اے عیار دلبر تھام لے ہاتھ میرا__________ثروت نجیب

” بگیر ای دلبر عیار دستم ”
(اے عیار دلبر تھام لو ہاتھ میرا)

“جسم کے زندان میں قید روح پہ اگر دماغ کے پہرے نا ہوتے تو کیا سب پاگل ہوتے؟”
پاگل تو عاقل بھی ہوتے ہیں اور بالغ بھی ـ
اور دل یہ کس مرض کی دوا ہے ؟
ہر دھک دھک کچھ نہ کچھ کہتی رہتی ہے
خلفشار کی ماری ـ
جیسے میں !
مجھے کوچی سمجھ کر ہلکا مت لینا ‘
میں نے تکیوں کے غلاف پہ ٹپے کاڑھے ہیں
کڑھائی تو خدا بھی کرتا ہے
بتا نا !
میری زندگی کے پارچے پہ گُوڑھے گُوڑھے تاروں سے سنجد کیوں کاڑھے ؟
کسیل ‘ کڑوے ‘ تھو ـــ ـــ ـــ
دھوئیں کے مرغولے محبت کی طرح ایک ہی سمت میں سفر کرتے ہیں یا ــــ
ہوا سے عشق؟ ؟ ؟
سوچو سوچو
کیونکہ سوچیں گنجشکِ خانگی نہیں ہوتیں
وہ چیتل کی طرح ٹیڑھے میڑھے راستوں پہ چلتی ہیں ــــ
دھوئیں کے متضاد ـــ
یوں ـ ـ ـ ـ
شغلہ ہوا میں اوپر نیچے ہاتھ لہرا لہرا کر کہہ رہی تھی ـــ
یوں ــــ ـــ ـــ
شعور کے درجے سے بےبہرہ وہ خود ساختہ پہیلیوں کو بوجھتے بوجھتے خود ہی الجھ گئی ـ
آشپز خانے میں بچھے لاکھی توشک پہ لیٹی وہ کسی ایسے خواب کی منتظر تھی جو انگاروں کی حرارت میں جذبات گھول دے ـ انگیھٹی سے اٹھتے دھوئیں میں ہر وقت اسے ایک گنجشکِ خانگی کی شبیہہ ملتی ـ وہ خود بھی تو ایک چڑیا تھی ـ سب کی ضرورتیں پوری کرنے والی ‘ سونے کی چڑیا ـ
دو صد ہزار کلداری ولور (حق مہر) کے عوض جب اس کی نسبت طے ہوئی تو والدین نہال ہو گئے ـ داماد نے سالے کو کویت بلانے کا عندیہ دیا تو خوشی دوبالا ہوگئی ـ خوشی کا کیا ہے یہ رواجوں سے تھوڑی جُڑی ہوتی ہے ـ کیا ہوا جو جوان ساس سوتیلے بیٹے کا رشتہ محض اس لیے لائی کہ انھیں گھر میں کام کرنے کے لیے ایک عورت درکار ہے ـ پر اصل بات اس نے کھلے فراک اور چادر کے پلو تلے چھپائی رکھی ـ
بڑی بہو کی چخ چخ ‘ منجھلی بہو کا نومولود بچہ ‘ اور سوکن کی چھوڑی ہوئی پانچ بیٹیاں ـ دو بیاہ کے دوردارز گاؤں چلی گئیں ـ تین ماتھے پہ تیوری چڑھائے ‘
” بخور و بخواب كار منه، خدا نگهدار منه ـ ”
(کھانا اور سونا کام میرا’ خدا حافظ میرا)
خواب و خوارک سے دل اوب جاتا تو دستمال کاڑھنے بیٹھ جاتیں ـ
ایسے میں عمر بھر کی چاکرہ ملی تو ستارہ بی بی نے سوچا’
” ارزانی ھنوز ” ـ
(ابھی بھی سستا ہے)
