امن_________نورالعلمہ حسن،

میں نے سنا ہے سرحد کے اُس پار،
تاج محل کی دیواروں سے،
دہلی میں میناروں سے،
ہر صبح صدائیں اٹھتی ہیں۔۔۔

سرحد کے اِس پار پیاسی تھر والی،
یہ آوازیں سنتی ہے۔۔۔
وہ لڑکی جو پچھلے سیلاب میں سسکتی،
بےگور و کفن لاشیں چھوڑ کر آئی تھی وہ بھی،
اس بانگ کو سنتی ہے کہ جس میں،
یادیں پاس بلاتی ہیں،
اسلاف کی باتیں آہنگ بڑھاتی ہیں،
اور جامع مسجد کی اذان یہ شور بڑھاتی ہے کہ،
یہ دیوار دو بھائیوں کے،
اپنے اپنے طور سے رہنے کو اٹھائی تھیں۔۔۔
دیوار پہ چڑھ کر لڑنے کو لڑانے کو،
دلوں میں سوزِ نفرت کے بڑھانے کو،
غلط فہمیاں ذہنوں میں بٹھانے کو نہیں،
ایسا تو کبھی چاہا تھا، سوچا بھی نہیں۔۔۔
پھر چند بدامنوں کے جوش دلانے پہ،
یہ کیسی آگ لگا بیٹھے ہو جو اس دھرتی کے کھلیانوں کو، بستیوں کو، میدانوں کو،
قحط زدہ اور ویران کر رہی ہے٬
جو کچھ بے ضمیروں ،بےحسوں کو محظوظ کرنے کا سامان کر رہی ہے۔
دیوار اٹھی ہے مگر،
یہ مطلب تو نہیں،
دیوار گرانے کو خونی سیلاب بہا بیٹھو،
دست و گریباں ہو کر اجداد کے دلوں پر نقش،
امن و محبت کے عنوان بھلا بیٹھو۔۔۔
کسی کو پیاسا مار کر، تو کبھی،
کسی کی زندگی اجاڑ بیٹھو۔۔۔
سنو یہ دیوار،
دیوارِ امن بھی ہو سکتی ہے،
کیا ضروری ہے کہ تم اسے دیوارِ گریہ ہی بنا چھوڑو۔۔۔؟
کہیں یوں نہ ہو کہ اگلی نسلیں اس دیوار پر زار زار روئیں،
اِس خونی بُو کی عفونت ان کی رگوں کو تار تار روندے۔۔۔
اور یہ نوائیں بس کتابوں ہی میں رہ جائیں کہ،
انسانیت پہلا مذہب ہے،
آدم کی پہلی ضرورت امن ہے، پیار ہے۔۔۔
بہت ہوا، اب ٹھان لو تم بھی یہ، انتشارپسندوں سے وقت انکار ہے۔

_______________________

شاعرہ~نورالعلمہ حسن

کور ڈیزائن:خرم بقا

Advertisements

1 Comment

Comments are closed.