قلم کا جنم

فرحین خالد:

پاکستان

ہجر میرے ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا گیا تھا اور ہجرت میرے پیروں میں بندھی ملی ، نام رکھا گیا فرحین جہاں شاید اسی لئے نگر نگر خانہ بدوش بنی پھرتی رہی .
بابا کہتے تھے ؛ تغیر ناگزیر ہے .میں سوچتی تھی کہ خود کو مشکل میں ڈالنا کونسی دانشمندی ہے ؟
وہ کہتے تھے تھوڑے کو بہت جانو، میں سوچتی تھی غریبوں کی افیم ہے .
الف بے پہ اٹکی نامعقول لڑکی کو زندگی کی ضخیم کتاب تھما کے والدین امریکہ کی مٹی میں جا گزیں ہوئے . دستورالعمل ساتھ ہو تب بھی برتے بغیر حقائق آشکار نہیں ہوتے .لہذا بادبانی کشتی کی طرح خود کو ہواؤں کے حوالے کر دیا . جہاں مقابلہ صرف تند و تیز ہواؤں سے نہیں ، سمندر کے مدو جزر سے بھی تھا . ایسے میں ایک کمزور چپو کیا سہارا دیتا سو ا پنے آپ کو تھپیڑوں کے حوالے کئے نئی منزلوں کے سراغ ڈھونڈتی رہی . ایسا نہیں ہے کہ واپسی کے رستے بند تھے …امی جو پڑھنے لکھنے کی دلدادہ تھیں ہر رقعے کو مسترد کرنے سے پہلے ہمیشہ پڑھ لیا کرتی تھیں . عقد نکاح کا پرچہ ہاتھ میں تھامے مجھ سے گویا ہوئیں تھیں کہ ” محبت کی شادی ٹھاٹھیں مارتے سمندر جیسی ہوتی ہے … جس میں انگڑائی لیتی لہریں اٹھتی ہیں اور بل کھا کے کناروں پہ پاش پاش ہو جاتی ہیں . ان کی عمر بس اتنی ہی ہوتی ہے جبکہ طے شدہ شادیوں میں محبت قطرہ قطرہ پروا ن چڑھتی ہے مگر وہ پائیدار ہوتی ہے ” کہنے لگیں، “دیکھو، میری شادی ہوئی تھی تو میرے والد نہیں تھے ، میری چھ چھوٹی بہنیں تھیں اس لئے میرے واپسی کے دروازے بند تھے ، مگر میں تم کو وہ اعتماد دینا چاہتی ہوں کہ زندگی جب تم پہ تنگ ہوجائے ، تو لوٹ کے آ جانا .” میں نے امی کا شکریہ ادا کیا یہ وہ تحفظ تھا جو ہمیشہ میرے ساتھ رہا مگر میں نے استعمال نہ کیا .
اپنے بہن بھائیوں میں میرا تیسرا نمبر تھا اور گھر میں خود کو تیسرے درجے کا شہری سمجھتی .شاید وہیں سے نمبر ون کہلانے کی چاہ دل میں ابھری . بہت پاپڑ بیلتی. خود دھوپ سینکتی، دنیا کو چھاؤں بخشتی .کمال پرست ہونا آسان تو نہیں .خود کو ناآسودہ کر کے خو شیاں مستعار رکھنا جانکنی جیسا ہے . اس راہ میں شکست ہی شکست پائی . مگر ٹوٹا ہوا مان جب بندھا تو ایسا کہ سارے دلدر دور ہوگئے . یہ ارمان میرے تین بچوں نے پورا کیا . میں نے جان لیا کہ میں دنیا کے لئے کسی بھی نمبر پہ رہوں اپنے بچوں کے لئے ہمیشہ

رہوں گی . یہ راز میں نے اپنے بچوں کے ساتھ numero UNO

کارڈز کھیلتے ہوئے جانا تھا . مثبت نظریے انسان کو ا تاہ گہرایوں میں جینے کی چاہ دے جاتے ہیں . شکرگزاری بھی کیا خوب وصف ہے جو خدا اور بندوں میں یکساں قدردانی کا شرف بخشتی ہے . درگزر کرنا بھی کیا نسخہ کیمیا ہے جو دوسروں سے زیادہ آپ کے اپنے لئے فائدہ مند ہے . فلاح کیا ہے ؟ اس کے معانی میرے لئے وقت نے خود بدلے تھے .
دنیا ایک ایسی تربیت گاہ ہے جہاں انسان کو خدا ،آنے والے وقت کے لئے خود تیار کرتا ہے . یہ سچ ہے کہ آپ زندگی کا بوجھ اپنی وسعت سے زیادہ نہیں اٹھاتے اور آزمائش سے پہلے اس کشت کو سہنا بخوبی سیکھ چکے ہوتے ہیں . وہ آپ سے اپنے کام خود لیتا ہے . آپ اگر کسی جگہ موجود ہیں تو پہنچائے گئے ہیں ، کسی سے ملے ہیں تو اس کی بھی کوئی وجہ ہے .اس کی مصلحت سمجھنے کی مجھے اب ضرورت نہیں رہی . مجھے یہ یقین ہو چلا ہے کہ وہ قادر المطلق میری بھلائی چاہتا ہے . سو اسبار میں قسمت کے آگے سرد مہری سے دست بردار نہیں ہوئی بلکہ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھی ہوں کہ وہی میرا مالک ہے اور وہی میرا وارث بھی .

__________________

صوفیہ کاشف:

متحدہ عرب امارات:

تب کہ جب میں خود کو مٹی کا ڈھیر سمجھنے لگی،مجھے اپنی کرچیاں آس پاس بکھری دکھنے لگیں،مجھے چولہے اور برتن کاٹنے لگے اور بچوں کی صورتوں پر اشتعال بڑھنے لگا،مجھے یوں لگا کہ سانس اُکھڑا کہ قدم تھک چکے۔کاپیاں اور پنسلیں ماتم کناں ہونے لگیں،میز دکھنے لگی اور قلم رونے لگا تو زندگی کی کوئ دس بہار اور خزائیں دیکھ چکنے کے بعد اس قلم کو دلاسہ دینے کے لئے مجھے اسے ہاتھ میں اٹھانا پڑا۔پھر سوچا کہ کیا لکھے اب؟ کس طرح سے لکھے؟ ہزاروں دن،لاکھوں لمحے،جادو بھرے طلسماتی دن اور تھکے ہوے خوابوں سے بھری راتیں نجانے کتنی بیت چلیں____ اب کونسی لڑی کو تھاما جائے کونسی کرچی کہاں سے اٹھائی جائے ___پزل کے ٹوٹے ہزاروں ٹکروں میں سے پہلے کس کو جوڑا جائے۔یہ تھا میرے اس قلم کا جنم جو آج میرے ہاتھوں میں سوچ سوچ کر ٹھہر ٹھہر کر چلتا ہے۔سوچتا اس لئے کہ منزل کی کٹھنائیوں سے ڈرتا ہے اور ٹھہرتا اس لئے کہ اسے خبر ہے کہ بہت دور تلک جانا ہے۔

مگر یہ میرا قلم سے پہلا تعارف نہ تھا۔اس سے پہلے بھی رہی تھی اس سے بہت آشنائی میری۔آشنائ بھی ایسی کہ بدنامی سی بدنامی تھی ہاتھ در ہاتھ سکول اور کالج میں میری اشعار سے بھری ڈائریاں چلتی تھیں۔اک کلاس میں جاتیں دوسرے کنارے پر واقع دوسری کلاس کی لڑکیوں کے ہاتھوں سے نکلتیں۔چلتی تو پاس سے صدائیں آتیں”شاعرہ ہے”.بہن کے میڈیکل کالج سے خط آتے “جلدی سے کچھ جوشیلے اشعار بھیجو سہیلی کے بھائ کے لئے چاہیں،نکما!پڑھتا نہیں!”____بھائ لکھی ہوئ اٹھا کر لے جاتا اور اپنے نام سے کالج کے رسالوں میں چھپوا لیتا۔میں جانے کہاں کہاں کس نام سے پہنچی کہ اک دن یہ بھی دیکھا کہ میں لیکچرر کی کرسی پر بیٹھی تھی اور سالانہ فنگشن میں میری ڈرامہ کی کلاس کی طالبہ نے جو شعر میرے لئے پڑھا وہ خود میرا ہی تھا مگر خود اسے بھی خبر نہ تھی۔

اک جیسے جب چہرے ہیں اک جیسے دل دماغ

اس دنیا میں کچھ لوگ پھر نایاب کیوں آتے ہیں

زندگی نے ایسے بھی حیراں کیا ۔تب جب محض شاعری ہی میرے دل کی دنیا کا تنہا اک آسرا تھی۔تو کچھ فزکس کے مسلئوں کو سلجھاتے قطار در قطار اشعار نوٹس پر اترنے لگتے، کبھی کیمسٹری کے جھنجھٹ میں سے نظموں کے سُر ابھرنے لگتے۔چھوٹی چھوٹی کترنیں میری الماری میں بچھی شیٹ کے نیچے اکٹھی ہوتی رہتیں اور جب وہ رنگ برنگی ہر سائز کی کترنیں بھر جاتیں تو انکو خوبصورت انداز میں ڈائری کے اوراق پر بیاض کی صورت محفوظ کر لیتی۔وہ میرے خواب تھے! میرے دل کی کچھ بے ترتیب دھڑکنیں,بارشوں کی رم جھم میں پھیلتی کچھ موسیقی،اور ستاروں کی ٹھنڈی نرم روشنی،،یا ہواؤں میں بکھری کمار سانو اور الکا یاگنی کی دھنیں،یا میری مٹھی میں قید کچھ تتلیاں یا میری راتوں کے ستارے کچھ جگنو،،ہر رنگ کا سرا تھامے میرے کچھ لمحے ان الفاظ کے تالوں میں چھپے،میری داستان حیات کا سارا حساب رکھتے تھے۔اور چند ایک نہیں ،کاپیوں پر کاپیاں چڑھتی جاتیں،، کبھی انگلش کبھی اردو،!یہ میری کمسن معصوم نوخیز جوانی تھی جب میں اشعار میں جیتی تھی ۔جنکو میں تب تک جیتی رہی جب تک رہزنوں کے ہاتھ میرے خوابوں کی گردن تک نہ پہنچ گئے،سپنوں کی آنکھیں نکال دی گئیں،سفر کے پاؤں کٹ گئے!اور دل اور دماغ جیسے محض سالوں کے لئے نہیں صدیوں کے لئے بانجھ ہو گئے۔۔۔۔زندگی نے ایسے بھی حیران کیا!

مگر اس سے بھی زرا ادھر آج بھی پڑی ہے میری الماری میں بچپن کی داستانوں کے ساتھ وہ چند چھوٹے اوراق کو باندھ کے “دوستی”نام کی اک چھوٹی سی کتاب جس پر گریڈ چہارم یا پنجم کی لکھاری کی تحریریں اور نظمیں تھیں۔جسکی پبلشر بھی میں تھی،مصنفہ بھی،شاعرہ بھی !اور ابھی بھی پڑے ہیں میرے بڑے بھائی کی الماری میں وہ ہرے رنگ کے نوٹ پیڈ پر لکھے اشعار جن میں اک دھنک رنگ چڑیا گانے گاتی تھی اور اک ننھی پری نجانے کیوں ہر وقت روتی رہتی تھی۔تو قلم کا اور میرا کوئ آج کا نہیں جانے کتنے جنموں کا تعارف ہے۔بس ستم ہے یہی کہ ایسے باہمی عشق کے باوجود ہم اپنی اپنی زندگیوں میں اس قدر گم ہیں کہ اک دوجے کی صورت دیکھے بھی اکثر جیسے زمانے بیت جاتے ہیں۔بچھڑتے ہیں بار بار مگر پھر آن ملتے ہیں۔چھوڑتے بھی نہیں،پکڑتے بھی نہیں۔میں اور قلم کتاب ایسے محبوب ہیں کہ دور رہ کر بھی ہر پل اک دوجے کی یاد اور محبت کو ساتھ اٹھاے پھرتے ہیں۔۔

_________________

ھزار داستان ”
از ثروت نجیب:

افغانستان:

“وہ سنہری چوبارے پہ چوبی مسہری کے مخملیں بستر پہ دراز تھی ـ اس کا ہاتھ پلنگ سے لٹک رہا تھاـ جس کے نیچے دودھیا ندی بہہ رہی تھی ـ اُس کی کٹی انگلی سے لہو کا قطرہ شفاف ندی میں گرتے ہی لعل بن جاتا ـــ”
سٹراپ ــــ
لعل دھندلانے لگا ـ ندی گدلی گدلی سی ہوتے ہوتے زیرو واٹ کا بلب بن گئی ـ اس سے پہلے کہ بلب کی روشنائی منظر سے سرخ ‘سنہری رنگ چراتی پھر سے جادوئی سماں بندھ گیا ـ
“پھر اندر سے کھوکھلے لعل قطار در قطار ایک دوسرے کی پیچھے ندی کی سطح پہ آنسؤوں کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں ـــ”
میں ہر بہتے لعل کو چھونے کی کوشش میں خوفزدہ ہوجاتی ہوں ـ میرے پاس تو تلوار تھی نہ ہی طاقت کہ اس دیو کا مقابلہ کر سکتی جو محل سے شہزادیاں اغوا کر کے انھیں اذیت دیتا تھا
سٹراپ ــــــ
وہ لعلوں سے بھری بہتی ندی کا فسوں ساز منظر میری نظروں سے ایک بار پھر اوجھل ہوگیا ـ
اماں نے اپنے روغنی گول پیالے سے قہوے کا آخری گھونٹ بھر کے پیالہ تپائی پہ رکھا تو میں نے راحت محسوس کی ـ
اگلے دو دندان سے عاری ضعیف دہن جب چائے کی چسکی لیتا تو سڑاپ کی آواز نکلتی اور یہی سڑاپ سڑاپ میرے تخیل میں حائل ہو رہی تھی ـ
کاموں کا بوجھل بوجھا اٹھائے دن خستہ مزردو کی طرح جب رخصتی لیتا تو سیاہی کے ٹھیکےدار سورج سے حساب کتاب چکا کر ستاروں کو اشارہ کرتےـ بس وہی لمحہ قصہ خوانی کی نشست کو دعوت دیتا ـ
رات گاڑھی ہوتے ہی ہم دادی اماں کے گرد گھیرا تنگ کر لیتے ـ چہل زینہ سے کندھار اور کندھار سے غزنہ کبھی کوئٹہ اور کبھی کابل ـ انگور و انار کے باغات سے ذکر چھڑتا ‘ مٹیالے ٹیلے ‘ پہاڑ ہٹیلے ‘ ڈیلٹا ‘ ڈھلوانوں ‘ دشت و ریگزاروں سے بیتے وقت کی گرد جھاڑتے ہیبت ناک دروں اور تاریک سرنگوں سے گزرتے ہوئے بات ہجرتوں کے کرب تک ڈھلتی تو کبھیِ گومل کے دریا پہ گل پاشی کی رودار سنائی جاتی ـ کبھی روہی ‘ تھل دامان کی خندہ پیشانی کو سراہا جاتا ـ میں دادی کی زبانی ان زمانوں میں جا کر کیسے کیسے معتبر لوگوں سے ملی ـ کبھی کہانی شمس تبریز کبھی قصہ چہار درویش کبھی داستانِ سعدی ‘ شیرازی رومی ‘ ادھم ‘ سینا ‘ عطار ـ میں نے بارھا نازو انا اور ملالہ میں اپنی شباہت ڈھونڈی ـ کبھی عصری و روشن خیال ملکہ ثریا میں مجھے اپنا عکس دیکھائی دیتا تو کبھی میں خانم گوہر شاد کا روپ دھار لیتی ـ کیونکہ مجھے کسی سے متاثر ہو کر اس کی پیروی کرنا سیکھایا ہی نہیں گیا تھا میں خود دنیا کو متاثر کرنا چاہتی تھی ـ میں خیام کے عقیدت میں گرفتار اس کے فلسفے کی ارتھی اٹھائے ماضی میں جینے لگتی تو خانہ جنگی کے بارود سے لبریز آلودہ ہوائیں مجھے حال میں لے آتیں ـ ایسا حال جو خود بےحال تھا ـ
جہاں اُس پار احمد شاہ مسعود ‘ حکمت یار اور عبدالرب سیاف جیسے جنگی دیوتا روز کوئی خونی چال چل کر حالات گھمبیر کر دیتے ـ
کہانیاں تو میری سرشت میں لکھ دی گئی تھیں مگر میں شاعری کرنے لگی ـ میری پہلی نظم آزادی پہ تھی ـ آزادی جس کے معنی آسان اور قیمت بہت خونین ہوتی ہے ـ پیا اور پریت کے وصل و فراق سے ماورا میری شاعری مذاحمتی روپ دھار چکی تھی ـ میری بیاض بغاوت ناموں سے بھرتی گئی ـ نجانے کیوں کچھ تشنگی سی تھی ـ میں کیا کرتی خدا خود مصور بن کر میری فکر کو جِلا بخشتا ـ اور میرا دل خودبخود نقاشی کی جانب مائل ہونے لگا ـ مجھے بادلوں میں جھومر ڈالتی عورتوں کی تشبیہات ملتیں ـ خزاں رسیدہ درختوں میں باتیں کرتے درویش ـ سفید کبوتروں کے غول میں فرشتوں کا عکس دِکھتا ـ مُڑے تُڑے ٹشو پیپر میں کسی شہزادی کا رقص دکھتا ـ اکھڑے ہوئے پلستر میں نقاشی کے نمونے اور پتھروں میں چھپے شاہکار جو کسی مائیکل اینجلو کے دستِ ہنر کو نجانے کب سے صدائیں دے رہے تھے ـ ہسپتالوں میں لٹکے مصنوعی ڈھانچوں کو میں ڈاونچی کی آنکھ سے دیکھتی ـ خیالی شیڈنگ سے ان کے خد و خال ابھارتی پھر ان کو چشمِ تصورات من پسند لباس پہناتی اور مسکرا دیتی ـ میں نے قلم کے ساتھ برش اٹھایا تو میرے بھائی نے کہا میں اپنے خوابوں کو کینوس پہ اتاروں ـ پر اسے کیا خبر خواب کینوس پہ اتارنے سے پرائے ہو جاتے ہیں ـ ان کو بیڈ روم میں تو سجا سکتے ہیں مگر ان کی قیمت نہیں لگا سکتے ـ میرا قیاس ھے آب و دانہ کا مسئلہ نہ ہوتا تو ساری دنیا شوق ہی پورے کرتی رہتی مگر میرا کیا تھا میں لڑکی کسی پیسہ دار سے بیاہ دی جاتی تو نانِ گندم بس گوندھنے اور پکانے تک ہی ذمہ داری ہوتی ـ میں نے ویسے بھی زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولی تھی اناج کی قدر قدرے کم ہی تھی ـ ہل تو مزرعے چلاتے تھے مشقت ان کی پیسہ ہمارا ـ ان کے سر پہ خان یعنی میرے والد کا دستِ شفقت ہی کافی تھا ـ بابا سے بے باکی سیکھی وہ کہتے تھے شکار تو بھیڑیا بھی کرتا ہے اور چیتا بھی مگر راج ببر شیر کا ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کی دھاڑ جنگل کو لرزا کے رکھ دیتی ہے ـ وہ کہتے ” کھل کے بولو ‘ ڈٹ کے جیو ” ـ میں نے ماں سے متانت سیکھی ـ ان کے گداز دل نے مجھے آفاقی محبت پہ آمادہ کیا ـ میں اظہار خیال کے سبھی دل پسند ذرائع نظم ‘ نثر ‘ آرٹ و صحافت کو ساتھ لے کر چلی ـ سوال تھا اردو ہی کیوں؟ جبکہ پشتو میں لکھتی تو کسی نے کہا جلد مشہور ہو جاتی ـ ضمیر نے جواب دیا شہرت میرا مقصود نہیں ـ اردو بلخ و فرخانہ کے مغلوں کی ایجاد کردہ وہ میٹھی زبان ہے جو ایک طرح سے افغانستان کا تحفہ ہے برصغیر کے لیے چونکہ فی زمانہ افغان ‘ پاک و ہند میں پل کا کام دے رہی ہے تو میں نے اسی کو منتخب کیا ـ ہاں پانچ سال تک خوب پڑھا ـ کلاسیک ادب ‘ فکشن ‘ تاریخ و تمدن ‘ تصوف سمیت جامعہ دلی کا اردو نصاب تک تبھی اردو سے گلابی پرتیں ہٹیں اور وہ نکھرنے لگی ـ
میں نے بہت پہلے ہی جان لیا تھا فن کی کوئی منزل نہیں ہوتی ـ کتھارسس سے اندرونی خلفشار کو نجات ملتی ہے ـ خالق اور خلق کا فلسفہ مجھے میرے ہمسر نے سیکھایا ـ میری پاؤں سے بندھی ان دیکھی ریسمان کاٹ کے مسجد ‘ منبر ‘ مولا ‘ مصحف کے خوف سے آزاد کر دیا ـ اس نے کہا خدا کی طرح سب کا مذہب بھی ایک ہے اور وہ ہے انسانیت ـ
لا شریک ـــ لا شریک ـــ
بھلا ہو کابل کے ورسٹائل نانبائیوں کا مجھے آٹا گوندھنے اور پکانے کی زحمت بھی کبھی نہ دی ـ جانے انجانے میں بہت سے لوگ میرا کام آسان کرتے گئے ـ برف کی چوٹیوں سے چمکتے پہاڑوں کے دامن میں میرے تخیل نے نئی اڑانیں بھریں ـ میں نے جو قصے بچپن میں کابل کے متعلق سنے تھے کابل ان سے کہیں زیادہ حسین و بسیط نکلا ـ
But Kabul must not burn ـ ـ ـ ـ

” ساکت ہو جاتے ہیں ارماں من میں تو
آنسو نوری گل سے حرکت کرتا ہے ”

میں اب آنسوؤں کو اشکوں سے لکھتی ہوں اور شادی کو شادمانی سے ـ
ـ جب دریافت اور نایافت کا درمیانی خلاء پھیلنے لگتا ہے تبھی ھزار داستان جنم لیتی ہے جس کے ہزار روپ ہوں اور ہر روپ ایک دوسرے سے جدا ـ جس کی پرتیں کھولنے پہ زمانے محیط ہوں ـ جس کا تخیل لامحدود فکر ہر لحظہ ایک نیا جنم لے ـ ہزار سریلی بولیوں سے چونکا دینے والے قصوں کی امین ـ میں ان لوگوں میں سے نہیں جو دوسروں کے متعین راستوں پہ چل کر منزل کی تلاش میں تمام عمر سفر میں گزار دیتے ہیں میں خود ہنر کی منزل ہوں ـ

________________________

بشکریہ پراجیکٹ:ینگ ویمنز رائٹرز فورم،اسلام آباد

فوٹوگرافی اور گرافکس:صوفیہ کاشف،فیصل سعید ضرغام

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.