وائلن____________عظمی طور

وہ سرخ فراک میں ملبوس
وائلن لیے
اپنی کھڑکی میں اسکی منتظر ہے
چاند تمام رستے روشن کیے ہوئے ہے
کھڑکی کی ٹھنڈی سلاخوں سے اپنی پیشانی ٹکائے
وہ کئی سر اپنی وائلن اسٹک پہ ٹکائے ہوئے
سوچتی ہے
اے سرد رات اور کھلے کھڑکیوں کے یہ پٹ
سنو !
میری بے بسی کے گواہ رہنا
میں منتظر ہوں
اس کے پیروں سے اٹھتی آہٹ میں چھپے
سروں کی
کہ میں وائلن کی ہر ایک تار سے لپٹی
اسکی اداس محبت
کے گیت
فضاؤں میں پھیلا رہی ہوں
گواہ رہنا اے سرد رات اور آسمان پہ پھیلے
روشن ستارو
گواہ رہنا
میری بے بسی پہ ہنستے ہوئے نیند میں لپٹے لوگو
کہ میں نے
اپنی عمر سے بچا کر تمام راتیں
اسی ایک سر کی اداسی میں ڈھالے ہیں
آخری پہر تک ___!!!
________________
شاعرہ:عظمیٰ طور
کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف
Advertisements