قلم کا جنم_________3

ماہ وش طالب

لاہور

زیادہ وقت نہیں گزرا,جب شعاع اور خواتین کے شمارے میرا تکیہ ہوا کرتے تھے اور ان میں چھپنے والے رومانوی ناولز میرے لیے لوریوں کا سام کرتے تھے… ..

نجانے کیونکر اس خیال نے دل میں انگڑائی لی کہ جیسے فلاں لکھاری نے حقیقت کے قریب تر منظر نگاری کے گل بوٹے کاڑھے ہیں, ویسے ہی رنگ میں بھی تو خالی صفحوں پہ بھر کر دیکھوں.. کیا میں ایسا کر بھی سکتی ہوں یا نہیں…

یہ مصنفین جو اپنے لفظوں کی ترتیب بدل کر کہانی کو ایسے موڑ پر لے آتی ہیں کہ قاری کبھی ہچکولے کھاتا ہنستا ہے اور کبھی انجر پنجر ہوجانے والی سواری کی ما نند اداس ,غمگین ہوجاتا ہے تو ایسی بے مثال صلاحیت ان میں کیسے آگئ..

اور کیا مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ کبھی میں قاری سے لکھاری تک کا سفر طے کرسکوں.. یعنی ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پھلانگ سکوں… کہ میری پڑھنے والی آنکھ کے ساتھ ساتھ لکھنے والا قلم (ہاتھ) بھی حرکت کرسکے…

گویا جی میں کھد بد شروع ہوگئ.. اور ذہن میں ‘لکھاری ‘ والا کیڑا کلبلانے لگا …

ایسا شدید کہ بیٹھے بیٹھے بے شمار صفحات کالے ہونے لگے…یوں آہستہ آہستہ شعاع خواتین کے ساتھ قلم اور کاغذ نے بھی جگہ بنالی مگر ان کاغذوں پر بکھرے الفاظ میرا منہ تب چڑاتے جب وہ ان سنے رہ جاتے…جب میری کہانی کے اتار چڑھاؤ کو کوئی ماپ ہی نہ سکتا… میرے لکھے گئے جملے مجھے یوں محسوس ہوتے تھے مانو ‘ ڈیڈ سی’ ہوں… کہ نہ میرا کوئی لفظ موتی بن کر کسی کی زندگہ چمکا سکتا.. اور نہ ہی مشاہدے کے پیشِ نظر میرے قلم سے لکھا گیا فلسفہ کسی کی سوچ کا دھارا بدل سکتا..

کچھ شروع شروع میں میری سوچ کی پرواز بھی بس ہیرو ہیروئن کے ہجر و وصل تک ہی محدود رہی..

گھریلو موضوعات نے میرے ذہن کو سرائے ہی سمجھ لیا تھا.. مگر بانو قدسیہ, امرتا پریتم, مستنصر حسین تاڑر, شفیق الرحمان , ایلف شفق اور دیگر کے فنِ تحریر کو پڑھنے کا موقع ملا تو سارے بن بلائے مہمانوں کو نکال باہر کیا اور روایتی انداز سے ہٹ کر لکھنے کی ہڑک جاگ اٹھی

پھر میرے ذہن و دل بھی میں تبدیلی کی پکار دستک دینے لگی…… تخیل نے انگڑائی لے کر گویا اپنے باغی ہونے کا اعلان کیا اور آسما ن کی وسعتوں کو چھوتے ہوئے پرواز کرنے کی تمنّا کرنے لگا… میں بھی اس کی خواہش کا احترام کرتی ہوں.. مگر ابھی کم عمر ہے نا! لہذا ابھی سے بے لگام ہونے نہیں دے سکتی.. سو چپکے سے گھوری ڈال کر سماجی موضوعات کو آرٹیکلز کی شکل میں بیک کرلیتی ہوں.. جسکی خوش بو مجھے امید ہے کہ زندہ تمنّا رکھنے والے ہر شخص کے دل کو مہکا دے گی..

