عشق محشر سی ادا رکھتا ہے(تیسرا حصہ) _______________حمیرا فضا

شام ہوتے ہی بادلوں کی زور دار گرج رضا ہاؤس میں گونجنے لگی،مگر گھر کے مکینوں کی زندگی میں طوفان تو کب کا آچکا تھا۔رضا احمد بے چینی سے پورے ہال میں ٹہل رہے تھے ۔دائیں بائیں چکر کاٹتے اُنھیں ایک گھنٹہ بیت چکا تھا۔اُن کا غمزدہ چہرہ اُن کے دل کو لگے سنگین صدمے کی عکاسی کر رہا تھا۔ریحانہ فکرمندی سے دعائیں پڑھتے گاہے بگاہے اُن پر بھی نظر ڈال رہی تھیں۔رضا احمد نے غصے سے گھڑی کی طرف دیکھا۔شام کے چھے بج چکے تھے۔باہر مکمل اندھیرا تھا۔جیسے سکھ کے ہوتے دکھ سازش کرتا ہے ،ویسے ہی آج باہر رات سے پہلے رات کا سماں تھا۔
“فہمیدہ کو فون کرو، اگر وہ اب تک نہیں پہنچی تو اُس کے لیے رعایت کے سب در بند ہو جائیں گے۔”
رضا احمد کے سخت لہجے میں فکر کے ساتھ دھمکی بھی تھی۔
ریحانہ دوپہر سے ہی اُس کی سب دوستوں اور فہمیدہ کو بار بار فون کر رہی تھیں،لیکن وہ کہیں بھی نہیں تھی۔اُس نے جو کارنامہ سر انجام دیا تھا ۔اُس کا کچھ وقت کے لیے چھپنا تو فطری تھا۔
ریحانہ نے جلدی سے فون اُٹھایا اور کانپتے دل کے ساتھ ایک بار پھر اپنی بہن کا نمبر ملانے لگیں۔کچھ دیر تک اُن کے چہرے کے تنّے ہوئے تاثرات ڈھیلے پڑ گئے تھے اور آواز میں خوف کی جگہ اطمینان اُتر آیا تھا۔رضا بھی گہری سانس لے کر صوفے پر بیٹھ گئے کیونکہ اُنھیں معلوم ہو چکا تھا کہ اُن کی لاڈلی بیٹی محفوظ ہے۔
“اُس نے جو آج کیا ہے یہ نافرمانی بھلانے کے قابل نہیں ریحانہ۔نوید بھائی کے علاوہ میرا تھا ہی کون ؟یاد کرو آج ہم ساتھ ہیں تو نوید بھائی کے تعاون اور مدد سے ہیں ۔یہ جو ہم اپنی الگ دنیا بنائے بیٹھے ہیں اِس کی پہلی اینٹ نوید بھائی نے ہی رکھی تھی۔کتنے احسانات تھے اُن کے۔سب کچھ ختم ہوگیا۔میرا اکلوتا رشتہ میرے جیتے جی مر گیا۔”
رضا احمد نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے شکستہ آواز میں کہا۔اُن کا مایوس کن انداز ریحانہ کو تڑپا گیا تھا۔
“ہمت کیجیے ۔خون کے رشتے اتنی جلدی نہیں مرتے ۔بھائی صاحب کی چند دن کی ناراضگی ہے ۔پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔”
ریحانہ اُن کے پاس بیٹھتے ہوئے تسلی آمیز لہجے میں بولیں۔
“کن خون کے رشتوں کی بات کرتی ہو؟ ہم اپنے کھوئے ہوئے رشتے آج تک نہیں پا سکے۔ہمارے والدین نے آج تک ہمیں معاف نہیں کیا۔ہر رشتہ قربانی مانگتا ہے۔اپنی اچھائی کا صلہ چاہتا ہے، اور آج ہم ایک اور رشتہ اِسی لیے کھو بیٹھے ہیں۔”
رضا احمد کی آواز شدت ِ جذبات سے بھیگنے لگی تھی۔
“رضا شاید ہم مالا کے ساتھ زیادتی کر رہے تھے۔جب ہم اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتے ہیں تو اُسے بھی تو حق ہے۔”
ریحانہ ڈرتے ڈرتے مالا کی کچھ حمایت کر گئی تھیں۔
“ہمارے حالات مختلف تھے ،ہم نا انصافیوں کے خلاف کھڑے ہوئے تھے ،مگر ہماری اولاد اپنے ساتھ ہی ناانصافی کر رہی ہے۔اُس کا جو مزاج ہے ،طرزِ زندگی ہے کوئی بھی باہر والا برداشت نہیں کر سکتا۔فراز اپنا خون تھا ۔کم از کم وہ مالا کی تمام ہٹ دھرمیوں سمیت اُسے خوش رکھتا ۔”
رضا احمد نے ریحانہ کی حمایت کا وہ جواب دیا کہ وہ لاجواب ہوگئیں۔
“آپ ٹھیک کہتے ہیں،مگر اب بات ہاتھ سے نکل گئی ہے۔مالا کا قصور ہے تو غلطی فراز کی بھی ہے۔مالا نے اگر کچھ کڑوا بول ہی دیا تھا تو کیا ضرورت تھی ایک کی دس لگانے کی۔اُس نے بہت ہی امیچورٹی کا ثبوت دیا ہے۔”
ریحانہ رضا احمد سے اتفاق کرتی کرتی بات کا رُخ دوسری طرف موڑ گئیں۔
“ہماری اولاد کسی کو بے عزت کرتی پھرے اور ہم دوسروں کے بچوں سے احتجاج کی توقع بھی نہ کریں۔کمال کرتی ہو تم ریحانہ ۔”
رضا احمد کی بھاری کڑک دار آواز مزید بلند ہوئی۔
” مصلحت سے بھی کام لیا جا سکتا تھا ۔وہ کوئی دودھ پیتا بچہ نہیں کہ رشتوں کی نزاکت نہ سمجھ سکے۔”
ریحانہ کا انداز اور جواب بھی کاٹ دار تھا۔
“یہی امید تم اپنی بیٹی سے کیوں نہیں لگاتی ۔مالا کے اندر اخلاق، لحاظ مروت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔یاد کرو میں نے تمھیں کتنی بار سمجھایا ، ریحانہ اُسے سنبھالو ۔۔۔اُسے سمجھاؤ۔ہر بار تمھارے پاس یہی جواب تھا کہ ہمارے والدین نے تو ہمیں اپنی مرضی سے سانس لینے کی آزادی بھی نہیں دی ،مگر ہم اپنے بچوں کو جینے کی مکمل آزادی دیں گے۔دیکھو۔۔۔سوچو اُس نے اپنی آزادی کا کہاں کہاں اور کیسے استعمال کیا۔تمھیں نہیں لگتا کہ اپنی اولاد کے سب سے بڑے دشمن ہم خود ہیں۔”
رضا احمد ہاتھ میں محاسبے کا وہ آئینہ پکڑے کھڑے تھے کہ ریحانہ نے ملال سے نگاہیں جھکا لیں۔وہ انھیں کیا بتاتیں کہ پچھلے کئی مہینوں سے وہ اپنی خودسر بیٹی کو سمجھا رہی ہیں، لیکن شاید اُنھوں نے اتنی دیر کردی تھی کہ مالا کا واپس آنا مشکل ہوگیا تھا،ورنہ وہ بار بار اپنی غلطیاں نہ دہراتی۔ریحانہ نے گیلی آنکھیں دکھ سے بند کر لیں سامنے مالا کا چہرہ لہرایا اور اُس کے پیچھے گزشتہ تمام زندگی تھی۔
*****
ریحانہ نے ایک مڈل کلاس گھرانے میں آنکھ کھولی تھی ،جہاں لڑکیوں کی بنیادی ضروریات تو پوری کی جاتیں،مگر اپنی مرضی سے کسی فیصلے کا اختیار نہ دیا جاتا۔بچپن سے ہی انھوں نے اپنے گھر کا ایک روایتی گھٹا ہوا ماحول دیکھا ۔درخت تھے تو پینگ ڈالے پر پابندی۔۔۔ٹی وی تھا تو اپنی مرضی سے دیکھنے پر پابندی۔۔۔سہیلیا ں تھیں تو اُن سے ملنے پر پابندی۔۔۔صورت بھلی تو کھل کر ہنسنے پر پابندی۔ایسی کئی چھوٹی چھوٹی باتیں ریحانہ کے اندر بڑی بڑی حسرتیں اور محرومیاں بن گئی تھیں۔وہ بڑی ہوئیں تو ہر طرف امّاں کی یہی نصیحتیں تھیں۔۔۔ایسے مت بیٹھو۔۔۔ایسے مت کھاؤ۔۔۔یوں مت ہنسو۔۔۔یہ مت پہنو۔ہر بات پر روک ٹوک،ہر بات پر اعتراض، ہر بات پر ڈانٹنا ، ہر بات پر سمجھانا ریحانہ کو گھر کے ماحول سے بیزار کر رہا تھا۔شام ہوتی تو امّاں ابّا نصیحتوں کی پٹاری کھول کر بیٹھ جاتے جنھیں سن سن کر وہ عاجز ہو چکی تھی۔
“ہمارے ماں باپ کو تو نہ محبت کرنا آتی ہے نا جتانا۔گھر کو جیل خانہ بنا رکھا ہے ۔اُٹھنے بیٹھنے ،ہنسنے بولنے ،سانس لینے تک کے اُصول ہیں۔آپا میں اِس خاندان میں شادی نہیں کرونگی۔ایک دوزخ کے بعد دوسری دوزخ مجھے گوارا نہیں ہے۔”
“چپ کر پاگل لڑکی امّاں نے سن لینا تو جان نکال دیں گیں۔”
بند کمرے میں ریحانہ نے جب جب بھی دل کی بھڑاس نکالی تو بڑی بہن فہمیدہ نے فوراً اُن کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
اکثر لڑکیاں ساری پابندیوں کو زیادتی کے ترازو میں تولتی ہیں،بنا یہ سمجھے کہ کچھ پابندیاں اُن کی عزت ،تحفظ اور وقار کی سلامتی کے لیے لگائی جاتی ہیں۔ریحانہ کا ذہن ابھی اِن مصلحتوں کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔اُنھیں لگتا تھا اِس گھر میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیاں دیواروں سے بھی بلند ہیں جو اُن کے وجود کو احساسِ کمتری کی زمین میں گاڑ رہی ہیں۔وہ اِس کے خلاف آواز اُٹھانا چاہتی تھیں۔بڑے بڑے خواب دیکھنا چاہتی تھیں۔اُنھیں زندگی سے ایک موقع کی تلاش تھی جو اُنھیں رضا احمد کی صورت میں مل گیا تھا۔
شیریں گفتار رضا سے اُن کا سامنا اپنی سہیلی عالیہ کی شادی پر ہوا تھا۔امّاں کی جاسوس نظروں سے آنکھ بچا بچا کر انھوں نے کئی بار اپنی سہیلی کے بھائی کو دیکھا ۔رضا بھی سارا وقت اُس شرارتی حسینہ کو تکتے رہے تھے جس نے کچھ ہی پل میں اُن کی دل کی دنیا میں ہلچل مچا دی ۔عالیہ کی شادی ریحانہ اور رضا کے دل کے تار چھیڑ گئی تھی۔ شریف عاشق نے کچھ ہی دنوں میں ریحانہ کے گھر رشتہ بھجوا دیا تھا جسے نہ صرف سختی سے مسترد کیا گیا بلکہ ریحانہ اور عالیہ کی دوستی بھی ختم کرادی گئی۔ دنوں پر دن اور مہینوں پر مہینے گزرنے لگے ،مگر نہ ریحانہ کے والدین اپنی ضد سے پیچھے ہٹے نہ رضا کے والدین اپنی بے عزتی بھولے۔دونوں باغی دلوں کو جلد از جلد شادی کی قید میں باندھنے کی کوشش کی گئی تو اُن کے پاس فرار کی یہی راہ بچی کہ وہ اِن انا پرست رشتوں کی بڑی دنیا چھوڑ کر دور کہیں اپنا چھوٹا سا گھر بنا لیں۔
اپنی مرضی سے جینے کی خواہش ریحانہ کی سب سے بڑی خواہش تھی۔جو رضا احمد کو پا کر پوری ہوگئی۔ وہ دونوں ایک ساتھ بہت خوش تھے ۔اِن دس سالوں میں اُنھوں نے کئی بار مڑ کر دیکھا ،مگر نہ کوئی اُن کا منتظر تھا نہ کوئی اُنھیں معاف کرنے کو تیار۔گزرتے وقت نے ریحانہ کے دل میں سگے رشتوں کے لیے شکوے اور بڑھا دیے تھے۔وہ اِن اُصول پرست رشتوں کو اب نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگی تھیں۔وہ اکثر خود سے اور رضا سے یہی باتیں کرتیں کہ وہ نئے زمانے کے ساتھ چلیں گے ، اپنے بچوں کے دوست بنیں گے ،انھیں اپنی زندگی گزارنے کا پورا پورا حق دیں گے، کاش وہ حق کی بجائے جائز حق کے بارے میں سوچتیں تو آنے والا وقت اُن کے لیے آزمائش نہ بنتا۔
*****
صبح کے نو بجے فون کی گھنٹی بجی تو ریحانہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھیں۔
“مسز احمد بے وقت تکلیف کے لیے معذرت چاہتی ہوں ۔اصل میں بات ہی کچھ ایسی تھی کہ آپ کا جاننا ضروری ہے ۔”
سکول کی پرنسل مسز درانی نے پریشان کن آواز میں کہا۔
“بلا جھجک کہیے میں سن رہی ہوں ۔”
نیند خراب ہوجانے کی وجہ سے ریحانہ کے لہجے میں بیزاری تھی ۔
“آج ہی ہمارے علم میں آیا ہے کہ آپ کی بیٹی مالا اپنے انگلش کے ٹیچر میں دلچسپی لے رہی ہے۔مالا نے سر عرفان کو دو تین خط بھی لکھے ہیں جو انھوں نے ہمارے حوالے کر دیے ہیں۔”
مسز درانی کچھ ہچکچاتے ہوئے اصل بات بیان کر گئیں۔
“یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ۔مالا ایک سولہ سال کی نادان بچی ہے ۔آپ کے سکول کی شہرت اچھی ہے ،لیکن میں نہیں جاتی تھی کہ آپ لوگ اِس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیں گے۔ایسے استاد کو فوراً بے عزت کر کے نکال دینا چاہیے جو خود کو بے قصور ثابت کر کے معصوم بچی پر سارا الزام لگا دے ۔”
ریحانہ نے مسز درانی کی عمر اور رتبے کا لحاظ کیے بغیر اُنھیں کھری کھری سنا دیں۔اِس انکشاف سے نا صرف اُن کی آنکھیں پوری طرح سے کھل گئی تھیں بلکہ خون بھی غصے سے کھول اُٹھا تھا۔
“ہم آپ کو اپنے سٹاف کی شرافت کی ضمانت دے سکتے ہیں اور رہی بات مالا کی تو اُسے بچی سمجھ کر ہی سکول سے نہیں نکالا گیا ،کیونکہ آپ کے ہمارے سکول پر کافی احسانات ہیں۔ ہم آپ کی عزت کا مکمل تحفظ کر رہے ہیں۔”
مسز درانی نے ریحانہ کی بدتمیزی کے باوجود تحمل سے جواب دیا تھا۔
“خاک تحفظ کر رہی ہیں آپ ۔احسان یاد ہوتے تو آپ پہلے اُس دو ٹکے کے ٹیچر کو سکول سے باہر نکالتیں۔”
ریحانہ نے ایک بار پھر گرجتے ہوئے تمیز کی حد پار کی ۔
“آپ ایک پڑھی لکھی خاتون ہیں ،آپ کس طرح ایسے الفاظ استعمال کر سکتی ہیں؟ ہم اپنا سٹاف بہت سوچ سمجھ کر رکھتے ہیں اور پوری جانچ پڑتال کے بعد ہم جان پائے ہیں کہ سر عرفان کا اِس معاملے میں کوئی قصور نہیں ۔سر عرفان اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی بیٹی کو سمجھائیں ۔”
مسز درانی نے بھی اب کی بار سخت لہجہ اختیار کیا ۔
“میری بیٹی ایسے سکول میں ہرگز نہیں پڑھے گی ،جہاں اخلاقیات کا درس تو دیا جاتا ہے ،مگر عمل نہیں کیا جاتا ۔ہم اپنی عزت کی حفاظت خود کرسکتے ہیں ۔ آپ اپنی جھوٹی ساخت بچائیے۔”
ریحانہ نے تند مزاجی سے دو ٹوک جواب دے کر فون بند کردیا تھا۔
دوسری طرف مسز درانی تاسف سے کچھ دیر ریسور کو دیکھتی رہیں اور یہ سوچنے پر مجبور ہو گئیں کہ کچھ والدین ہی اپنے بچوں کے خیر خواہ نہیں ہوتے۔
اچھی پڑھائی نہ ہونے کا بہانہ بنا کر اِس قصے کو رضا احمد سے چھپا لیا گیا تھا۔ شاید وہ اِس معاملے کو اہمیت دے کر اپنے شریکِ حیات سے ڈسکس کرتیں تو کوئی بہتر حل نکل آتا۔میٹرک کی طلبہ مالا کو معمولی ڈانٹ ڈپٹ ضرور کی گئی تھی ،مگر زمانے کی اونچ نیچ سمجھانے جیسا اہم فرض ریحانہ نہ نبھا پائی تھیں۔
وقت تیزی سے گزرتا گیا اور مالا یونیورسٹی میں آگئی ۔اپنی شرارتوں اور طوفانی طبیعت کی وجہ سے وہ کافی مشہور تھی۔کبھی اپنے شیطانی گروپ کے ساتھ مل کر کسی لڑکی کی کم صورت یا غربت کا مذاق اُڑاتی تو کبھی بھرے مجمعے میں اساتذہ کی پیروڈی کرکے خوب داد وصول کرتی۔کمزور کی ٹانگ کھینچنا ، طاقت ور سے پنگا لینا اُس کا من پسند مشغلہ تھا۔گھر میں بھی اُس کے حالات مختلف نہ تھے۔ چھوٹی بہنوں سے الجھنا ۔۔۔نوکروں کو نیچا دیکھانا ۔۔۔کسی کو خاطر میں نہ لانا جیسا رویہ اُس کی طبیعت کا حصہ تھا۔وقت نے اُس کے اندر ایک تبدیلی ضرور پیدا کی تھی کہ مردوں کے بارے میں اُس کے دیکھنے اور سوچنے کا نظر یہ یکسر بدل چکا تھا۔کم عمری میں کی گئی غلطی دوبارہ نہ دہرائی گئی تھی۔اپنی طرف بڑھنے والے کئی ہاتھوں کو اُس نے سختی سے جھٹک دیا تھا۔اُسے اپنے اُس آئیڈیل کی تلاش تھی جسے دیکھ کر آنکھ جھپکنا اور دل دھڑکنا بھول جائے۔جو ہر لحاظ سے اُس کے قابل ہو۔
زندگی مالا کے لیے ایک خوبصورت کہانی یا ایکشن مووی کی طرح بن چکی تھی ۔وہ جو سوچتی کر گزرتی ،جو چاہتی پا لیتی ۔رضا احمد اپنے کاروبار میں اُلجھے ہوئے تھے تو ریحانہ اپنی سوشل لائف میں ۔اُن دونوں کی غفلت کا مالا نے خوب فائدہ اُٹھایا تھا۔رضا کبھی کبھار ریحانہ کی توجہ اُس کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتے تو اُن کا ایک ہی جواب ہوتا۔
“رضا میں اُسے روکتی ٹوکتی تو ہوں ۔ اب کیا اُس پر بے جا پابندیاں لگائی جائیں۔میں کوئی سخت گیر ماں نہیں کہ بچوں کو لائف انجوائے ہی نہ کرنے دوں۔ابھی وہ بچی ہے۔وقت آنے پر خود ہی ٹھیک ہوجائے گی۔”
ایک ماں کی لاپرائی تھی کہ حد سے زیادہ بھروسہ مالا اور بگڑتی چلی گئی۔ریحانہ کو جب ہوش آیا تو پانی سر تک پہنچ چکا تھا،اور اُس کا موجودہ کارنامہ تو رضا احمد کے لیے سخت تکلیف اور ندامت کا باعث بنا۔
*****
اُس نے جس طرح فراز کی بے عزتی کی تھی اُسے یقین تھا کہ اِس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلنے والا۔ہوا بھی ایسے تھا فراز کے گھر جاتے ہی تایا جان ممی پاپا کی عدالت میں پہنچ گئے اور اُنھوں نے اپنے بیٹے کے احترام کی خاطر پرانے سارے رشتوں کا لحاظ نہ کرتے ہوئے انھیں توڑ دیا تھا۔چھوٹی بہن روبی نے اُسے فون پر ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔اپنی زیادتی پر پشیما ن ہونے کی بجائے اُس نے فراز کی کم عقلی پر اُسے خو ب ملامت کی۔اپنی دانست میں تو اُس نے راستے کا پتھر ہٹانا چاہا ، کیا خبر تھی کہ وہ دو بھائیوں کے بیچ ایک دیوار کھڑی کرنے جا رہی ہے۔کچھ دیر وہ اپنی دوست ثمن کے گھر چھپ کر بیٹھی رہی اور پھر شام ہوتے ہی آنی فہمیدہ کی طرف چلی آئی ۔وہ جانتی تھی کہ پاپا کا غصہ عروج پر ہوگا ۔اِس لیے یہ معاملہ ٹھنڈا ہونے تک وہ اُن کی نظروں سے دور رہنا چاہتی تھی ،مگر یہاں بھی آنی فہمیدہ نے اُسے اتنا سمجھایا کہ وہ چڑ سی گئی۔غلطی سدھارے کے لیے غلطی کا احساس ہونا ضروری ہوتا ہے اور اُس کے نزدیک اُس کی غلطی تھی ہی نہیں۔
ــ”ایک غلطی کرتی ہو اور پھر ستاتی بھی ہو ۔جو ہوا سو ہوا ، اب گھر آجاؤ پاگل لڑکی ۔تم جانتی ہو میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی ۔”
ریحانہ کی آواز میں شکوہ کم محبت زیادہ تھی۔
کچھ دنوں تک ریحانہ نے خود ہی کال کی تو مالا کی مشکل جیسے آسان ہوگئی۔
“سوری ممی ! میں آج ہی آجاؤنگی ۔۔۔۔مگر پاپا کی ناراضگی ؟”
اپنے لہجے میں مصنوعی شرمندگی لاتے ہوئے اُس نے خدشہ ظاہر کیا۔
“وہ تم سے خفا تو ہیں ،لیکن کچھ دن تک اُن کی ناراضگی بھی ختم ہوجائے گی۔”
“سچّی۔۔۔۔لویو مام۔۔۔میں ابھی آئی۔”
ریحانہ کا گرین سگنل پاتے ہی وہ چہک کر بولی۔
اُسے اچھی طرح معلوم تھا کہ ممی زیادہ دیر خفا نہیں رہ سکتیں،اور جب وہ خود مان جاتی ہیں تو پاپا کو منانا مشکل نہیں رہتا۔اُس نے خوشگوار موڈ میں آنی فہمیدہ کو الوداع کہا اور گنگناتی ہوئی گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔
ناچاہتے ہوئے بھی اُس پر اِس واقعے کا کافی اثر ہوا تھا۔۔۔ پورا ہفتہ نہ وہ ٹھیک سے کھاپائی نہ سو سکی ۔۔۔رہی سہی کسر آنی فہمیدہ کے مسلسل لیکچرز نے پوری کردی تھی۔۔۔سب ٹھیک ہوجانے کے باوجود بھی اُس کے دماغ میں ایک تناؤ سا تھا۔۔۔اُس نے ڈرائیو کرتے ہوئے اپنا فیورٹ میوزک آن کیا۔۔۔وہ گھر جانے سے پہلے خود کو پوری طرح سے ریلکس کرنا چاہتی تھی۔
نارمل سپیڈ سے ڈرائیو کرتے ہوئے اچانک اُسے اپنا آپ بہت کمزور سا محسوس ہوا ۔گاڑی کے ٹھنڈے ماحول میں کان کی لوئیں تپنے لگیں۔اُس نے زور سے سانس لیتے ہوئے گانے کا والیم فل کیا ۔گھبراہٹ یکدم بڑھی تو وہ گاڑی سائیڈ پر روک کر باہر نکل آئی ۔گرمی کی شدت اور سورج کی روشنی اتنی زیادہ تھی کہ اُس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔اُس نے سنبھلنے کی بہت کوشش کی ،مگر ہوش و حواس جیسے گم سے ہوگئے۔وہ اِس اندھیرے سے نکلنے کے لیے پوری شدت سے چلائی پھر جیسے محسوس کرنے کی ساری حسیں بے جان ہوگیں۔
“آنکھیں کھولیں مس۔۔۔کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔پلیز آنکھیں کھولیں۔”
گھپ اندھیرے میں کوئی آواز میلوں دور سے سنائی دی ۔ایسے جیسے وہ جنگل کے ایک کونے پر ہو اور آواز دینے والا دوسرے کنارے پر ۔۔۔یو ں جیسے وہ تپتے صحرا میں دھنس گئی ہو اور کوئی دور سے پکار رہا ہو۔کچھ دیر بعد جلتی ہوئی آنکھوں پر ٹھنڈک کا احساس گزرا۔پانی کی بوندیں اُس کے پورے چہرے کو بھگونے لگیں۔چند گھونٹ حلق تک پہنچے تو اُس نے جھرجھری سی لی۔اندھیرا آہستہ آہستہ چھٹنے لگا تو اُس نے گاڑی میں کسی اور کی موجودگی کو محسوس کیا تھا۔
“میں کہاں ہوں؟ کون ہیں آپ؟ ”
آنکھیں کھولتے ہی اُس نے گھبرا کر پوچھا ۔
“آپ اپنی گاڑی میں ہیں اور محفوظ ہیں۔آپ بے ہوش ہوگئی تھیں اِس وقت آپ کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔”
وہ جو کوئی بھی تھا، گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے تسلی آمیز لہجے میں بتانے لگا۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔مجھے کہیں نہیں جانا۔۔۔مجھے بس گھر جانا ہے۔۔۔آپ جا سکتے ہیں۔۔۔میں خود ڈرائیو کر لونگی۔”
وہ سنبھل کر بیٹھتے ہوئے پوری طاقت سے سانس لے کر بولی ۔
اجنبی نے اُسے گھور کر دیکھا جیسے کہہ رہا ہوں۔محترمہ آپ اتنی بد تہذیب ہیں کہ شکریہ ادا کرنے کی بجائے ،رعب جھاڑ رہی ہیں۔
“آپ ٹھیک ہونگی ،مگر اتنی نہیں کہ خود گھر جا سکیں۔خاموشی سے بیٹھی رہیں ۔مجھ پر بھروسہ کرنا اب آپ کی مجبوری ہے۔”
لفظ بعد میں ادا ہوئے تھے،لیکن اُس کی آنکھیں پہلے بولی تھیں۔وہ ایک ٹک اُسے دیکھنے لگی ۔ایسا چہرہ تو بس اُسے کہانیوں میں ملا تھا۔اُس کے نقوش تھے کہ کوئی گہرے الفاظ وہ پڑھنے کی جستجو میں اُلجھ کر رہ گئی ۔سفید چوڑی پیشانی پر بکھرے آوارہ بال اور ہلکی سیاہ موچھوں سے جھانکتی با رعب سنجیدگی ۔۔۔پتلی ناک کی سیدھ میں کھڑا ہوا غرور کا مینار اور پپوٹوں پر تنّی ہوئی مہاراجوں جیسی آن بان۔مالا چاہ کر بھی کچھ بولنے کی ہمت نہ کر پائی۔وہ اُسے ایڈرس سمجھا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔سارا رستہ خاموشی سے کٹا ،مگر دل میں کئی باتوں نے سر اُٹھایا تھا۔وہ دن بھولنے کے قابل نہ تھا جب ایک اجنبی اُسے گھر تو چھوڑ گیا،مگر اُس کا دل اپنے پاس رکھ کر۔وہ اپنے کمرے میں آئی تو سب سے پہلے اُس نے آئینہ دیکھا۔کیا ایک مرد کی آنکھیں اتنی بھی خوبصورت ہو سکتی ہیں۔اُس کی آنکھیں بار بار اُس سے یہی سوال کر رہی تھیں۔
*****
زندگی میں اب تک وہ سب کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوئی تھی۔اپنی حاضر جوابی سے وہ مقابل کو خاموش کرا دیتی تھی،مگر آج کسی کی بولتی آنکھوں نے اُسے ہی چپ لگا دی ،کسی کے دو جملوں نے سوچوں کے کتنے در وا کیے تھے، کسی کی سنجیدگی نے اُسے بغیر وجہ کے مسکرانے پر مجبور کیا تھا۔وہ جو بھی تھا مالا کی سر پر اُس کا ایک احسان چڑھ چکا تھا ، وہ احسان جو دل سے نہیں نکل سکتا تھا ۔کچھ قصّے ذہن میں اٹک جاتے ہیں تو کچھ کہانیاں سوچ کے پردے پر چلتی رہتی ہیں،لیکن وہ اجنبی تو سیدھا دل تک اُترا تھا۔وہ تھا بھی تو ایسا ہی کسی ناول کے مغرور کردار کی طرح ،کسی فلم کے پرکشش ہیرو جیسا۔
“سنا تھا شرافت چہرے پر لکھی ہوتی ہے اور کل تو میں نے دیکھ بھی لی۔وہ وقت پر نہ آتا تو شاید میری طبیعت اور بگڑ جاتی ۔”
ریحانہ کی گود میں سر رکھتے ہوئے وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی۔
اُس نے کچھ دیر قبل ریحانہ کو پورے واقعہ سے آگاہ کیا تھا ۔پہلے تو وہ صحت میں لاپرائی برتنے پر اُس سے خفا ہوئیں اور ساتھ ہی ساتھ اُس اجنبی کو دل سے دعا بھی دی۔
“شکر ہے ایسے نیک دل لوگ آج کل بھی ہیں ۔وہ ضرور کسی بھلے گھر کا لڑکا ہوگا۔”
انھوں نے مالا کے اُلجھے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے ممنون لہجے میں کہا تھا۔
“لڑکا وڑکا کوئی نہیں ۔۔۔کھڑوس اکڑو سا بندہ کہیے ۔۔۔جوانی میں بھی بوڑھوں جیسا رعب داب۔۔۔جانتی ہیں میں نے خود ڈرائیو کرنے کا کہا تو اُس نے سختی سے جھڑک دیا۔”
ریحانہ کے تاثرات دیکھنے کے لیے مالا نے پینترا بدلا۔
“شرم کرو اپنے محسن کے بارے میں ایسے نہیں کہتے ۔نجانے کب تمھیں لوگو ں کی عزت کرنا آئے گی۔”
مالا کی توقع کے مطابق ریحانہ نے اُسے گھور کر دیکھا۔
“تو کیا اُس کا ہم پر احسا ن بنتا ہے ؟”
وہ بھولی نہیں تھی،مگر بھولے پن کا مظاہرہ کرنے لگی۔
“تو اور کیا یہ اُس کا احسان ہی ہے کہ اُس نے بروقت تمھاری مدد کی، ورنہ ممکن تھا کہ تم اپنا کوئی نقصان کر بیٹھتی۔”
ریحانہ نے خوف سا محسوس کرتے ہوئے نا سمجھ بیٹی کو گلے سے لگا لیا۔
“تو اتار دیجیے نا احسان۔۔۔آپ ایسا کریں اُس نیک دل انسان کے لیے کوئی بڑی دعا کر دیں۔”
مالا نے لب کاٹتے ہوئے معنی خیز مسکراہٹ سے مشورہ دیا ۔
“اچھا کیسی دعا ؟”
اُس کے دل کے حال سے نا واقف ریحانہ نے اشتیاق سے پوچھا ۔
“یہی کہ بالغ کا عقد دنیا کی سب سے سندر لڑکی کے ساتھ ہو جائے۔”
شرارت سے بولتے ہوئے وہ خود بھی ہنس پڑی تھی۔
ریحانہ نے اُس کے سر پر محبت سے ایک ہلکی چپت لگائی اور دونوں کا قہقہہ فضا میں بلند ہوا۔
*****
بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا
اِس بات کو جتنے دن گزرتے جارہے تھے وہ اُتنی ہی بے چین ہو رہی تھی۔یہ خوف اُس کے دل میں بیٹھ رہا تھا کہ شاید یہ حسیں سپنا سپنا ہی رہے اور وہ خواب چہرہ حقییقت کی دنیا میں پھر نہ نظر آئے ،لیکن کچھ دن تک اُس کے سارے ڈر خودبخود مٹ گئے ۔وہ ہو رہا تھا جو اُس نے سوچا تک نہ تھا۔وہ جہاں جہاں دیکھتی وہ وہی نظر آتا۔وہ صبح کمرے کے پردے ہٹاتی تو وہ سامنے پارک کی بنچ پر بیٹھا دیکھائی دیتا،وہ کسی بھی شاپنگ مال جاتی تو وہ اُس سے پہلے وہاں موجود ہوتا،وہ اپنی فیورٹ کافی شاپ میں کافی پی رہی ہوتی تو بھاپ اُڑاتی کافی میں اُس کا ہی عکس اُبھرتا۔اُسے اُس اجنبی کا چھپ چھپ کر دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔سب جان کر بھی وہ انجان بنی ہوئی تھی ۔ کئی بار اُس کا دل کیا جاکر اُس بولتی آنکھوں والے سے بات کرے ،مگر ابھی وہ اِس فلمی صورتحال سے مزید محظوظ ہونا چاہتی تھی۔
“مس مالا یہ پنک والا زیادہ بہتر ہے۔۔۔”
وہ پنک اور بلیو کامدار کرتی کو موازنہ کی نگاہ سے دیکھ ہی رہی تھی کہ عقب میں کسی کی بے تکلفانہ آواز سے چونکی۔
“آپ۔۔۔آپ یہاں ؟”
مالا خوشگوار حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر ارادی طور پر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔
“آپ کو میرا یوں مخاطب کرنا اچھا نہیں لگا کیا؟ ”
اُس نے جواب دیے بنا سوال پر سوال کیا۔
“نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔اچھا ہوا آپ مل گئے ۔ویسے بھی آپ کا ایک ادھار چکانا تھا۔”
وہ کیسے کہتی کہ وہ تو اِس ملاقات کی کب سے منتظر تھی ،مگر اُس نے اپنے لڑکی ہونے کا بھرم رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر جواب دیا۔
“ادھار۔۔۔کیسا ادھار؟”
وہ مالا کے عاجزانہ انداز پر حیرت سے پوچھنے لگا۔
“اُس دن میں آپ کا شکریہ بھی ادا نہیں کر پائی تھی۔”
مالا کے چہرے اور لہجے میں بے پناہ ممنونیت تھی۔
“شکریے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔یہ انسانیت کا تقاضا تھا۔۔۔ویسے میں آپ کا حال ہی پوچھنے آیا ہوں مس مالا۔”
وہ اُس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اپنے آنے کی وجہ بیان کرنے لگا۔
ّّ”میں بالکل ٹھیک ہوں ،لیکن آپ میرا نام کیسے جانتے ہیں؟”
مالا دوسری بار اپنا نام پکارنے پر پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
” آپ کا نام ۔۔۔آپ کا نام تو ہر جگہ لکھا ہے ۔۔۔گاڑی کی چابی سے لٹکتی کی چین پر۔۔۔فرنٹ سیٹ پر رکھے لپ ٹاپ کے بیگ پر ۔۔۔آپ کے موبائل کے پنک کور پر ۔۔۔ہر کوئی آپ کا نام تو پکار رہا ہے ۔۔۔کبھی آ پ کی چھوٹی بہن ۔۔۔کبھی پارک کی نٹ کھٹ لڑکیاں ۔۔۔کبھی کافی شاپ والا گول مٹول بچہ۔”
اُس نے جاذب انداز میں تفصیل سے جواب دیا تو مالا کو حیرانی کا شدید جھٹکا لگا۔اُس کا انداز جتنا دلچسپ تھا ،اُس کی نگاہ اتنی گہری ۔اُس کی آواز جتنی سریلی تھی ، اُس کا مشاہدہ اُتنا تیز ۔دل ہی دل میں وہ اِس کی کڑی جاسوسی کو سراہنے لگی۔
چائے میں چینی ملانا اُس گھڑی بھایا بہت
زیر لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا
ساتھ ساتھ چلتے ہوئے وہ مالا کی فیورٹ جگہ پر آگئے تھے۔وہ بھاپ اڑاتی کافی میں اُس کے چہرے سے اجنبیت کا رنگ اترتے دیکھنے لگی تو وہ چائے کے گول گول دھویں میں اُس کی چمکتی آنکھوں میں اپنائیت کی جھلک محسوس کرنے لگا ۔مالا نے اچھی میزبانی کا ثبوت دیتے ہوئے چینی کا پوچھا اور دو چمچ چینی نزاکت سے پیالی میں مکس کرکے اُس کے سامنے رکھی ، جسے اُس نے شکریے کے ساتھ مسکراتے ہوئے قبول کیا تھا ۔یہ اُن کی پہلی باقاعدہ ملاقات تھی ۔اِس کے بعد کی کچھ ملاقاتیں دوستی کے رنگ میں رنگی ، تو کچھ محبت کا خوشبو بھرا پیغام لے آئیں۔جلد بازی تو مالا کی سرشت میں شامل تھی ،لیکن اُس کا دل اُس سے زیادہ جلد باز ثابت ہوا تھا۔وہ اُس شخص کی باتوں ، سوچ اور ظاہری حلیے سے اتنی متاثر ہوئی کہ ایک مہینے کے اندر اندر اپنی پوری زندگی اُس کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کر بیٹھی۔
*****
“تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے مالا۔بولنے سے پہلے تمھیں کچھ تو سوچنا چاہیے۔تم سے ہر طرح کی بیوقوفی کی امید کی جا سکتی ہے،مگر کیا خبر تھی کہ تم تو ہر حد سے گزر جاؤ گی۔”
اُس نے کچھ ایسا کہا جس سے ریحانہ سخت برہم ہوگئیں ۔
“اپنی شادی کے لیے اپنی پسند کا اظہار کرنا ،میرا حق ہے بیوقوفی نہیں۔”
وہ بغیر لحاظ شرم کے مستحکم آواز میں بولی۔
“یہ ایک بے تکی بات ہے۔۔۔احمقانہ سوچ ہے ۔۔۔ناجائز خواہش ہے۔۔۔تم کسی راہ چلتے اجنبی سے ٹکرائی اور اب اُس سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
ریحانہ کی غصیلی آواز میں طنز نمایاں تھا۔
“شادی ناجائز خواہش نہیں ہوتی ہے ممی اور نہ محبت۔پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔ وہ بہت اچھا انسان ہے ۔میں بہت خوش رہوں گی ۔”
مالا نے محبت سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی۔
“محبت۔۔۔محبت کے قابل بھی تم نے اُس شخص کو چنا جو عزت سے رشتہ مانگنے کی ہمت بھی نہیں کر سکتا۔تمھاری عقل پر تو بالکل پردے پڑ چکے ہیں مالا۔”
ریحانہ نے تیکھے لہجے میں اُسے اُس کی پسند کی نا اہلی کا احساس دلایا ۔
“مجھے اُس کے گھر والوں سے کوئی غرض نہیں۔وہ اِس قدر مکمل انسان ہے کہ مجھے کسی اور رشتے کی ضرورت ہی نہیں۔”
وہ بھی اِس رشتے کے کمزور پہلو کو اپنی طاقت بنانے پر تلی ہوئی تھی۔
“ہم خاندانی لوگ ہیں اور تم کوئی لے پالک بچی نہیں ہو جس کا ہاتھ ہم راہ چلتے ہوئے شخص کے ہاتھ میں پکڑا دیں۔تمھارے پاپا کسی صورت نہیں مانیں گے اور میری طرف سے بھی انکار سمجھو۔”
ریحانہ نے خفگی سے نگاہ پھیرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا۔
“یہ میری زندگی ہے ۔فیصلہ بھی میرا ہوگا کہ مجھے کس کے ساتھ گزارنی ہے۔آپ نے بھی اپنی مرضی سے زندگی گزاری تھی۔میں بھی آپ ہی کی بیٹی ہوں۔”
وہ ریحانہ کے مقابل کھڑی ہوکر اُن کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔اُس کا سر گھمنڈ سے بلند تھا تو نظریں بغاوت سے بھری ہوئیں۔
“بدتمیز لڑکی اب تم اپنی ماں کو آئینہ دیکھا ؤ گی۔”
ریحانہ کا صبر جواب دے گیا تو بے اختیار اُن کا ہاتھ اُٹھ گیا تھا۔انگلیوں کے نشان مالا کے گال پر ثبت ہوچکے تھے اور تھپڑ کی آواز پورے ہال میں سنائی دی تھی۔
“ہاں دیکھاؤنگی ۔۔۔کیونکہ سب محبت کرنے والے اپنا وقت ۔۔۔اپنی ضد۔۔۔اپنی بغاوت اور اپنی غلطی بھول جاتے ہیں۔۔۔اپنے دور میں انھیں محبت ٹھیک لگتی ہے اور اپنے بچوں کی باری پر ناجائز۔۔۔میں بھی محبت کو ہارنے نہیں دونگی ۔۔۔میں بھی اِس ناانصافی کے خلاف آواز اُٹھاؤں گی ۔”
مالا سسکتے ہوئے جنونی انداز میں چلائی۔
ریحانہ نے پہلی بار اُس پر ہاتھ اُٹھایا تھا۔مالا کے لیے یہ صدمہ بہت بڑا تھا۔اُس کے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے اور وہ غصے سے کانپ رہی تھی۔
“بس کردو مالا۔۔۔یہ محبت نہیں جنون ہے۔۔۔اُس وقت اور آج کے وقت میں بہت فرق ہے۔۔۔اب لوگوں میں نہ مخلصی ہے نہ وفا۔۔۔ہم تمھارا بھلا سوچتے ہیں۔۔۔اِس دو ماہ کی محبت کے لیے ہمارے برسوں کے پیار کو رسوا مت کرو۔”
ریحانہ باغی بیٹی کے الفاظ پر بکھرتے ہوئے صوفے پر ڈھے سی گئیں۔
“اگر آپ میرا واقعی بھلا چاہتی ہیں تو پاپا سے بات کیجیے ۔شادی تو میں ہر صورت اُسی سے کرونگی۔آپ دونوں کی مرضی ہو یا نہ۔”
وہ حتمی فیصلہ سنا کر پیر پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
