معذرت_________گل ارباب

وہ مجھے پشاور کے ریلوے سٹیشن پر ویٹنگ روم میں ملی تھی ہم لاہور جا رہے تھے سٹیشن پہنچ کر معلوم ہوا کہ ٹرین دو گھنٹے لیٹ ہے ۔ میرے میاں مجھے ویٹنگ روم میں بیٹھا کر خود فون پر بات کرتے ہوئے باہر نکل چکے تھے ۔ ادھر ادھر کا جائزہ لیتے ہوئے میری نظریں اس پر ٹک سی گئی تھیں آس پاس وہی عام سا منظر تھا روتے ہوئے بچے ٬ موٹے چشموں سے نوجوانوں کو گھورتی بزرگ خواتین ٬, بنی سنوری موبائل فون میں گھسی لڑکیاں ٬ اور کھانے پینے کی چیزیں لاتے مرد۔
میں نے اسے بغور دیکھا اس کی عمر چالیس پینتالیس کے درمیان ہوگی قدرے کھلی ہوئی سی رنگت اور اس کی آنکھوں میں پھیلی بے نام سی اداسی نے اس کے خوبصورت چہرے کو عجیب سا سوز بخشا ہوا تھا میرا جی چاہا اس سے بات کر کے پوچھوں کہ اتنی اداس کیوں ہو ؟میں ذرا سا کھسک کر اس کے قریب ہوگئی ۔کہاں جا رہی ہیں ؟
لاہوراس نے محتصر سا جواب دے کر مجھے چپ کرا دیا
میں بھی لاہور جا رہی ہوں “, میں نے خود ہی ڈھیٹ بن کر بتا دیا ۔
اس کے سپاٹ چہرے پر کوئی گرمجوشی نہ دیکھ کر میں کھسیانی سی ہوگئی ۔
کون ہے ساتھ ؟میں نے ایک اور کوشش کی
شوہر ہیںپھر محتصر جواب اور خاموشی ۔
بچے نہیں ہیں ؟مجھے اپنے ڈھیٹ پنے پر حیرت ہورہی تھی ۔
نہیںوہ جواب دے کر بالکل چپ ہوگئی
اب کہ میں نے اکتا کر اس کی آنکھوں کی اداسی کو نظر انداز کرتے ہوئے وقت گزاری کے لیے بیگ کھول کر اپنا پسندیدہ ڈائجسٹ نکال لیا ۔جو ابھی ابھی ریلوے اسٹیشن کے اک بک سٹال سے میاں جی نے خرید کر دیا تھا ۔میں نے ورق گردانی کرتے ہوئے دیکھا
اس مہینے بھی میری پسندیدہ مصنفہ کا ناولٹ آیا ہوا تھا ۔
میں بے صبری سے صفحے پلٹنے لگی کومل مہکار اتنا اچھا لکھتی تھیں کہ میں اک طویل عرصے سے ان کے طرز تحریر کی شیدائی تھی ان کی تحاریر میں عورت کو کمزور نہیں بلکہ بہت مضبوط اور باہمت دیکھایا جاتا تھا عموماً ان کی ہیروئین بہت بہادر اور باغی ہوتی تھی ۔ اور مجھے زندگی میں ان کی تحریروں نے کچھ فیصلوں میں بہت مدد دی تھی جہاں بہادر بن کر میں اپنے حق کے لیے ڈٹ گئی تھی اور لڑ جھگڑ کر اپنا حق وصول کر لیا تھا کیونکہ میری پسندیدہ رائیٹر کی ترغیب یہ ہی تھی کہ جب آپ اپنے فرائض میں ڈنڈی نہیں مارتے تو اپنے حقوق کی پامالی کیوں برداشت کریں ؟ ۔میں اردگرد کے شور وغل سے بے خبر ان کی نئی تحریر میں گم تھی
یہ ناولٹ میں نے لکھا ہےاسی اداس آنکھوں والی کی آواز نے مجھے چونکا دیامیری بے یقین سوالیہ نظروں نے اس کے چہرے پر سچائی ڈھونڈنے کی کوشش کی ۔
میرا نام شاھدہ ہے اور میں ہی کومل مہکار کے قلمی نام سے لکھتی ہوں ۔اس کے لہجے کی سچائی نے مجھے یقین دلایا دیا کہ یہ ہی وہ لکھاری ہیں جن کی میں اور میری جیسی دیگر خواتین بھی فین ہیں
مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے ۔۔میں آپ کی ہر تحریر شوق سے پڑھتی ہوں اور آپ کی تحریر کی وجہ سے ہی میں یہ ڈایجسٹس بھی خریدتی ہوں ۔مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے اپنی خوشی کا اظہار کروں ؟
بہت شکریہ پیاری بس میری یہ کوشش ہے کہ اپنی تحاریر کے ہتھیار سے عورت کو ظلم کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دے سکوںوہ پہلی بار مسکرائی تھی لیکن میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں اب بھی اداسی کے رنگ پھیلے ہوئے تھے شاید یہ رنگ بہت پکے ہو گئے تھے جانے کیوں مجھے اس وقت انار کے داغ کا خیال آ گیا جو بہت پکا ہوتا ہےکیسے لکھ لیتی ہیں آپ ؟ اور آپ کی فیملی تو آپ کی شہرت پر بہت خوش ہوتی ہوگی خاص طور پر آپ کے شوہر ۔؟