ـ شغلہ بیاہ کے آئی تو اس کی ماں کو معلوم ہوا اس کی سمدھن ستارہ بی بی کے پاؤں بھاری ہیں ـ پر اِس بات سے اُس کی مسرت پہ کیا فرق پڑتا تھا ـ بیٹا داماد کے پاس کویت پہنچ گیا ـ چاہیے تو تھا کہ ولور کی رقم شغلہ کے جہیز و زیورات پہ خرچ ہوتی ـ مگر اس سے گھر میں گائے آ گئی باقی ماندہ پیسوں سے شغلہ کے بزاز باپ نے دکان کا نیا مال لے لیا ـ سودے میں سُود ہی سُود ـ باقی بچی الف اُس کو کِلی بنا کے گائے کو باندھ دیا ـ ان کو کیا کہ اُدھر ایک اور سماجی مال آشپز خانے کی کالی دیواروں پہ تخیل سے قسمت کے نقشے کھینچ رہی ہے ـ اس کے نصیب میں امید کا حصہ گھنے بالوں میں کھینچی چمکتی سفید مانگ جتنا تھا ـ مہین ہونٹ ‘ ٹھوڑی ایسی کہ مور (ماں) جب بچپن میں پیار سے پکڑنے کی کوشش کرتی تو انگوٹھا اور انگشت شہادت پھسل جاتی مگر ٹھوڑی ہاتھ نہ آتی ـ اپنے نصیبے کی طرح قدرے تنگ پیشانی ـ بھرے بھرے پھولے ہوئے گال جب ہنستی تو آنکھیں رخساروں میں دب جاتیں ـ سیب کے پھولوں سی رنگت اور ناشپاتی جیسی جسامت ‘ بالی عمر ـ جِسے مور نے گنی چنی دعاؤں کے ھمراہ بوقتِ رخصت جہیز کے نام پہ پانچ توشک دس تکیے ‘ چند کپڑے ‘ جستی ٹرنک اور شغلہ کے بنائے موتیوں سے منقش شیشے کے فریم دیے ـ فریم ہاتھوں ہاتھ نند ‘ دیورانی میں بٹ گئے جو بچے وہ حجرے میں لٹکا دیے گئے ـ شوہر تو پاس تھا نہیں تو نصیب میں آشپز خانہ لکھ دیا ـ جب تک نیا کمرہ بنتا تب تک سسرال والوں نے چولہے کے پاس توشک بچھا کے شغلہ کو زندگی کے سیاہ و سفید کا تناسب لگانے تنہا چھوڑ دیا ـ
چائے کی آخری چینک جب چولہے سے اترتی تو شغلہ کا بستر لگتا اور صبح تڑکے ہی وہ بستر لپیٹ کر کیتلی چولہے پہ رکھ دیتی ـ پھر گھڑی کی سوئیوں سمیت گھم گھم چرخے کی طرح شغلہ کی ٹانگیں چلتیں ـ ہر ایک کے پاس کام نہ کرنے کا ٹھوس جواز تھا سوائے اِس بخت گزیدہ کے ـ جس کا شوہر سہاگ رات بھی کویتی کشادہ سڑکوں پہ ٹرک چلا رہا تھا ـ ـ پیسہ پیسہ کوڑی کوڑی مانگنے کے لیے بار بار چٹھی بھیجنے والے باپ نے بھی نہ سوچا گھر کا پیہہ چلانے کے لیے اس کے بیٹے کو دن رات سولہ پیہوں پہ سوار ہونا پڑتا ہے ـ کچھ تو اس کا بھی حق بنتا ہے اُس زندگی پہ جو وہ ہنڈی میں بھیج کر ان کی خوشیوں کی قیمت ادا کرتا ہے ـ
مگر اس نے تو گوشتِ گوسفند کا قورمہ اور کابلی پلاؤ کھلا کر باراتیوں کے منہ پہ روغنی نان باندھ کے ان کی سوچ کا دھارا معدے تک محدود کر دیا ـ اب کوئی کریدنے والا نا تھا
دولہے بنا شادی ؟
پر ہو گئی ــــ
شغلہ آنگن میں جھاڑو پھیر دو ـــ
شغلہ برتن مانجھ لو ــــ
شغلہ شست و شوئی ( صفائی ستھرائی) تمھارے ذمے ـــ
شغلہ منمنائی ـ
” آج تو میری باری نہیں ”
جیٹھانی نے تنک کر کہا
تمھارے کون سے بچے رو رہے ہیں ”
شغلہ حجرے میں طعام بھیجوایا یا نہیں؟
شغلہ ‘ شغلہ ــــ
ارے کہاں مر گئی ہو شُغلہ ؟ تم سے ہوں !
