لیدر بیگ________عظمی طور

میرے لیدر بیگ میں
نہ تو آئینہ ہے نہ کوئی آرائش کا سامان
اس میں فقط چند دھاگوں میں لپٹی
میرے زخموں پہ رکھی جانے والی
خون آلود پٹیاں ہیں
یعنی کچھ دلاسے ہیں
یعنی کچھ تسلیاں ہیں
ایک ڈائری ہے
کہ جس پر اب تک
کچھ بھی لکھا نہیں ہے میں نے
سنا ہے ڈائری پر یاداشتیں لکھی جاتی ہیں
ہاں مگر میں تو کہیں نہیں جاتی
نہ ہی کسی سے ملنا جلنا ہے
نہ کوئی دوست نہ ہمجولی
پھر کس طرح کچھ یاد رہے؟؟
پھر کیسے کچھ جمع رکھوں ؟؟
ایک قینچی ہے
جس سے میں دنیا سے جب ربط ٹوٹنے لگتا ہے
تو اس کو جوڑنے کے لیے
غائب دماغی کی ڈوری
کاٹ لیتی ہوں
کچھ قلم ہیں
جو میرے ساتھی ہیں
اور کچھ ٹشو پیپر بھی رکھے ہیں

اس کے علاوہ تو میرے لیدر بیگ میں کچھ بھی نہیں __

_________________

شاعرہ:عظمیٰ طور

فوٹوگرافی:عرفان فاروق

Advertisements