ابوظہبی سے ڈبہ،فجیرہ تک__________صوفیہ کاشف

کام کی ذیادتی اور مشکل ورکنگ آورز سال بھر اک کولہو کے بیل کی طرح تھکائے رکھتی ہے ساتھ سماجی تنہائی اور لوکل چھٹیوں کی انتہائ قلت تھکاوٹ کا احساس مزید گھمبیر کر دیتا ہے ایسے میں ہر چند ماہ بعد لمبی چھٹیوں پر نکلنا ممکن نہیں ہوتا تو مقامی یا قریبی ریاستوں کے ہوٹلز اور ریزورٹ کسی نہ کسی طرح دو تین چھٹیاں گزارنے اور اپنے کندھوں سے تھکاوٹ کا بوجھ سرکانے کے لئے کافی بہتر آپشن ثابت ہوتا ہے۔عرب امارات میں فجیرہ ایک ایسا مقام ہے جسے ایسے مواقع پر بھرپور طریقے سے کام میں لایا جاتا ہے کہ انکا سمندر کھلا اور دور تک پھیلا ہوا ذہنی سکون بھی دیتا ہے تو ریتیلے پہاڑوں کے بیچ یہ ریاست کچھ نیا اور مختلف نظارہ بھی دیکھنے کو مہیا کرتی ہے

ابوظہبی سے فجیرہ کا سفر کم سے کم تین گھنٹوں کی موٹر وے ڈرائیو ہے چناچہ اسکے لئے کم سے کم بھی ابوظہبی کے لوگوں کو دو چھٹیوں کی ضروت ہوتی ہے جو کنسٹرکشن کمپنی میں کام کرنے والے ملازمین کو اکثر مہیا نہیں ہوتیں۔ عید، بقر عید یا شب برات پر ہی کوی چھٹی جمعہ کے ساتھ مل جائے تو یہ دو یا تین چھٹیوں کا نیلا چاند نمودار ہوتا ہے۔ پاکستان جیسی عیاشیاں کہاں کہ ہر ہفتہ میں دو چھٹیاں اور ہر دوسرے ہفتے کوئ نہ کوئی لوکل ،نیشنل یا انٹرنیشنل چھٹی۔بڑے عرصے سے اس وزٹ کو پلان کرتے کرتے اب کی بار تین چھٹیوں پر فجیرہ کی طرف کا رخ کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔

ابوظہبی سے شارجہ تک کا سفر بے انتہا بور اور تھکا دینے والا ہے کہ بیچ میں امارات روڈ کے آس پاس خالی صحرا یا انڈسٹریل سٹی دیکھ دیکھ کر آنکھیں سوج چکی ہیں ۔شارجہ تک کا سفر وہاں فیملی ہونے کی وجہ سے کر کر ہم اسقدر بیزار ہو چکے ہیں کہ اب شارجہ کا نام لیتے ہی اس سفر کی تھکاوٹ سے نڈھال ہو جاتے ہیں۔چناچہ شارجہ تک پہنچتے پہنچتے تھکاوٹ اور بوریت سے ہماری صورتیں لمبی ہو چکی تھیں اور مزاج بد ذائقہ۔لنچ کا وقت بھی تھا سو شارجہ چھوڑنے سے پہلے گاڑی شارجہ کاپریٹو کے سامنے روکی تاکہ کافی شاپ میں بیٹھ کر کچھ پیٹ پوچا بھی کی جائے اور تھکاوٹ کا بھی قلع قمع ہو۔آدھ پون گھنٹہ کے اس قیام نے اور کیپاچینو کے کپ نے واقعی کک سٹارٹ کیا اور ہم دوبارہ سے تازہ دم ہو کر فجیرہ کی سمت نکلے۔مقام شکر یہ ہے کہ اس سے آگے سفر بھی کم کم کیا ہے اور رستوں میں نظارہ بھی کچھ مختلف ہے۔انڈسٹریل شہروں اور ریتیلے صحراؤں کے بیچ گھومتے موٹر ویز کی بجائے آگے یہی موٹر ویز اونچی نیچی گھاٹیوں اور فجیرہ کے بلند بانگ ،ریتلے ،بنجر اور سناٹے زدہ پہاڑوں میں سے بل کھانے لگتے ہیں اور آنکھوں کو اگر دل نشین اور مسحورکن نہیں تو چونکا دینے والا نظارہ اور اداس اور متوجہ کر دینے والے مناظر ضرور نظر آتے ہیں۔ریتیلے پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے ٹیڑھے میڑھے سانپ سے بھاگتے دوڑتے موٹر ویز،آس پاس سوکھے خزاں زدہ صحرائ درخت۔۔بیچ بیچ میں پودوں،پھلوں سبزیوں سے لیکر قالین تک کی سستی مارکیٹس۔۔۔فجیرہ کے لئے نکلتے کچھ اضافی رقم ہمیشہ پاس رکھیں کہ رستے میں بہت قیمتی ملنے والا مال آپ کو بہت سستا ملنے والا ہے۔ صرف یہی نہیں یہ ذیادہ تر مارکیٹس پٹھانوں کی ہونے کی وجہ سے حسب توفیق بھاؤ تاؤ کی سہولت بھی میسر ہے۔ہم بھی جب لوٹے پھلوں سے لیکر قالین تک وہیں سے خرید کر لوٹے۔رستے کی یہی دلچسپیاں تھیں کہ اگلا ڈیڑھ گھنٹےہمیں اتنا مشکل اور بوریت زدہ نہ لگا جتنا کہ ابوظہبی سے شارجہ تک لگا تھا۔

۔

ریڈیسن بلو کا پانچ ستارہ ریزورٹ اس بار ہماری منزل تھا مگر یہ اسقدر پرلطف اور پرسکوں سفر ثابت ہو گا اتنی توقع نہ تھی۔ریڈیسن بلو کی شروعات پر ہی سمندر جھانکتا دیکھا اور دوسری طرف پہاڑوں کی چوٹیاں چڑھتی دیکھیں تو دل کو بھرپور سکوں ہوا۔ایسا ہی ریزورٹ ہمارے دل کی طلب تھا کہ پہاڑ بھی ملیں،اور سامنے سمندر بھی پھیلا ہو۔مگر یہ اس سے بھی کچھ بڑھکر تھا۔ریزورٹ کے احاطے میں داخل ہوے تو اک طویل راہدری ہمیں ریسپن تک لیجانے کے لئیے پھولوں اور بیلوں سے بھری ہماری منتظر تھی۔ایک پل کو یوں لگا جیسے روم کی کسی راہدری میں گھوم رہے ہوں کہ ولاز کی اک لمبی لائن اک سرنگ سی شاہراہ پر،آس پاس سے پھولوں اور پودوں سے بھری۔اب تک جتنے بھی ریزورٹس اور ہوٹلز میں قیام کیا اونچے سکائ سکریپر اور بھاری چوڑی عمارتیں جن میں اب کچھ بھی پر لطف نہیں لگتا کہ انسانی محنت کے معجزات سے دل بھر چکا اب یہ دل فطرت کی طرف لپکتا ہے۔۔۔۔تو الگ الگ تین منزلہ اک رو کی صورت میں بنے ولاز کی صورت یہ ریزورٹ اپنی صورت میں بھی سب سے مختلف اور وسیع ہونے کی وجہ سے خوبصورت لگا

ریسپشن میں داخل ہو گئے تو دل کو ایک اور خوبصورت نظارے نے باغ باغ کر دیا جب لابی لاوینج کے پیچھے شیشے کی دیواروں کے پیچھے بہتے وسیع نیلگوں سبز سمندر ٹھاٹھیں مارتا اور پام کے درخت ساحل کنارے اٹھکیلیاں کرتے دکھائ دئیے۔اس دلکش نظارے نے ریسپشن کی آن بان بھی نظروں سے اوجھل کر دی اور میں ریسپشن پر چیک ان کرتے میاں کو تنہا چھوڑ کر ان شیشوں کے قریب رکھے صوفوں پر جا بیٹھی جو پہلے ہیں چیک ان کرنے والوں سے اٹے ہوے تھے اور کھلے عام اس بات کی تصدیق کر رہے تھے کہ مزکورہ ریزورٹ مقبول عام ہے۔

چیک ان سے کمرے تک دو لابیز کا فاصلہ تھا کہ چونکہ ہمارا کمرہ تیسری رو میں واقع تھا ۔کمرے تک جاتے جاتے راہدری کے ایک طرف جھانکتے پہاڑوں نے دل بہلایا تو کمرہ میں پہلا قدم دھرتے ہی گویا سمندر اپنی نیلگوں سبز رنگ لئے ہمارے کمرے میں ہی اتر آیا۔کہ پردہ ہٹاؤ اور کھلے وسیع سمندر اور اسکے کنارے واقعی طویل تر بڑے خوبصورت سوئمنگ پولز کا دلنشیں منظر سے دل بہلاؤ۔تو پھر حیرت کیسی کہ اگلے تین دن میرے صوفے کا رخ اس کھڑکی کی طرف ہی رہا۔کمرے میں لگی پینٹنگ بھی بہت خوبصورتی سے ہوٹل کے نام “بلو”اور سمندر کے سبزے سے ہم آہنگ کی گئی تھیں کہ قیام پزیر افراد خود کو اسی پورے سمندر کی نیلگوں نمی کا ہی اک حصہ تصور کرتے تھے۔

تین گھنٹے کا سفر کر کے ہم میں سے گرما کی دوپہر میں کسی کی ہمت نہ تھی کہ کمرے سے نکلنے کا سوچے۔آگے بھی تین روز کا قیام تھا سو جلدی بھی کسی کو نہ تھی۔تو جہاں بچے ٹی وی چلا کر بیٹھ گئیے اور میاں کمر سیدھی کرنے کو بستر میں گھسے وہیں میں نے بھی صوفے کا رخ سمندر کی طرف پھیرا شیشے کی دیوار سے ادھر بچھے سمندر سے سرگوشیاں شروع کر دئیں۔

(جاری ہے)

__________________

_تحریر و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements