اولاد کی زمہ داری______اسما ظفر

اولاد اللہ تعالی کی بیش بہا نعمت ھے چاھے بیٹی ھو یا بیٹا اس پروردگار نے جسے یہ نعمت دی وہ والدین دنیا کے خوش نصیب والدین ھوتے ھیں مگر کیا اللہ کی دی گئ نعمت کی سب قدر کرتے ھیں؟؟ انکی حفاظت انکی تعلیم تربیت کا خیال رکھنا کسکی ذمہ داری ھے؟؟ کیا یہ جملہ بول دینا کافی ھے کہ جس نے دنیا میں بھیجا وھی انکی حفاظت بھی کرے گا؟؟ بےشک بے شک اللہ تمام کائنات کا رکھوالا ھے کیا جن کیا انس چرند پرند پودے سب اسکے حصار قدرت میں ھیں مگر پھر اس نے جوڑے کیوں بنائے انکو خاندانوں میں کیوں بانٹا؟؟ جب اس نے خود ھی ذمہ لیا ھے ھر شے کا؟؟ اب بات سوچنے کی یہ ھے کہ خدا نے اس دنیا میں ایک ذرہ بھی بنا مقصد کے نہیں پیدا کیا تو کیا انسان جو کہ اشرف المخلوقات ھے وہ بس ایویں دنیا میں آگیا؟؟ اتنی لمبی تمہید کا مقصد صرف اتنا ھے کہ ھم پربطور انسان کچھ فرائض عائد ھوتے ھیں اور بطور والدین بے پناہ فرائض عائد ھوتے ھیں وہ ننھی جان جو ھمارے سپرد خدا نے کی وہ ھماری ذمہ داری ھے اس سے غافل ھونا ایسا ھے جیسے خدا کی ناشکری کرنا چاھے ھم پانچ وقت نماز پڑھیں روزہ ذکواۃ سب دینی فرائض ادا کریں لیکن ناشکری اور غفلت کے مرتکب ھوکر اللہ کے غضب سے کیسے بچ سکتے ھیں ۔۔

آجکل جس تیزی سے بچوں کے اغوا اور زیادتی کے واقعات سامنے آرھے ھیں اسمیں معاشرے کے بگاڑ کے ساتھ ساتھ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کہیں نا کہیں اسکے ذمہ دار ھم والدین بھی ھیں چھوٹا بچہ محبت اور مکر میں تمیز نہیں کرسکتا اسے اس دنیا کی سفاکیوں کا علم نہیں ھوتا مگر ھم تو باشعور ھیں ھم تو انکو اس ھولناک اور سفاک دنیا سے تحفظ دے سکتے ھیں کچھ والدین کا موقف یہ ھے کہ کہاں کہاں بچوں کے پیچھے جائیں؟؟ درست ھم سایہ نہیں بن سکتے مگر انکو سمجھ ضرور دے سکتے ھیں لوگوں کے اچھے برے رویے کی ضروری نہیں کہ سیکس ایجوکیشن ھی اسکا حل ھومغربی معاشرہ جہاں سیکس ایجوکیشن کا چلن عام ھے وہ بھی ھماری طرح اس مسئلے سے دوگنا دو چار ھیں دین نے بھی راہ بتائ ھے کہ لڑکی اور لڑکے کا ستر کیا ھے مرد کے لیے عورت کے لیئے کس حد تک گھلنا ملنا جائز ھے ھم بچوں کو خاص کر بچیوں کو انکے مرد رشتے داروں سے آزادانہ اکیلے ملنے سے روک سکتے ھیں بیٹوں کے لیئے بھی ایک حد تک یہ پابندی ابتدائ عمر میں لازمی قرار دیں انہیں اپنے قریبی مرد رشتے داروں سے اساتذہ سے گھریلو ملازمین سے تکلف برتنا سکھائیں اکیلے آنے جانے سے دوستوں سے خلوت میں ملنے سے روکیں آزادی کا مطلب مادر پدر آزادی نہیں ھونا چاھیئے انہیں محسوس نا ھو اس طریقے سے ان پر نظر رکھنا آپکی ذمہ داری ھی نہیں فی زمانہ. مجبوری بھی ھے کوشش کریں بچوں کو قرآن اور ٹیوشن گھر میں اپنے سامنے ھی دلوائیں انکے دوستوں ملنے والوں سے خود بھی دوستی کریں جو بات آپ محسوس کر سکتے ھیں وہ نہیں کر سکتے اپنے بیٹوں کو خاص کر خواتین کی عزت کرنا سکھائیں انہیں بہنوں سے کتنا فاصلہ رکھنا ھے کیسا برتاؤ کرنا ھے اپنی کزنز کے ساتھ کسطرح پیش آنا ھے یہی تربیت آگے جاکر انہیں معاشرے میں عورت کی عزت کرنا سکھائے گی اپنے بچوں کے معاملے میں کبھی کسی غیر پر بھروسہ نا کریں آپکے بچے آپ جسطرح رکھ سکتے ھیں دوسرا کبھی نہیں رکھے گا یہ بات ھمیشہ کے لیئے گانٹھ باندھ لیں ۔ ھم بہت کچھ دیکھ اور سہہ رھے اس معاشرے میں ابھی بھی اگر آنکھیں نہیں کھولیں گے تو کل ھونے والے نقصان کا ازالہ شاید ناممکن ھو آج تھوڑی زحمت اٹھا لیں ورنہ کل روح پر ضمیر پر نا قابل برداشت بوجھ آپکو جینے نہیں دے گا اولاد اللہ کی بیش قدر نعمت ھے اسکی قدر کریں اللہ ھم سب کا حامی وناصر ھو آمین ۔۔۔۔۔

____________________

تحریر: اسماء ظفر

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements