قلم کا جنم___________2،

“کچھ حقیقت کچھ افسانہ”

فرحین جمال .

بیلجئیم

افسانہ نگار

کتاب زندگی _( باب اول)

میری زندگی کی کتاب کا سرورق نہایت دیدہ زیب ،جاذب نظر اور رنگوں سے مزین ہے جو دیکھتے ہی قاری کو اپنی جانب کھینچتا ہے، لیکن جب وہ پڑھنے کیلئے پہلا ورق پلٹتا ہے تو متن اس پر نہیں کھلتا بلکہ کتاب بھی اس پر نہیں کھلتی .

دن نے کسی نئی نویلی دلہن کی طرح مہین سا گھونگٹ کاڑھ رکھا تھا جس میں سے اس کے چہرے کا مدھم سا عکس جھلک دیکھ رہا تھا اور اس کے زرق برق آنچل پر ٹنکے ستاروں کی جھلمل نے شام کے سایوں کو پر ے دھکیل دیا تھا _ گیلی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو ، ہلکی ہلکی خنک ہوا _،چمنبلی،ہارسنگار اور موتیے کا پھولوں کی مہک ، ایک پر اسرار سی خاموشی جیسے کوئی سربستہ راز افشاں ہونے کو ہے ، رات کی دبے پاؤں بڑھتی ہوئی بے قراری _صحن کی محراب کے عین درمیان پیلی روشنی پھینکتا بلب _ دالان کے وسط میں قدیم مہوگنی کی بڑی سی مسہری ،جس پر سلیقے سے بچھی سفید چادر ، کڑھائی والے دو تکیے اور ایک گاؤ تکیہ سے ٹیک لگاۓ ،نیم دراز سرخ و سفید رنگت والی حسین خاتون انگوری رنگ کے فرشی غرارے اور ہم رنگ قمیض ،بڑے سے ململ کے سفید دوپٹے سے سر ڈھانپے ایک موٹی سی کتاب ہاتھ میں لئے مطالعہ میں منہمک تھیں _ مسہری کے بائیں جانب تین اور دائیں جانب چھوٹی بڑی پانچ چار پا ئیاں ،عین بیچ میں ایک چھوٹا سا کھٹولا _ ایک پانچ سالہ بچی ، اپنی بڑی بڑی سبز آنکھوں میں ڈھیروں حیرت ،تجسس اور پیار لئے ،خاتون کی طرف دیکھ رہی تھی ،اس کا چہرہ ایسے کھلا ہوا تھا جیسے صبح دم کوئی گلاب گہری نیند سے بیدار ہوا ہو _ وہ کتاب میں منہمک خاتون کے چہرے کو بغور پڑھ رہی تھی اور اس چہرے پر پھیلے ،استجاب ، انبساط ، ہنسی ، حیرت ، ناگواری اور غصے کو محسوس بھی کر رہی تھی _

یہ میری اپنی ماں سے پہلی ملاقات تھی جو دماغ پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو گئی _ بہنوں اور بھائیوں کی ایک بڑی فوج کا آخری پیادہ تھی _ مجھےبچپن سے ہر رویے کو غور سے دیکھنےاور محسوس کرنے کی عادت تھی . میرے والدین بھی ان لاکھوں لوگوں میں سے تھے جو اپنا گھر بار ،عزیز و اقارب چھوڑ کر اس ارض پاک کے مکین ہوے _والد آرمی میں تھے – اپنی ڈیوٹی نبھا نے کے لئے اکثر گھر سے دور رہتے _ یا گھر میں ہوتے بھی تو ملٹری ڈسپلن کا سختی سے خیال رکھا جاتا _

میں تتلیوں کے پیچھے بھاگتی ،موتیے کے پھولوں کو دامن میں بھرتی ، گرمیوں کی دوپہروں میں امرود کے درخت پر چڑھ کر امرود توڑتی ، امی کے کچن گارڈن سے چوری چوری ٹماٹر توڑ کر نمک لگا کر مزے مزے سے کھاتی ،بستہ اٹھا کر اسکول جانے لگی _ اسکول میں مضمون نویسی کی طرف مائل ہوئی اور اردو کی استانی نے حوصلہ افزائی کی اور داد بھی پائی ،کالج میگزین میں ایک نظم (لمحے ) شائع ہوئی جو کہ میرے بعد آنے والی کسی طالبہ نے اپنے نام سے لگا دی _ کالج ،یونیورسٹی کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ، مشاعرے ، تقاریر ، مباحثے _ اور ان سب کے ساتھ کتاب سے بندھا میرا دائمی رشتہ _

تتلیوں کے پروں پر اپنے سپنے لکھنے والی وہ لڑکی اب بھی اسی گھر کی دہلیز پر کھڑی تھی اور یادیں تھیں کہ لاشعور کے نہاں خانے سے جھانک کر کبھی کبھی کچھ کھو دینے کا احساس دلاتی رہتیں _

( باب دوم ).

ابھی خوابوں کی مدھم بنتی مٹتی تصاویر اجاگر ہی ہوئی تھیں کہ کفالت کا بوجھ اپنے نازک کندھوں پر اٹھا لیا ، ہاتھ میں قابلیت کا سرٹیفکیٹ لے کر دنیا کے بازار میں نکل کھڑی ہوئی ، یہاں خوابوں کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے ؟؟ تدریس کے لبادے کو اوڑھ لیا ، علم کی ترسیل جاری تھی کہ زندگی نے ایک اور پلٹا کھایا ،والدین نے ہاتھوں میں حنائی رنگ رچا کر میری ڈور کسی اور کے ہاتھ میں دے دی_ اور میں کشاں کشاں وعدوں اور بھرم کو نبھانے دور دیس چل پڑی _میرے ہاتھ سے کہانیوں کی کتاب چھین کر زندگی کی کتاب تھما دی گئی – بچے ،گھر اور کاروبار اس مثلث کے گرد گھومتی میری زندگی _ وقت جیسے تھام گیا تھا ، ایسے میں اپنا ہوش نہ رہا ،لکھنے کا کیسے رہتا ؟ ہاں ” کتاب ” نے یہاں بھی میرا ساتھ نہ چھوڑا _ وہ تو میری دائمی ہمجولی تھی ،میری سوچ،تخیل ،خواب کتاب کے صفحات سے نکل کر مجھ تک پہنچتے ،اپنی کم مائیگی کا شکوہ کرتے اور میں انہیں تسلیاں دے کر دوبارہ سلا دیتی _ ماہ و سال گزرتے گئے _ بچے بڑے اور ہم چھوٹے ہوتے گئے _ اس جلا وطنی میں رب نے جو سب سے بڑا انعام مجھے عطا کیا وہ میرے دو نگینے ہیں _ قلم کو تراشا ، الفاظ کو مجتمع کیا ، تخیل کو آواز دی اور صفحہء قرطاس پر پہلا حرف پروسہ – پہلی تحریر لطافت سے بھرپور ایک نثر پارہ تھی جو کافی پسند کی گئی اور برسوں سے خواب غفلت کا شکار ایک لکھاری بیدار ہوئی _ متعدد افسانے اور نثری و شعری تخلیقات مختلف ادبی رسالوں کی زینت بن چکی ہیں ۔ ابھی یہ سفر جاری ہے_

( باب سوم ) .

“دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

عجب چیز ہے لذت آشنائی ”

وقت ایک بہتا دھارا ،کسی کا انتظار نہیں کرتا .مسلسل آگے کی طرف سرکتا رہتا ہے، یہ تو ہم (انسان )ہیں جو منجمد ہیں ،وقت کی آہنی زنجیروں میں جکڑے کوئی لمحہ ،کوئی پل ہماری دسترس میں نہیںکہ اس کو گزر جانا ہے _

قلم ہاتھ میں ہو تو الفاظ ساتھ چھوڑ جائیں ..!_ جانے کتنے ،افسانے،شاعری ،کہانیاں لکھی ہیں لیکن آج یہ قلم کسی اور ہی بات کا تقاضا کر رہا ہے اور میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں کہ میں کیا لکھوں اور کیسے لکھوں . ایسا لگتا ہے جیسے کسی طویل خواب سے جاگی ہوں ابھی ابھی، بدن چور چور ہے ہر عضو تھکا تھکا بے جان ! _مجھے لگتا ہے کہ اگر میں اپنے اور عشق کے تعلّق پر کچھ لکھنے بیٹھوں تو یک اہم دن ذہن کے پردے پر نمو دار ہوتا ہے ایک ایسا لمحہ میری زندگی میں آیا جس نے میری کایا پلٹ دی _ صبح و شام میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی نہ ہی سورج مغرب سے نکلا تھا اور نہ ہی چاند پلٹ آیا تھا _ پر بہت کچھ بدل گیا تھا، مجھے بھی اس وقت اس بات کا کوئی احساس نہیں تھا کہ کچھ انوکھا ہونے والا ہے لیکن آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو پے در پے کسی کے قدموں کے نشان میرے ہمسفر تھے _