ریحانہ کتنی ہی دیر وہی سر پکڑے بیٹھی رہیں۔۔۔انھیں یوں لگا جیسے گزرا کل لوٹ کر سامنے آچکا ہے ۔۔۔جیسے پرانی کہانی پھر سے دہرائی جا رہی ہے ۔۔۔جیسے کچھ غلطیوں کی سزا ملنے کی گھڑی آگئی ہے۔۔۔ناچاہتے ہوئے انھوں نے اولاد کی خاطر ہتھیار ڈال دیے ۔۔۔رضا احمد سے بات کی گئی۔۔۔وہ جو ابھی پہلے غم سے اُبھر نہ پائے تھے ۔۔۔مالا کے اِس نئے کارنامے پر غصے سے بے قابو ہوگئے۔۔۔وہ کئی دن تک انھیں پیار اور دلائل سے منانے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔کئی دن لڑائیوں کی نذر ہوتے رہے ۔۔۔کئی دن گھر میں عدالت لگتی رہی۔۔۔مگر نہ مالا اُن کو منا پائی نہ اُن کی مان سکی۔۔۔آخر اُس نے ایک دن دل کے حق میں فیصلہ دے کر خونی رشتوں کو بدنامی کی قید میں دھکیل دیا تھا۔
*****
سنا میں نے ۔۔۔تم نے بھی سنا ہوگا
اِن عشق کے ماروں میں ایک پیڑ کا چرچا ہے
وہ پیڑ جس کی چھاؤں دھوپ کو گلے نہیں لگاتی
وہ پیڑ جس کے پتے مراد بانٹتے نہیں تھکتے
اُس پیڑ کی ہوا میں کہانی سانس لیتی ہے
اُس پیڑ پر نام لکھنے سے کسی کا ساتھ ملتا ہے
میں اپنے آپ کو باندھ کر وہ پیڑ کھوجنے نکلا ہوں
طلب کی دنیا میں عشق ڈھونڈنے نکلا ہوں
میرا نصیب جاگا ہے
مجھے وہ پیڑ مل گیا ہے
پر اُس کی چھاؤں کے چہرے پر
دھوپ کی سینکڑوں جھریاں ہیں
پتوں نے ہرا لباس اتار کر
زرد رنگ اوڑھ لیا ہے
اُس کی ہوا نے میری سانسوں کو قبول کرنے سے ہے روکا
ایک عاشق نے کہا ہے تو دیر سے پہنچا ہے
میں ٹوٹتے زرد پتوں کو حسرت سے دیکھتا ہوں
پیڑ کے سینے پر لکھے ناموں میں ڈھونڈتا ہوں
میرا نام پتہ نہیں ہے
میری تمنا دعا نہیں ہے
ہزاروں لوگ مجھ سے ہیں
ہزاروں خواہشیں ہیں مجھ سی
پر اُس پیڑ کے سائے تلے
میری جگہ نہیں ہے
وہ ایک پیڑ کے نیچے سر جھکائے بیٹھا ہے۔۔۔کسی نے اُسے بتایا تھا کہ یہ ہرے پتوں والا عشق کا پیڑ ہے۔۔ ۔نجانے وہ کب سے یہاں بیٹھا ہے۔۔۔شاید وہ پتوں کے گرنے کا منتظر ہے۔ ۔۔۔اچانک ہوا چلتی ہے ۔۔۔ایک سر سبز پتا اُس کی گود میں آگرتا ہے ۔۔۔وہ خوشی سے سر اُٹھاتا ہے ۔۔۔کہنے والے نے سچ کہا تھا مراد پوری ہونے والی ہے ۔۔۔ہوا کے رستے پر ڈولتی پھولوں سے سجی ایک پالکی قریب آرہی ہے۔۔۔اُس کے قریب آنے سے پہلے خوشبو سے مہکتی ہوا نے پیغام دے دیا ہے کہ اُس پالکی میں کوئی اور نہیں پھولوں کی ملکہ جیون ہے۔۔۔پالکی دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی ہے ۔۔۔وہ پتا ہاتھوں میں لیے اُس کے استقبال میں کھڑا ہو چکا ہے۔۔۔ منہ زور ہوا شرارت پر اُتر کر اُس کی آنکھوں میں دھول ڈال دیتی ہے۔۔۔۔وہ بے چینی سے آنکھیں مل رہا ہے ۔۔۔پالکی کی دھندلی تصویر آہستہ آہستہ صاف ہو رہی ہے۔۔۔پالکی رک چکی ہے ۔۔۔ابھی بھی اُن کے بیچ کچھ قدموں کا فاصلہ ہے ۔۔۔جیون ایک ادا کے ساتھ اپنے مہندی رچے پیر زمین پر رکھتی ہے۔۔۔اُس کے پیر اُسے اپنے دل پر محسوس ہوتے ہیں ۔۔۔اُس کی کانچ کی چوڑیاں خاموش فضا میں ایسا راگ چھیڑتی ہیں کہ ہر شے جھوم اُٹھتی ہے۔۔۔اُس کے شانوں پر گلابوں کی شال ہے اور اُس کے جسم پر چاندنی کا لباس۔۔۔وہ دیکھتا ہے ۔۔۔پھر سوچتا ہے ۔۔۔اُسے یاد آجاتا ہے کہ کل شام جیون نے سرخ شال ہی تو پہنی تھی اور گول گول گھومتی سفید فراک وہ کہاں بھولا تھا۔۔۔وہ پھر اُسے دیکھتا ہے ۔۔۔کبھی وہ ایک روایتی دلہن کی طرح نظر آتی ہے۔۔۔۔کبھی کسی کہانی سے نکلی ہوئی جادو کی پری لگتی ہے۔۔۔وہ اُلجھن میں ہے۔۔۔شدید اُلجھن میں ہے ۔۔۔وہ نہیں جانتا یہ کونسی جگہ ہے۔۔۔لیکن یہ حویلی نہیں ہے۔۔۔کچھ دیر بعد دل سمجھ جاتا ہے ۔۔۔۔یہ محبت کا جزیرہ ہے۔۔۔۔اِس سے بڑھ کر کیا خوش قسمتی ہوگی کہ وہاں صرف وہ اور جیون ہیں۔
کچھ دیر وہ اُسے دیکھتا رہتا ہے ۔۔۔وہ خاموش کھڑی ہوئی ہے۔۔۔منظر پھر بدل جاتا ہے ۔۔۔ہوا تیز چلتی ہے اِس قدر تیز کہ درخت کے سارے پتے گر جاتے ہیں۔۔۔وہ گھبرا جاتا ہے ۔۔۔اُس کا ہاتھ اور عشق کا پیڑ خالی ہوچکے ہیں۔۔۔وہ اردگرد دوڑ رہا ہے ۔۔۔وہ ہرا پتا ڈھونڈ رہا ہے ۔۔۔لیکن سارے پتے زرد ہیں۔۔۔وہ دوڑتا دوڑتا پالکی کے قریب پہنچ جاتا ہے ۔۔۔۔یہ عشق کا کیسا جھل تھا کہ جیون اکیلی نہیں ہے ۔۔۔یہ اُس کا جزیرہ نہیں ہے ۔۔۔کیونکہ جیون کے ساتھ جازم ہے۔۔۔وہ اپنے قدم پیچھے ہٹاتا ہوا اُن دونوں کو دیکھ رہا ہے ۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے میں گم اُس سے غافل ہیں ۔۔۔جیون کی کالی گہری آنکھوں میں محبت ہے۔۔۔بھروسہ ہے۔۔۔سپردگی ہے۔۔۔جازم کی بھوری نشیلی آنکھوں میں دھوکہ ہے۔۔۔ مطلب ہے۔۔۔ ہوس ہے۔۔۔جیون اُس کے قریب ہے ۔۔۔ جازم اور قریب آرہا ہے ۔۔۔وہ اُس کا ہاتھ پکڑ رہا ہے۔
ـ”رک جاؤ جازم۔۔۔میں کہتا ہوں رک جاؤ۔”
جیسے ہی سیف کی چیخ ہوا میں بلند ہوئی سارے جزیرے پر آگ لگ گئی۔وہ جلتی ہوئی آنکھیں مسلتے ہوئے اُٹھ بیٹھا تھا۔اُس کی سانسیں تیز تھیں اور سخت سردی کے باوجود جسم پسینے سے بھیگا ہوا۔وہ اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا کہ ساری رات جاگنے کا عہد کرکے وہ کیسے سو گیا تھا۔اُس نے پریشان نظروں سے گھڑی کی طرف دیکھا ،صبح کے چار بج رہے تھے۔ نجانے کس جذبے اور خیال نے اُسے اُٹھنے پر مجبور کر دیا۔ننگے پاؤں بکھرے بال اُس وقت اُس کی حالت ایک مجنوں جیسی تھی ،جو ٹھنڈے فرش پر نہیں ریگستان میں دوڑ رہا ہو۔وہ دوڑتے دوڑتے اُس سے ٹکرا گیا۔ اُس کی آنکھیں، اُس کا چہرہ اور شانوں پر لٹکتی جازم کی شال سب کچھ بتا رہی تھی۔کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ اُس سمے پتھر کی حویلی میں ایک شخص پتھر کا بن چکا تھا۔
