ہم انگریزی بھی کیوں سیکھیں—————- بریرہ صدیقی

قطعی ضروری نہیں کہ انگریزی میں status دینا، status symbol ہو۔ رکیے۔ تبصرہ کرنے سے پہلے ایک لمحہ سوچیے اور رخصت دیجییے۔ اردو جملے میں کہیں انگریزی کا ٹانکہ لگا دیکھیں تو فی الفور اسے جہنمی زبان کے استعمال کی بنیاد پے وعید نہ سنائیں۔ ایسا کرنے کی کئی ایک ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں۔ کبھی کوئی بے ساختہ جملہ ، spontaneous reaction بےارادہ سر زد ہوسکتا ہے، کئی ایک مواقع پر اردو کی بورڈ سے ناواقفیت، کلی یا جزوی اس کا محرک ہو سکتی ہے۔بسا اوقات انگریزی سے اردو کی بورڈ منتقل کرنے کا وقتی تساہل بھی اس کا موجب ہو سکتا ہے۔ جانے دیجیئے۔ موجودہ زمانے میں اردو زبان کے احیا اور بقا کے لیے کی جانے والی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ کتنے ہی ادارے، ویب سائٹس، رسائل و جرائد باقاعدہ مشن کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کےفروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ پردیس میں بسنے والی ایسی مائیں خاص طور پر قابل فخر ہیں جنہوں نے آنے والی نسلوں کو نہ صرف ملی اقدار اور زبان سے ، پراعتماد ہو کرروشناس کروایا، بلکہ اردو لب و لہجہ پر عبور، اردو لکھنا ، پڑھنا اور سمجھنا آسان بنا کر پیش کیا۔ ذاتی طور پر، اردو کی ترویج کے لی اپنے فہم کے مطابق کوشش جاری رہتی ہے۔ آج سے چند سال قبل ، جب رومن اردو لکھنا رواج پکڑ رہا تھا تو یہ نیا چلن حد درجہ کوفت میں مبتلا کرنے کا باعث بنا۔ طلباءوطالبات نے اس کا فائدہ کچھ یوں اٹھایا کہ انگریزی لکھنے میں جہاں مشکل پیش آئے، رومن اردو لکھ دی جائے۔ چنانچہ ترجمہ کیا گیا تھا، “johri tawanai ko dunia tabah krny…” ایسا کرنے کا سبب پوچھا تو طالبہ نے انتہائی مصنوعی شرم اور ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا، ” sms کی وجہ سے ایک عادت سی بن گئی ہے”۔ اردو کی بورڈ کے استعمال میں عبور اس پر گرفت اور میری رفتار ناقابل بیان حد تک افسوسناک ہے جس کی ایک وجہ موبائل ناخواندگی ہے۔ اردو کی ایک ایپ ڈاون لوڈ ہونے کو تھی جب میرے ۱۱ سالہ بھتیجے سعد نے تقریبا چلا کر بتایا ، اردو کی بورڈ محض ایک swipe کے فاصلے پرہے۔ گھر میں مادری زبان اردو ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے درست لب و لہجے ، خوبصورت خط پر اس قدر توجہ دی گئ کہ آج ہمارے لیے ہر وہ شخص قابل رشک ہے جو اردو کی بورڈ پر مکمل دسترس رکھتا ہو اور اس کو دیگر لوازما، زیر ، زبر کے ساتھ استعمال کا فن بھی معلوم ہو۔ ابو کی طرف سے اردو کی اس قدر تاکید کے بعد یقین سا تھا انگریزی کا انہیں کیا معلوم۔ حیرت اور بے حد مزہ آیا جب scrabble کھیلتے ہوئے سب سے مشکل لغات کا استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ جییت ان کی ہوئی۔ اسی طرح ایک دن اباجان کے سامنے لینن کے فلسفے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی تو روک کر بولے، لینن کے کپڑے کی بات ہے یاروسی فلاسفر lenin کا تذکرہ؟؟۔ آج کے میڈیا کی پیداوار جن کے حلق سے انڈین ڈراموں کے بعد ” مغل بادشاہ” کی جگہ ” مگل بادشاہ” نکلتا ہے، کبھی سکول پروگرامز میں ہم اسٹیج تک آکر نمائندگی کرنے کی زحمت نہیں دیتے جب تک صحیح ادائیگی نہ کر سکیں۔ شاید یہ ایک انتہا ہو، دوسری انتہا وہ رویہ ہے جس میں انگریزی سے بچنا باعث ثواب سمجھا جاتا ہے۔ علم کے حصول کے لیے زبان کا سیکھنا اور استعمال ایک الگ بات ہے اور مرعوبیت کے ساتھ، زبان ، کلچر کو اپنانا قطعی دوسری بات۔ انگریزی سے بچنے کی نصیحت اس صورت میں تو کی جائے جب آپ کو یقین ہوکہ تعلیم و تحقیق، علوم و فنون، تاریخ وادب پر اردو میں خاطرخواہ کام ہوچکا اور ہمارا انحصار دوسری ہر زبان پرختم ہوا، بصورت دیگر اسے سیکھے بغیر بھی چارہ نہیں۔ اگر فرنگیوں کی زبان سے بچنے میں فلاح کا راستہ ہے اور جہنم سے بخشش کا پروانہ تو الحمد للہ اس وقت ۹۰ فیصد ہم وطن جنت کے راستے پر گامزن ہیں، کسی کے بھی دو جملوں کو بلحاظ گرائمر جانچ لیں۔ پر کوئی ہمیں جب انگریزی کو اردو پر ترجیح دینے کا الزام لگائے تو اس تہمت کی کاٹ اندر تک محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ فوجی فاونڈیشن اسلام آباد کی ایک سینئر ٹیچر سے تبصرہ کیا تھا، اردو سے آپ کی انسیت دیکھ کر لگتا ہے، انگریزی ادب ، اردو میں تو نہیں کیا۔؟؟

__________________

تحریر:بریرہ صدیقی

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements