تکمیلِ آزادی________شمائلہ عزیز

تیرہ اگست کی سہ پہر ایک بڑی کوٹھی کے باغیچے میں بوڑھا عبدل اللہ جانے کس سوچ میں گم تھا ۔۔۔دو منزلہ مکان میں بے تحاشہ شور و غل تھا۔۔کچن میں برتنوں کی کھٹ پھٹ، مردوں عورتوں کی ملی جلی آوازیں اور بچوں کی دھما چوکڑیاں ۔

یہاں کوئی دعوت یا پروگرام نہیں تھا بلکہ عبدل کے بیرون ملک رہنے والے دونوں بیٹے بہت سالوں بعد پاکستان اپنے بیوی بچوں سمیت آئے تھے۔۔۔عبدل کی عمر اٹھہتر برس ہو چکی تھی اسکی آنکھوں کی بینائی کم ہوئی جاتی تھی اسلیے اس نے اصرار کر کے اپنے بیٹوں کو وطن بلایا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے بچے پاکستان میں رہیں اپنی نئی نسلوں کو وطن سے محبت اور نظریہ پاکستان کے معنی و مہفوم سمجھا سکیں لیکن وہ کیسے یہ پیغام ان تک پہنچائے یہی سوچ اسے پریشان کررہی تھی۔

عبدل اس شہر کا ایک بڑا برنس مین تھا۔ اسکے کئی بڑے ہوٹل تھے اور دور دور تک اسکی شرافت اور ایمانداری مشہور تھی۔۔تمام عمر کی کڑی محنت سے اس نے اپنی اولاد کی پرورش کی، انہیں اعلی تعلیم دلوائی۔۔

عبدل کی تین اولادیں تھیں ۔۔دو بڑے بیٹے جو بیرون ملک رہائش پذیر تھے اور ایک بیٹی جو کہ شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ عبدل کے ساتھ ہی رہتی تھی۔۔

شام ہو چکی تھی لیکن عبدل عجب کشمکش میں مبتلا ابھی تک باغیچے میں ہی بیٹھا تھا کہ اسکی چھوٹی نواسی آ پہنچی ۔
۔”نانا ابو اندر چلیے ناں۔۔”

۔عبدل جیسے کسی گہرے خیال میں تھا چونک اٹھا اور بے اختیار اندر چل پڑا۔۔کچھ ہی دیر میں رات کا کھانا لگ چکا تھا ۔۔بڑی میز پر اپنے پورے خاندان کو یکجا دیکھ کر خوشی سے عبدل کا دل بھر آیا اور اس نے اپنے بچوں کی سلامتی کے لیے دل ہی دل میں ہزاروں دعائیں مانگ لیں۔۔کھانے کے کچھ دیر بعد جب سبھی چائے پی رہے تھے کہ ننھی ایمل نے نانا سے کہانی سنانے کی فرمائش کردی سب ہنس دیے لیکن بوڑھے عبدل کی آنکھوں میں عجب چمک ابھری۔۔۔وہ بولا

“میں کہانی اس شرط پہ سناوں گا کہ سب گھر والے کہانی سنیں گے اور میرے کمرے میں جا کے ۔۔”

سب حیرت زدہ سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ۔بہووں کے چہرے پہ ناگواری بھی تھی۔۔لیکن ایمل اور سبھی بچوں کی ضد اور فرمائش پہ سبھی عبدل بابا کے کمرے کی جانب چل پڑے۔۔۔جسکو جہاں جگہ ملی بیٹھ گیا۔۔عبدل بابا نے اپنے پلنگ کے نیچے سے ٹین کا ایک پرانا بکس نکالا۔۔(عبدل کے تینوں بچے حیران تھے کہ عمر بھر انکے باپ نے کبھی کسی کو اس بکس کو ہاتھ نہیں لگانے دیا نہ کبھی خود انکے سامنے کھولا)

بکس کو اپنے پاس رکھتے ہوئے عبدل نے سب کو مخاطب کیا۔۔

“میرے جگر گوشو میرے بچو میں نے یہ کہانی آج تک کسی سے نہیں کہی جو تم سب کو سنانے جارہا ہوں ۔۔

یہ کہانی ہے عبدل کریم کی یعنی میری۔۔

میری پیدائش دلی کے ایک قریبی قصبے میں ہوئی جہاں ہندو سکھ عیسائی اور کافی تعداد میں مسلمان رہتے تھے۔۔ہمارے محلے کے سبھی لوگ بہت اچھے تھے چاچا راجندر سنگھ کا ٹبر اور دوسری طرف رام چند بابے کا گھر ۔۔ایک ہی گھر میں کہیں خاندان بستے تھے۔۔سبھی بچے ساتھ کھیلتے ابا اور دادا بھی محلے کے مردوں سے خوب مل بیٹھتے تھے۔۔ہمارے گھر میں اماں ,ابا ,میں ,میری بہن رانی اور داد جی رہتے تھے_ ایک چچا تھے جو دلی شہر میں تھے عید کے عید ملنے آتے تھے ۔باقی رشتے دار بھی اسی قصبے میں قریب بستے تھے۔۔جب میں پانچ سال کا ہوا تو دادا جی نے قرآن پاک پڑھانا شروع کیا۔۔سب بہت اچھا چل رہا تھا ۔لیکن ایک شام جب میں گھر آیا تو ابا اور دادا میں زوروں کی بحث چل رہی تھی وہ ہندوستان کے ٹکرے ہونے پر اونچا اونچا بول رہے تھے ۔میری سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا۔۔دادا جان اب گھر سے اکثر باہر رہتے اور شام کو آکر مجھے مسلمانوں کے قصے سناتے جس میں کسی محمد علی جناح کا ذکر ہوتا مجھے یہ نئی نئی کہانیاں بہت بھلی لگتی۔۔ابا صبح دکان پہ جاتے اور شام کو چپ چاپ سو جاتے شاید دادا سے کتراتے تھے۔۔دادا جان راجندر اور رام چند چاچا سے گھنٹوں بحث کرتے دروازے پہ کھڑے۔۔اسی صورتحال میں دو سال گزر گئے ۔۔دادا جی مجھے سکول بھجنے پر بضد تھے اور ابا دکان پر بٹھانے کے ۔دادا ابا کی ایک نہ سنی اور سات سال کی عمر میں میں سکول بھرتی ہوا۔۔۔

ایک رات دادا نے بتایا کہ جلد ہی پاکستان بن جائے گا اور ہم سب پاکستان چلے جائیں گے۔ ابا نے جانے سے صاف انکار کر دیا کہ وہ اپنا گھر ،کاروبار اور دوست احباب چھوڑ کے کہیں نہیں جائیں گے۔۔مجھے ابا پہ بہت غضہ آیا لیکن بول نہ پایا۔۔اماں اور رانی بھی پاکستان جانے کے لیے راضی تھے۔۔

محلے میں سب کا رویہ بدل گیا تھا جیسے سب روٹھ گئے ہوں ۔۔تیرہ اگست کی رات داد دیر سے گھر لوٹے اور آتے ہی اپنے پرانے ریڈیو کو چلایا میں انکے پاس لیٹ گیا انہوں نے بتایا کہ جناح پاکستان بننے کا اعلان کریں گے ۔۔انکی باتیں سنتے سنتے نہ جانے کب میں سو گیا لیکن صبح میرے ہم جماعت اسلم نے مجھے جھنجوڑ کے جگایا کہ اٹھو پاکستان بن گیا ہے سبھی مسلمان جھنڈا لہرائیں گے ۔۔۔دادا جی گھر نہیں تھے۔۔میں اٹھتے ہی باہر کو بھاگا سب مسلمانوں کے گھر خوشی کا سماں تھا۔۔۔ابا دکان پہ پریشان بیٹھے تھے مجھے باہر دیکھ کر کئی تھپڑ رسید کیے اور گھر جانے کی تلقین کی۔۔۔

لیکن میں تو جھنڈا دیکھنے کے لیے بیتاب تھا سبھی لڑکے یہاں وہاں ہر جگہ بھاگے لیکن بے سود