وہ سر ہلانے لگی ۔میرے شوہر بہت پسند کرتے ہیں میری کہانیوں کو وہ کہتے ہیں کہ جلد ہی میں آپ کی کتاب چھپواوں گا ۔
بالکل ٹھیک ۔۔ میں بھی آپ کی کتاب ضرور خرید کر پڑھوں گی ۔
آپ کے ناولٹ ۔۔غم زیست مجھے چھوڑ دے ۔ نے مجھے بہت رلایا تھا
اور وہ میرے حصے کے گلاب تمہارے ۔۔وہ بھی بہترین تحریر تھی ۔
مجھے ان کی ایک ایک کہانی یاد تھی ۔
میرے چارہ گر کو نوید ہو . اس میں حمزہ کے ساتھ آپ نے اچھا نہیں کیا تھا ۔وہ میرے سوالوں کے جواب مسکراتے ہوئے دے رہی تھی کہ اچانک ایک بڑی بڑی مونچھوں اور کرخت چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور ہاتھ میں پکڑا بیگ اسے پکڑا دیا ۔
چلو ریل گاڑی آنے والی ہے ۔
اس نے سامان سمیٹنا شروع کر دیا تھا ۔
وہ جانے لگے اسی وقت میرا میاں بھی مجھے گاڑی کی آمد کی خبر دینے لگا ۔
میں نے انبساط بھرے انداز میں کومل مہکار کے شوہر کی طرف دیکھا ۔
بھائی صاحب ! آپ تو ان جیسی نامور بیوی پر بہت فخر کرتے ہوں گے ؟
وہ میرے اس سوال پر حیران سا مجھے گھورنے لگا میں نے گڑبڑا کر کومل مہکار کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پر خوف زردی کی صورت میں پھیلا ہوا تھا اوروہ مجھے آنکھوں ہی آنکھوں میں جیسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہی تھیں ۔
لیکن مجھے اس وقت اس اشارے کی سمجھ نہیں آئی ۔
اتنی بڑی لکھاری ہیں آپ کی بیگم ان کے ایک ایک لفظ میں تاثیر ہے ہزاروں لڑکیاں ان کی تحریر کا ہر مہینے انتظار کرتی ہیں ۔۔اپ ضرور ان پر فخر کرتے ہوں گے نا ں ؟
کتنے خوش قسمت ہیں آپ کہ آپ کو ایسی بیوی ملی ۔میرے شوہر بھی میری پسندیدہ رائیٹر کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے ۔
یہ کیا بکواس ہے ؟ استغفار کریں میں گھر میں یہ بکواس پڑھنے کی اجازت نہیں دیتا تو یہ لکھ کیسے سکتی ہے ؟
وہ غصے سے لال پیلا ہوگیا تھا اور میرے ہاتھ میں پکڑے ڈایجسٹ کو انتہائی نفرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا میں ہکا بکا منہ کھولے کبھی اسے دیکھتی اور کبھی کومل مہکار کو ۔
یہ عورت کیا کہہ رہی ہے شاھدہ بیگم ؟
اس نے بیوی کی طرف غصب ناک انداز میں دیکھ کر سوال کیا ۔
جی ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔
ان کی ساس نے مجھے بتایا ہے کہ انہیں دورے پڑتے ہیں ۔۔ چھوڑیں بے چاری بیمار ہے اس لیے ایسی انہونی باتیں کر رہی ہے ۔میں اور میرے شوہر حیران نظروں سے اسے جاتا دیکھ رہے تھے میں نے ان بزرگ خاتون کی طرف دیکھا جو دور بیٹھی تسبیح کے دانے گراتے ہوئے ہل ہل کر کچھ پڑھ رہی تھیں اور کومل مہکار نے ان کی طرف اشارہ کرکے انہیں جھوٹ موٹ میری ساس بنا دیا تھا ۔ہم میاں بیوی کچھ بھی کہے بنا چپ چاپ انہیں جاتا ہوا دیکھتے رہے ۔
وہ شخص ھمدردانہ انداز میں میرے میاں کو دیکھتے ہوئے افسوس سے سر ہلانے لگا
میں نے شوہر کے پیچھے پیچھے سر جھکائے جاتی اس عورت کی طرف دیکھا
وہ ایک پل کے رکی پھر مڑ کر باہر نکلنے سے پہلے میری طرف دیکھا ۔۔میں نے اس کی اداس آنکھوں میں اب کی بار اک پیغام پڑھ لیا تھا وہ پیغام اپنی غلط بیانی پر معذرت کا تھا
لیکن مجھے سمجھ نہ آئی کہ وہ کس جھوٹ اور غلط بیانی پر معذرت ہو سکتی ہے ؟

_______________________

تحریر:گل ارباب

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.