ابھی میرے قلم کی عمر زیادہ نہیں.. یہ آنے والے اکتوبر میں تین کا ہندسہ عبور کرجائے گا… میرا اور قلم کا تعلق دیوار اور آکاس بیل ایسا ہے… دل فریب لفظوں پرمشتمل , تہوں میں چھپی کہانیوں کی یہ بیل میرے تخیل کی دیوار سے رفتہ رفتہ ظاہر ہوتی یقیناً آنے والے وقت میں ناصرف قارئین کی آنکھوں کو خیرہ کرے گی بلکہ اس بیل کی سرسراہٹ بہت سے خاموش دلوں کی آواز بھی بنے گی..

__________________

حمیرا فضا

رحیم یار خان

’’قلم کا جنم ‘‘
قلم کا جنم کتنا خوبصورت احساس ہے۔۔۔کتنا بامعنی نام ہے۔۔۔کتنا گہرا سوال ہے۔جب آپ سے کوئی آپ کی تاریخ پیدائش پوچھتا ہے تو آپ فٹ سے ایک تاریخ بتا دیتے ہیں،لیکن قلم کے جنم کی کوئی ایک تاریخ نہیں مل پاتی۔یہ لفظوں کا وہ ناطہ ہے جو خوشبو سے شروع ہوتا ہے،اور کب خوشبو لہو میں گھل مل جائے یہ کہانی سالوں میں چلتی ہے۔۔۔زمانوں میں چلتی ہے۔۔۔صدیوں میں چلتی ہے۔آپ عمر کی سیڑھیاں چڑھتے جاتے ہیں اور آپ کے اندر لفظ ایک گہری کھائی کھودنے میں جت جاتے ہیں۔قلم کا جنم صرف سفید کاغذوں پر تحریریں رقم کرنے سے نہیں ہوتا بلکہ اکثر آپ کا قلم آپ کو ہی دریافت کر لیتا ہے۔جب آپ لکھنا شروع کرتے ہیں تو آپ کے اندر کی شخصیت پرت در پرت کھلتی جاتی ہے ۔نئے خیالات ،نئ کہانیاں ،نئے احساسات انسان میں کئ تبدلیاں رونما کرتے ہیں، قلم کا جنم آپ کے اندر اُس انسان کا جنم ہے جسے درحقیقت آپ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ زندگی کا البم اٹھاؤں تو پھولے گالوں والی،بکھرے بالوں والی ایک بارہ سالہ بچی جسے نہیں پتا تھا ۔۔۔لکھنا کیا ہے ؟لکھتے کیوں ہیں؟لکھا کیسے جاتا ہے؟اپنی سکول کی کاپیاں اٹھائے ایک خواب نگر نکل گئ ۔گلابی گالوں اور سنہری آنکھوں والی کئ ننھی منی پریاں تخیل میں اس کا ہاتھ پکڑے اڑائے اڑاے پھرتیں ،پھر اس نے ایک دن اپنے ہاتھ کے لمس کو کاغذ پر اتار دیا۔یاد ہے وہ وقت جب بچوں کی نظموں سے ایک رجسٹر بھر دیا تھا اور سہیلوں کے جھرمٹ میں اترا کر کہہ دیا ۔یہ دیکھو میری کتاب۔پھولوں ستاروں پرندوں سے دل لگانا ہمیشہ میرا شوق رہا ہے۔میں بہت سی چیزوں پر غور کرتی ہوں ،انھیں گھنٹوں سوچتی ہوں سمجھتی ہوں پھر کچھ لکھنے کے لیے قلم اٹھاتی ہوں ۔میرا نام کا اگلا حصہ میں نے پانچویں جماعت میں ہی منتخب کر لیا تھا اور نہیں جانتی تھی کہ یہ فضا کہاں سے آئی ہے کہاں جانا چاہتی ہے۔بعض دفعہ ہمارا قلم سے رشتہ جڑ جاتا ہے،مگر اس سے تعلق کی مضبوطی کا ادراک نہیں ہوتا۔اس لیے میں کہتی ہوں قلم کا جنم ساری عمر ہوتا ہے۔یہ قلم بچپن کی نادانیاں تحریر کرتا ہے،اس کی نوک سے کئ جوان بہاریں رقم ہوتی ہیں اور پھر یہی قلم بڑھاپے کی سیاہی کو بھر کر بیتے دن کے اجالے لکھتا جاتا ہے۔میں بھی ننھی منی پریوں کے بعد خوبصورت شہزادیوں سے ملنے لگی تھی۔جو خیال پہلے ذہن تک محدود تھے وہ دل تک آگئے تھے۔لفظ دل تک آجائیں تو سمجھو جان پر بن آتی ہے۔میری کمزور جان کو بھی کئ نظموں نے اپنے کندھے پر اٹھا لیا تھا۔میں تب بھی نہ سمجھی مجھے کہاں جانا ہے۔بس کچھ دیر ان نظموں کا ہاتھ تھامے دل کے شہر میں گھومتی رہی،مگر ابھی کنڈی پوری کھلی نہ تھی یہ جاننے کے لیے کہ دل کے اندر ایک شہر نہیں ایک جہان آباد ہوتا ہے۔تمھیں ابھی پڑھنا۔۔۔تمھیں ابھی اپنے فیوچر پر توجہ دینی ہے۔۔۔تمھیں ابھی ڈاکٹر بننا ہے ۔یہ وہ آوازیں تھیں جو اندر سے سنائی دیتی تھی۔فرار ممکن نہ تھی ،کیونکہ صحیح خواہش کا ابھی تعین نہ ہوا تھا۔وقت گزرنے لگا اور میں کالج میں آگئ۔پڑھنے کے علاوہ جب میں دوسروں میں ان کی اور صلاحیتیں ڈھونڈتی پھر مجھے احساس ہوا میرے پاس کیا ہے؟بائیو کی ڈائیگرامز ،کیمسٹری کے فارمولوں سے بھی زیادہ کچھ اہم تھا ،کچھ قیمتی تھا۔اب میں ڈرپوک نہ رہی تھی، نظمیں لکھتی اور بھری کلاس میں سنا بھی دیتی پر اِن لفظوں سے محبت ابھی بھی نہ ہوئی تھی ،مگر کیا خبر تھی کہ مجھے اِن سے عشق ہوگا۔دنیا میں رہتے ہوئے خوابوں میں تانک جھانک کا سلسلہ جاری رہنے لگا ،مگر کبھی اتنی ہمت نہ ہوئی کہ چھلانگ لگا کر اس پار چلی جاؤں۔۔۔جہاں ستاروں میں جھلملاتی کئی ںظمین ہیں ،جہاں آبشاروں میں بہتی کئ کہانیاں ہیں،جہاں پہاڑوں پر سفر کرتے لفظوں کے جھنڈ جوق در جوق آگے بڑھ رہے ہیں۔اُس جہاں جانے کا سوچتی رہی اور زندگی آگے بڑھ گئ ۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا کرنا ہے ۔میری خامی یہی رہی ہے کہ میں نے اپنے آپ کو دیر سے ڈھونڈا۔