عشق محشر کی ادا رکھتا ہے________چوتھا حصہ ___حمیرا فضا

مجھ کو مانگی ہوئی عزت نہیں پوری آتی
ٹوٹ جاؤں نہ یہ پوشاک بدلتا ہوا میں
ذکیہ بیگم کی واپسی ہوئی تو سیف کی جان میں جان آئی۔بے چینی کی آگ اُس کی محبت کے وجود کو تو جلا چکی تھی اب وہ صرف جیون کی چاہت کا آشیانہ بچانے کی خواہش میں تھا۔اُسے کبھی اتنی عزت نہیں ملی تھی کہ وہ سر اُٹھا کر بات کرتا لیکن جیون کی گردن جھکنے سے بچانے کے لیے اُسے آج غلامی سے جھکے سر کو اٹھانا ہی تھا۔
“مجھے ممانی جان کو جلد از جلد ساری صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے۔ہوسکتا ہے وہ مجھ پر بے اعتباری کی نگاہ ڈال کر گستاخ قرار دے دیں یا مجھ پر غفلت کا جرم عائد کرکے سخت سے سخت سزا سنا دیں ۔۔۔ ممکن ہے کہ جازم اِس بہادری پر مجھے بزدلوں کی موت مارے یا جیون اِس نافرمانی پر میرا جینا دوبھر کر دے ۔کچھ بھی ممکن ہے ،مگر میں یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ جیون مزید غلطیاں کرے ۔”
وہ کئی دن سوچ بچار کرتا رہا کیونکہ ذکیہ بیگم سے بات کرنے کے لیے اُسے اپنی عمر سے زیادہ ہمت درکار تھی۔
“ممانی جان میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔”
ذکیہ بیگم اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھیں کہ سیف کی گھبرائی ہوئی آواز نے اُن کی توجہ کھینچی۔
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔تمھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میرے ہجرے میں میری اجازت کے بغیر کوئی نہیں آسکتا۔”
اِس سے پہلے وہ کچھ کہتا ذکیہ بیگم کرسی سے اُٹھتے ہوئے اُس پر برس پڑیں۔
“ممانی جان بات ضروری نہ ہوتی تو میں اپنی اوقات نہ بھولتا۔بس ایک بار میری بات سن لیں۔”
سیف نے عاجزی سے ہاتھ جوڑتے ہوئے کانپتی آواز میں کہا۔
“بتاؤ کونسی ایسی بات ہے جو حویلی کا غلام جانتا ہے اور میں بے خبر ہوں۔”
وہ چند ثانیے اُسے گھورنے کے بعد اجازت دیتے ہوئے طنزیہ بولی تھیں۔
“ممانی جا ن جیون بہت اچھی لڑکی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے وہ نہ ہو تو حویلی سانس ہی نہ لے۔آپ اُسے اِس حویلی میں ہمیشہ کے لیے رکھ لیجیے ۔جازم لالہ کے لیے اُس سے بہتر کوئی اور لڑکی ہو ہی نہیں سکتی ۔”
سارے سوچے سمجھے لفظ گڈ مڈ ہوگئے تو وہ اٹکتے اٹکتے صرف اِتنا ہی کہہ پایا۔
“احمق لڑکے کیا تم مجھے جیون کی خوبیاں گنوانے آئے ہو اور تم ہوتے کون ہو مجھے اُن دونوں کی زندگی کے بارے میں مشورہ دینے والے۔”
ذکیہ بیگم نے غصے سے چلا کر کہا تو وہ لڑکھڑاتے ہوئے کچھ قدم پیچھے ہٹ گیا۔
“میں یہ کہنا چاہتا ہوں،میرا مطلب ہے کہ جیون اور جازم لالہ شاید ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔”
وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے ہچکچا کر بولا۔ذکیہ بیگم کے غضب نے اُس کے سارے اعتماد کو ختم کردیا تھا۔
“یہ سب میں جانتی ہوں ۔تمھاری آنکھوں سے زیادہ دیکھتی ہیں میری آنکھیں اور تمھارے کانوں سے زیادہ سننے کا ہنر ہے میری سماعتوں میں۔کم عقل بونے نوکر ،تم نے میرا اچھا خاصا وقت برباد کر دیا۔”
وہ سابقہ لہجے میں اپنے عتاب سے اُسے مزید نیچا دیکھانے لگیں۔
“تمھاری اہم بات ہو چکی ہے تو دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔”
ذکیہ بیگم نے دوبارہ سے اپنی کتا ب اُٹھاکر انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
“میں جو کہنے آیا ہوں۔وہ میں نہیں کہہ سکتا۔ایک لڑکی کی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا ۔میں یوں اُسے ممانی جان کی نظر میں نہیں گرا سکتا۔میں اُسے ایسے بدنام نہیں کرسکتا۔”
وہ دل ہی دل میں خود کو ملامت کرتا ،آنکھیں ادب سے جھکاتا ہجرے سے نکل گیا تھا۔
بزدلی ایسی نامراد شئے ہے کہ انسان اپنے راستے کے کانٹے تو چن ہی نہیں سکتا اور اگر وہ دوسرے کی راہ میں پڑی کنکریاں بھی سمیٹنا چاہے تو وہ اُسے بڑے بڑے پتھر نظر آتی ہیں۔وہ کچھ دن اپنے کمرے میں بند ہوکر اپنی قسمت پر ماتم کرتا رہا۔وہ ایسے چھپ رہا تھا جیسے اُس نے کوئی گناہ کیا ہو اور گناہ کو چھپانا اُس پر آواز نہ اُٹھانا گناہ کرنے کے مترادف ہی تو ہوتا ہے۔
*****
اب میری راکھ اُڑا یا مجھے آنکھوں سے لگا
تجھ تلک آگیا ہوں آگ پہ چلتا ہوا میں
ّآج جازم حویلی میں نہیں تھا اُسے جیون سے بات کرنے کے لیے یہ موقع بہترین لگا۔۔۔وہ پوری حویلی میں اُسے دیوانہ وار ڈھونڈنے لگا۔۔۔نہ وہ بڑے آنگن میں مرغیوں کے پیچھے دوڑتی ہوئی ملی ۔۔۔نہ مہکتے باغ میں تتلیوں کے پیچھے بھاگتے ۔۔۔نہ وہ باورچی خانے میں مسالوں سے اُلجھتی نظر آئی ۔۔۔نہ ملازموں کے سر پر کھڑی چیختی چلاتی ہوئی۔۔۔وہ پوری حویلی کا چپّہ چپّہ دیکھتا۔۔۔آئینوں سے پوچھتا۔۔۔ستونوں سے ٹکراتا۔۔۔زینوں سے لڑتا حویلی کی تیسری چھت پر پہنچا تو وہ اُسے دور سے دیکھائی دی۔
نیلی پری دنیا جہاں سے غافل سفید کبوتروں کو دانہ ڈالنے میں مگن تھی ۔ اُس نے گہرے نیلے رنگ کی لمبی فراک پہن رکھی تھی جس پر جگہ جگہ لشکارے مارتے سفید شیشے ایسے معلوم ہو رہے تھے ، جیسے سمندر پر تیرتی ہوئی آوارہ سپیاں۔تیز دھوپ میں اُس کے گیلے بالوں سے ٹپکتا ہوا پانی شفاف فرش پر چمکتی ہوئی بوندوں کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔کبوتروں کے سنگ غٹر غوں کرتی وہ بہت معصوم لگ رہی تھی ۔اُس کی اڑان اِن پرندوں جیسی ہی تھی ، وہ اُسے روکنا چاہتا تھا ، وہ اُسے روکنے ہی تو آیا تھا۔ وہ اتنی جاذبِ نظر لگ رہی تھی کہ سیف کا ٹوٹا دل پھر سے جڑنے لگا اور جمع کی گئی ساری ہمت بکھر سی گئی۔دل نے آگے بڑھنے سے روکا ،مگر وہ ہر صورت اپنی بات اُس تک پہچانا چاہتا تھا اور اب اُسے صرف ایک ہی راستہ نظر آیا۔
آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں
لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم
“میں ایک بار تم سے وہ سب کچھ کہنا چاہتا ہوں جو شاید تم سن نہ سکو۔۔۔تم کہتی ہو میں دو کوڑی کا نوکر ہوں۔۔۔میں کمتر ہوں۔۔۔میںبدصورت ہوں۔۔۔میں مانتاہوں میں ہوں۔۔۔مگر تم اِس حویلی کے ہر انسان اور ہر شئے سے زیادہ قیمتی ہو۔۔۔انمول ہو۔۔۔خوبصورت ہو۔۔۔تم اِس حویلی کے ماتھے پر سجا ہوا غرور ہو۔۔۔مان ہو۔۔۔تمھیں اپنے محبوب رشتوں کا واسطہ ہے اپنی آن اور شان کو خاک میں مت ملاؤ۔۔۔عشق غلط نہیں ہو تا جیون! اور جو عشق غلط راہ لگا دے وہ عشق کے زمرے میں نہیں آتا۔۔۔عشق کی نظریں جب جھکی ہوتی ہیں تو دل کی آنکھیں کھل جاتی ہیں تب عاشق اور دھوکے باز میں فرق صاف دیکھائی دیتا ہے۔۔۔بس ایک بار آنکھیں بھر کر نہیں آنکھیں جھکا کر دیکھو۔۔۔تمھارا عاشق عشق نہیں جانتا ورنہ وہ محافظ ہوتا راہزن نہ بنتا۔۔۔میں تمھیں روکنا چاہتا تھا ، سمجھانا چاہتا تھا، مگر اُن حویلیوں کے نوکر اُن حویلیوں کی عزتوں کی حفاظت نہیں کر سکتے جن حویلیوں کے مالک ہی اپنی عزتوں کے لٹیرے ہوں۔۔۔تم ایک کانٹوں بھری راہ میں بھٹک چکی ہو۔۔۔ جانتا ہوں کہ تم واپس نہیں پلٹ سکتی ۔۔۔بس اِس راہ کو اپنے لیے گلزار بنا لو۔۔۔اگر وہ سچا ہے تو اُسے کہو تمھیں ساری دنیا کے سامنے اپنائے۔۔۔تمھیں اپنا نام دے۔۔۔تمھیں وہ عزت دے جس کی تم حقدار ہو۔”
اُس نے دو سفید کاغذ اپنے اندر کی بھڑاس سے سیاہ کر دیے تھے۔اُسے امید تھی کہ جیون خط کو پڑھ کر کوئی نہ کوئی مضبوط اور درست قدم ضرور اُٹھائے گی۔
*****

وہ ابھی تک نیم بے حوشی کی حالت میں تھا ۔اُس کی آنکھوں او ر منہ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔وہ آوازوں سے بمشکل اندازہ لگا پایا کہ اُس کے اردگرد تین آدمی موجود ہیں ۔دائیں طرف والے نے سر پر پستول تان رکھی تھی تو بائیں جانب والا گاہے بگاہے گندی گالیا ں بکتا اور تیسرا آدمی سائے کی طرح پیچھے پیچھے چل رہا تھا، جو ہر کچھ دیر بعد لات مار کر اُسے زمین پر گراتا اور پھر بالوں سے پکڑ کر کھڑا کر دیتا۔ خوف وحشت اور نشے کی ادھوری کیفیت اُسے روح تک تکلیف پہنچا رہی تھی۔ اُس نے بوجھل ذہن پر زور ڈالتے ہوئے آج کے دن کی شروعات کے با رے میں سوچنے کی کوشش کی۔ وہ آج صبح صبح شہر جانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔اُس کی جیب میں اچھی خاصی رقم اور سر پر حویلی کے ڈھیروں کام تھے۔ ایک سنسنان جگہ پر دو لوگوں نے اُس سے راستہ پوچھا اور پھر اندھیرا سا چھا گیا۔کچھ ہو ش آیا تو وہ جان گیا کہ اُسے اغوا کر لیا گیا ہے ، مگر کیوں ؟ کس لیے ؟ یہ سوال ابھی باقی تھے۔اُس کی جیب میں موبائل فون اور پیسوں کا موجود ہونا اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اغوا کرنے والوں کو اُس کے پیسے یا قیمتی سامان سے کوئی غرض نہیں تھی ۔
وہ کسی تنگ جگہ سے چلتے چلتے ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے رک گئے تھے۔اُن میں سے ایک آدمی نے آگے بڑھ کر دروازے کا تالا کھولا اور دوسرے نے وحشی پن سے کمزور وجود کو لات مار کر اندر دھکیل دیا۔تعفن زدہ ہوا کے جھونکے اُس کے نتھنوں سے ٹکرائے تو اُس نے جھرجھری سی لی۔کمرے میں پھیلی بدبو اور مٹی بتا رہی تھی کہ کمرہ کافی عرصے سے بند پڑا رہا ہے۔اُسے ایک کرسی کے ساتھ یوں باندھا گیا کہ وہ پوری طاقت لگا کر بھی اپنے ہاتھ اور پیروں کو حرکت نہیں دے سکتا تھا۔ اگلے ہی لمحے زخمی سر پر ٹھنڈا پانی ڈال کر اُسے مکمل ہوش کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا ۔ نشہ اترتے ہی اُسے دوگنی اذیت محسوس ہوئی۔ دھول کے اڑتے ذرّوں نے سانسوں کو تکلیف پہنچائی تو ان گنت چھوٹے چھوٹے کیڑے بدن پر رینگنے لگے ۔وہ اب سمجھ گیا تھا کہ اُس کو یہاں لانے اور قید کرنے کا مقصد بس سزا دینا ہے۔وہ درد سے بلبلاتے ہوئے گزشتہ دنوں پر نظر ثانی کرنے لگا کہ کب اُس نے کسی کا برا چاہا تھا؟ کب اُس نے کسی کا حق مارا تھا یا کب اُس نے کسی کو چوٹ پہنچائی تھی۔
*****
میرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا
وہ میرے بعد میری زندگی میں آئے گا
ایک دن گزر چکا تھا۔۔۔آنکھوں پر پٹی بندھی ہونے کے باوجود وہ محسوس کر سکتا تھا کہ کمرے میں مٹی بڑھ چکی ہے۔۔۔اندھیرا گہرا ہو چکا ہے اور کیڑے مکوڑوں کی فوج زیادہ ہو رہی ہے۔۔۔گرمی اور گھٹن ایسی تھی کہ اُسے اپنا وجود جہنم میں جلتا محسوس ہونے لگا ۔۔۔وہ اِس دردناک سزا کی وجہ جاننا چاہتا تھا۔۔۔وہ گمنام نہیں مرنا چاہتا تھا۔۔۔مگر امید جیسے مرتی جا رہی تھی۔۔۔اُسے لگا جلد ہی یہ چھت گر جائے گی۔۔۔کرسی کے ساتھ بندھے بندھے یہ زہریلے کیڑے اُس کا سارا لہو پی جائیں گے۔۔۔یا ناک منہ کانوں میں گھستی یہ چبھتی مٹی اُسے جلد ہی مٹی مٹی کردے گی۔۔۔ہائے موت۔۔۔آہ جیون۔۔۔اُس کے لبوں پر ایک ہی نام تھا۔۔۔وہ مرنے سے پہلے اپنے سب جذبوں کو زندہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔وہ خاک ہونے سے پہلے اُس گلاب کو اظہار کی خوشبو سونپنا چاہتا تھا۔۔۔لمبی نیند سے پہلے وہ تھوڑا سا جینا چاہتا تھا۔۔۔بس اُسے دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔لیکن یہ ایک دیوانے کی آخری خواہش تھی۔۔۔وہ کہاں اِس کال کوٹھڑی میں آتی۔۔۔اب وہ اُس کی کہانی میں آتی بھی تو اُس کی کہانی ختم ہوجانے کے بعد۔۔۔رسمِ دنیا نبھانے کو۔۔۔ایک وفادار ملازم کی قبر پر پھول ڈالنے کے لیے۔
بچھڑ کے اُس کو گئے آج تیسرا دن ہے
اگر وہ آج نہ آیا تو پھر نہ آئے گا
دو دن مزید گزر گئے ، بھوک پیاس بدبو اور جسم پر رینگتے حشرات نے اُسے موت کے قریب کر دیا تھا۔بس بند آنکھوں کے آگے لہراتی جیون کی ہلکی سے شبیہہ تھی جو اکھڑتی سانسوں کو زندگی سے جوڑے ہوئے تھی۔
“کوئی ہے؟”
“کوئی ہے؟”
“کوئی تو میری مدد کرے ۔”
“کوئی تو مجھے یہاں سے نکالے۔”
جیون جیون کا ورد کرتے منہ کی پٹی گیلی ہو کر ڈھیلی ہوگئی تو وہ پوری شدت سے مدد کے لیے چلایا،مگر کوئی نہیں تھا جو اُس کی لرزتی آوازوں کا جواب دیتا،اُس کے رونے کی صدائیں سنتا۔چلاتے چلاتے وہ مایوسی سے خاموش ہو گیا۔
“شاید کوئی مجھے ڈھونڈ رہا ہو یا کوئی میرے لیے فکرمند ہو۔ہوسکتا ہے جلد ہی کوئی یہا ں آئے اور میری اذیت ختم ہوجائے۔”
اِس مشکل گھڑی میں ٹوٹی آس نے پھر سے اُس کی ہمت بندھائی۔
“بس ایک بار دعا کردو جیون۔۔۔ایک بار میرے لیے ہاتھ اٹھا لو۔۔۔ایک بار اِس بدقسمت انسان کا راستہ دیکھ لو۔۔۔ایک بار میری کمی کو محسوس کر لو۔”
بے بسی سے بولتے ہوئے وہ بچوں کی طرح سسک پڑا۔
اُس کی کانپتی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی کہ اچانک کچھ گرنے کی زور دار آواز سے وہ ڈر سا گیا۔آنے والے نے طاقت کے زور پر دروازے کو زمین کی دھول چٹا دی تھی۔کچھ دیر کوئی اُس کے ارد گرد مغرور قدموں سے گھومتا رہا پھر اُس کی آنکھوں اور ہاتھوں پر بندھی پٹی ایک جھٹکے کے ساتھ بے دردی سے کھول دی گئی ۔تین دن بعد اُس نے روشنی دیکھی تو بے چینی سے آنکھیں ملنے لگا ۔جلتی آنکھیں پوری طرح سے کھل گئیں تو وہ سامنے و الے کا چہرہ د یکھ کر دم بخود رہ گیا تھا۔
“بڑے ڈھیٹ ہو تم ابھی تک زندہ ہو۔۔۔میرا خیال تھا کہ اگر تم زندہ بچ گئے تو تمھارے ساتھ دشمنی کرکے مزہ آسکتا ہے ۔۔۔اور اب بہت مزہ آئے گا۔۔۔یہ کھیل اور دلچسپ ہوگا۔”
جازم نے سیف کے مٹی اور زخموں سے بھرے چہرے پر جھک کر شیطا نی قہقہہ لگایا۔
سیف کو یہ سمجھنے میں ذرہ بھی دیر نہیں لگی کہ وہ کیوں اور کس وجہ سے یہاں ہے ۔اُسے دل ہی دل میں جیون کی نادانی پر افسوس ہوا تھا۔
“اب تک تو تم سمجھ ہی گئے ہوگے کہ تم کس جرم کی پاداش میں یہاں لائے گئے ہو۔”
جازم نے بے رحمی سے اُس کے بال مٹھی میں دبوچ کر کہا۔
سیف کی گرد ن جھٹکے سے پیچھے ہوئی تو درد کی ایک لہر ریڑھ کی ہڈی سے ہوتی ہوئی پورے جسم میں پھیل گئی۔
“تم جیسے معمولی نوکر کی ہمت کیسے ہوئی کہ تم آتش زنی کا کھیل کھیلوں ۔۔۔حویلی کی ایک لڑکی کو خط لکھو۔۔۔۔ہماری جوتیوں میں پلنے والے کمتر انسان ۔۔۔ہمارے خلاف سازش کرنے چلے تھے۔”
سیف کے چہرے پر برسنے والے زور دار طمانچوں نے کمرے کے سکوت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
“اِس ہمت کی تو واقعی داد دینی پڑے گی کہ تم نے مجھے ! جازم خان کو ایک لڑکی کی نظر میں گرانے کا سوچا۔”
کئی لاتیں اُس کے نحیف بدن پر پڑی تو وہ اچھلتا ہوا دور جا گرا۔
“تمھاری جان اِس لیے بخشی جا رہی ہے کہ تمھاری زندگی مزید عذاب کر دی جائے۔جیون تو میرے ہاتھ کی کٹھ پتلی ہے اور تمھاری آنکھوں کو یہ تماشا دیکھ کر بہت تکلیف ہوگی۔اور میں دونگا تمھیں یہ تکلیف ! بہت دونگا۔”
جازم محبت کی توہین کرکے مکروہ ہنسی ہنستا چلا گیا۔
سیف کے چہرے سے رسنے والے خون کے قطرے زمین میں جذ ہو رہے تھے جبکہ اُس کے جسم کا سارا خو ن صدمے سے منجمد ہو چکا تھا۔اُس کا دل کیا کہ وہ اِس گھناؤنی سوچ والے شخص کا منہ نوچ لے۔
“کاش !جیون اِس لمحے تم اپنے محبوب کے الفاظ سن سکتی۔۔۔اُس کی آنکھوں کے دھوکے کو پڑھ سکتی ۔۔۔اُس کے چہرے پر ٹپکنے والی خباثت دیکھ سکتی۔ ”
درد بھری اِس خواہش کے ساتھ سیف کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہو گی تھیں۔
*****
“میرے سارے کپڑے پرانے اور بوسیدہ ہو چکے ہیں مجھے خوبصورت اور موجودہ فیشن کے مطابق کپڑے چاہیے۔”
وہ بغیر ہچکچائے چاچی شگو کو حکم جاری کر رہی تھی۔
چاچی شگو نے اُسے عجیب نظروں سے دیکھا۔زندگی سے بیزار رہنے والی لڑکی کا زندگی میں یوں دلچسپی لینا اُنھیں مخمصے میں ڈال رہا تھا۔
“اتنی حیرانی سے کیا دیکھ رہی ہیں۔ہرانسان کو وقت کے ساتھ ساتھ خواہش اور ضرورت بدلنی پڑتی ہے۔اور میں اِس حویلی کی ملکہ ہوں مجھے ویسا دکھنا بھی چاہیے۔”
چاچی شگو کو سوچتا پا کر اُس نے اپنی فرمائش کی خود ہی وضاحت کردی۔
“بی بی جی رنگ لکھ دیجیے ۔دو دن تک آپ کو تمام کپڑے مل جائیں گے۔”
چاچی شگو اُس کی بات پر سر ہلاتے ہوئے تابعداری سے بولیں۔
وقت نے اُس پر عائد پابندیوں میں بس ایک پابندی ختم کردی کہ اب وہ تمام رنگ پہننے کے لیے آزاد تھی ۔اب تک سب رنگ اُس کے لیے پھیکے تھے کیونکہ وہ چاہ کر بھی اپنا اور رنگوں کا عکس نہیں دیکھ پائی تھی ۔ دو دن بعد اُس کا کمرہ جدید کپڑوں اور زیورات سے بھر گیا تو اُسے ایک انجانی خوشی کا احساس ہوا۔صاحبہ کے خیال میں شاید اُ س دن اُس کے لباس اور سنگھار میں کوئی کمی ر ہ گئی تھی اِس لیے وہ اپنے شوہر کی نظرِ کرم حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ، لیکن اب نہ صرف اُس کے پاس خوبصورت لباس تھے ، بلکہ چاچی شگو کے تعاون سے ایک ملازمہ نے اُسے تیار بھی کر دیا تھا۔وہ تیار ہوئی تو کبھی کوئی تاثر نہ دینے والے نوکروں کی آنکھوں میں بھی ستایش نظر آنے لگی۔اِن نوکرو ں کی آنکھیں ہی اُس کے آئینے تھے جو بتا رہے تھے کہ وہ اُس پل کتنی حسین لگ رہی ہے۔
“یہ گلابی رنگ تم پر بالکل نہیں جچتا۔”
“کاجل ہر آنکھ کے لیے نہیں ہوتا ۔یہ کچھ آنکھوں کو دلکش بناتا ہے تو کچھ آنکھوں کو مضحکہ خیز۔”
“زیوارات پہنے جاتے ہیں خود پر لادے نہیں۔”
“لال لپ سٹک سنجیدہ چہروں پر اچھی نہیں لگتی ،اچھی خاصی عورتیں ظالم نظر آتی ہیں۔”
“اِس اونچی ہیل کی ٹھک ٹھک اور اِن چوڑیوں کی کھن کھن سے مجھے سخت کوفت ہوتی ہے۔”
“پوری حویلی میں پھولوں کی خوشبو ہے ،لیکن تم اِس بیہودہ پرفیوم سے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو۔”
“حلیہ بگاڑنے سے بہتر ہے سادگی اپنا لی جائے ۔سنا ہوگا تم نے کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔”
سات دن تھے اور اُس کے جملوں کے سات نشتر ۔۔ ۔صاحبہ پوری طرح سے لہولہان ہوچکی تھی۔۔۔پورا ہفتہ محبت اور توجہ پانے کے لیے جو محنت کی گئی ، وہ پوری کی پوری خاک میں مل گئی تھی۔۔۔اُسے اپنا آپ انتہائی کمتر محسوس ہوا۔۔۔اُسے نوکروں کی ستایشی نظریں بھی جھوٹی لگیں۔۔۔شاہانہ لباس مہنگے زیور اور نفیس میک اپ۔۔۔کوئی بھی وار ایسا نہ تھا جو اُس شخص کے دل پر جا لگا ہو۔
“ایک بازی الٹ جانے سے میں ہار نہیں مانو ں گی۔۔۔ میں اور چال چلوں گی۔۔۔تمھاری لگائی وہ ساری پابندیاں جو میں رو رو کر برداشت کرتی ہوں۔۔۔اب اُن پر مسکراؤ نگی۔۔۔میں تمھیں دکھا دونگی کہ مجھے پر کسی سختی کا کو ئی اثر نہیں۔۔۔میں تمھیں بتا دونگی کہ میں آئینے اور تمھارے بغیر رہ سکتی ہوں۔۔۔میں یہ ثابت کر کے رہوں گی کہ مجھے اِن بدصورت نوکروں اور تمھاری حسین سہلیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔میں یہ ظاہر کرونگی کہ یہ مستقل قید اور دو د ن کی آزادی مجھے گراں نہیں گزرتی۔۔۔تم دیکھو گے کہ میں اِن زیورات او ر کپڑوں سے جی لگا لوں گی ، پھر چاہے تم سمیت کوئی مجھ سے نہ بولے۔۔۔کوئی مجھے نہ دیکھے ۔۔۔کوئی مجھے نہ سنے ۔۔۔وہ وقت دور نہیں جب تم اپنے ہی ظلم سے مات کھاؤ گے اور میرا صبر جیت جائے گا۔”
دل کا ایک مشورہ کام نہ آیا تو دماغ سے دوسری صلاح لی گئی ۔اُسے اِس حویلی میں سکھ سے جینے کے لیے کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈنا تھا۔ وہ اپنے آپ کو جنونی انداز میں کئی دلاسے دے رہی تھی ۔
*****
کاش مجھے معلوم ہوجائے تیری سوچ کا محور
تو میں خود کو تراشوں تیرے اندازِ نظر سے
کتنا مشکل تھا اُس سے کہنا کہ مجھے تمھارے سب اصول،تمام پابندیاں،ساری سختیاں جائز لگتی ہیں۔مجھے سب شرائط خوشی خوشی منظور ہیں۔میں تمھارے سب فیصلوں کو دل سے قبول کرتی ہوں۔وہ اُس وقت سڈی روم میں تھا اور اُسے یہ سب کہنے کے لیے وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی ہوئی مسلسل سوچ رہی تھی۔ہر اگلے قدم کے ساتھ پچھلے قدم کا شور تھا ،ہر ہاں کے ساتھ گزری ہوئی نہ کی پکار تھی۔ اُسے ایک ایک کرکے وہ ساری باتیں یاد آنے لگیں جنھیں دل سے ماننے کا اعتراف وہ کرنے جا رہی تھی۔
“صاحبہ تم اب میری بیوی اور اِس حویلی کی مالکن ہو،تمھیں کچھ اصول و ضوابط کا خیال رکھنا ہوگا۔میں جو باتیں کرنے جا رہا ہوں اِنھیں حرف با حرف یاد کرلو،کیونکہ بھولنا نافرمانی کو جنم دیتا ہے اور نافرمانی سزاؤں کو۔”
وہ جو حویلی کا ماحول دیکھ کر خوف میں مبتلا تھی اِس نئے فرمان پر اُسے اُلجھی ہوئی نظرو ں سے دیکھنے لگی۔
“یہ حویلی تمھاری ہے اور تم اِس سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی۔”
“تمھیں خود کو سجانے کا اختیار ہے ،مگر آئینے کا اور تمھارا ساتھ بس یہی تک تھا۔”
“کمرے کی ہر شئے سے دل لگا لو،مگر اِس میں ردو بدل کا سوچنا بھی مت۔”
“سارے نوکر تمھارے لیے ہیں ،لیکن اِن سے فاصلہ رکھنا تم پر لازم ہے۔”
“سوچو کہ تم پرانے دور میں آگئی ہو اور موبائل فو ن کی اب تک کوئی سہولت نہیں ۔”
“پانچ دن تمھارے لیے حویلی بند رہے گی ، اور ہفتے میں دو دن تم حویلی کے ہر کونے میں گھوم پھر سکتی ہو۔ ”
“رشتے یوں تو خود ٹوٹ گئے ہیں،مگر انھیں جوڑنے کی خواہش اِس زندگی میں ممکن نہیں۔”
“یہ کیا احماقانہ باتیں ہیں ۔یہ کیسا پاگل پن ہے؟ کیا یہ اِس دنیا کی باتیں ہیں ؟”
وہ خاموش ہوا تو وہ بے قابو ہوتے ہوئے حیرت سے چلا اُٹھی۔ اُسے لگا سامنے کھڑا شخص اُس کا شوہر نہیں کوئی نفسیاتی مریض ہے۔
” آرام سے بات کرو۔تمھارا یہ جذباتی پن تمھیں مشکل میں ڈال دے گا۔اِن باتوں میں کوئی بھی ناجائز بات نہیں۔اچھی بیویاں شوہر کی خوشی کی خاطر کیا کچھ نہیں کرتیں۔”
وہ حواس باختہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے رسانیت بھرے لہجے میں بولا تھا۔
“یہ سب تمھیں شادی سے پہلے بتانا چاہیے تھا ۔تم ہر معاملے میں زیادتی کر رہے ہو، دھوکہ دے رہے ہو ۔”
وہ اِن سب ناانصا فیوں پر روہانسی ہوئی۔
“شادی سے پہلے اور بعد کی زندگی میں بہت فرق ہے ڈارلنگ۔شادی کے بعد تو تمھارے سگے ماں باپ بھی ا پنے نہیں رہے۔”
اُس نے صاحبہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر اُسے چپ کرا دیا تھا۔لڑنے جھگڑنے اور واویلا کرنے بعد آخر اُسے مجبوراً اِن سب قاعدوں پر چلنا ہی پڑا ۔
“صاحبہ بی بی یہاں کیوں کھڑی ہیں ؟کوئی کام ہے کیا آپ کو؟ ”
مورتیوں کی جھاڑ پونچھ کرتی ایک ملازمہ نے بلند آواز میں پکارا تو جیسے وہ ہوش کی دنیا میں واپس آگئی۔نجانے وہ کب سے آخری سیڑھی پر پاؤں رکھے بت بنی کھڑی تھی۔ اپنے نیچے اترنے کا مقصد یاد آیا تو وہ فوراً سڈی روم کی طرف بھاگی۔اُس نے دروازے کی اوٹ سے اندر جھانکا ،وہ وہاں اپنی بڑی کرسی پر بیٹھا کوئی کتا ب پڑھنے میں مصروف تھا۔
“مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے؟”
اُس نے پہلے بے ترتیب سانسوں کو درست کیا اور پھر بولنے کی اجازت طلب کی۔
وہ پہلے ہی بھاگتے قدموں کی آہٹ سن چکا تھا لیکن انجان بنا رہا۔
” ہوُں ۔۔۔کہو کیا کہنا ہے ؟”
اُس نے کتاب سے نظریں ہٹائے بغیر سرسری انداز سے پوچھا۔
“میں جانتی ہوں کہ ہمارے بیچ بہت محبت تھی اور شاید ا ب بھی ہے ۔میں دیر سے ہی سہی مگر سمجھ چکی ہوں کہ تمھارے بنائے گئے سب قاعدے سب اصول جائز ہیں ، اور میں اِن کو اب دل سے ماننا چاہتی ہوں۔ ”
سادہ لباس ، جگہ جگہ سے نکلی ہوئی بے لگام لٹیں اور بغیر میک اپ کے بولتی ہوئی وہ غضب ڈھا رہی تھی۔
“یہ آج سورج کہاں سے نکلا ہے ۔یہ تو واقعی بڑی تبدیلی ہے۔سن کر اچھا لگا۔”
وہ اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کنجوسی سے مسکرایا تھا جسے وہ اپنی بڑی جیت سمجھی ۔
“اگر کچھ اور نہیں کہنا تو تم جا سکتی ہو۔”
اُسے دروازے میں کھڑے خیالوں میں گم دیکھ کر وہ کچھ جھنجھلایا۔
” سنو صاحبہ ! یہ جو تم نے بہت محبت کہا ناں اِس جملے سے بہت نکال دینا اور اصولوں کو اپنانے سے پہلے اُنھیں یاد بھی رکھنا پڑتا ہے ۔آج تمھارے نیچے اترنے کا دن نہیں تھا۔آئیندہ خیال رہے۔”
وہ دامن میں اک نئی خوشی سمیٹ کر جانے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ اِس بے عزتی نے اُسے پھر سے افسردہ کردیا ۔
***** محبت محبوب کو منزل سمجھ کر اُس کی مرضی کا رستہ چنتی ہے۔۔۔محبت محبوب کی رضا میں راضی اپنی آرزو چھوڑ دیتی ہے۔۔۔محبت محبوب کا اعتبار بلند رکھ کر خود پر شک کر لیتی ہے۔۔۔محبت محبوب کی شان میں جھک کر اپنی آن سے کھیل جاتی ہے۔۔۔یہ محبت جب بدلنے پر آئے ظاہری تقاضے،دل کی تمنا ،روح کی خواہش ہر شئے بدل لیتی ہے۔۔۔یہ محبت جب قربان ہونے پر آئے رشتے ،خواب ، اپنا آپ سب کچھ نثار کر آتی ہے ۔۔۔ایسی محبت آسان نہیں ۔۔۔ایسی محبت عام نہیں۔۔۔ایسی محبت نایاب ہے ۔۔۔ایسی محبت کمیاب ہے ۔۔۔جو دینے میں امیر اور پانے میں غریب رہتی ہے ۔
صاحبہ بھی ایسی محبت کرنے کی سعی کر رہی تھی ۔اُس کا لباس ، عادات اور اب سوچ تک اُس شخص کی مرضی کے مطابق تھی، مگر وہ ویسا ہی رہا مغرور ، بے پرواہ، اکھڑ مزاج نہ اُس کے بات کرنے کے انداز میں فرق آیا نہ گھر آنے کی روٹین میں۔اتنی ساری تبدیلیوں کے باوجود نہ وہ محبت کو ایک انچ بڑھانے پر آمادہ ہوا ، نہ نظر اندازی کو ایک انچ کم کرنے پر۔صاحبہ نے تابعداری کے ڈھونگ اور فرمانبرداری کی اداکاری میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ،لیکن اِس یکطرفہ جدوجہد نے اُسے جلد ہی تھکا دیا ۔ایک مہینے کی مسلسل محنت پر کبھی اُسے ایک پل کے لیے بھی سراہا نہ گیا تھا۔
“توبہ توبہ ۔۔۔کیا سچ کہہ رہی ہے تو۔۔۔واقعی بھاگ گئی نازو۔”
چاچی شگو نے سفید ڈوپٹہ منہ اور ناک پر رکھ کر ایک بار پھر تصدیق چاہی۔
“گھر سے بھید لے کر آئی ہوں چاچی ۔۔۔دیکھ کم بخت نے کیسا ظلم کیا ماں باپ پر۔۔۔ماں تو نہ جیتی ہے نہ مرتی ۔۔۔آگ لگے ایسے آوارہ عشق کو جو سات پگڑیاں اُچھال دے ۔۔۔جنھوں نے پیدا کیا پالا پوسا ، ہر دکھ درد اُٹھایا اُن کی نہ بنی تو کسی کی کیا ہوگی۔۔۔بڑی کٹھور ہیں کچھ لڑکیاں۔۔۔جتنی چٹّی تھی اتنی کالک تھوپ کر گئی ہے۔”
جھاڑو لگاتی نیلما نے نازو پر ملامت کی خوب خاک اُڑائی تھی۔
“لگتی تو بڑی معصوم تھی۔۔۔”
چاچی شگو ہنوز بے یقینی میں تھیں۔
“معصوم تو اپنی بی بی بھی لگتی ہے۔۔۔شاید وہ بھی کوئی جنت چھوڑ کر آئی ہوگی جو اُسے جہنم ملی ہے۔”
نیلما کے آگ برساتے لفظوں پر جہاں پاس کھڑی چاچی شگو نے تائید میں سر ہلایا ،وہی کچھ دور سے اُن کی گفتگو سنتی صاحبہ سر تا پیر جل چکی تھی ۔
دھڑکن دھڑکن یادوں کی بارات اکیلا کمرہ
میں اور میرے زخمی احساسات اکیلا کمرہ
وہ جلدی سے کمرے کی طرف بھاگی اور بیڈ پر گر کر بے آواز رونے لگی۔اُسے لگا فقط وہ نہیں رو رہی ،ٹک ٹک کرتی گھڑی ،ہوا سے جھولتے پردے اور دیوار سے لٹکی تصویریں بھی رو رہی ہیں ۔اُسے لگا صرف آج نہیں سسک رہا ماضی سے جڑا یاد کا ہر پل سسک رہا ہے ۔وہ یہ حقیقت جانتی تھی ،مگر ایک ملازمہ کا یوں بے دھڑک کیچڑ اُچھالنا اُس کے احساسات کو بری طرح سے زخمی کر گیا تھا۔اُسے کمرے میں شدید وحشت کا احساس ہوا ۔ کوستے بے جان در و دیوار اور نیلما کے الفاظ اُسے ذلت کے گڑھے میں دھکیل رہے تھے۔اُس کا جی چاہا سب کے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھ دے ،مگر وہ بے بس تھی۔اُسے زندگی بہت ہی بے معنی لگی،اُسے اعتراف تھا کہ اُس نے خود ہی زندگی کو بے معنی کیا تھا۔
” انسانوں کو اوقات کی زمیں پر رہنا چاہیے۔انھیں اڑنا زیب نہیں دیتا۔یہ غرور کی اڑان جن چیزوں کو دور سے خوبصورت دیکھاتی ہے۔زمین پر گرتے ہی وہ ساری چیزیں بدصورت نظر آنے لگتی ہیں۔بھاگی ہوئی عورت کسی بھی مقام پر پہنچ جائے عزت کی مسند پر کبھی نہیں بیٹھ سکتی۔”
کانوں کے قریب اُسے اپنی ماں کی آواز سنائی دی تو اُس نے جھٹکے سے آنکھیں کھول دیں۔
جب باتیں سچ ہوں اور آپ کی سوچ کے خلاف ہوں تو اُن سے نہ بھاگا جا سکتا ہے نہ انھیں اپنایا جا سکتا ہے ۔ اُس نے ماں کے ہر حکم کو ٹھکرا یا تھا ہر نصیحت کو ا ن سنا کیا تھا ۔ا ب وہ ساری باتیں اُس کا پیچھا کر رہی تھیں۔
“آپ ٹھیک کہتی تھیں بھاگی ہوئی عورت کی کوئی عزت نہیں کرتا۔میں تو خود کو سمجھدار اور زمانہ شناس سمجھ بیٹھی تھی اور یہی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہے ۔یہ شادی کسی سزا سے کم نہیں جسے برداشت کرتے ا ب میرا صبر تھکنے لگا ہے۔”
“بس کچھ مہینوں کی سزا سے تھک گئی تم۔۔۔ تم نے تو ہمیں ساری عمر کی سزا دی ہے۔”
کسی کی آنکھوں نے اُس کے دل کو جواب دیا تھا اور وہ اُس کے باپ کی جھکی ہوئی آنکھیں تھیں۔
وہ ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھی ۔خشک ہوئے آنسو ایک بار پھر بہنے لگے تھے۔
*****
پانچ دن کے انتظار کے بعد کھل کر سانس لینے کا دن آیا تو وہ اُس کے سٹڈی روم میں چلی آئی ۔اپنے قد سے اونچی بک شیلف کو دیکھتے ہوئے اُسے اپنے شوہر کی چھوٹی سوچ پر افسوس ہوا تھا۔ وقت گزارنے کے لیے اُسے کسی اچھی کتاب کی تلاش تھی۔کتابوں کے ناموں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے اُس کی نگاہ ایک کتاب پر ٹھر سی گئی ۔وہ کوئی نفسات کی کتا ب تھی۔ اُس نے موٹی موٹی کتابوں کے بیچ پھنسی ہوئی وہ پتلی کتاب باہر نکال کر غور سے دیکھی۔بے مقصد صفحے پلٹتے ہوئے اُس کی نظر ایک صفحے پر رک سی گئی تھی۔
“ہر ذہنی مرض کی ابتدا ء کسی نہ کسی نا خوشگوار واقعے سے ہوتی ہے۔اگر کوئی بغیر کسی خاص وجہ کے سختی سے بولتا ہے،سختی سے پیش آتا ہے تو اُس شخص کی بظاہر پرسکو ن دکھنے والی زندگی میں کوئی نہ کوئی طوفان گزر چکا ہے۔ظلم کرنے والا ہو سکتا ہے کسی محرومی کا شکار ہو،ڈرانے والا ہوسکتاہے کسی خوف میں مبتلا ہو، زہر اگلنے والا ہوسکتا ہے زہر پی چکا ہو۔”
“وہ مجھ پر سخت پہرے لگا تا ہے۔مجھے آئینہ دیکھنے سے روکتا ہے۔مجھے آزادی دینے سے ڈرتا ہے ۔تو کیا اِن سب باتوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہے۔محبت کا دعویدار محبت کو اتنا حقیر کیوں سمجھتا ہے ؟میرے حُسن پر مر مٹنے والا میرے حُسن کو چھپانے پر مصر کیوں ہے آخر؟ ”
کئی دنوں سے مایوسی کے دھارے پر بہتی ہوئی سوچ کسی اور سمت نکل گئی تھی۔
وہ تیزی سے ساری کتابیں الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی ۔ساری چیزوںکو اپنی جگہ سے ہٹا کر کچھ ڈھونڈنے لگی ،مگر کوئی سراغ نہ مل سکا تھا۔
“شاید حویلی کے ملازم کچھ جانتے ہوں۔”
اچانک ایک خیال بجلی کی طرح ذہن میں لپکا۔
“اگر جانتے بھی ہونگے تو مجھے کونسا کچھ بتا دیں گے ؟ وہ سب اُس کا نمک کھاتے ہیں۔کوئی بھی میرا ساتھ نہیں دے گا۔”
اپنے فیصلے کو اُس نے خود ہی سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
ہاں ایک عورت سب حقیقتوں سے واقف ہوسکتی ہے ۔صرف وہی عورت کسی کمی ،کسی زیادتی ،کسی محرومی سے پردہ اُٹھا سکتی ہے ، لیکن میں بھی کتنی احمق ہوں ، اُس عورت سے مدد طلب کرنا چاہ رہی ہوں جس نے اپنی اکلوتی بہو سے دوبارہ ملنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔”
آخری منصوبے پر تو اُس نے اپنے آپ کو خوب ملامت کی۔
جب بھی موقع ملتا وہ اُس کی پراسرار شخصیت کے پیچھے بھاگنے لگتی۔ حویلی کے کمرے ۔۔۔اُس کی لائبریری ۔۔۔تینوں گودام۔۔۔ صاحبہ نے اُس کی گم شدہ شخصیت کو ہر جگہ ڈھونڈ لیا تھا ، مگر کئی دنوں کی جستجو کے بعد وہ ناکام ہوگئی۔
تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی
خود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی
“بھاڑ میں جائے وہ اور اُس کی پرسرار شخصیت ۔۔۔بہت آسان سمجھتا ہے وہ زندہ لاش پر زیورات لا د دینا۔۔۔ اِس جیل خانے میں دن رات بسر کرنا۔۔۔اِن چڑیلیوں کا پہرہ ہنسی خوشی قبول کرنا۔۔۔وہ اِس قابل نہیں کہ اُس پر مزید محنت اور محبت ضائع کی جائے ۔۔۔ابھی اتنا وقت نہیں گزرا کہ سارے رستے بند ہو چکے ہوں۔۔ ۔کوئی نہ کو ئی اپنا میرا منتظر ضرور ہوگا۔”
آج شام کی آخری کوشش کے بعد اُس نے بالآخر اپنی زندگی کا ایک اہم فیصلہ کر لیا ۔ وہ جو سوچ رہی تھی اُس کے نزدیک ان اذیتوں کے خاتمے کا بس یہی حل تھا۔
