تھا کیونکہ اسے اپنے تخلیق کار نے ساری مخلوقات سے افضل کہا تھا اس خاص سی لڑکی کی عام سی زندگی میں خاص اس کی سوچ تھی وہ سوچ جتنی بھی خوبصورت ہوتی لیکن محدود ہی رہ جاتی عام نہ ہوتی قلم کا ساتھ گر نہ مل پاتا اس لیے سوچ اور قلم کے امتزاج سے تلخ حقائق لکھ لکھ کر جی رہی ہے ان لمحوں میں جن میں جینا مشکل ہے ۔
وہ تتلیوں کے پروں پر گیت لکھتی ہے بارشوں کے موسم میں بھی ۔
بچپن کی محبت طاقت ور ہوتی ہے اور قلم اس کے بچپن کی محبت تھا ۔کہیں کہیں تھا ٬ کا مطلب گزرا ہوا کل نہیں ہوتا بلکہ آج بھی ہوتا ہے اس لیے وہ لڑکی اپنے کل کو ساتھ لیے آج کی تلاش میں پھرتی رہتی ہے اور الحمدللہ آج تک سرخرو ہے کیونکہ جو کل کو نہیں بھولتے ان کا آج ایسا ہی ہوتا ہے وہ بچی تھی تو بچوں کی اصلاحی کہانیاں لکھتی تھی بڑی ہوئی تو اپنے جذبات کو شعروں میں ڈھالنے لگی اس کی نظمیں عشق و محبت سے ذرا آگے کی ہوتیں
نظم __
جنم جلی!
پہلی بار جلی تھی جب!
ماں کی کوکھ میں سانس لیا تھا
وہ بھی تو جنموں جلی تھی! .پہچان گئی کہ میرے جیسی اک اور
کوکھ میں پنجے گاڑھ چکی ہے
تب دکھ صحرا میں کھوئی تھی ماں
چھپ چھپ کر بہت روئی تھی ماں!
راتیں کاٹتی أنکھوں میں
پھر سکھ کی نیند نہ سوئی تھی ماں
دوسری بار جلی تھی تب!
جب دکھ نگری میں جنم لیا تھا
باپ نے سر کو جھکا لیا تھا
ماں نے اس نا کردھ جرم میں
منہ اپنا چھپا لیا تھا
دادی کی انکھیں نم تھیں اس دن!
روشنیاں گھر میں کم تھیں اس دن!
گھر کے غیرت مند مردوں کی!
اونچی گردنیں خم تھیں اس دن!
تیسری بار جلی تھی تب!
جب بھائی کے ہاتھ میں دیکھی تھی تختی
پڑھنے کا نام لیا تھا جب
تب بابا کی انکھوں میں دیکھی تھی سختی !
قسمت میں اندھیرے جہل کےتھے
ماتھے پہ لکھی تھی بد بختی
اک اور بار جلی تھی تب ۔
جب انکھوں کے حوالے خواب ہویے تھے!
کانٹوں بھرے اس جیون کے
دو چار پل گلاب ہوئے تھے!
انھی خوابوں کو
انہی گلابو ں کو !
رواجوں کی سولی پہ جب چڑھا یا گیا تو!
وہی پل عمر بھر کے لیے
عذاب در عذاب ہوئے تھے!
تب بھی بہت جلی تھی جب!
گھونگھٹ اٹھا کر یہ نہ بولا تھا
میری ساتھی
میری ھمسفر
میری محبت ہو تم!
یہ بھی سننے کو ترسی تھیں سماعتیں
کہ میری خوشی میری چاھت ھو تم
کہا تو یہ کہ میری عزت میری غیرت ہو
اوقات میں اپنی رہنا کہ
اک ذرا سی عورت ہو تم ..
تب تو بہت جلی تھی جب!
خود کو یہ سمجھا یا تھا
میرے جیون ساتھی کو
کم بولنے کی عادت ہے
میں جو ذرا سی عورت ہو ں
میں اسکی عزت غیرت ہوں
بس کہتے ہوئے جھجھکتا ہے
کہ میں ہی اسکی محبت ہوں!
تب تو خوب جلی تھی جب
پکڑ کر ہاتھ اک عورت کا!
دل کے بھید وہ کھول رہا تھا
مجھے تم سے بہت محبت ہے
وہ کم کم بولنے والا جب کئی کئی بار یہ بول رھاتھا۔
میں تو تھی جنم جلی
میری خاک کو خاک میں رول رہا تها .
وہ وقت ہی اچھا تھا مولا
ہم جنموں جلیاں جب
زندہ گاڑھ دی جاتی تھیں
ہر پل نہیں پڑتا تھا مرنا
اک بار ہی مار دی جاتی تھیں ۔
تلخ حقائق قلم کے آنسوؤں اور قرطاس کی پیاس سے مل کر جب سامنے آئے تو ناقدین نے کہا یہ ادبی افسانے لکھتی ہے کبھی کبھی حقائق کی تلخیوں سے گھبرا کر پلکوں پر چند خواب ستاروں کی صورت سجا لیتی تھی
جب کبھی خواب اور قرطاس کو قلم کے وسیلے سے اک دوسرے سے ملوایا تو ہلکی پھلکی تحاریر سامنے آئیں جنہیں ڈایجسٹس والوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا ابھی چمکتی آنکھوں والی وہ لڑکی ایک میچور عورت ہے لیکن بہت سے رشتے نبھاتے روایات کو ساتھ لیے قلم کا ہاتھ تھامے چلتی جا رہی ہے کیونکہ قلم اس کی دوسری محبت اور ماں اس کی پہلی محبت ہے دعا کریں کہ وہ اس سفر کی منزل پا لے اس محبت کی معراج تو یہ ہے کہ آپ کا لکھا دلوں کو تسخیر کر لے کیونکہ جنگیں جیتنا تو آسان ہے دل جیتنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے
___________________
عظمی طور
شاعرہ
میرے دل پر وحی اترتی ہے
حرف کاغذ پہ امڈ آتے ہیں
پانیوں سے میری بڑی پرانی نسبت ہے ۔ خدا جانے کیوں بھاتے ہیں ۔ بچپن میں سمندر اپنی کھڑکی سے دیکھتی رہتی ۔ کبھی پیروں سے اس کے پانیوں کو چھوتی ۔ دن کے وقت اسکول سے واپسی پر تیز دھوپ میں خاموش سمندر اپنے اندر کی مچھلیاں کنارے پر اچھال دیتا ۔ اور یہی سمندر رات بھر شور کرتا جھاگ اگلتا میرے دل کو ایک عجیب خاموشی کی لپیٹ میں پوری رات لہروں کی صورت کروٹیں بدلتا ۔
اس سمندر سے آتی نمکین ہوائیں اپنی نمی سمیت میری آنکھوں میں جگہ بناتی رہیں ۔
ہوا میں گھلا نمک کبھی آنکھوں میں بھرنے لگتا تو کبھی گھونٹ گھونٹ حلق سے اترتا جاتا ۔
میں نے ریت کا ایک ایک ذرہ اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں میں پرویا تھا ،
میں چاہتی تو آنکھیں میچ کر سب جانے دیتی مگر میں بلی سے ڈر کر آنکھیں میچنے والے کبوتر سے ہمدردی رکھتی ہوں ۔ سو آنکھیں وا رہیں اور اتنی کھل گئیں کہ ان میں نہ کوئی خواب ٹھہر سکا نہ کسی خواہش کی چمک نے کسی کو چونکایا ۔
میں کئی تحریریں اس پانی پر لکھتی رہی ۔ میری غلطی تھی میں نے تین دہائیوں بعد تسلیم کیا ۔ میں ناسمجھ تھی سو خود کو معاف بھی میں نے خود کر دیا ۔
میں یوسف تھی جسے یعقوب کے بعد نیلام کیا گیا خریدنے والوں نے میرے ہونے تمام دلیلیں فروخت کر دیں ۔
میں اب خود ہی یوسف ہوں اور آپ ہی اپنا یعقوب ہوں ۔
گڑیا کھیلنے کی عمر اور کیوٹکس کی میچنگ تک کا وقت آپس میں گڈ مڈ رہے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کب کہاں کیسے وقت دھیکیلتا رہا ۔
میں بند کمروں کی تنگ دیواروں میں کھڑکیاں بنا لینے کا ہنر جانتی تھی سو آسانی رہی چھوٹے پنجرے میں بڑے پروں کے ساتھ رہنا اتنا آسان نہیں ہوتا مگر میں پَر سمیٹ کر پھدک پھدک کر خود کو اپنے ہونے کا احساس دلاتی رہی ۔
تاریک کمرے میں ایک روشنی کی لکیر کو امید سمجھ کر لفظوں کو ٹٹولتی رہی ۔ تنہائی ہی ایسی جان لیوا تھی ۔ پپڑیاں جمے ہونٹوں سے خون بہنے لگا۔ میں گالوں کے بھنور میں سب گھما دیتی تمام کٹھنائیاں ،کلفتیں ، بے حس رویے ساری دھول مٹی اور پپڑیاں خوب شدومد سے جمائے رکھتی مگر لفظ کہیں اندر خاموشی سے جمع ہوتے رہے وہ میرے لبوں پہ لگے قفل سے بے نیاز رہے ۔
اور جب میری آواز نے سماعتوں کی بے حسی جان لی اور گالوں کے بھنور دھول سے اٹنے لگنے اور وقت میرے ماتھے پر بل بن کر ابھرنے لگا تو یہ لفظ مجھے پوری رات نوچتے گھسوٹتے ۔ پورا دن میرے کانوں میں گھسے رہتے اور میں ہر پل لہولہان رہتی ۔
میں وہ سنڈریلا ہوں جو سوتیلی ماں سے زمانے کی بے اعتنائیاں سہتی رہی اور ایک روز جادوئی pumkin سے بنی جادوئی بگھی میں بیٹھ کر تخیل کے دیس پہنچی تو سب اچھا ہو گیا ۔ پھر خیال میرے بازوؤں میں بازو ڈالے مجھے نچاتا رہا اور میں بغیر تھکن کے ناچتی رہی ۔
یہ ناچ نہ ایڑھیوں کے بل تھا نہ اس میں کوئی بوجھ میرے سینے پہ ٹھہرا ۔
اس کا لمس اتنا پرسکون کر دینے والا تھا کہ میں ہلکی پھلکی ہو گئی ۔
میرا ناچ مجھ تک محدود رہا کیونکہ زمانہ آج بھی سوتیلی ماں ہے ۔
(عظمیٰ طور)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.