تندور پہ روٹیاں لگا دو ـ
وہ بیس’ پرات جتنی روٹیاں لگا کر آئی تو پسینے کی باس ستارہ بی بی کو ناگوار گزری اس نے ناک سکیڑتے ہوئے کہا!
” دستر خوان کے بجائے آشپز خانے میں بیٹھ کر کھا لو ـ اب ایسا بھی ظلم نہیں کہ پسینہ سوکھنے تک تم روٹی کا انتظار کرو”
لفظ انتظار سن کر اس کا دل تندور کی طرح دھکنے لگا ـ
ہر ہفتے ایک چُوڑی توڑ کے شغلہ جدائی کے درد کو کانچ سے کاٹتی اور اشکوں کی آنچ سے ماپتی ـ
آخر ایک دن ایک چُوڑی بچ گئی ـ آخری سبز چوڑی معجزے کی منتظر تھی ـ
وہ ٹوٹی تو ایک ٹیپ اور چار کیسٹیں اس کی ماں شال میں چھپائے لے آئی ـ
“تیرے بھائی کے توسط سے باز محمد نے تحفہ بھیجا ہے تیرے لیے ”
وہ چونکی!
“،تحفہ”
مگر الفت سے عاری اس کا دل برفیلا آتش فشاں ‘ اندرون سے سلگتا اور بیرون سرد مہری کے فوارے اڑاتا ‘ اس کے حرارت طلبیدہ جذبوں کو نقطہِ انتہا تک نہ لے جا سکا ـ مہین ہونٹ مسکراہٹ کی قوسوں کو ترستے رہے ـ بس اس نے باز محمد پہ اتنا احسان کیا کہ تحفے کے اسرار کو چھپانے کے لیے وہ برف کی سِل کھسکی اور ٹیپ کو اپنے جستی ٹرنک میں کپڑوں کے نیچے دبا دیا ـ
مور(ماں) اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے چلی گئی تو اس نے سوچا ـ
آھنگ و ساز تو محبت کی دھن پہ بجتے ہیں ـ
بانسری سے ہوا چھین لو تو بجے گی کیا ؟
ڈھول کو آنسوؤں سے بھر دو تو آواز کہاں سنائی دے گی ـ
وہ بڑبڑائی ــــ
“بےعقل باز محمد ‘ پتھر کا آدمی ـ”
پتھریلا آدمی تو دراصل سنگِ پارس تھا ـ شغلہ کو کیا خبر چمکتے دیناروں کی پشت پہ ہجر و جفاکشی کی داستانیں رقم ہوتی ہیں ـ معلوم ہو بھی جاتا تو کیا اس کے ارمان اس دلیل سے مطمئن ہو جاتے؟
وہ چُھٹی سے پہلے منہ اٹھائے خود سے آ جاتا تو تا حیات اسے زن مریدی کی پیغور ملتی ـ اب وہ زندہ مکھی تو نگلنے سے رہا ـ
“محبت میں چوڑیاں تو ٹوٹتی ہیں ”
اگلے دن ستارہ بی بی نے شغلہ کو سبز سرخ چوڑیاں دیتے ہوئے کہا ـ
“ارے یہ بدشگونی ہے بِنا چوڑیوں کے دلہن کی خالی کلائیاں”
بد شگونی؟
شادی ‘ خوشی پہ تو کوئی اسے بلاتا ہی نہیں ‘ بد شگونی ہے ـ
غمی پہ کوئی لے جاتا نہیں ـ چلی گئی تو کام کون کرے گا؟
ہاں باز محمد کا تحفہ کسی کم ماندہ شب کے آسرے کا منتظر تھا ـ
ناچاہتے ہوئے ایک خشمگیں رات شغلہ نے ٹیپ نکالا اور سننے لگی ـ
آنکھوں کے سوکھے نسواری پہاڑوں سے درد کے جھرنے بہنے لگے ـ وہ اتنا روئی کہ تکیے کی نمی کو انگیٹھی کے انگارے بھی خشک نہ کر سکے ـ
کئی راتیں وہ چھپ چھپ کیسٹ سنتی رہی آخر ایک رات اس نے کیسٹ کی ریل نکال کر کُتر کُتر کے چولہے میں جھونک دی ـ
صبح گھر میں غیر معمولی چہل پہل شروع تھی ـ مبارک سلامت میں ملفوف ایک اور وارث پیدا ہو گیا ـ ستارہ بی بی نے ماتھے پہ کالا رومال کَس کے باندھ کر بستر سے تا چہل روزہ دوستی کر لی ـ
شغلہ کے کام بڑھ گئے ـ ننھے ننھے کپڑے دھو کے تار پہ لٹکانے تک کتنی بار اس نے اپنے ارمان نچوڑے یہ تو صرف وہ جانتی تھی یا اس کا خدا ـ
مہمانوں کی آمدرورفت اور ان کے منہ سے ستارہ بی بی کی خوش بختی کے قصیدے اب شغلہ کو زہر لگنے لگے تھے ـ کام کے بوجھ سے اس کی کمر دہری ہوتی گئی اور آنکھوں کے گرد حلقے سرمئی سے سیاہی مائل ـ
ایک دن حسب معمول صبح سویرے شغلہ نے توشک لپیٹا’ چولہے پہ چینک چڑھائی کھولتے ہوئے پانی میں سبز چائے ڈالتے وقت اس پہ لرزہ طاری ہو گیا ـ چائے دانی سمیت شغلہ فرش پہ گرتے ہی کانپنے لگی ـ ہاتھ پاؤں سوکھی لکڑی کی طرح سخت ہو گئے ـ منہ ٹیڑھا اور آنکھیں نکل آئیں ـ وہ سر کو زور زور سے پٹخ رہی تھی ـ دیکھتے دیکھتے جھٹکے اتنے قوی ہو گئے کہ تین جاندار عورتیں بھی قابو نہ کر سکیں ـ وہ تڑپتے ترپٹے خود ہی پرسکون ہو گئی ـ طبعیت بحال ہوئی تو شغلہ کو صالون میں آرام کرنے بھیج دیا گیا ـ مگر وہاں سے ستارہ بی بی سمیت ‘ جیٹھانی ‘ دیورانی اور تین نندوں کے قہقہے شُغلہ کو صاف سنائی دیے ـ
جیٹھانی کہہ رہی تھی
” اداکاری دیکھی تھی شغلہ کی ”
نند نے کہا!
مجھے لگا جیسے برق نے پکڑ لیا ہو ‘ کیسے لدھڑ کی طرح لوٹ رہی تھی ہاہاہا ــــ
ستارہ بی بی بولی!