اس تبدیلی کا آغاز ایک جنون سے ھوا _ ایک نئی ،انوکھی ،کومل سی کونپل اس بے جان ،بنجر زمین اور ماؤف ذہن میں پھوٹ پڑی _ وقت کی سبک رفتار ،اپنے رشمی تاروں سے مجھے باندھ کر کسی اور لے چلی _ اس مردہ تن میں کہیں تو کسی کونے میں راکھ کے اندر کوئی چنگاری ہے ابھی جو سلگ اٹھنے کو تیار ہے بس ایسے کسی ہاتھ کی تلاش تھی جو اس راکھ کے ڈھیر میں سے شعلے کو ہوا دے .جانے کیسی عظیم ساعت تھی جب میرے دل کے مردہ خانے میں ،برف کی سلوں میں حدت محسوس ہوئی اور برسوں کی جمی برف آہستہ آہستہ پگلنے لگی .ایک بیخودی ،تھی،سرشاری تھی، مدہوشی تھی ، دور کہیں ایک در وا ہو چکا تھا اور دھیمی دھیمی روشن کرنیں اس در سے لپک لپک کر میری اور چلی آرہی تھیں ،میں اس روشنی میں بھیگنا چاہتی تھی ،مگر ابھی سفر بہت طویل تھا ،راہ میں کئی کٹھن موڑ حائل تھے، بڑی کڑی منزلیں تھیں ، بہت صبر آزما لمحے تھے، لیکن دل کو کا مل یقین تھا کہ منزل کہیں قریب ہی ہے _

دل نے کسی ایسی چاپ کی دستک سن لی تھی جو وہ بیحد بیچین تھا .کہتے ہیں محبت انسان کو بدل دیتی ہے ،سچ ہی کہتے ہیں ؛صرف انسان کو ہی نہیں محبت کا ایک پل انسانی خدوخال کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے . اور میں تو بوند بوند اس پیار کی روشنی میں نہائی چلی جا رہی تھی _ بیخودی بڑھتی جاتی تھی،پیاس میں اضافہ ہوا جاتا تھا .دن اور رات کا سلسلہ بھی میرے شوق اور اشتیاق کو کم کرنے میں نا کام تھا .

میری زندگی میں بھی بہار کی آمد تھی .کچھ لمحے الله کی طرف سے ودیعت کئے جاتے ہیں اور میرے لئے وہ لمحے لکھے جا چکے تھے .ایک رہبر ،ایک رفیق اب میرا ہاتھ تھام کر مجھے اس کٹھن منزل کے اس پار لے جانے کو آمادہ تھا ،میں اس بات کو بہت دیر سے سمجھی تھی کہ وہ روشنی ؛ ہاں ..! وہ تو جیسے اب میرے ارد گرد ایک ہالہ سا بنا چکی تھی .ایک ایسا رھبر مل گیا تھا جس نے راستے کی نشاندہی بھی کر دی اور سر پر اپنی محبت اور شفقت کی چادر بھی تان دی .دل ایک دم سے ہی ہلکا پھلکا ہو گیا .ایک ایک گوشہ جیسے منور ہو گیا ،بہار میں پھوٹنے والی کونپل میں پتے آ گئے تھے .محبّت کاراگ جلترنگ کی دھن میں بجنے لگا تھا _

میں نے بھی سالوں سے مندی آنکھیں کھول کر اس روشنی کی طرف دیکھا جو میری نظر کو خیرہ کیئے دے رہی تھی .یا الہی یہ کیا ماجرا ہے ،یہ کیسی روشن کرن ہے جو میرا احاطہ کئے ھوے ہے . مجھے کیوں اس طرح روشنی میں نہلایا گیا ہے؟؟ _ کون سا ایسا کارنامہ انجام دیا ہے میں نے ؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا ،سوچیں منجمد تھیں ،تو دل کے نہاں خانوں سے ایک مہین سی آواز آئی ،یہ تو وہی ہے جس تو تم نے اپنی خلوت میں پکارا تھا ،جس کو آوازیں دیتے دیتے تمہاری زبان خشک ہو گئی تھی ،آج وہ تمہارے پکارنے پر چلا آیا تو حیران کیوں ہو ؟، بڑھ کر ہاتھ تھام کیوں نہیں لیتیں . میں اب بھی تذبذب کا شکار تھی .کہاں میں اور کہاں وہ ؟، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میرا پیار،میرا عشق مجسم میرے سامنے آ کھڑا ہو ! میرا ہاتھ تھامنے کو تیار _ اس چکاچوند نے سے میں گھبرا گئی _ اپنی کم مائیگی ،کم فہمی کا شدید احساس تھا مجھے لیکن کہیں کہیں خود پر نازاں بھی تھی کہ میری پکار آخر کار اس کو میرے قریب لے ہی آئی _

وہی جنون ،ایسا کہ انگ انگ سرشاری میں ڈوبتا جاتا ..عشق کی دھیمی دھیمی آنچ سلگ اٹھی تھی . نہ دن ، دن تھا نہ رات ،رات _ اک سرور تھا جو رگ و پے میں لہو بن کر دوڑنے لگا تھا ،ایک آگ تھی جو دل کو بھسم کرنے کو تیار تھی .وہ آگ جو سلگ اٹھی تو دامن دل تک آ پہنچی _ بے قراری کہ

” میں تشنہ کہاں جاؤں ..پی کر بھی کہاں جانا ”

ایک لو تھی جس کی لپک میرے وجود کو اپنی لپٹے میں لے چکی تھی ،بس اب تو جل کر خاکستر ہونا رہ گیا تھا _وہ کچھ دیکھ رہی تھی جو شاید کوئی کوئی ہی دیکھ پا تا ہے.

عمل اور شوق عمل نے میرے وجود کو گھیر لیا _ہنسی تھی کہ امڈ امڈ آتی تھی ،دل تھا کہ خوشی سے ہلکورے لے رہا تھا .وہ دل جو برسوں سے سیاہ تھا،بے جان تھا اس میں ایک نئی روح پھونک دی گئی تھی .اس کے قرب کی تڑپ تھی بس. ایسا قرب جو انسان کو مشکل سے ہی میسر آتا ہے .عشق تو کسی قسم کے رسم و رواج کا پابند نہیں ہوتا اور نہ ہی عقل کے طا بع _ وہ تو زمان و مکاں کی حد کو بھی نہیں مانتا . عشق تو صرف احساسات اور جذبوں کو جانتا ہے جو دل کے نہاں خانوں سے کسی وقت بھی امڈ سکتے ہیں _ اور معشوق اس کے زیر اثر روح سے عاری ؛ایک تن مردہ ،مگر اس کے دل میں عشق کا الاؤ روشن ہوتا ہے .بظاھر مردہ نظر آنے والا جسم اندر ہی اندر شوق کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے .

عاشق اور معشوق ایک دوسرے سے طبعی طور پر جتنا دور نظر آتے ہیں حقیقت میں ایک دوسرے کی رگ جان سے بھی نزدیک ہوتے ہیں ،یہ جسموں کا نہیں بلکہ روحوں کا ملاپ ہے _ ایک ایسا اٹوٹ بندھن ہے جس کی وجہ سے ان کے درمیا ن کوئی حجاب ،کوئی قدغن ،کوئی فاصلہ نہیں رہتا ،ایسا احساس مرے رگ و پے میں لہو بن کر دوڑ رہا تھا .کبھی خوشی سے سرشار اور کبھی اس سے دوری سوہان روح ،مسلسل کرب کی صورت .رات کے گھپ اندھیرے میں چپکے چپکے دل کے راز کھولنا ، وہ باتیں بھی کرنی جو کسی سے کبھی نہیں کئیں _ اپنے سارے دکھ ،حسرتیں ،محرومیاں ،مجبوریاں اپنے محبوب کے دامن میں ڈال کر سکھ کی نیند _

ابھی آداب عشق سے نا واقف ہوں اسلئے تھوڑی ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی ہے ،رفتہ رفتہ سب ٹھیک ہو جاے گا . اس کی محبت،پیار دیکھ کر میں سوچ رہی تھی واقعی وہ سچا ہے ،میرے اپنے جذبے ہی کمزور تھے ورنہ بہت پہلے ہی اس کو جان جاتی،پہچان لیتی ..! خیر وہ تو بے نیاز ہے ،ماورا ان سب باتوں سے ، وہ تو بس سر تا پا عطا ہے .میری حیرانی پر اس کو کوئی تعجب نہیں تھا ،میری کم علمی پر تھا ، جو حاصل عشق ہو وہ کب غافل رہ سکتا ہے _

“ہجر تیرا جے پانی منگے ،تے کہو ہ ، نینان دے گیڑاں ”

دل کردا یے تینوں کول بٹھا کے تے میں درد پرانے چھیڑا ں ”

عشق ایک سراب لگتا ہے معشوق کو ، کیونکہ وہ سب نظر نہیں آتا جو اصل میں ہوتا ہے _ لیکن حقیقت میں یہ بندھن ،یہ تعلّق ہر گزرتے پل کے ساتھ گہرے سے گہرا ہوتا جاتا ہے_

کچھ ہوش میں آ لوں تو کہوں،زبان کنگ ہے ، ذھن ماؤف اور میں دم بخود ..خیر اس کی اپنائیت ،خلوص اور ایثار نے میرے تمام اندیشے ؛خوف پانی کے بلبلے کی مانند اڑا دئیے .مجھ بھی اب یقین ہو چلا کہ یہ وہی ہے جس کو بارہا میں نے پھول کے رنگ و بو میں محسوس کیا ،ہوا کی اٹکھیلیوں میں دیکھا ،شبنم کا قطرہ قطرہ پھول کے جگر سے ٹپکنا ، بارش کی بوندوں کا زمیں پر گر کر قہقہہ لگانا اور پھر فنا ہو جانا ، سبزے کی مخمیلیں قالین پر سبک خرامی کرتی صبا ، سورج کی زرتاش کرنیں ،سب اس کا تو پرتو تھیں .بس میں ہی نا بینا تھی _

” اک تغافل سے …….اک توجہ تک ”

عشق آنسو بھی ہے ، تبسم بھی ہے ..!”

—————————————-

عامر رفیق

آر جے،لکھاری

گجرانوالہ

بے اختیاری”