*****
پورا گودام ٹوٹی پھوٹی چیزوں سے بھرا پڑا تھا۔اکثر چیزیں ٹھیک ہونے کے باوجود ضرورت نہ ہونے کے کارن وہاں پھینکی گئی تھیں۔وہ ٹارچ کی ہلکی روشنی میں اپنی مطلوبہ چیزیں تلاش کرنے لگی۔تھوڑی سی جدوجہد سے اُسے ایک کھلی ا لماری کے کونے میں موٹی رسّی کے چار پانچ ٹکڑے اور پلاسٹک کے ایک چوکور ڈبّے میں بڑے بڑے کیل مل گئے۔اُس نے بھاری چیزوں کو اِدھر اُدھر سرکا کر دیکھا، بڑے بڑے پلاسٹک اور لکڑی کے ڈبوں کے اندر اور پیچھے جھانکا، مگر کہیں بھی کوئی مکمل رسّی نہ تھی۔آدھے گھٹنے کی محنت اور تھکاوٹ کے بعد وہ چند ٹکڑے ہی اُسے غنیمت لگے جنھیں وہ بڑی سی چادر کے نیچے چھپا کر اندھیرے کمرے سے باہر نکل آئی۔ برآمدے کے دونوں اطراف کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد وہ احتیاط سے دائیں طرف چل پڑی۔اُسے صرف انسانوں سے ہی نہیں بلکہ راستے میں رکھی بے جان مورتیوں سے بھی خوف محسوس ہو رہا تھا۔وحشت زدہ برآمدوں سے نکل کر وہ آہستگی سے زینہ بہ زینہ چڑھنے لگی ایسے جیسے اُس کے پاؤں زمین پر نہ لگ رہے ہوں۔حفاظت سے کمرے میں پہنچ کر وہ اپنی آدھی کامیابی پر دل کھول کر خوش ہوئی تھی ۔ا ب کچھ گھنٹے اُسے باقی کے منصوبے پر غور کرنا تھا۔ اُس نے کھڑکی سے باہر کھلے احاطے میں جھانکا ،حویلی میں پوری رات اُتر چکی تھی ،مگر اُسے بے صبری سے آدھی رات کا انتظار تھا۔
وہ جانتی تھی کہ وہ آج حویلی میں نہیں ہے اور اِسی موقعے نے اُسے بھرپور اعتماد بخشا تھا۔رات کے ایک بجے سے پہلے ماہر ہاتھوں نے چند ٹکڑوں سے ایک مضبوط رسّی بنالی تھی۔دو بجے اُس نے کھڑکی سے گردن نکال کر کڑی نگاہ سے چاروں اور دیکھا اور دھڑکتے دل کے ساتھ رسّی نیچے پھینک دی۔ کمرے کی کھڑکی اور زمین تک کا فاصلہ اتنا بھی زیادہ نہیں تھا کہ اُس کا حوصلہ متزلزل ہوتا۔ سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی رسّی زمین سے جا لگی تو وہ گہرا سانس لے کر تیار ہوئی ۔اُس نے اپنی قابلیت اور ہمت پر پورا بھروسہ کرکے مضبوط رسّی کو نازک ہاتھوں کے گرد لپیٹا اور دھیرے دھیرے نیچے اترنا شروع ہوگئی ۔ تھوڑا فاصلہ رہ گیا تو اپنی بہادری کا امتحان لینے کے لیے اُس نے چھلانگ لگا دی۔جسم میں دو تین کانٹے چبھے تو ہونٹوں سے ہلکی سی آہ نکلی تھی،لیکن اُسے آج آزادی کی راہ میں ہر درد منظور تھا۔وہ سہج سہج کر قدم اٹھاتی اور تیز نظروں سے اِرد گرد دیکھتی حویلی کی پچھلی جانب چلنے لگی ۔
حویلی کے دو بڑے دروازے تھے ایک سامنے کی طرف جو آنے جانے کے لیے استعمال کیا جاتا اور ایک پچھلی طرف جو زیادہ تر بند رہتا۔دونوں دروازوں پر ہمہ وقت چوکیدار موجود ہوتے تھے،لیکن پچھلے دروازے پر اتنی سختی نہیں تھی ۔ملازموں کی زبانی وہ جان پائی تھی کہ ایک چوکیدار بیماری کے سبب کچھ دنوں سے غیر حاضر ہے اور اُسے اسی موقعے سے فائدہ اُٹھانا تھا۔بڑی بڑی دیواروں کے سائے میں چھپتے چھپتے وہ دروازے کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ دروازہ اُس کے قد سے کہیں زیادہ لمبا اور اُس کے حوصلے سے کہیں زیادہ مضبوط تھا ۔دروازے کے اوپر سے نکلتی ہو ئی تکون شکل کی نوکدار سلاخیں اُس کے حوصلے کی حوصلہ شکنی کرنے کو تیار تھیں ۔
“صاحبہ اِن سب تکلیفوں اور رکاوٹوں سے ٹکراجا۔اِس کے بعد تیری زندگی بہت آسان ہوگی۔۔۔تو آزاد ہوگی۔۔۔تیری خوشیوں کی راہ میں نہ کوئی کھڑکی بند ہوگی ۔۔۔نہ کوئی دروازہ مقفل ہوگا۔۔۔بس ایک بار ہمت کر ! بس ایک بار۔”
دل کی آواز نے بار بار اکسا کر جوش دلایا تو وہ سارے ڈر جھٹکتے ہوئے آگے بڑھی۔اُس نے رسّی کے ایک کونے کو گولائی میں مضبوطی سے باندھ کر پوری طاقت سے نشانے پر پھینکا ، تین چار بار کی کوشش کے بعد وہ کامیاب ہو چکی تھی ۔اُس نے آخری تسلی کے لیے پیچھے پلٹ کر دیکھا اور ہاتھ میں موجود بقیہ رسّی کو اپنے آپ کے ساتھ اچھی طرح لپیٹ لیا۔ اب وہ دروازے پر بنے اُبھار کا سہارا لیتے ہوئے آہستہ آہستہ محتاط انداز سے اوپر چڑھنے لگی۔چند پل میں ہی مدھم روشنی کی دقت،کسی کے آنے کا خطرہ اور سردی کی کپکپاہٹ سے اُس کا توازن بگڑنے لگا تھا۔اُس نے دروازے پر ہاتھوں اور پیروں کے سہاروں سمیت اپنے اعصاب بھی مضبوط کیے ،لیکن سارے حواس جیسے شل ہوگئے۔ایک ہلکی سی چیخ ہونٹوں سے بلند ہوئی اور وہ بے اختیار نیچے کی طرف گرنے لگی ۔نیچے کی زمین پتھریلی تھی جو اُس کے نازک جسم کو گہری چوٹ پہنچانے والی تھی۔وہ گر چکی تھی ،لیکن کوئی بھی آواز پیدا نہ ہوئی ۔چیخ بلند ہونے کی بجائے خوف سے دب سی گئی ،اور آنکھیں درد کی بجا ئے دہشت سے پھیل گئیں۔وہ اُس کے چہرے کے بہت قریب تھا اور اُس کی پتلی کمر کے نیچے دو طاقت ور ہاتھوں کے سہارے تھے۔
*****

تحریر:حمیرا فضا

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

Advertisements