میں اپنی خواہش سے جدا رہی اور شادی کا وقت بھی قریب آگیا ۔میں وہ پاگل لڑکی جس نے اِتنا لکھا نہیں تھا،مگر ٹھان کر بیٹھ گئ کہ اب تو لکھنا ہی نہیں،اب تو لکھا جائےگا ہی نہیں۔اور پھر مجھے وہ شخص ملا جس نے میرے دل میں چھپی کئ کہانیوں سے مجھے ملایا۔پہلی بار میں نے کھانا پکاتے پکاتے کئ کہانیوں کی خوشبو محسوس کی تھی۔مجھے دھلے ہوئے کپڑوں میں کئ کردار واضح سے نظر آنے لگے تھے ۔استری کرتے کئ جملوں سے سلوٹیں اتر گئ تھیں۔ہر کام میں میرے دل کی خواہش بندھ چکی تھی ،اور اب مجھے واقعی میں معلوم ہوچکا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ایک اور بات جو میں لکھتے ہوئے محسوس کرتی ہوں اس کا ذکر کرنا چاہو گی۔کہنے کو ایک لکھاری کئ کہانیاں بنتا ہے ،محبت اور نفرت کے کئ کردار تخلیق کرتا ہے ،مگر یہ بے جان کردار بھی اکثر کئ چیزوں کا احساس دلا جاتے ہیں ۔آپ اپنے لکھے کردار سے محبت کا گہرا فلسفہ کہلواتے ہیں اور آپ کا دل گواہی دینے لگتا ہے کہ ایسا فلسفہ آپ کو بھی رٹ لینا چاہیے۔۔۔آپ کا لکھا کردار جب اپنے چھوٹے چھوٹے خوابوں کے پیچھے بھاگتا ہے تو آپ کے بھی بڑے بڑے خوابوں سےپردہ اُٹھنے لگتا ہے۔۔۔اور جب آپ کا لکھا کردار ندامت کے آنسو بہاتا ہے تو آپ کا دھیان بھی ان غلطیوں کی طرف چلا جاتا ہے جو سینے میں پنہاں رہ جاتی ہیں۔ہم کیا لکھ سکتے ہیں ۔۔۔کیا لکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔ہمارے اندرکیا کچھ ہے یہ قلم سے جنم لینے والی کئ تحریریں بتا جاتی ہیں۔ غرض آپ صرف سیکھاتے نہیں خود بھی سیکھتے ہیں۔۔۔۔آپ صرف لکھتے نہیں خود کو پڑھاتے بھی ہیں ۔۔۔ہنسنا ،رونا ،شرارتیں کرنا ،پشیمان ہونا یہ کردار کیا کچھ نہیں سیکھا جاتے۔میں نے یوں تو شاعری بھی کئ ہے مگر ذات کا عمیق فلسفہ مجھ پر ان کہانیوں نے کھولا ہے۔ ان تین چار سالوں میں ،میں تیس چالیس افسانے اور ایک قسط وار ناول لکھ پائی ہوں،مگر مجھے ابھی چلنا ہے ،لکھنے سے محبت تو ابھی شروع ہوئی ہے !!!
ہزاروں کہانیاں
سینکڑوں کردار
ان گنت جذبے
دل کی زمین پر جمع ہوتے ہیں
ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں
جب کسی ہاتھ سے قلم کا جنم ہوتا ہے