چودہ اگست کا دن گزر گیا لیکن ہمارے گھر میں روز ہی لڑائی ہونے لگی پاکستان جانا ہے کہ نہیں ۔۔ابا کی دکان بند ہی رہتی تھی اب چاچا راجندر اور چاچا رام کے گھر والے تو جیسے روٹھ ہی گئے ہوں ۔۔

انیس اگست کو دادا جان نے بتایا کہ پاکستان کے ہرچم کا رنگ ہرا ہے اور اس میں ایک چاند اور تارا ہے ۔میں نے ضد کی کہ ہم بھی اپنی چھت پہ پرچم لہرائیں گے ابا نے منع کر دیا۔ لیکن میں نے رو رو کر ماں سے ضد کی۔۔ماں نے کہا اسکے پاس اتنے پیسے نہیں کہ نیا کپڑا خرید سکے ہاں ایک سفید دوپٹہ ہے جو میں نماز کے لیے اوڑھتی ہوں وہ لے جا کر رنگا لو۔۔

ماں نے اپنی اوڑھنی کے دو حصے کیے ایک آنہ اور وہ ٹکڑا میرے حوالے کیا اور دوسرا ٹکڑا رکھنے لگی تو میں نے کہا یہ بھی دے دیں بعد میں اسکا دوسرا پرچم بھی بنوا لونگا۔۔۔دوسرا ٹکرا تہہ کر کے جیب میں رکھا اور سر پہ پیر رکھ کے اسلم کی طرف بھاگا اس کے ابا پرچم لہرا چکے تھے۔۔میں اسلم کو لے کر بشیرا رنگ والے کی طرف بھاگا۔۔۔۔بہت منتوں کے رنگ کرا کے گھر لوٹا تو مغرب ہو چکی تھی۔چپ چاپ دادا کے پاس چلا گیا ۔۔جب دادا کو پرچم دکھایا تو انہوں نے سینے سے لگا کر بہت پیار کیا اور سبز پرچم کو آنکھوں سے لگا لگا کے چوما۔۔۔میں صبح کا بے چینی سےانتظار کر رہا تھا جب پرچم کو اپنی چھت پہ لہراوں گا ۔۔ابا بے چینی میں ٹہل رہے تھے اور دادا بھی سو نہیں رہے تھے۔۔اتنے میں چاچا رام چند کی آواز آئی جو کہ ابا کو بلا رہے تھے۔۔

“پا کریم چھڈ دے اس گھر نوں تے اپنے پاکستان چلا جا ۔۔پورے شہر اچ فساد ہورہے کل میں وی نہ بچا سکاں گا تینوں ”

۔۔ابا کسی صورت نہ مان رہے تھے جب کہ دادا نے آخری فیصلہ سنا دیا کہ وہ صبح پاکستان روانہ ہو جائیں گے ۔۔میں جھنڈے کو سر کے نیچے رکھ کے سو گیا لیکن آدھی رات کو اچانک آنکھ کھلی تو ابا کے پاس چلا گیا جنھوں نے دیکھتے ہی جھٹ سینے سے لگا لیا اور زار و قطار رونے لگے۔میں تو پھر سو گیا لیکن شاید ابا نہیں ۔۔

صبح اٹھا تو دادا سامان سمیٹ چکے تھے اماں ابا سے چلنے کو کہہ رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ مجھے گود میں بٹھائے ناشتہ کھلا رہی تھی۔

دروازہ زور سے بج رہا تھا چچا راجند سنگھ کی آواز تھی مگر وہ ابا اور دادا کو گالیاں دے رہے تھے ابا نے جونہی کھولا چچا راجندر دھکے دینے لگا کہ چلے جاو پاکستان آخر کار رو پڑا کہ جاو ورنہ مارے جاو گے اور میں نہیں بچا سکوں گا ۔۔

