فرسودہ روایات سے بغاوت کر دو___________گل ارباب

ہمیں کچھ سوچیں زںدگی میں بنی بنائی ملتی ہیں ۔ اور ہم سوچ کے اک مخصوص دائرے میں قید رہ کر خود کو آزاد سمجھتے ہوئے پوری زندگی گزار دیتے ہیں اپنی آئندہ آنے والی نسل کے لیے بھی وراثت میں یہ ہی فرسودہ سوچ والا دائرہ چھوڑ جاتے ہیں ان میں ایک سوچ یہ ہے کہ عورت مظلوم ترین ہستی ہے ہمارے معاشرے میں اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت مظلوم ہے لیکن ظالم مرد ہے یہ بھی سچ نہیں بلکہ اس بات میں آدھے سے زیادہ آمیزش مبالغے کی ہے۔اپ سوچیں گے کہ اگر عورت مظلوم ہے تو ظالم مرد کے علاوہ کون ہو سکتا ؟ تو اس کا جواب یہ کہ عورت صرف مظلوم نہیں بلکہ ظالم بھی ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مجھے وہی گھسا پٹا جملہ یہاں لکھنا پڑ رہا ہے کہ عورت کی دشمن عورت ہی ہوتی ہے ۔ اور یہ سچ بات ہے میں نے اور آپ میں سے بھی بہت سوں نے اپنے آس پاس گھروں کو عقوبت خانے بنے ضرور دیکھا ہوگا ۔ اک لڑکی بیاہ کر آتی ہے جسے ہمیشہ سے ماں یہ کہتی ہے کہ یہ فیشنی کپڑے نہ پہنو تیرے ابو غصہ ہوں گے شوہر کے گھر جاکر جو جی چاہے وہی کرنا ۔
نہ بابا ہمارے پاس اتنے فالتو پیسے نہیں کہ تمہیں گھومنے پھرنے لے جا سکیں اپنے شوہر کے ساتھ جانا جہاں جی چاہے ۔ارے بال کٹوائے تو بھائی خفا ہوگا شوہر کے گھر میں یہ چونچلے پورے کرتی رہنا ۔ہزاروں رو پہلی خواہشیں ہزاروں سنہرے خواب آنکھوں میں سجائے جب وہ سسرال کی دھلیز پر قدم رکھتی ہے تو وہاں شوہر سے زیادہ شوہر کی ماں اس کی نئی زندگی میں دخل دینے کے سارے حقوق حاصل کئے بیٹھی ہوتی ہے ۔ ساس بھی اک عورت ہی ہوتی ایک ایسی عورت جو خود ان سب حالات سے گزر کر یہاں تک پہنچتی ہے ۔وہ عورت بحیثیت ایک بیٹی باپ کی توجہ کے لیے ترستی رہی ۔وہ بہن بن کر بھائی کے ساتھ برابری کی کوشش میں ناکام رہی
وہ بیوی بن کر شوہر کے لیے پیر کی جوتی رہی
اب اسے ایک ایسا مرد ملا تھا اپنی تمام عمر کی تپسیا اور محرومی کے بعد کہ جو اسے محترم سمجھ کر اس کی عزت کرتا ہے اس کی خدمت ثواب سمجھ کر کرتا ہے اس سے محبت اللہ کا حکم سمجھ کر کرتا ہے ۔وہ اس کے پاؤں تلے موجود جنت کے حصول کے محبت عزت اور خدمت سب کرتا ہے ۔
اور وہ عورت اس موقعے سے بھرپور فایدہ اٹھاتی ہے ۔جو کردار نبھاتے اپنی ماں اور ساس کو دیکھ چکی ہوتی ہے وہ وہی گھسا پٹا کردار ادا کرتی ہے ظالم ساس کا کردار جو بہو کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے لیے ترسا ترسا کر مارتی ہے آسان لفظوں میں لکھوں تو ۔۔۔ہمارے ہاں چند اچھی معاشرتی روایات میں سے ایک اچھی روایت یہ ہے کہ بیٹے ماوں کو بہت عزت دیتے ہیں ۔اور ماں کے لیے بیٹے کی یہ عزت اکثر اوقات بیوی کی زندگی حرام کر کے اسے مظلوموں کی فہرست میں شامل کر دیتی ہے ۔سب سے پہلا خواب اس لڑکی کی آنکھوں سے نوچ کر کہا جاتا ہے کہ کہیں گھومنے پھرنے نہیں جاؤ گی عموماً متوسط گھرانوں میں نمبر دو پر ہنی مون کا جھگڑا ہوتا ہے نمبر ایک جھگڑا تو جہیز اور شادی کے کھانے کے ساتھ لڑکے کی ماں بہنوں کو جو سوٹ یا زیور وغیرہ پہنونیوں کے نام پر دیتے ہیں دلہن کے میکے والے ان کی ناقص کوالٹی یا ہلکے پن پر ہوچکا ہوتا ہے ۔ صورت حال کچھ یوں ہوتی ہے کہ ”امی ہم ذرا گھومنے پھرنے جا نا چاہتے ہیں آفس سے چھٹیاں بھی ہیں اور ایک دوست نے ہوٹل میں بکنگ بھی کروا دی ہے ۔“اماں کے تسبیح ختم ہونے اور اپنے جسم پر پھونک مارنے میں جو عموماً دو منٹ لگتے تھے یہ بات سن کر جواب دینے میں کم ازکم پندرہ منٹ تو ضرور لگتے ہیں اور ان پندرہ منٹ میں شرمائی لجائی دلہن خیالوں ہی خیالوں میں کپڑے بھی منتحب کر لیتی ہے ساتھ لے جانے کے لیے ۔۔۔ اور بعض جو تیز دماغ ہوتی ہیں وہ تو جھیل سیف الملوک یا نتھیاگلی کے پہاڑوں پر سے بھی ہو آتی ہیں خیالوں ہی خیالوں میں ۔
امی بہو کو دیکھ کر شبنم سے لہجے میں جب یہ پوچھتی ہیں کہ ۔
” دلہن اپنی اماں سے ذرا پوچھو کہ وہ شادی کے بعد گھومنے کہیں گئی تھیں تمہارے ابا انہیں کہاں لے گئے تھے سئیر کے لیے ؟ تب دلہن کو لپیٹ کر مارنے والے محاورے کی سمجھ آتی ہے “
”یہ جو تھوڑے بہت پیسے نوٹوں والے ہار بیچ کر اور سلامیوں کے جمع ہیں یہ تم لوگوں سے نہیں سنبھلتے تو مجھے دے دو چھوٹی کی ڈیلیوری ہونے والی ہے آپریشن کا کہا ہے ڈاکٹر نے ایک لاکھ کا خرچہ ہے پچاس ہم دے دیں گے ۔۔ میں تم سے نہ لیتی لیکن شادی پر ساری جمع پونجی خرچ ہوگئی ہے اور دوسرا پہاڑی رستے ٬گاڑیوں کا سفر آئے روز ایکسیڈنٹ ہو رہے ہیں نہ بابا نہ میں نے نہیں جانے دینا چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے میرا بچہ ۔“ دلہن جو سیف الملوک کی پہاڑی سے کود کر خودکشی کی سوچ کر رہی ہوتی ہے دولہا اسے بے بسی سے دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں معذرت کر لیتا ہے ماں سے یہ پوچھے بنا کہ ”امی میں تو ہر سال گھومنے پھرنے جاتا رہا ہوں ۔۔ کبھی دوستوں کے ساتھ کبھی گھر والوں کے ساتھ تب تو آپ نے کبھی نہیں روکا کہ رستے خراب ہیں مت جاؤ ۔
نہ اپنی بیٹی کو کہا کہ بیٹی تیری ماں کو تیرا باپ لے گیا تھا ہنی مون کے لیے جو تم جا رہی ہو ؟
یوں دشمنی اور بد گمانی شروع ہو جاتی بعد میں چاہے شوہر ورلڈ ٹور بھی کرا دے لیکن بیوی یہ طعنہ ضرور دے گی کہ ہمیں آپ کی اماں نے ہنی مون کے لیے نہیں جانے دیا تھا ۔وہ ارمانوں بھرے دن اب کہاں لوٹ کر آتے ہیں ؟وہی ماں جو بچپن سے بیٹے کی ہر خوشی کو فرض سمجھ کر پورا کرتی ہے وہ بیٹے کو بیوی کے ساتھ خوش دیکھنے کا ظرف نہیں رکھتی ۔ شاید اس کے پیچھے عدم تحفظ کا شدید ترین احساس کارفرما ہوتا ہے اور دوسری طرف وہی بیٹا جسے ہمیشہ یہ سیکھایا گیا ہو کہ گھر کی عورتوں کی ہر ذمہ داری تمہارے سر ہے وہ جب بیوی کی ضرورت کی کوئی چیز گھرلا تا ہے تو اسے غیر اور زن مرید کہا جاتا ہے معاملات کو اس نظر سے دیکھا جائے تو مرد جو ظالم مشہور ہے وہ مظلوم ہے اور عورت جو مظلوم مشہور ہے وہ ظالم بھی ہے اور مظلوم بھی یہ ۔سب شادی کے کچھ سال تک لڑکیوں کو سہنا پڑتا ہے اور پھر سب ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن ٹھہریے یہ جاننا تو آپ کا حق ہے کہ سب ٹھیک کیسے ہوتا ہے ؟ تو جان لیں کہ ۔ کچھ کیسز میں ساس صاحبہ فوت ہو جاتی ہیں ۔