____________________

طاہرہ غفور

اسلام آباد

جس عمر میں لڑکیاں پھولوں اور خوشبو کی دیوانی ہوتی ہیں، خواب بنتی اور ادھیڑتی ہیں اس عمر میں میں کانٹوں کے تیکھے پن اور آنسووں کے نمک چکھ رہی تھی. وجہء غم کچھ بھی ہو شدت غم بہت زیادہ محسوس ہوتی تھی. اور یہ احساس کہ محبتوں کے معاملے میں تہی داماں ہوں، اندر ہی اندر کھائے جارہا تھا. اور محبت مجھ سے بہت دور کھڑی مسکرا رہی تھی اور میں اسے حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی. اتبا فاصلہ تو نہیں اپنوں کی محبت میں، کوشش شرط ہے. کوشش کرنے میں کیا مضائقہ ہے میں بے اختیار اس کی طرف بڑھی اور اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا اف اس کے ساتھ لگے کانٹوں نے ہاتھ لہو لہان کردئیے انگلیوں سے لہو ٹپکنے لگا. حلق سے ایک آہ نکلی.
کیا ہوا؟ ہمت کرو کچھ پانے کے لیے کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے. شاباش تھوڑی ہمت کرو۔دل نےدوہا ئی دی .
ماں کے بچھڑنے کے بعد لگتا تھا دل مر گیا ہے. اللہ بھی اپنے پیاروں کو جلد اپنے پاس بلا لیتا ہے. اور اس کے بعد لوگوں کی محبتوں کا کچا رنگ دھل کے سامنے بہتا نظر آتا تھا .
والدہ کے بعد والد کی شفقت مرہم کے کام آتی وہ حوصلہ بڑھاتے. پاؤں خودبخود اگے بڑھے. دل میں امید کی رمق باقی تھی. کہ جلد ہی سب کو اپنے بدصورت رویوں کا احساس ہوجائے گا. والد کی حوصلہ افزائی کے بعد لگتا یہ نزدیک تو ہیں محبت بھرے رشتے بالشت بھر کے فاصلے پر.بے اختیار بڑھی لیکن پاؤں میں کچھ چبھن محسوس ہوئی. نظر زمین پہ پڑی باریک کانچ کے ٹکڑے پڑے تھے. پاؤں رک گئے
منزل ہزاروں میل دور محسوس ہونے لگی.
سانس اکھڑنے لگی. سوچتی تھی تو سوچے ہی جاتی تھی. یہ سب کیوں ہے. میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوگیا. یہ سب کیا ہورہا ہے. اندھیرے میںامید کا جگنو ٹمٹمایا اور پل بھر میں مجھے روشنی کا ہالہ محسوس ہوا.میں نے کتابوں میں پناہ ڈھونڈ لی ۔وقت کے ساتھ لکھنے کا شوق پڑ گیا ۔مجھے لگا لہولہان جسم پڑ کسی نے نرمی سے پھا ہا رکھ دیا ہو ۔تکلیف میں خفیف سی کمی محسوس ہوی ۔عجیب بےخبری کی کفیت چھا جاتی اور اس کفیت سے نکلنے کو جی نا چاہتا ۔دل چاہتا تھا کے آنکھوں میں یہی منظر ٹھہر جاۓ اسی احساس کی نرم پھوار برستی رہے ۔انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے بعد اردو ادب سے تشنگی کا احساس ہوا اور ایم فل اردو میں جانے کے بعد راستہ مزید روشن ہو گیا ۔اساتذہ کی محبتوں میں شوق کی راہیں ہموار ہوئیں ۔وقت اپنی رفتار سے رواں دوا ں تھا اور اسی رفتار سے آگے بڑھ گیا اور گزرے تمام منظر ذہن کے لاشعور میں چھپ گے اور وہاں جب ان کا دم گھٹنے لگتا باہر جھانکتے تو زخموں کے ٹانکے پھر سے اکھر نے لگتے۔لہو بہنے لگتا تو سب اچھے کی آس پوری آب و تاب سے خیالوں میں چھا جاتی اور میں پھر سے ان کی چمک دمک میں گم ہو جاتی ۔ہوش تب آتا جب کوئی زہر میں بجھا نشتر جسم میں آ لگتا میری عقل میری ہی ہنسی اڑاتی ۔۔۔کیوں بَنّو فرش پر رہتے ہوئے عرش کے خواب ۔ ۔ انجام بخیر بے سود ۔میری ہنسی بھی اس کی ہنسی میں شامل ہو جاتی۔اس طنز پر دل تو چاہتا کہ اس کا منہ ہی نوچ دوں لیکن صبر کے گھونٹ اس لئے پی لیتی کے تم سے بگاڑ کر زندگی کو مزید دشوار کرنا مقصود نا تھا ۔گرداب زندگی میں پھر رہی سہی طاقت کے ساتھ گھومنے لگی ۔رات کو بستر کی آغوش میں جانے سے پہلے اپنے سب خواب کاغذ قلم کے سپرد کرتی اور اگلے دن کسی کے دیکھنے کے ڈر سے خوفزدہ انہیں اپنے ہاتھوں سے ہی ریزہ ریزہ کر دیتی۔زندگی کی تلخیوں میں یہ استعارہ میرا ساتھ بن گیا جو یقیناً تلخیوں کو کم تو نہیں کر سکتا تھا ہاں مگر چھبن کے احساس کو کم کرنے میں ما ون تھا ۔بلکل ایسے ہی جیسے تپتی دھوپ میں ننگے پاؤں چلتے ہوۓ اچانک پاؤں کے نیچے شبنمی مخملیں گھاس آ جاۓ ۔

___________________

ھدی شیخ

اسلام آباد

اسلام و علیکم استاد محترم اور ساتھی ممبران،
سب سے پہلے میں اس بات کو واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ میرے لئے اپنا تعارف دینا سب سے مشکل امر ہے، کاش کہ یہاں بھی بات روزمرہ زندگی کی طرح صرف نام بتا دینے سے ٹل جاتی کہ: “سلام جی میرا نام ھدیٰ شیخ ہے”، مگر مجھے معلوم ہے کہ اپنی شناخت کی پرتیں اتارنا سیکھیں گے تو ہی کل کسی کردار کو تہہ در تہہ کھولیں گے یا چھپا پائیں گے۔ یقین جانئے جب سے یہ سوال میرے سامنے آیا ہے، میں انتہائی مضطرب ہوں۔ یوں سمجھئے کہ جیسے ایک خاموش جھیل میں تلاطم برپا ہے۔۔۔ بات ہرگز یہ نہیں کہ میں اپنی ذات سے آگاہ نہیں، بالکل آگاہ ہوں، اپنی زندگی کا صدیوں سا طویل ایک ایک لمحہ خود جیا ہے، با ہوش و حواس۔ اصل مسئلہ ہے کہ مجھ کو نہ اعتماد ذات ہے اور نہ ہی اعتماد زیست و ہستی۔ پھر بھی کوشش کرتی ہوں کیونکہ سیکھنے کی خواہش جینے کی چاہ سے بھی زیادہ ہے۔
سوال ہے تعارف، اور جواب ہے کہ “صاحب برگِ آوارہ کا کیا تعارف؟” جی! میں شجر سے بچھڑا ہوا وہ ایک بدقسمت پتا ہوں، جس کی قسمت میں ہجرت، خانہ بدوشی اور ایک درد بھرا حساس دل لکھ دیا گیا تھا۔ میری زندگی کا یہ موڑ میرے اور میرے ادبی ذوق کے لئے ذریعہء رحمت ثابت ہوا۔ میں نے جس گھرانے میں اپنا بچپن گزارا وہاں مطالعے کا شوق مکینوں کی عادت ثانیہ تھا۔ روز صبح سویرے نانا جی کے دن کا آغاز انگریزی کا اخبار پڑھ کر ہوتا۔ دوپہر میں نانی ماں اپنے بستر کے پیچھے بنی سیمنٹ کی رنگین طاق سے اردو کی کوئی سی کتاب نکال کر پڑھتی اور پھر ذرا سستا لیا کرتی تھیں۔ اس طاق میں بہت سی انواع و اقسام کی اردو کتب تھیں، جن میں نانی ماں کا ادبی ذوق جھلکتا تھا۔ انہیں بچپن سے ہے کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اور انہوں نے میر انیس، مرزا غالب، میر درد، داغ، حسرت موہانی سے لے کر فیض اور ابن انشاء تک کو پڑھ رکھا تھا۔ ان کو اردو اور پنجابی کے علاوہ فارسی پر بھی کمال حاصل تھا، جو کہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ اوجھل تو ہو رہا تھا مگر رمک پھر بھی باقی تھی۔ میرے بچپن میں وہ ردی والے سے ردی-کاغذ کے بدلے مجھے چار یا آٹھ آنے والی چھوٹی کہانیاں لے دیا کرتی تھیں، اور میں گرمیوں کی دوپہروں میں بیٹھ کر “عمر و عیار” کے ساتھ “کوہ کاف” کی سیر کو چلی جایا کرتی تھی۔ میرے ننہیال میں یہ شوق میری نانی ماں کی مرہونِ منت ہی پنپ رہا ہے، نانا ابو کو میں نے صرف اخبارات اور اپنی اکاؤنٹینسی کی کُتب ہی پڑھتے دیکھا تھا( وہ دونوں اب اس دنیا میں نہیں-اللہ ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے آمین)۔ بڑے ماموں جان کے کمرے میں کئی انگریزی ناول موجود تھے، جن سے مجھے کبھی دلچسپی نہ ہوئی، بس ان پر بنی تصاویر دیکھتی رہتی، چھوٹے ماموں کی دلچسپی اُن کی اردو شاعری کی کُتب کے ذخیرے سے نمایاں تھی۔ خالہ کو ہم نے زیادہ تر اپنی تعلیمی کُتب یا فائن آرٹس کے جرائد پڑھتے دیکھا۔ مجھے اکثر تحفے میں بھی کتابیں ہی ملا کرتی تھیں۔ پڑھتے ہوئے تو میں نے سب کو دیکھا مگر آج تک کسی کا لکھا کچھ نہ پڑھا، یا شاید اُن کے مطالعے کے شوق کا ثمر مجھے ہی ملا تھا، کہ مجھ میں الفاظ سے کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔ میں نے اپنی پہلی بے سروپاء نظم تب لکھی جب میں جماعت دوئم میں پڑھتی تھی۔ یہ نظم میں نے اپنی پہلی اور واحد سامع اور مداح نانی ماں کو سنائی اور خوب داد وصول پائی۔ شام میں جب سب لؤنج میں اکٹھا تھے تو انہوں نے فخر سے میرا کارنامہ اہلِ خانہ کے سامنے پیش کیا۔ میں فرطِ جزبات سے رو پڑی، ویسے بھی اس گھر کے تمام عاقل و بالغ افراد میں میں ایک واحد بچہ تھی۔ بچپن کا اپنا ایک گداز روپ تھا، اپنے بڑوں سے محبت پیار مل رہا تھا، دل میں چبھی جدائی کی پھانس نے میرے بنجر دل کو کبھی زندگی کے شوخ و چنچل رنگوں سے آشنا ہی نہ ہونے دیا۔ بکھرے گھروندے کے اس بھٹکے ہوئے فرد کو زندگی کے کسی پُر آسائش لمحے میں سکون نہ نصیب ہوا، ماضی کی پرچھائیوں نے میرے بچپن کا ہر چاند گہنا دیا۔ ایک مسلسل خوف، ایک ناگزیر ڈر، اپنے نا مکمل اور عام بچوں سے مختلف بچپن جینے کی احساسِ کمتری نے میرے وجود پر تاریک رنگ مسلط کر رکھے تھے، جن کے سائے آج بھی منڈھلاتے ہیں۔
مگر قدرت بھی عجب ہے، موسیٰ (ع۔س) کے ناکارہ ہاتھ میں نور منعکس کر دیتی ہے۔ سو ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا، قسمت نے جو تاریکی بچپن سے میرے اندر بسا دی تھی، وہی میرے تخیُّل سے قوسِ قزاح بن کر پوٹھی۔ مجھے الفاظ اور رنگوں میں دلچسپی ہوئی۔ میٹرک میں سائنس پڑھنے کے بعد میں نے اِنٹر میں انگریزی ادب کے ساتھ فائن آرٹس کا انتخاب کیا۔ سو بس الفاظ اور رنگوں نے مجھے خوب سہارا دیا۔ تخیُّل نے میری زبان اور ہاتھوں کو میرا بہترین ساتھی بنا دیا تھا۔ میں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان کا ایف ایم چینل بھی جاوئن کر لیا۔ شاعری ویسے ہی ساتھ ساتھ جاری تھی، جیسے زندگی کی چپکلشیں۔ گو کہ شاعری میرے لئے پہچان نہ بن سکی، مگر اس نے مجھے کتھارسس کا بہت موقع دیا، سو بس جب جہاں جیسے آمد ہوتی لکھ لیتی۔ کالج میں ایک مایا ناز شاعرہ کے پاس میں اپنی شاعری سنانے گئی، میری ایک چھوٹی سی غلطی پر انہوں نےاصلاح کے بجائے بھری جماعت کے سامنے مجھے اتنا ذلیل کیا، کہ میں نے پھر کبھی کسی کو اپنی شاعری نہ سنائی۔ بس میں نے دوسری سرگرمیوں میں اپنا دھیان لگا لیا۔ میں نے اپنے کالج اور یونیورسٹی دونوں سے فنِ تقریر میں رول آف آنر حاصل کیا۔ کالج اور یونیورسٹی کے ادبی جریدوں کے لئے لکھا۔ پینٹنگ ایگزیبیشنز میں حصّہ لیا۔ ادبی مطالعہ تو ساتھ ساتھ جاری رہا، انگریزی کُتب میں اپنے درس کی پڑھتی رہی، اور اردو ادب کے لئے میں نے گھر میں نانی ماں کی کلیکشن سے استفادہ کیا۔ ابنِ انشاء کے سفر نامے،ناصر کاظمی اور عدیم ہاشمی کی شاعری، خدیجہ مستور کا “آنگن” اور مستنصر حسین تارڑ کا “پیار کا پہلا شہر” پڑھا۔ افسانے کا شوق مجھے تب ہوا جب میں نے کالج کی ایک سہیلی سے ادھار لے کر “منٹو” کے افسانے پڑھے، یقیناً یہ کام چھُپ کر کیا گیا تھا، مگر اُن کی بے باکی اور معاشرہ شناسی نے مجھ پر دور رست اثر چھوڑا۔ مجھے افسانے کی صنف سے پیار ہوگیا، اس میں منٹو کے ساتھ ساتھ اُن انگریزی شارٹ سٹوریز کا بھی ہاتھ ہے جو میں نے اپنی انگریزی کی کلاس میں پڑھی۔ کالج کے بعد میں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں ایم-اے انگریزی ادب میں داخلہ لے لیا۔ یہاں میں نے نصابی کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیا، تقاریری مقابلوں میں حصہ لیا، مایانہ اور سالانہ ادبی جرائد کے لئے انگریزی اور اردو میج لکھا۔ شاعری اور افسانہ نگاری ساتھ ساتھ جاری رہی، مگر صرف ذاتی لیول پر۔ میری بہت سی سردیوں کی اداس شامیں، بنجر درختوں کو پینٹ کرتے اور ان سے اٹکی مردہ پتنگوں پر شعر کہتے گزریں۔
زندگی آسان نہ تھی، نہ ہے، ایسے ہی جیسے کسی نے مجھے اُون کا گولہ بنانے کو دیا ہو اور اس میں ہر بل کے بعد کئی الجھنیں آجائیں، کئی جگہ تو اتنی اڑچن ہو کہ رشتے ناطوں کی ڈور توڑنے سے ہی کام بنے۔ مجھ پر ایسا تاریک وقت بھی گزرا کے پورے آٹھ سال کوئی آمد نہ ہوئی۔ اب پھر سے کمر باندھی ہے، جس میں اس خوبصورت فورم کا بہت ہاتھ ہے۔ زندگی تلخ رہی پر اب اس سے کوئی شکوہ نہیں، اس نے مجھے بہت سے ہنر اور فن دئے ہیں، خود آگہی کے، اپنے زورِ بازو پر انحصار کے اور سب سے بڑھ کر الفاظ اور رنگوں کی طاقت کے۔
آخر میں اپنا ایک شعر پیش کرتی ہوں؛
سویٹر اُون کے جو بن رہی تھی،
وہ لڑکی خود بہت الجھی ہوئی تھی۔۔۔

___________________

A project by

Sofialog.blog

& YWWF_Isb

Advertisements