میں ابھی اسکول بھی داخل نہیں ہوا تھا کہ دو چیزوں کی خواہش میں مچلنے لگا تھا ایک تو شہرت اور دوسری خوبصورتی۔ شہرت کے لیے تو اپنے بڑا ہونے کا انتظار کرنے لگا لیکن خوبصورتی کو اپنی ٹیچرز اور بڑی جماعتوں کی لڑکیوں کی شکل میں حاصل کرنے کی تگ و دو میں رہا لیکن کوئی ٹیچر، کلاس فیلو یا بڑی جماعت کی لڑکی میری آئیڈیل والے معیار پر پوری نہیں اُتر سکی۔ امی سے بہانے گھڑ گھڑ کر اسکول پہ اسکول بدلے لیکن حاصل کچھ نہیں ہوا۔ بڑا ہوتے ہوتے شہرت کے حصول کے لیے شوبز میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن اپنا شہر “مَین اسٹریم لائن” سے دُور ہونے یعنی کراچی یا لاہور میں نہ ہونے کے باعث کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ ٹین ایج میں اکیلے کسی دوسرے شہر تک کا سفر کر کے اپنی قسمت آزمائی مجھ جیسے بزدل کے لیے ممکن نہیں تھی۔ ٹین ایج تک بھی اپنی آئیڈئل سے ہنوز گمشدہ تھا بلکہ وہ مجھ سے گمشدہ تھی۔ تب مجھے اپنے بے اختیار ہونے کا اندازہ ہوا۔ لیکن انسان کچھ بھی ہو جائے مایوس نہیں ہو سکتا۔ لہذا شہرت کے حصول کے لیے، موجود وسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے، لکھنے کی طرف آ گیا۔ پہلا افسانہ بی۔کام پارٹ ون میں “پہلی تنخواہ” کے عنوان سے لکھا جسے حلقہ اردابِ ذوق گوجرانوالہ میں تنقید کے لیے پیش کیا تو غیر متوقع طور پر احباب نے بہت پسند کیا اور داد و تحسین سے نوازا۔ میں اجلاس کے دوران ہی خوشی سے مُسکراتا جا رہا تھا اور اپنی خوشی اور ہنسی قابو میں کرنے سے قاصر تھا۔ اس کے بعد یہ سلسہ چل نکلا اور یہاں پر جینوئن ادیبوں سے ملاقات ہوئی تو معلوم پڑا لکھنا کم اور پڑھنا زیادہ ہے۔ لہذا ان سینئر ادیبوں سے کتابیں مانگ مانگ کر پڑھنا شروع کیں اور پڑھنے کا ایسا نشہ چڑھا کہ خود لکھنا تقریبا بھول ہی گیا۔ (تھوڑی وضاحت کرتا چلوں کہ بچپن میں باجی کے منگوائے ہوئے خواتین ڈائجسٹ، ابو کی صلاح الدین ایوبی کی جنگی داستانیں، اخبارِ جہاں کا تین عورتیں تین کہانیاں کے علاوہ بڑے بہن بھائیوں کے سلیبس کی اردو اور انگلش مضامین کی کہانیاں وغیرہ پڑھنا میرے معمولات میں تھا۔) میرے مطالعہ کے ابتدائی ادیب تھے، منٹو، کرشن چندر، بیدی، منشی پریم چند، غلام عباس اور تھوڑے بہت اشفاق احمد۔ جبکہ غیر ملکی ادیبوں میں جاپانی ادب کے بہت زیادہ تراجم پڑھے ان کے علاوہ ہرمن ہیسے، چارلس ڈکنز، آسکر وائلڈ، جیمز جوائس، موپساں، کافکا کی متعدد چیزیں پڑھیں، کچھ تراجم اور کچھ انگلش میں ہی۔) میرا مشغلہ لاہور انارکلی میں میڈیکل اور این۔سی۔اے کی لڑکیوں کو حسرت بھری نظروں سے، جبکہ ان کے ساتھ پھرتے لڑکوں کو رشک سے دیکھنے کے ساتھ پرانی کتابوں کی دوکانوں میں جا کر وقت گزارنا اور پُرانے انگلش ناول خریدنا ہوتا تھا، تب تک میں لاہور جانا شروع کر چکا تھا بلکہ میں گوجرانوالہ ایف ایم 106 کے ساتھ ساتھ ایف ایم 95 لاہور میں بھی پروگرام کرنے لگا تھا۔ ریڈیو کے باعث شہرت کو میں نے کسی حد تک ضرور چُھو لیا تھا لیکن شہرت کی جس بلندی کا حصول میرا سپنا تھا وہ بہت دُور تھا۔ لٹریچر لکھنے اور پڑھنے کی بدولت اور کچھ ذہنی پختگی کے باعث شہرت کا نشہ مانند تو خیر نہیں پڑا لیکن اپنی نوعیت بدلتا گیا لیکن خوبصورتی کے حصول کی محرومی ابھی تک ساتھ ساتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے آس پاس سے مایوس ہو کر سیر و سیاحت کے بہانے خوبصورتی کی تلاش میں ریستورانوں، پہاڑی مقامات وغیرہ پر آوارہ گردی شروع کر دی تو وہ آئیڈئل جو میرے بچپن سے سپنوں میں پلتی آ رہی ہے بارہا دیکھی لیکن اپنی شرمیلی اور بزدل طبیعت کی بدولت پہل نہ کر کے حاصل نہ کر سکا اور ایسی دلکشی کی حامل میری طرف خود متوجہ ہو، بھلا ہم میں وہ اوصاف کہاں؟ خیر وقت گزرتا چلا جا رہا ہے اور یہ احساس ہوتا جا رہا ہے کہ وہ دونوں بچپن کی خواہشیں میری قسمت میں نہیں اور شاید اس غم کا اظہار ہی میرے قلم کے سفر کے آغاز کی وجہ بنا۔ لیکن میں ایسا داخلیت پسند بھی نہیں ہوں کہ اپنے خارج سے بے خبر رہوں لہذا ناانصافی، غربت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور لوگ، مذہبی تضادات یعنی ہمارے ہاں کا اسلام کچھ اور جبکہ باقی مسلم ممالک کا اسلام کچھ اور، گناہ کی بندش، موت کی حقیقت، یہ سب میرے افسانوں کے موضوعات ہیں لیکن دوستوں کا کہنا ہے کہ تم خارج کو بھی اپنی داخلیت کی آڑ میں دیکھتے ہو جس سے میں اختلاف تو نہیں کرتا لیکن مکمل اتفاق بھی نہیں کرتا۔ میں اپنی اب تک کی عمر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میرے حصے میں صرف “بے اختیاری” ہے اور میری منزل اس ” بے اختیاری” کو اپنے اختیار میں کرنا ہے۔ “ہے مشقِ سخن جاری، چکی کی مشقت بھی”۔ میرا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ آپ قارئین کا بہت شکریہ۔