اماں رانی دادا اور میں تیار تھے لیکن ابا نہیں

دادا نے اپنے ہاتھ ابا کے سامنے جوڑ دیے۔۔۔

لیکن شاید دیر ہو چکی تھی ہندوؤں اور سکھوں کا جھتہ بستی میں پہنچ چکا تھا۔۔۔وہ آتے ہی ٹوٹ پڑے چھریوں اور برچھوں سے وار کرتے جارہے تھے میں چاچا رام کے گھر بھاگا لیکن کسی نے در نہ کھولا چچا راجندر کے لڑکے بھی مجھ پہ ہنسے ۔میں واپس گھر کے اندر آیا تو ہندوؤں اور سکھوں نے دادا، رانی، اماں، ابا کو صحن میں باندھ رکھا تھا ۔۔۔وہ برچھیوں کے وار سے دادا جان کو زخم دیتے جاتے اور کہتے” چلا تحریک ،جا پاکستان” ۔۔ایک نے آگے بڑھ کے تلوار کے وار سے دادا کو کاٹ دیا اور میری چیخ میرے حلق میں ہی اٹکی رہ گئی ۔۔وہ ننگے سر میری ماں کو گھسیٹنے اور قہقہے لگانے لگے وہ ابا کے سامنے اماں سے بدتمیزی کرتے اور قہقہے لگاتے جاتے ماں کا سر کہیں بار دیوار سے ٹکرا ٹکرا کے خون نکالنے کے بعد بھی رحم نہ آیا تو برچھی آر پار کردی۔۔رانی کی چیخیں اور ابا کی بے بسی بس میں ہی دیکھ پارہا تھا ۔۔اب وہ ابا پہ ٹوٹ پڑے اور مارتے ہی گئے یہاں تک کہ وہ سمجھے کہ مر چکا۔۔۔جاتے جاتے ایک نے رانی کو دبوچ لیا ۔۔میں نے بہت کوشش کی لیکن رانی کا دوپٹہ ہی میرے ہاتھ میں رہا ایک سنگھ نے مجھے اس زور سے پٹخا کہ توازن برقرار نہ رکھ سکا ۔۔جب ہوش آیا تو گھر بکھرا پڑا تھا دادا کی گردن الگ ماں کی خون میں لت پت لاش رانی کی چنری اور تڑپتے ہوئے ابا۔ اٹھ کے ابا پاس پہنچا پانی پلایا تو کچھ سنبھلے اور بولے :

“عبدل پتر میں غلط تھا. ابا درست کہتے تھے اپنا وطن اپنا ہی ہوتا ۔۔تو پاکستان چلا جا وہاں کی مٹی کو میرا سلام کہنا ‘۔۔۔اسکے بعد بھی ابا نے کچھ کہا لیکن میں سمجھ نہ سکا۔۔ابا کا سر ایک طرف کو ڈھلک گیا اور میں چاہ کے بھی رو نہ سکا۔۔۔۔۔

مجھے پاکستان جانا تھا مگر کیسے۔۔۔چاچا رام کی بیوی دروازے تک آئی اور بولی:

“عبدل پتر بھگوان قسم کہا تھا انکو چلے جاو ہم تو خود بے بس تھے نہ بچا سکے۔ تو چلا جا یہاں سے ۔۔یہاں قصبے کے اس طرف والے سارے مسلے پاکستان جارہے تو بھی ادھر کو بھاگ “_

چاچی نے مجھے گلے لگایا پیار کیا اور واپس پلٹ گئی.میں نے پرچم لیا اور ایک کاغذ جس پہ کچھ لکھا تھا دادا کے سرھانے کے نیچے سے ۔۔رانی کی چنری سمیٹی ۔۔لیکن ماں کی اوڑھنی کا دوسرا حصہ۔۔کافی تلاش کے بعد وہ خود آلود ٹکرا مجھے ماں کی لاش کے پاس مل ہی گیا۔۔۔۔

میں کئی بار ان لاشوں سے لپٹ کے چیخا لیکن مجھے کوئی تسلی نہ ملی۔۔۔میں نے بے اختیار بھاگنا شروع کر دیا راستے میں کئی لاشیں اور کئی زخمی دیکھے کئی گھر جل رہے تھے۔۔میرا رخ قصبے کے باہر شہر کی جانب تھا ۔۔۔شام کے قریب مجھے مسلمانوں کے قافلے مل ہی گئے سبھی بے حال تھے کوئی جاننے والا نہ مل سکا۔۔۔رات کی تاریکی میں سبھی چلتے جارہے تھے کہ اچانک کہیں سے ہندووں اور سکھوں کے جتھے آتے لوٹ مار کرتے مردوں کو مار دیتے لڑکیوں کو اٹھا کر لے جاتے۔۔۔پھر جو زندہ بچتے دوبارہ چل پڑتے۔۔۔صبح کا سورج طلوع ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے آدھے بھی نہیں تھے