“تمھیں شرم نہیں آتی۔تمھاری اتنی جرت کہ تم میرا پیچھا کر رہے ہو۔دو ٹکے کے گھٹیا ملازم ! آخر کب تم اپنی اوقات میں رہنا سیکھو گے۔”
وہ ماتھے پر شکن لاتے ہوئے نخوت سے ہر لفظ چبا کر بولی۔
وہ بہت کچھ کہنا اور پوچھنا چاہتا تھا ،مگر وہ صدمے میں تھا ایک ایسا صدمہ جو کسی اپنے کے مرجانے پر ہوتا ہے۔وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سینہ پیٹنا چاہتا تھا،مگر دونوں ہاتھ سُن تھے۔وہ زار و قطار رونا چاہتا تھا،لیکن اشکوں کا سمندر خشک تھا۔
“خبردار جو کسی سے کچھ بھی بکواس کی۔تمھاری کھال اُدھیڑ دونگی۔ تمھاری جان نکال دو نگی ۔”
جیون نے اُسے گریبان سے پکڑ کر زور سے دھکا دیا تو وہ پیچھے ستون سے جا ٹکرایا۔وہ اُسے حقارت سے دھمکی دیتی جا چکی تھی۔وہ اُسے کیسے بتاتا کہ مان اور اعتبار کی کھال اُدھڑ چکی ہے اور محبت کی جا ن نکل گئی ہے۔
*****
اُس سے یہی کہتا ہوں واجب احترام عشق ہے
اندر سے یہ خواہش ہے وہ جیسا کہے ویسا کروں
عشق اور احترام کا بڑا گہرا گٹھ جوڑ ہے ۔یہ پھول خوشبو جیسا ساتھ ہے،یہ سانس جسم جیسا تعلق ہے،جیسے پھول خوشبو بنا بے مول ہے،جسم سانس بنا بے جان ہے ،ویسے ہی عشق احترام کے بغیر کھوکھلا ہے ۔سچّے عشق کا دام کوئی نہیں چکا سکتا کیونکہ ایسے عشق کی قیمت کا تعین ہی نہیں کیا جا سکتا، اور جس عشق میں طلب کی بولی لگ جائے وہ انسان کو انسانیت کے معیار سے گرا دیتا ہے ۔لحاظ ، شرم ،احترام کے معنی بدل جاتے ہیں ۔بس اِسی مقام پر انسان اپنے عشق کو سستا کر دیتا ہے ، اور وہ عشق ہی کیا جو انسان کی آبرو کی قیمت گھٹا دے ، جو نفس کے بازار میں اپنے محبوب کی عزت نیلام کردے۔جازم نے جس عشق کا خواب اُسے سونپا وہ تو خود اُس کی فریبی نگاہوں سے کوسوں دور تھا،جبکہ جیون سمجھ رہی تھی ع ش ق کا مفہوم ہے تو بس جازم کی آنکھیں ہیں ،جازم کے الفاظ ہیں ۔وہ تو پہلے ہی اُس کی دیوانی تھی ، لیکن قسمت کے ہاتھوں ملنے والے اِس موقعے نے اُس کے جنون کو اور بڑھا دیا تھا۔وہ مسرور تھی کہ وہ اپنے عشق کو پا گئی ہے۔ وہ نازاں تھی یہ عشق اُس کے بس میں ہے۔اُسے یقین تھا کہ جازم جلد اُسے اپنی دلہن بنائے گا اور وہ اُس کے دل سمیت اِس حویلی پر بھی حکمرانی کرے گی۔
“میں اُس سے ڈرتی نہیں ہوں جازم ،مگر صبح اُس کی خونخوار نگاہوں میں کچھ ایسا تھا کہ میں سو نہیں پائی۔ایک پل کے لیے لگا وہ اپنی حیثیت بھول کر میرا گلا دبا دے گا یا پھر پوری حویلی کو جگا کر ہمیں بے عزت کرے گا۔”
جیون نے سہمی ہوئی آواز میں اپنا خوف ظاہر کیا۔
وہ صبح پہلی ہی فرصت میں جازم کو اُس خطرے سے آگاہ کرنے چلی آئی جو اُسے سیف کی ذات سے محسوس ہوا تھا۔
“ہاہاہا۔۔۔اب جیون حیات جیسی نڈر شیرنی اُس سے ڈرے گی۔۔۔اُس کیڑے مکوڑے سے۔”
جیون کی پریشانی سن کر جازم کا بے ساختہ قہقہہ چھوٹا۔
“مت بھولو جازم یہ کیڑے مکوڑے بھی کاٹ لیتے ہیں ۔اِن کا بدن پر رینگنا ہی بے تاب کر دیتا ہے اور کوئی حلق تک جا پہنچے تو انسان مچھلی کی طرح تڑپ کر رہ جاتا ہے۔ ”
جیون مزید سنجیدہ ہوئی۔
“کچھ نہیں کر سکتا سیف ۔وہ ایک بے ضرر انسان ہے۔ اُس کے تو ابھی پر ہی نہیں نکلے،اگر نکل بھی آئے تو ہم کاٹنے میں ماہر ہیں۔اُس سے مت ڈرو۔تمھیں تو ہم سے ڈرنا چاہیے۔اِس جنگل کے شیر تو ہم ہیں۔”
جازم اُس کا ہاتھ تھام کر تسلی دیتے دیتے شرارت پر اترنے لگا۔
“اچھا تو ہم تم سے ڈر گئے ۔۔۔اب تمھارے آس پاس بھی نہ بھٹکیں گے۔”
جیون ساری باتیں بھول کر اُس کے انداز پر کھلکھلائی اور فوراً اپنا ہاتھ چھڑا کر کھلے دریچوں کی طرف بھاگی۔
خود کشی جرم بھی ہے صبر کی توہین بھی ہے
اس لیے عشق میں مر مر کے جیا جاتا ہے
سیف نے وہ رات اذیت میں کاٹی تھی اور آنے والا ہر دن اُس کی تقدیر میں یہ اذیت لکھ چکا تھا۔اُس کے لیے ا ب اُن کی ملاقاتیں ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی تھیں۔وہ چاہ کر بھی جازم کا گریبان پکڑ کر نہ اُسے زمین کی دھول چٹا سکا اور نہ جیون کا ڈوپٹہ تھام کر اُسے اُس کے وقار کی بلندی کا احساس دلا سکا۔ اُس کے دن کُھلے ہوئے زخموں کی طرح ہوگئے تھے اور راتیں قبر کی طرح تنگ۔ یہ سات دن سات جنموں کے مترادف تھے۔وہ جانتا تھا جیون تباہ ہو چکی ہے ،مگر وہ اُسے کسی طرح آباد دیکھنا چاہتا تھا۔ اب اُس کے لبوں پر جیون کو پانے کی نہیں ،جازم اور جیون کے ایک ہونے کی دعائیں تھیں۔
*****

جاری ہے

__________________________

تحریر:حمیرا فضا

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

Advertisements