تجھے معلوم ہے میرے چارہ ……..رضوانہ نور

بہت دیر وہ یوں ہی رائٹنگ ٹیبل پہ قلم پکڑے منتظر تھی کہ کب اس کا دل اجازت دے اور وہ کچھ موتی قرطاس پہ بکھیر دے….مگر دل بھی ضد پہ اڑا تھا آج نہیں….
تم اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہو.دل بری طرح سے تڑپا تھا….تمہیں ذرا ملال نہیں..وہ کسی اور کا ہونے جارہا ہے….اس کی شادی ہے پاگل….اور تم آج بھی فقط لفظ بکھیرنا چاہتی ہو…روتی کیوں نہیں….ہاتھ کیوں.نہیں.اٹھا لیتی…..ایک بار مانگ لو اسے رب سے….
شش شش…چپ…ایسے چِلاتے نہیں ہیں…شور نہیں مچاتے….وہ کتنا خوش ہو گا نا…اس کی مسکراہٹ نے سارا جہان روشن.کر دیا ہوگا….وہ مسکراتے ہوئے کتنا اچھا لگتا ہے نا….مجھے تو بس اس کی خوشی چاہیے…وہ خوش ہے اس کا ہو کر..اس کو اپنا کر..تو میں بھی خوش ہوں….
ان گزرے دس برسوں میں.تم نے پاگلوں کی طرح چاہا ہے اسے…..فقط اسے..کسی اور کی جانب دیکھا تک نہیں….اس کی ہر پسند میں ڈھل گئی..اور اب اس سے دستبرداری کیوں؟؟دل شدید صدمے میں تھا
ہاں نا..یاد ہے اس نے کیا کہا تھا مجھے..میں آپ کی عزت کرتا ہوں..آپ کی فیملی کی…مگرآپ سے محبت نہیں کرتا….میں.کسی سے محبت نہیں کرتا…
مگر دیکھو اس پاگل کو…وہ نہیں جانتا کہ عشق کی منزل پہ الہام بھی ہوتے ہیں…اے دل یاد ہے تم.مجھے کہتے تھے کہ وہ کسی اور کی نظروں.کا گھائل ہے…اور دیکھو میں.نے ڈھونڈ لیانا..ان نظروں کو……
ہاں احسان کیا نا تم.نے مجھ پہ ان نظروں.کو ڈھونڈا ہی نہیں اٹھا کر اس کی جھولی میں بھی ڈال دیا.جب معلوم بھی تھا کہ ان ہی نظروں.کا گھائل تمہارا ماں جایا بھی ہے….دل اسی سے متنفر بیٹھا تھا…..
اس کی ایک مسکراہٹ کے لیے ہر قیمت دے سکتی ہوں ….بھائی اور محبوب میں فرق ہوتا ہے پاگل….اس کی آنکھوں کو آنسوں نہیں دے سکتی تھی….وہ خیالوں میں.اس کی آنکھوں میں.جھانک آئی تھی
اور بھائی….اس کا کیا..ایسا کرتے ہیں….اس کو رشتہ ہی نہیں بھیجنے دیا وہاں…..دل کواپنے ٹوٹنے کو بے حد ملال تھا.
ہاں……وہ بھائی کی پسند تھی اور اس کی محبت…..پسند بدلی جا سکتی ہے…..محبت میں توحید کی قائل ہوں.میں……وہ دل کی دلیلوں سے قائل ہی کب ہوئی تھی…
اچھا تو اب تم.کیا کرو گی…..محبت تو گئی تمہاری…..دل نے باقاعدہ تمسخر اڑایا تھا…
تمہیں کس نے کہا مجھے اس سے محبت تھی؟؟؟؟وہ حیرت سے بولی
مطلب؟؟دل کا بھی دھچکا لگا تھا
وہ تو میرا عشق ہے پاگل……عشق میں لاحاصلی شرط ہے….محبت جسم.کی محتاج ہوتی ہے……عشق میں فقط روح کی ضرورت رہتی ہے….وہ دیوار پہ بنتے بگڑتے انمٹ نقوش دیکھ رہی تھی…
جانتے ہو مجھے اس سے پیار ہے…اس سے جڑے ہر رشتے سے پیار ہے…اس کی امی نے جب گلے لگایا تھا مجھے تو میں نے کیا کہا تم سے….وہ بھی ان.کے گلے لگا ہو گا..میں اس کے ہر رشتے کو اپنایا ہے پتہ ہے کیوں کہ وہ بھی ان کو محبت بھری نظروں سے دیکھتا ہو گا….یہ میری کلائی میں چوڑیاں دیکھ رہے ہو….یہ اس کی بھابھی نے دی ہیں..اس کی نظر تو پڑی ہو گی نا ان پہ……وہ جو نوٹ دھرے دراز میں…اس کے بابا نے دئیے ہیں..لازمااس کی تنخواہ کے ہوں گے…وہ گھڑی جو شیلف پہ پڑی ہےاس نے خود دی چھوا ہو گا نا اس نے اسے..وہ کمبل جو میں نے بابا سے لے لیا ..یاد ہے جب وہ آیا تھا تو اسے اوڑھ کے سویا تھا …یہ تکیہ اس پہ سر رکھا تھا س نے….رات سونے سے پہلے یہ کتاب پڑھی تھی اس نے….ِوہ بک شیلف سے ایک کتاب اٹھا کر بولی..
یعنی تم اس کی یادوں کے سہارے جیو گی؟؟دل درد سے پھٹا جا رہا تھا..
نہیں…..وہ قطعیت سے بولی..
پھر؟؟دل سراپا سوال تھا
اس نے مجھے ایک ہنر دیا ہے…..وہ آزماوں گی….وہ مسکراتے ہوئے بولی…
کیا؟
عشق کرنا سکھایا ہے اس نے….میں رب کو ڈھونڈ ڈھونڈ تھک گئی تھی….اس نے رستہ بتا دیا….اب مجھے رب تک جانا ہے…
مگر کیسے؟؟دل بے یقینی کے عالم میں تھا..
اس رب کی بنائی ہر شے کو محبت دے کر…..ایک انسان سے جڑے رشتے مجھے انسان کا عشق دے سکتے ہیں.تو ستر ماوں سے زیادہ پیار کرنے والا رب تو ایک اشارےکا منتظر ہے…
اس نےکھڑکی سے آسمان کی جانب دیکھا تو کئی آنسو ضبط کے بندھن توڑ کر دل پہ گرے تھے…..

_______________

تحریر:رضوانہ نور

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.