دن کے اجالے میں مجھے اسلم کے ابا نظر آئے میں بھاگ کے ان سے لپٹ گیا ۔۔۔پتہ چلا کہ اسلم سمیت انکے گھر کا بھی کوئی فرد نہیں بچا۔۔وہ مجھے سینے سے لگائے روتے ہی گئے۔

مجھے جیسے کڑی دھوپ میں سائبان مل گیا ہو انہوں نے مجھے کھانا کھلایا پانی پلایا اور ہم دن بھر بھی چھپتے چھپاتے چلتے رہے۔۔آخر کار ایک بڑے شہر کے ریلوے سٹیشن پر پہنچے بتایا گیا کہ یہ ریل گاڑی پاکستان جائے گی ۔۔ہزاروں افراد جمع تھے ۔۔۔جیسے تیسے کر کے ہم بھی سوار ہو گئے ۔۔ریل گاڑی چل پڑی اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بھارت کی فضاوں میں گونج اٹھے ۔۔میں نے ہاتھ میں اٹھائے پرچم کو سینے سے لگا لیا۔ جہاں بھر کا سکون محسوس کیا۔۔
رات کو بیانان جنگل میں پھر دشمن نے ریل پہ حملہ کیا کئی جانیں چلی گئی لیکن جوابی مزاحمت سے جلد ہی چھٹکارہ مل گیا۔۔ریل دن بھر بھی چلتی رہی۔۔مسافروں نے جی جان سے اک دوسرے کا خیال رکھا ۔۔خون کے رشتے کھو دینے کے بعد ہزاروں نئے رشتے بنتے دیکھے_ ایک روٹی کے دس نوالے کر کے کھاتے بھی دیکھا _ایک بوتل پانی کو گھونٹ گھونٹ کئی لوگوں کو پیتے دیکھا ۔۔۔ریل ایک پلیٹ فارم پہ رکی اور بتایا گیا کہ یہ بھارت کا آخری علاقہ ہے اسکے بعد پاکستان آنے والا ہے۔۔۔وہاں سے پاکستانی فوج کے اہلکار بھی ریل میں ہمارے ساتھ تھے۔۔اب دشمن کی کیا مجال کہ آتا۔۔۔لوگوں کے جذبات دیدنی تھی ہر کوئی پاکستان کی مٹی کو چھونے کی خواہش میں پاگل تھا ۔۔پاکستان زندہ باد کے نعرے اور سسکیوں اور آنسوں کا منظر ناقابل بیان ہے.

شام سرمئی ہو چکی تھی میری نظر میں دادا کا چہرہ، ماں کی آدھ کھلی آنکھیں ،ابا کی اذیت اور بے بسی اور رانی کی چیخیں کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔یکایک ریل گاڑی رک گئی اور اعلان ہوا کہ ہم پاکستان پہنچ چکے۔۔۔لڑکھڑاتے قدموں نیچے اترا اور گر ہی گیا دادا کا پیغام دیا پاکستان کو ,ابا کا سلام کہا اور ماں کے حصے کا سجدہ کیا۔۔رانی کے کھو جانے کا گلہ بھی کیا ۔۔۔اور جو چیخیں گلے میں کھٹی رہ گئیں تھیں وہ بے اختیار نکل گئیں۔۔۔اس مٹی کے گلے سے لگ کے یوں لگا گویا سب اپنوں کا پیار ہو اس میں ۔۔سبھی کا یہی حال تھا۔۔۔

ہمیں امدادی کیمپوں میں رکھا گیا جہاں زخمیوں بیماروں کی دیکھ بھال کی گئی خوراک اور رہائش کا بندوبست کیا گیا تھا۔۔۔دو تین دن میں ہمارے حواس ٹھکانے لگ چکے تھے اب ہم خود امدادی کارکنوں کی حثیت سے کام کرنے لگ گئے ۔۔ایک عجب لگن تھی ہر کام سر آنکھوں پہ اپنے پاکستان کو ذرہ ذرہ کر کے بنانا تھا ۔۔نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہنا تھا

چاچا دین محمد نے کسی طرح ایک کمرے کا مکان حاصل کرلیا اور ہم دونوں وہاں چلے گئے

چاچے نے ایک چائے کا ہوٹل کھولا جو رفتہ رفتہ کام بڑھتے بڑھتے علاقے کا جانا مانا ہوٹل بن گیا

میں زیادہ وقت امدادی کیمپوں میں گزار آتا اور جب ادھر سے آتا تو چچا کے ساتھ ہوٹل پہ بیٹھ جاتا

سال اسی افراتفری میں گزر گیا ۔جب حالات سنبھلے تو چاچا نے مجھے سکول جانے کو کہا لیکن میں نے ہوٹل پہ کام کرنے کی ضد کی اور چچا کو منا لیا۔۔

رات دیر سے گھر آ کر میں اس کاغذ کو دیر تک دیکھتا جس پہ دادا نے ایک لفظ بڑے حروف میں لکھ رکھا تھا۔۔۔میری دوستی یہاں احمد سے ہوئی وہ یہی کا تھا اور سکول جاتا تھا میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا لکھا ہے تو اس نے بتایا کہ یہ ،پاکستان، لکھا ہے ۔۔میں نے احمد سے پاکستان لکھنا سیکھا اور آج تک میں سوائے لفظ پاکستان کے اور کچھ نہیں لکھ سکتا۔۔۔

چچا کی اچانک موت نے مجھے پھر سے اکیلا کر دیا لیکن پاکستان سے میرا رشتہ اتنا گہرا تھا کہ میں سنبھل گیا ۔

عبدل نے ایک گہرا سانس لیا سبھی کی ہچکی بند چکی تھی عبدل نے بکس کو کھولا سبز رنگ کے کپڑے کا ایک ٹکڑا نکالا ۔۔ایک خون آلود کپڑا جو کبھی سفید تھا ۔۔ایک زرد رنگ کی چنری اور ایک کاغذ کا ٹکرا جس پہ لکھا تھا “پاکستان ”

عبدل بابا پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگ گیا بیٹوں نے بڑھ کر گلے لگا لیا. بیٹی تڑپ اٹھی ۔۔بچے پریشان تھے۔۔۔

اچانک باہر آتش بازی اور پٹاخوں کی آواز آئی سب باہر کی طرف لپکے۔۔۔ایمل چلائی چودہ اگست ہو گیا

کیونکہ رات کے بارہ بج چکے تھے عبدل کو نم آنکھوں میں آتشبازی چمکتے ہوئے جگنو لگے۔۔اور وہ سجدہ شکر بجا لانے دوبارہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑا

صبح عجب چہل پہل تھی بچوں کا شور عبدل کو ٹیرس تک کھینچ لایا۔۔سبھی صحن اور باغیچے میں جھنڈیاں لگانے میں مصروف تھے چھت کی طرف دیکھا تو بڑے پوتوں کو اپنے بیٹوں کے ہمراہ پرچم لگانے میں مصروف دیکھا۔۔۔

نیچے ایک عجب نظارہ دیکھنے والا تھا عبدل کا سب سے چھوٹا پوتا جو بمشکل چار سال کا تھا ۔۔قومی پرچم کی جھنڈیوں کو نیچے گرنے سے بچاتے ہوئے گر پڑا اور پھر دونوں بانہوں میں سمیٹ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔

عبدل نے سکون کی لمبی سانس لیتے ہوئے خود کلامی کی۔۔عبدل کریم تم نے اپنا فرض ادا کیا۔

آزدی کی یہ نئی صبح بہت خوشگوار تھی

____________________

تحریر:شمائلہ عزیز(افشی رانی )

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements