خواب________صوفیہ کاشف

جب ہم دونوں نے خوبصورت زندگی ساتھ ملکر بنانے کا خواب دیکھا تھا تو کون جانتا تھا کہ یہ ہجرت ہماری محبت اور ساتھ کو دنیا کی تیز رفتاری میں گم کر بیٹھے گی۔روزانہ وہ گھر کو لوٹتا تو مجھے کام کے لئے بھاگتے دوڑتے نکلنا پڑتا،بسیں بدلتے،بھاگتے دوڑتے کام پر جاتے،سارا دن سپر مارکیٹ کی مزدوری کر کے شام کو لوٹتی،تو دروازے پر ویلکم اور بائے کا اک بوسہ ،،اور پھر وہی ذندگی کی تنہائی۔۔ہماری چاہت اور خواب،ارمان اور جزبے کسی بس میں یا سڑک پر یا سپر مارکیٹ کی بوتلوں کے ڈھیر پر نجانے کہیں گر گرا گئے اور ہمیں ڈھونڈنے کا وقت تک نہ ملا۔بسیں بدلتے تھوڑی دیر کو ساحل کی طرف آ نکلی جہاں لوگ زندگی کی خوشیوں میں مگن اک دوسرے کے ساتھ میں گم تھے۔ ایک بینچ پر بیٹھی چاند کی طرف تھکی نظریں گاڑیں تو خیالات میں زندگی کے حاصل کی اک داستاں سی چل پڑی،خسارے ایسے تھے کہ بھر نہیں پای۔خرچے اور حصول میں اک غیر معمولی فرق تھا کہ دل ،جان،ذندگی لٹا کر بھی پورا نہ پڑتا تھا۔اور وہ۔۔۔۔نجانے کہاں تھا، مزدوری کی تھکن اتارتا میرے خواب کہاں دیکھتا ہو گا!شاید سپنوں میں آزادی کو تکتا ہو گا،اس مشقت بھری تیز رفتار زندگی سے آذادی،ان خواب آلود تنہائیوں سے آزادی،اس تھکا دینے والے سفر سے آذادی۔۔۔۔!وہ آنکھیں جنہیں دیکھتے ہم نے کتنے دور کی خواہش باندھی تھی اب ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتی تھی،نہ اسے،نہ مجھے!میں دودھ،دہی،دوائ،واشنگ پاوڈرکے اک اک ڈالر کا حساب کرتی،،،اور جواب گھاٹا پاتی۔پھر آس پاس نظر دوڑاتی،لوگوں کے چہرے کی روشنی پرکھتی،انکی ذندگی میں کاملیت دیکھتی،پھر اپنی سمت دیکھتی اور دو جمع دو،چار تفریق چار کرتی،،،،آخر ان خساروں کا انت کہاں تھا؟ ہم دونوں ہاتھوں سے گھاٹے تھامے بیٹھے تھے اور سپنوں کی تلاش میں نیندیں تک گما بیٹھے تھے۔مجھے آج اس حساب کو مکمل کرنا تھا۔مجھے اس محبت کو کھوجنا ہو گا جس کے آسرے پر ان کٹھنائیوں میں اترے تھے۔مجھے پھر اک بار اسکی آنکھوں میں دیکھنا ہو گا اور اس سے پوچھنا ہو گا۔

“یہ خواب رکھ لو؟یا پھر مجھے؟”

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.