غزل________رابعہ بصری

وقت ملتاجو سوچنے کےلیے
خواب تکتی نہ نوچنےکےلیے

درد کو نظم کرلیا ہم نے۔۔۔۔
بس تیرا ہِجر اوڑھنے کےلیے

بِھیگتی کِھڑکیوں پہ چھوڑ آئے
ہم سبھی خواب سوکھنےکےلیے

روح کو پاک کرکےآ صاحب —
میرے بارے میں سوچنے کےلیے

سرمئی خوشبوؤں کواوڑھ لیا
اِک ترے بت کو پوجنے کےلیے

اِک مسافر تھا یا جزیرے پر
اِک سِتارہ تھا ٹانکنے کےلیے

تیرے ناخن نے چِھیل ڈالا ہے
بس وہی دل تھا ٹوٹنے کے لیے

اپنے آنچل سے تهام لِیں آنکھیں
کوئی آیا نہ پونچھنے کےلیے

تم بھی جِی بھر کے بدگمان ہوئے
ہم سے دانستہ روٹھنے کےلیے

زندگی اب گزار سکتی ہوں
زخم کافی تها سیکھنے کے لیے

رابعہ بصری

Advertisements