دعائیں دو مجھ کو
“کام کے ساتھ ‘ تماشہ مفت ”
شغلہ توشک پہ لیٹی قالین کے سوتی کرمچی تاروں کو ناخن سے کھرچتے کھرچتے رو پڑی ـ
دو دن بہ مشکل گزرے کہ شغلہ پہ پھر دورہ پڑا ـ جو بھی شغلہ کو پکڑنے آتا جیسے کوئی غیبی قوت ان کو بری طرح جھٹک دیتی ـ گردن بائیں جانب جھکی ہوئی اور وحشت ناک انکھیں جیسے ابھی ابل کے باہر نکلیں کہ نکلیں ـ سر کو اس قدر زور سے گھمانے لگی کہ چوٹی خود بخود کھل گئی اور بال تیلی تیلی ہو کر ہوا میں دائرے بنانے لگے ـ غر غر غرررر کے بعد اس کے حلق سے مردانہ آواز گونجی تو ستارہ سمیت سبھی عورتیں ڈر کے بھاگ گئں ـ
پیریان پیریان ـــ شغلہ پہ پیریان آ گئے ـ
بات اب گھر کی دیواریں پھلانگ کے حجرے تک جا پہنچی ـ
مرد دوڑے آئے ـ دیور نے بازو سے پکڑ کر شغلہ کو کمرے میں بند کر دیا ـ
اس نے جاتے وقت منہ پہ انگلی رکھ کے کہا !
“ہشششش خبردار!
اگر تمھاری آواز اس گھر کی دیواریں پھلانگ کے باہر نکلی ـ تو ـــــ ـــــ ـــ
شغلہ کے دماغ میں منہ زور سیلابی ریلے کی طرح خیالات کی بوچھاڑ تھی ـ
تو ـ ـ ـ ـ
تو ـ ـ ـ ـ
مجھے دھمکی دیتا ہے ـــ
تو کیا؟
جان سے مار دے گا؟
مار دے ـ
ایک ستم اور سہی ــــ
وہ سلے لبوں اور زہن میں گردش کرتی بغاوتی سوچوں سمیت لیموں سی زرد برگِ خیزاں کی مانند توشک پہ ایک جانب سکڑ کے گھٹنوں میں سر دبائے بیٹھ گئی ـ
دشمنوں نے دوستی کی آڑ میں ساری خبر باز محمد تک پہنچا دی ـ وہ کیا کرتا؟ سوائے چُھٹی ملنے کا انتظار ـ اب تو اکثر شغلہ کو دن میں دو بارہ دورہ پڑ جاتا اور وہ سنبھالے نہ سنبھلتی ـ آشپز خانے کی دیوار پہ اب اسے گنجشکِ خانگی کے بجائے عیجب و غریب ہیولے دیکھائی دیتے ـ ایک ہیولہ جس کا ہاتھ تندور سے روٹی نکالنے والے سلاخ جیسے ـ وہ اسے کھینچنے کے لیے ہک نما ہاتھ بڑھاتا ـ ایک ہیولے کی آنکھوں کے خول سِکّوں سے پُر ـ کچھ منہ کھلولتے تو چہرے اوجھل ہو جاتے ـ ایک ہیولہ نقطے سے شروع ہو کر دیوار جتنا لمبا ہوتے ہوتے ساری دیوار کال کر دیتا ـ وہ چولہے میں بھر بھر کٹورے پانی ڈالتی ـ پر ٹھنڈی راکھ پانی میں گھل کے اس کے توشک کی جانب بہنے لگتی ـ وہ ایک لکیر میں سفر پہ نکلتے ہی زمین پہ شبیہیں بنانے لگتی ـ
اففف !
شغلہ جو کبھی دن بھر کی ماندہ شب کے طویل ہونے کی دعائیں کیا کرتی تھی ـ اب ڈوڈر کوے کی طرح کاغ کاغ کرتی تاریکی اس کا سکون چھین چکی تھی ـ
جیٹھانی اسے پیر کے پاس لے گئی ـ جس نے شُغلہ کی پیٹھ پہ ڈنڈے مارے ـ چاٹنے کو نمک دیا اور کہا !،
“موکل کہتے ہیں اس کی شادی کر لوــ”
جیٹھانی نے تڑخ کے جواب دیا!
“پر شادی تو ہو چکی اس کی ”
تیس ہزار کلداری کے عوض پیر نے جھوٹے سچے چلے کاٹے پر افاقہ نہ ہوا ـ
جڑی بوٹیاں اور حکمت بھی بےکار پڑ گئی ـ نظر مات کے لیے ہرمل کی دھونی دی ـ پھرکی کی طرح کام کرنے والی کے کاموں کو کہیں نظر نہ لگی ہو ـ چشمِ بد ‘ دور کرنے کے لیے بھوبھل میں سات سرخ مرچیں جلائیں ـ آخر ہسپتال لے گئے تو وہاں ڈاکٹروں نے ایسی دوائیاں لکھ دیں جنھیں کھا کر شغلہ رات کو بےہوش ‘ دن بھر غشی میں رہتی ـ زبردستی کوئی جگا دیتا تو کبھی دروازے سے نکلنے کے بجائےدیوار سے جا ٹکرتی تو کبھی چکرا کے گر پڑتی ـ
“غم نداری بُز بخر”
( کسی کو غم نہ ہو تو بکری خرید لے )
ستارہ کے پلو سے بندھے پیسے بھی اب شُغلہ کے علاج پہ مصرف ہونے لگے ـ
مجبوراً اس کے پاس یہی راستہ بچا کہ اپنے شوہر کو آمادہ کر کے کسی نہ کسی طریقے باز محمد کی بلا اسی کے پلے باندھے ـ
اُدھر کھیتوں میں ہریاول پھوٹی ـ جشنِ بازدیگر ( جشنِ کسان) کا آغاز ہوا اِدھر سیب کا پھول مرجھانے لگا ـ
چار و ناچار باز محمد کو بلوا بھیجا اور شغلہ کے کمرے کی بنیادیں کھڑی کروا دیں ـ جس دن ستارہ کے بیٹے کا عقیقہ تھا اسی دن تندور پہ روٹی لگاتے شغلہ کو دورہ پڑا اور وہ تندور میں جا گری ـ تندور ابھی ٹھیک سے دہکا نہیں تھا مگر پھر بھی شغلہ کا لباس اس کی امیدوں سمیت جل کے جسم سے چپک گیا ـ گاج کا دوپٹہ چرُمر ہو کے ماچس کی ڈبیا جتنا ہوگیا ـ
جسم آبلہ آبلہ ‘ بال سوختہ اور دائیں جانب چہرہ جھلسا ـ وقت کے ساتھ مکھن والی گلابی مرہم سے آبلے مڑنے لگے ـ مگر چہرے پہ ستم گاری کے نشان چھوڑ گئے ـ
گاؤں میں چہ مگوئیاں اب دور دور تک پھیل گئیں ـ تندور میں گرنے سے شغلہ کی اداکاری کا شک بھی راکھ ہو گیا ـ
باز محمد نے استفعیٰ دے دیا اور کمپنی سے پاسپورٹ ملتے ہی وطن کو لوٹا ـ
شغلہ کو ایک بار پھر دلہن بنایا گیا ـ دریاب (دف) بجاتی عورتوں نے بابو لالے گائے ـ ناوئے ناوئے (دلہن ‘ دلہن) کی گم گشتہ آوازوں کی بازگشت سے شغلہ کا کمرہ گونجنے لگا ـ
شام ڈھلے باز محمد تھکا ماندہ گھر کے بجائے سیدھا حجرے پہنچا ـ
جہاں اس کے استقبال میں بیٹھے لوگ دوپہر سے اس کے منتظر تھے ـ ادھر شغلہ کی بیقراری اختلاج میں بدلنے لگی ـ جب حجرے کا آخری مہمان بھی گھر لوٹ گیا تو اس کے باپ نے توشک پہ پاؤں پسار لیے ـ منہ پہ پٹو( مردوں کے کندھے پہ رکھی چادر) رکھ کے باز محمد کو اشارہ دیا کہ وہ بھی اب اپنے کمرے میں چلا جائے ـ باز محمد معاملہ بھانپتے ہی چپکے سے کھسک گیا ـ
تابعداری بھی کیسی جفا ہے ـ
بزدل لوگ ناانصافی کے سانپ کو مارنے کے لیے مصلحت کی لاٹھیاں ڈھونڈتے ہیں ـ
انھیں چپ ہی حمکت لگتی ہے ـ جفاؤں کو وفاؤں کے کا نام دے کر ظالم کی پشت پناہی کرتے کرتے مر جاتے ہیں پر فریاد نہیں کرتے ـ
توشک پہ بیٹھی شغلہ آنچل کو گرہیں لگا کے کھول رہی تھی ـ کھٹک کی آواز سے دروازہ کھلا اور باز محمد کے داخل ہوتے ہی شغلہ کی قسمت کی گرہ بھی کھلی ـ باز محمد نے پہلی بار سپید و گلابی ریشمی احساس کو چھو کے دیکھا اور کہا!
” تم توکافر اداکارہ نکلی ”
شغلہ مہبوت ــــ
” وہ ٹوپی اتارتے بولا!
” ایسی غضب کی اداکاری ‘ یقین مانو ایسا لگا سچ میں تم پہ کسی جن کا سایہ ہے ”
شغلہ دھیرے سے بولی!
“جیسے جیسے آپ نے کیسٹ میں ہدایات دی تھیں ویسے ویسے میں نے عمل کیاـ
باز محمد واسکٹ اتار کے شغلہ کی جانب اچھالتے ہوئے تنک کر بولا!
“تندور میں گرنے کو تو میں نے نہیں کہا تھا ـ”
شغلہ افسردگی سے بولی!
” وہ تو ایک حادثہ تھا ‘ میرا سر چکرایا اور میں دھکتے تندور میں جا گری ”
حادثہ ارے خوشگوار حادثہ کہو ‘ خوشگوار حادثہ ـــ
شغلہ اٹھی اور واسکٹ کو کوٹ بند پہ لٹکاتے ہوئے بڑبڑانے لگی!
” خوشگوار حادثہ ”
ایک انسو اس کے ٹھنڈے گال پہ اُترائی کی اور لڑھکنے لگا ـ
دیوار پہ لٹکے خنجر کو اتار کے پوری شدت سے اس نے باز محمد کی کندھے پہ پیچھے سے وار کیا ـ
وہ بلبلایا ـــ
شغلہ چیخی ـــ
” خوشگوار حادثہ ــ ــ ـــ ـ ـ
اور ایک کاری وار !!!
خوشگوار حادثہ ـ ـ ـ ـ
ایک اور ضرب !!!
یہ لو خوشگوار حادثہ ــ ـ ـ ـ
گھائل باز محمد نے بمشکل پلٹ کر شغلہ کا ہاتھ پکڑا کر خنجر چھین لیا ـ
شغلہ کی آنکھیں وحشت سے بھری جلتے انگارے کی طرح سرخ ہو چکیں تھیں ـ
قریب تھا کہ باز محمد اسی خنجر سے شغلہ کی شہ رگ کاٹ لیتا شغلہ پہ لرزہ طاری ہو گیا ـ ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ‘ جسم لاش کی طرح اکڑ گیا ـ گردن دائیں جانب جھکی ہوئی ـ خفقان کے مارے لال آنکھیں اور حلق سے غر غر غرررررر ــــــ

__________________

تحریر و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

Advertisements

2 Comments

  1. Wah…. ❤️ ❤️ ❤️ ❤️ ❤️ ❤️
    Itni khoobsoorat tehrer pe aik qirat main tabsara nahi kiya ja sakta….
    Phir parhon gi… To kahon gi.
    Faazil musannifa ke liye dhairon daad. ❤️

    Like

Comments are closed.