کچھ کیسز میں یہ پریشانیاں تقسیم ہوجاتی ہیں جب ساس صاحبہ دوسرے بیٹے کی شادی کرتی ہیں اور بہو خرانٹ قسم کی عورت کی تربیت یافتہ نکلتی ہے اور قسمت کی ستم ظریفی کہ وہ خرانٹ قسم کی عورت ان کے بیٹے کی ساس ہوتی ہے جو بیٹی کو زبان کے تیروں سے یوں لیس کرکے سسرال بھیجتی ہیں جیسے کہ کوئی سپاہی میدان جنگ کے لیے تیار ہوتا ہے ۔
ایک اور صورت ہوتی ہے سب ٹھیک ہو جانے کی ۔۔کہ بہو کو عادت ہو جاتی ہے یہ سب سہنے کی شروع شروع میں جو درد ہوتا ہے نازک خوابوں کی کرچیاں چبھنے سے وہ وقت کے ساتھ رفت رفتہ کم ہوتا رہتا ہے ۔۔کیونکہ کچھ عرصے بعد اسے بے حسی اوڑھ لینی پڑتی ہے اپنے تن من پر۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ بے حسی کے کتنے فائدے ہیں اور یہ کتنی بڑی نعمت ہے ۔ مچھیروں کی بستی میں بیاہ کر آنے والی اس دلہن کہانی تو آپ کو یاد ہوگی جسے شروع شروع میں مچھلی کی بساند سے ابکائی آتی تھی پھر کچھ عرصے بعد وہ یہ سوچ کر خوش اور مغرور ہوتی کہ میرے آنے سے بستی سے بساند ختم ہوگئی ہے حالانکہ اسے کچھ عرصے بعد اس بد بو کی عادت ہوگئی تھی ۔
یہ تو ہوگیا ذکر اس مسلے کا جس نے عورت کو عورت کا دشمن اور مرد کو مظلوم یا فقط تماشائی بنا رکھا ہے ۔۔لیکن اب اس مسلے کے حل کے لیے بھی تو کوئی کوشش ہونی چاہیے ۔ ہم کوشش کی توقع دوسروں سے رکھتے ہیں تو کیوں نہ کبھی خود سے بھی ابتدا کر لیں ہر مسلہ تبھی حل ہوسکتا ہے جب ہم خود کو غلط سمجھیں اور پھر خود کو ٹھیک کرنے کا عہد کر کے یہ عہد نبھائیں بھی ۔۔ہم ابھی ساسیں بنی تو نہیں ہیں
لیکن کل کو ساس بننا تو ہے
تو ہم اک روشن خیال اور منفرد ساس بننے کا ارادہ کر لیں ۔
تو جو کوئی یہ کہتا ہے کہ اتنا انتظار کون کرے کون جیتا ہے کون مرتا ہے تو ان کے لیے یہ عرض کہ صدیوں سے یہ سب ہوتا آ رہا ہے اتنا صبر کیا تو مزید کچھ سال اور انتظار کر لیں اس انتظار کے بعد منظر آپ نے بدلنا ہے جب آپ ساس بنیں گی تو منہ دکھائی میں دلہن کے ہنی مون کا پیکج اپنی حیثیت کے مطابق اسے ضرور دیں گی کیونکہ آپ نے روایت پرست نہیں روایت شکن بننا ہے منفرد بننا ہے نسل در نسل چلنے والی اس انتقامی گھریلو سیاست کے گھسے پٹے مناظر بدلنے ہیں آپ نے بیٹے کو نفسیاتی مریض نہیں بنانا اک خوش باش اور پرسکون زندگی گزارنے کی آسانی دینی ہے ۔
اب بہو کو پرائی بیٹی نہیں اپنی بہو سمجھنا ہے اسے اپنے اچھے طرز عمل سے یہ سیکھانا ہے کہ محبت انسان کو سکون بخشتی ہے اور نفرت بے سکونی اب آپ نے سکون اور بے سکونی میں سے سکون چننا ہے اپنے لیے بھی اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی ۔کیونکہ اک پرسکون گھر اک پرسکون نسل اور اک پرسکون معاشرے کی بنیاد ہی اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے ۔

__________________

تحریر:گل ارباب

فوٹوگرافی:خرم بقا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.