_______________________

فیصل سعید ضرغام

افسانہ نگار۔کراچی

شاعری میرا شوق رہا اور کہانی نویسی مجھ پر ایک ایسا قرض کہ جسے شاید میں عمر بھر نہ چکا پاؤں۔۔۔۔
پرندوں نے آخری بار درخت پر بنے ہوئے گھونسلے کو اپنی پرنم آنکھوں میں سمیٹا اور ہجرتی غول میں شامل ہوگئے۔ پرندے نظریات کی کٹھن مسافت طے کرتے ہوئے ایک دن اسی درخت کی دوسری شاخ پر اتر گئے
یہ ان وقتوں کی بات ہیں کہ جب پورا ہندوستان ایک نعرے سے گونج رہا تھا ۔۔۔
“بٹ کے رہے گا ہندوستان، لے کے رہیں گے پاکستان۔”
فلک شگاف نعروں کی گونج میں میرے دادا مرحوم جناب رشید الحسن کی بھی آواز شامل تھی۔ آپ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن رہے۔ قیام پاکستان کے وقت جو چندہ اکٹھا کیا تھا اسے قائد اعظم کی خدمت میں پیش کرنے کی چاہ دل میں لیے پاکستان ہجرت فرمائی لیکن قائد اعظم کی وفات کے سبب یہ خواب شرمندہِ تعبیر نہ ہوسکا۔ آپ کے دل میں اس کا ملال بھی تھا اور فکر بھی کہ اب اس چندے کی رقم کا بہترین استعمال کیا ہوسکتا ہے۔ ایک دن انہی سوچوں میں غرق تھے کہ دادی جان نے کہا
” میرؔ صاحب، عصر کی نماز کا وقت ہوچلا ہے کچھ اس طرف بھی دھیان کیجیے۔ مسجد یہاں سے کافی دور ہے وضو مسجد پہنچ کر ہی کرلیجیے اگر گھر میں وضو کے لیے ٹہرے تو جماعت نکل جانے کا خدشہ ہوگا”
دادا جان آواز سن کر چونک اٹھے اور کہا ۔۔۔
“سیدانی ۔۔خدا تمہارا بھلا کرے تم نے ہماری مشکل آسان کی”
یہ کہہ کر دادجان تخت سے اٹھے اور تیز قدم چلتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئے۔ دادی جان حیرت سے انہیں جاتا دیکھتی رہیں۔
اگلے روز داد جان نے ایک ٹھیکدار ڈھونڈا اور اس کے ذمہ مسجد کی تعمیر کا کام سونپ دیا۔ وہ مسجد آج بھی موجود ہے۔ جب مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی تو مسجد کے امام نے داد جان سے کہا۔۔۔۔۔۔۔
“میرؔ صاحب مسجد کی تعمیر تو آپ کے چندے کی رقم سے بفضلِ خدا انجام کو پہنچی، لیکن ماہانہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے صاحب ثروت لوگوں سے رجوع کرنا ہوگا”
میرے والد مرحوم سعید الحسن اس واقعے کے عینی شاہد تھے، انہوں نے بتایا کہ دادا مرحوم کے چہرے پر جلال کی سی کیفیت طاری ہوگئ وہ پہلے تو چند لمحے خاموش رہے اور پھر فرمایا
“امام صاحب ، یہ پیسہ میں نے پاکستان کے نام پر اکٹھا کیا تھا، میرے قائد کا خواب ایک آزاد اور خودمختار پاکستان تھا، لہذا مجھے یہ بات ہرگز گوارا نہیں کہ اس مسجد کے ماہانہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ہم دولت مندوں کی چوکھٹ پر ہر مہینے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوں۔”
والد صاحب نے مزید بتایا کہ یہ جملہ ادا کرنے کے بعد میرے داد نے ٹھیکدار کو ایک بار پھر طلب کیا اور مسجد کے چاروں اطراف فی الفور دکانیں بنوانے کا حکم دیا ، جب دکانوں کی تعمیر مکمل ہوئی تو ان کی چابیاں امام صاحب کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا

“امام صاحب، اب ہمیں اس مسجد کے نام پر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں، کرائے کی آمدن سے یہ اپنے مالی اخراجات خود برداشت کر سکتی ہے، اب سے یہ مسجد سوائے اللہ کی ذات کے کسی کے رحم اور چندے کی محتاج نہیں۔”
مجھے فخر ہے کہ میں کراچی میں ایک ایسےمتوسط علمی اور تحریکی گھرانے میں پیدا ہوا کہ جس کی سوچ مثبت اور عمل تعمیری تھا۔۔
ایک دن کسی نے مجھ سے پوچھا کہ میرا ادبی سفر کیسے شروع ہوا۔۔۔
میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔۔۔
جب میں نے ہوش سنبھالا تو گھر میں موجود ایک الماری میں بے شمار ادبی جرائد رکھے ہوئے دیکھے پر میرے لیے وہ سب انگریزی اور اردو زبان میں لکھی ہوئی موٹی کتابیں تھیں کہ جن کو ہاتھ لگانے سے بھی خوف آتا تھا۔ آخری بار میرے والد نے ان کتابوں کو کب پڑھا ہوگا مجھے یاد نہیں بس ہر صبح انہیں اپنے بچوں کے اسکول جانے سے پہلے بینک کے لیے روانہ ہوتے دیکھا غالباً 97 یا 98 میں جب میری پہلی ادبی کاوش (نظم: خدا بھی سوچتا ہوگا) کالج کے میگزین میں چھپی تو مجھ پر یہ راز کھلا ہوا کہ ابوجان کی کبھی یہ خواہش رہی تھی کہ وہ کہانیاں لکھا کریں لیکن ادب اور اُن کے درمیان حائل فاصلوں کی وجہ فکرِ معاش اور دیگر گھریلو ذمہ داریاں رہی ہوں گی۔ میرے والد کبھی کچھ نہ لکھ پائے اور اگر لکھا بھی ہوگا تو وہ آج ہم سے اوجھل ہے۔ بس یہی سوچ کر میں ندامت سے زمین گڑ جاتا ہوں کہ اس گھر کا ایک فرد میں بھی تھا کہ جسے دن میں تین وقت بھوک لگا کرتی تھی۔
میرا ادبی سفر ایک تسلسل ہے اُس ادھورے خواب کا جو ایک آنکھ شب و روز دیکھا کرتی تھی لیکن ہماری خواہشاتیں پورا کرتے ہوئے ایک دن اچانک ویران ہوگئی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی پہلی نظم عمران خان پر لکھی تھی (ساتویں جماعت کا قصہ ہے۔۔۔۔ ) اور میری پہلی باقاعدہ سامعہ میری اردو کی استاد ثریا ؔقمر تھیں، وہ میری مضمون نگاری کی معترف توتھی ہی (با لحاظ، عمر) لیکن جب انہیں یہ پتا چلا کہ میں ایک نظم لکھ کر لایا ہوں تو کلاس ختم ہونے کے بعد وہ مجھے اپنے ساتھ اسٹاف روم لے آئیں اور اپنی کرسی پر بیٹھ کر میری جانب دیکھا اور کہا “ارشاد”
اُس وقت یہ لفظ میرے لیے نام کے سوا کچھ نہ تھا اور میں حیران تھا کہ میری استاد نے مجھے ارشاد کہہ کر کیوں مخاطب کیا، میں خاموش کھڑا رہا اور وہ میری الجھن بھانپ گئیں. وہ مسکرائیں اور مجھے پڑھنے کا اشارہ کیا۔ میں نے اٹکتے ہوئے نظم مکمل کی جو بمشکل چار سے شھے مصرعوں پر مشتمل تھی۔ نظم سننے کے بعد انہوںنے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ شاباش کوشش جاری رکھو
میں نے ڈرتے ہوئے پوچھا
” جو نظم میں نے آپ کو سنائی کیا وہ درست ہے۔”
انہوں نے میری جانب مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا ۔۔۔۔
” یہ وقت صحیح یا غلط جاننے کا نہیں بس لکھتے رہنے کا ہے، تم لکھتے رہو ۔۔ مجھے یقین ہے گاتے گاتے ایک دن تم بھی گوئیے بن ہی جاو گے۔”

___________________

A project by

Young Women Writers Forum, Islamabad

&

Sofialog.blog

Advertisements

3 Comments

  1. میں تشنہ کہاں جاوں ‘ پی کے بھی کہاں جانا ـــ فرحین جمال افسانہ نگاروں میں ایک مستند نام ـ تعارف آپ کی شخصیت کاـاحاطہ کیےافسانوں اسلوب میں حقیقت
    کا منہ بولتا ثبوت ـ ایک فسوں جسے منظر نگاری نے چار چاند لگا دیے ـ

    Liked by 1 person

  2. علامچہ کے بانی محترم ضرغام صاحب کا تعارف بھی علامتی انداز سے شروع ہو کے سادہ بیانہ کا احاطہ کرتا ہے اور زندگی کے چیدہ چیدہ پہلوؤں کا جو ذکر کیا ہے انھوں نے اس کو افسانیت میں ڈھالتا ہے ـ جو مبالغہ ہرگز نہیں مگر تحریر کی چاشنی سماں باندھ دیتی ہے ـ گو کہ کچھ تشنگی باقی رہی ـ لیکن افسانوں انداز کی خوبی یہی ہے کہ مکمل کچھ نہیں ہوتا ــــ

    Like

Comments are closed.