آپکا جیون ساتھی کیسا ہو؟

یہ بڑا حساس موضوع ھے ھمارے ملک میں ھمیشہ سے لڑکے یا لڑکیوں کی شادی بڑا مسئلہ رھی ھے جسکی بڑی وجہ ھماری بلند ترجیحات ھیں لڑکی کے معاملے میں تو ایک طرح سےوالدین مجبور ھوتے ھیں کہ رشتہ آئے تو شادی ھو مگر فی زمانہ لڑکوں کے لیے بھی یہ مسئلہ بہت خطرناک رخ اختیار کر رھا ھے وجہ بہت سادہ ھےکہیں لڑکوں کی اور کہیں انکی فیملی کی ترجیحات ہہت بلند ھوتی ھیں لڑکوں کے لیے اولین معیار خوبصورتی ھوتا ھے جو کچھ اتنا ناجائز نہیں مگر خوبصورتی ناپنے کا پیمانہ اگر بالی وڈ یا ھالی وڈ کی ھیروئنز ھوں تو یہ رجہان خطرناک ھوتا ھے ۔ ھمارے ملک عزیز میں جسطرح بیٹوں کی تربیت کی جاتی ھے وہ سب کے علم میں ھے وہ ھر اچھی چیز پر اپنا حق سمجھتے ھیں اب جب بات شادی کی آتی ھے تو انکا معیار کترینہ کرینہ اور اینجلینا سے نیچے نہیں آتا اس وقت وہ یہ بھول جاتے ھیں کہ یہ ھیروئنز ماھانہ اپنی بیوٹی ٹریٹمنٹس پر جتنا خرچہ کرتی ھیں اتنی تو انکی سالانہ آمدنی بھی نہیں 🙂 جی بلکل حقیقت ھے یہ کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک میگزین میں ایک ھیروئن کے ان اخراجات کی لسٹ دیکھی جو وہ اپنے آرائش حسن پر لگاتی ھیں تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں صرف بالوں کی دیکھ بھال کے لئے وہ تیس لاکھ پاکستانی روپے خرچتی ھیں جس میں انکے ھئیر ڈریسر کی فیس اور ھئیر کئیر پراڈکٹ شامل ھیں اپنے فیس اور ملبوسات پر وہ اس سے دگنا ماھانہ خرچ کرتی ھیں اب اندازہ لگائیں وہ خوبصورت نہیں دیکھے گی تو کیا ھماری بچیاں جو پڑھائ کے لیے جلتی بھنتی بسوں کا سفر کرتی ھیں گھر آکر کچن کے کام بھی دیکھتی ھیں وہ لگیں گی ۔۔۔۔۔۔ یہ ایک چشم کشا حقیقت ھے جو ھمارے لڑکے اور انکی اماں بہنیں جو خود ایک عورت ھیں سمجھنے کو تیار نہیں ۔۔

اب ذکر کروں کچھ اپنی بچیوں کا جنکا معیار پیسہ کے ساتھ ساتھ سلمان خان اور رنبیر کپور بھی ھوتا ھے اب انکو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ایک عام لڑکے میں یہ دونوں خوبیاں شاذ ونادر ھی جمع ھوسکتی ھیں پیسہ والا دولہا چاھیے تو عمر میں کمپرومائز کرنا ھوگا کیونکہ ایک نوجوان جس نے اپنی تعلیم مکمل کی ھے اور فریش جاب پر لگا ھے تو اسکو پیسہ کمانے اور جمع کرنے میں کم از کم اتنا وقت تو لگے گا کہ اسکی عمر چالیس سے اوپر جاے گی اب بائیس سال کا ھینڈسم اور امیر لڑکا تو مشکل سے ملے گا اور پھر اسے بھی حسین صورت لڑکی کی تلاش ھوگی ۔

پہلے شادی کے لیے اولین ترجیح لڑکے لڑکی کا خاندان شریفانہ عادات اور تعلیم ھوتے تھے اور لوگوں کی شادیاں نوے فیصد کامیاب بھی ھوتی تھیں مگر آجکل سو میں سے دس بیس فیصد کا تناسب رہ گیا ھے وجوھات وھی ھیں جو میں نے بیان کی اسلیے آنکھیں کھولیں اور خوابوں کے شہزادے اور شہزادیوں کو ایک طرف رکھ کر حقیقت کا سامنا کریں اپنا جیون ساتھی ایسا چنیں جو آپکا غم گسار ھو ھر مصیبت میں آپکے ساتھ کھڑا ھو ناکہ پیمانہ صرف دولت یا خوبصورتی ھو جو سب سے نا پائیدار ھے ۔۔۔

____________________

تحریر: اسماء ظفر

کور ڈیزائن:دیا فاطمہ

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.