عشق محشر سی ادا رکھتا ہے_______________دوسری قسط

 

محبت ہر دور میں پیدا ہوئی تھی ۔۔۔محبت نے ہر صدی پر حکومت کی تھی۔۔۔محبت نے ہر موسم کا مزہ چکھا تھا۔۔۔محبت نے ہر شخص کو چھوا تھا ۔۔۔ایک وہ وقت آیا جب مکان کچّے تھے جن کے اندر خالص محبتوں کے شگوفے کھلے ۔۔۔پھر چھتیں پائیدار ہوئیں دیواریں پکّی ہوتی گئیں ،لیکن محبت کے تروتازہ پھول کاغذی نمائشی پھول بن کر رہ گئے ۔۔۔اور جب بڑے بڑے محل بنے ،حویلیاں بنی محبت کے وہ چند پھول بھی کہیں بکھر گئے ۔۔۔اونچی اونچی دیواروں ، بڑے بڑے کمروں میں محبت گم شدہ ہوگئی ۔۔۔لوگ محبت ڈھونڈتے رہے ،پیچھے ڈوڑتے رہے اور محبت چھپتی رہی آگے بھاگتی رہی ۔۔۔وہ بھی محبت کے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔۔۔اُس نے بھی کئی موسموں کی آزمائش کاٹی تھی۔۔۔اُس نے بھی ہر لمحے کو صدی بنا کر اُسے چاہا تھا ۔۔۔اُس نے اپنے وقت کی ایک اعلی ظرف محبت کی بنیاد رکھی تھی۔۔۔۔اُسے یاد تھا اُس کے والد نے اُس کی ماں کے لیے ایک کچّا کمرہ بنوایا تھا جسے وہ ساری عمر جنت کی طرح سجاتی سنوارتی رہی۔۔۔مگر وہ محبت میں اور آگے بڑھا تھا اُس نے خوب محنت کی تھی اور اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے ایک عالیشان حویلی میں لے آیا تھا۔۔۔لیکن وہ اُسے اپنا نہیں بنا پایا ۔۔۔بڑی حویلی میں وہ تھوڑی سی محبت بھی نہیں ڈھونڈ پایا ۔۔۔وہ جتنا بلند ظرف تھا اُتنا ہی بدنصیب تھا۔۔۔وہ کوئی اور نہیں ارشد خان تھا۔
پہلی محبت دل خالی کر جائے تو دوسری محبت اُسے بھر بھی سکتی ہے ۔۔۔پہلی محبت دل کرچی کرچی کردے تو دوسری محبت مرہم بن بھی جاتی ہے۔۔۔پہلی محبت دھتکار دے تو دوسری محبت گلے لگا بھی لیتی ہے ۔۔۔پر اکثر پہلی محبت کے بعد دوسری محبت بھی ہار جاتی ہے ۔۔۔کیونکہ کوئی اِسے قبول کرنا ہی نہیں چاہتا ۔۔۔کوئی اِسے موقع دینا ہی نہیں چاہتا ۔۔۔ ارشد خان نے کبھی پہلی محبت کی جگہ نہیں لی وہ تو بس دوسری محبت بننا چاہتے تھے ۔اُنھوں نے ذکیہ بیگم کو پورے دل سے اپنایا ،لیکن ذکیہ بیگم نے صرف بڑوں کی عزت کے لیے اِس رشتے کو قبول کیا تھا۔ارشد خان نے ذکیہ بیگم کا ٹوٹا دل جوڑنے کی جی توڑ کوشش کی مگر کچھ ضدی دل خود ہی جڑنا اور سنبھلنا نہیں چاہتے ۔ذکیہ بیگم دلاور اور نگہت کو ہنستا بستا دیکھتیں تو حسد کی کئی چیلیں اُن کا بدن نوچنے لگتیں ۔یہاں تک کہ اُن کی آہیں بددعائیں ایک ہنستے بستے گھر کو اُجاڑ گئیں ۔موت جیسی سخت چیز بھی اُن کا دل نرم نہ کر سکی ۔دلاور اور نگہت اِس دنیا میں نہیں رہے تھے ،مگر اُن کی ایک نشانی زندہ تھی ، وہ نشانی جسے وہ عبرت کا نشان بنانا چاہتی تھیں ۔اُن کی محبت یکطرفہ تھی نہ اُن سے کسی نے وعدہ کیا تھا نہ وعدہ خلافی، لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ سمیت کئی لوگو سے انتقام لینے پر تلی ہوئی تھیں۔
*****
کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا
کھیل میں بھی تو آدھا آدھا آنگن تھا
“سنو ۔۔۔سنو۔۔۔امّی جان حویلی میں نہیں ہیں ۔میں بہت خوش ہوں آج ہم سارا دن کھیلیں گے۔وہ ہر وقت سیف کے ساتھ کھیلنے سے منع کرتی ہیں ۔آج ہمیں کوئی نہیں روکے گا ،کتنا مزہ آئے گا جیون۔”
نو سالہ جازم پرجوش آواز میں خوشخبری سنا کر اُچھلنے لگا۔اُس کی خوشی دیدنی تھی آخر کیوں نہ ہوتی پچھلے کئی دنوں سے وہ تینوں ساتھ کھیل نہیں پائے تھے۔وہ دونوں جب جب سیف کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرتے ذکیہ بیگم کی حکم بھری ڈانٹ اُن کے قدم روک لیتی۔وہ ایک دو بار حکم عدولی کر چکا تھا جس کے بدلے میں اُس کی نرم روئی جیسی ہتھیلیوں نے پتلی چھڑی کی سخت ضربیں برداشت کی تھیں۔
“اگر وہ اچانک آگئیں اور اُنھوں نے ہمیں ساتھ کھیلتے دیکھ لیا تو؟”
سات سالہ جیون ہمیشہ اُس سے دو قدم آگے چلتی تھی اِس لیے اُس نے فوراً اندیشہ ظاہر کر دیا۔
“یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ، اگر ایسا ہوا تو پھر سے ڈنڈے پڑیں گے۔”
وہ درد محسوس کرتے ہوئے دونوں ہتھیلیاں فکرمندی سے مسلنے لگا۔اُس کی جوشیلی آواز یکدم اداس سی ہوگئی اور بڑی بڑی روشن آنکھیں خوف سے بھر نے لگیں۔
“اچھا بیٹھ جائو مار کھا لیں گے ،لیکن اپنے دوست کے ساتھ ضرور کھیلیں گے۔”
جیون اُس سے زیادہ نڈر تھی اور کچھ ڈھیٹ بھی۔
“پتا نہیں اُنھیں سیف سے کیا دشمنی ہے وہ کبھی اُس سے پیار سے بات نہیں کرتیں۔”
روشن آنکھوں میں ایک اور سوال نے جنم لیا تھا۔
“مجھے معلوم ہے جازم کہ سیف اُنھیں اچھا کیوں نہیں لگتا۔”
جیون اپنے گلابی ہونٹ اُس کے کان کے پاس لاکر سرگوشی سے بولی۔اُس کی لمبی پلکوں سے کوئی راز جھول رہا تھا اور مسکراہٹ میں اعتماد ایسا جیسے وہ سب جانتی ہو۔
“چلو باغ میں چلتے ہیں وہاں جاکر مجھے ہر بات بتانا۔”
اُس نے اُٹھتے ہوئے جیون کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور تقریباً دوڑتے ہوئے حویلی کے دائیں جانب چلنے لگا۔لمبے لمبے ستونوں کے گرد گول گول چکر کاٹتے وہ حویلی کے پچھلے حصّے میں پہنچ چکے تھے۔حویلی کے عقب میں بڑے بیرونی دروازے کے ساتھ باغ کی طرف جانے والا لکڑی کا دروازہ تھا، جو مالی بابا اکثر کھلا رکھتے تھے۔وہ دونوں ماربل کے فرش پر دوڑتے دوڑتے نرم نرم گھاس پر اتر آئے اور اپنے من پسند پھولوں سے چھیڑ خانی کرنے لگے۔
“جازم میں کلیاں اکٹھی کرتی ہوں ، تم امرود توڑ لو ۔پھر ہم کتابی کیڑے کے پاس چلیں گے اور سارا دن کھیلیں گے اور ہاں میں کرکٹ نہیں کھیلوں گی مجھے مزہ نہیں آتا ہم لکّن چھپائی کھیلیں گے۔”
جیون خوشی سے اُڑتے ہوئے احکامات جاری کرنے لگی ۔آج چھٹی کا دن تھا اور سیف صبح سے پڑھنے میں مشغول تھا جبکہ اُن دونوں کو اُس کے ہر وقت پڑھنے سے سخت چڑ تھی۔
“اُف تم کتنی بھلکڑ ہو ۔کلیاں دیکھ کر تم سب بھول جاتی ہو ۔تمھیں یاد ہی نہیں کہ میں تمھیں یہاں کیوں لایا ہوں۔”
وہ اُس کے عشق سے اچھی طرح واقف تھا جو وہ پھولوں سے کرتی تھی۔وہ روز باغ سے پھول توڑتی اور مالی بابا سے ڈانٹ بھی کھاتی ۔جازم کو اُس کا یہ مشغلہ سخت ناپسند تھا ،مگر وہ پھولوں کے آگے کسی انسان کو وقعت کب دیتی یا اُسے ا بھی وقعت دینا آیا ہی نہیں تھا۔وہ پھول جیسی ننھی لڑکی پھولوں کی دیوانی تھی۔وہ ایسی رنگ برنگی تتلی تھی جسے اگر پھولوں سے دور رکھا جاتا تو وہ اپنے سارے رنگوں سمیت مرمٹ جاتی۔
“میں واقعی بھول گئی ہوں ۔ ہم کسی اور کام سے آئے تھے کیا؟”
اب وہ جھولا جھولتے ہوئے حیرانی سے جازم کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پر غصّے اور کوفت کا اظہار تھا۔
“ہاں تم نے مجھے بتانا تھا کہ امّی جان سیف سے نفرت کیوں کرتی ہیں آخر؟”
جازم نے دونوں ہاتھوں سے جھولا روک کر سختی سے پوچھا۔
“میں اگر بھلکڑ ہوں تو تم بھولے ہو ۔تمھیں نظر نہیں آتا سیف نے تائی امّی کے کتنے نقصان کیے ہیں ۔”
وہ جھولے سے نیچے اُترتے ہوئے گردن اکڑا کر کہنے لگی ۔
“نقصان ؟ کونسے نقصان؟ وہ واقعی لاعلم تھا۔”
“یاد ہے وہ شیشے کا ڈنر سیٹ جو تائی امّی کی بہن نے اُنھیں دیا تھا اُس کی بڑی پلیٹ سیف سے ہی تو ٹوٹی تھی۔۔۔وہ تائی امّی کی جان اُن کا پان دان جس سے دو بار سیف نے چھالیاں چرائیں وہ بھی میرے کہنے پر ،لیکن بدھو پکڑا گیا۔۔۔اور وہ تائی امّی کے کمرے کے باہر رکھے تین گملے، جنھیں پانی دینا سیف کی ڈیوٹی تھی جو اُس کی لاپروائی سے سوکھ گئے تھے ۔”
“ارے وہ دیکھو ! دو تتلیاں۔۔۔۔”
وہ بغیر اُس کے چہرے کے تاثرات دیکھے تتلیوں کے تعاقب میں بھاگی ۔
“جیون ۔۔۔ جیون ۔۔۔اپنی بات تو پوری کرو ۔”
وہ بھی ننگے پیر اُس کی تقلید میں اُس کے پیچھے بھاگا ۔اُسے جیون کی بے توجہی پر سخت غصہ آیا۔وہ تتلیاں تو نہ پکڑ پائی ،مگر جازم نے اُسے ضرور پکڑ لیا تھا۔
“بیٹھو یہاں اور بتائو مجھے ، اور کون کون سے نقصان کیے ہیں سیف نے ۔”
وہ اُس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اُسے بنچ پر بیٹھاتے ہوئے چلایا۔آج وہ سیف کا ہر جرم جان لینا چاہتا تھا جو ذکیہ بیگم کے اُس سے نفرت کی وجہ بنے تھے۔
“اچھا سنو ! ایک بار تائی امّی کے گول تکیے پر میں نے چیونگم چپکا دی تھی اور نام سیف کا لگایا تھا۔۔۔عید کے د ن سوئیوں میں نمک ہم نے ڈالا اور شامت سیف کی آئی ۔۔۔اور یاد کرو وہ دن جب اُڑتی ہوئی بال نے اُن کے کمرے کی کھڑکی کا شیشہ توڑا تب بھی ہم نے سیف کو آگے کیا تھا۔۔۔اِس لیے تو وہ اسے ناپسند کرتی ہیں۔”
وہ بولتے بولتے خاموش ہوگئی ۔ اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ اُس سے کتنی ذہین ہے۔
“کمال ہے تمھیں یہ ساری باتیں یاد تھیں جبکہ میں نے اِس بارے میں سوچا بھی نہیں ۔”
جازم جیون کی دی گئی معلومات پر اُسے ہونقوں کی طرح دیکھ کر شرمندگی سے بولا۔
)وہ دونوں بچے تھے ، معصوم تھے اِس لیے اپنے حصّے کے کیے نقصان بھی سیف کے حصّے میں گن رہے تھے۔ابھی وہ اِس بات کی گہرائی میں نہیں اتر سکتے تھے کہ ذکیہ بیگم کی سیف سے نفرت کرنے کی وجہ کیا تھی(۔
“تو ثابت ہوا بھلکڑ میں نہیں تم ہو۔”
وہ اُس کے سر پر ہلکا سا تھپڑ مار کر دور بھاگ گئی تھی۔
“تم نے مجھے پھر مارا ۔۔۔رکو۔۔۔رکو۔۔۔آج پھر تمھاری پونی کی خیر نہیں۔”
وہ جنگلی بلّے کی طرح دونوں ہاتھوں کے پنجے بنا کر اُس کے پیچھے دوڑا۔اُن کے بیچ جنگ جاری تھی کہ سیف بھی آگیا اور ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی اُن کی صلح اُسی نے کرائی۔پھر وہ کھیلنا شروع ہوئے تو دوپہر سے شام ہوگئی۔اُنھیں اِس بات کی خبر تھی نہ پرواہ کہ کسی کی دو قہر آلود آنکھیں اُن کا پیچھا کر رہی ہیں۔
*****
وہ محبت جو تاج جیسے
کسی کے ماتھے پر سجائی تم نے
وہ حسرت جو چادر کی طرح
ہم نے تن پر اپنے اُوڑھے رکھی
و ہ محبت جس کی ساری بہاریں
کسی چوکھٹ پر تم اُتار آئے
وہ حسرت جو خزاں کے در پر
ہمیں چھوڑ کر ہوئی لاپتہ ہے
وہ محبت جس کے سارے خطوں پر
تم نے نام کسی اور کا لکھا
وہ حسرت جس کی قبر کے کتبہ پر
ہمارا نام صاف صاف درج ہے
وہ محبت جو مر کر تمھاری
زندہ ہے کئی کہانیوں میں
وہ حسرت جو ہم کو مارتی ہے
اُ س کا حال تک کوئی نہ جانے
جو تمھیں ملی ، جو تمھاری ہوئی
وہ محبت کہاں ہم بھول پائے
جو ہم نے سہی ، جو کاٹی ہم نے
وہ حسرت کہاں بھلائی جائے گی
جو زیادہ تھی وہی تو مر مٹ گئی
جو بچی ہے تھوڑی محبت وہ
نفرت کے قابل ہے ہمدم
نفرت سے نبھائی جائے گی
“اِن جذبوں کی بھی تربیت کرنی پڑتی ہے ۔کبھی اِنھیں خوش اور زندہ رکھنے کے لیے تو کبھی اِنھیں رلانے اور مارنے کے لیے ۔محبت سیکھاتے سیکھاتے صدیاں لگ جاتی ہیں اور اِس کا سحر کچھ سالوں تک دم توڑ جاتا ہے جبکہ نفرت چند لمحوں میں سیکھائی جاسکتی ہے اور اِس کا جادو آنے والی کئی نسلوں تک چلتا ہے۔اِسی لیے محبت کی پرورش بڑی کٹھن ہوتی ہے اور نفرت کی تربیت سہل۔”
ذکیہ بیگم اپنے کانوں میں جھولتے سونے کے آویزوں سے کھیلتے ہوئے آہستگی سے بولیں ۔چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ چکی ہیں، ایک ایسی خیالی دنیا جہاں اب سب کچھ اُن کی مرضی کے مطابق ہونا طے پایا تھا،ایک ایسی دنیا جہاں وہ ہار کر بھی جیتنے کا سامان تیار کر رہی تھیں۔وہ کچھ دیر من ہی من مسکراتی رہیں ۔ اُن کے دماغ میں جو منصوبہ چل رہا تھا اُس کی کامیابی کی چمک پورے چہرے پر پھیل چکی تھی۔
“کھل کر بتائو کیا کہنا چاہتی ہو تم؟ ”
رقیہ ناز تخت پوش پر بچھی ست رنگی چادر سے نیچے اُتر کر اُن کے پاس چلی آئیں ۔اُن کا انداز کچھ سمجھنے اور کچھ نا سمجھنے والا تھا۔
“آپ بھی کتنی سادہ ہیں امی جان۔دلاور میری بچپن کی محبت تھا ، وہ معصوم محبت جس کی میں نے پرورش کی ، دن رات اُس کا خیال رکھا، اُسے بنایا سنوارا اور جب وہ محبت جوان ہوگئی اُس نے میرا ہی خون کردیا۔ کوئی اپنے محسن کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے بھلا، سوائے کم ظرف محبت کے۔میں پھر سے تربیت کرونگی لیکن اِس بار محبت کی نہیں نفرت کی، نفرت کو بھی ایک بچے کی طرح پال پوس کر بڑا کرونگی اور جب یہ نفرت بڑی ہوجائے گی یہ لٹی ہوئی محبت کا تاوان بھرے گی ۔”
ذکیہ بیگم نے اونی دھاگے سے کڑھے گول تکیے پر ریشمی ز لفیں پھیلا کر اطمینان اور تفصیل سے جواب دیا۔
رقیہ ناز کے چہرے کا رنگ اُڑ چکا تھا وہ اُن کی باتوں کا مطلب بخوبی سمجھ گئی تھیں۔
“اُس بھیانک خواب سے نکل آئو ذکیہ جو گزر گیا۔۔۔لوگ مر گئے ،اُن کے آشیانے جل گئے ،اُن کی خوشیاں بھسم ہو گئیں اور تم ابھی تک راکھ سمیٹ رہی ہو۔۔۔ماضی کی ناکام حسرتوں کا سہارا لے کر مستقبل کو کبھی محفوظ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔خود کا اور خود سے جڑے رشتوں کا امتحان مت لو۔۔۔تم اِس حویلی میں نفرت کی آگ لگانا چاہتی ہو ۔۔۔مت بھولو کہ تم بھی اِسی چھت کے نیچے سانس لے رہی ہو۔”
رقیہ ناز نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُنھیں زور سے جھنجھوڑا جیسے وہ واقعی اُنھیں خود فریبی کے خواب سے جگانا چاہتی ہوں۔
“سب لوگ نہیں مرے ۔۔۔کیونکہ میں نہیں مری ۔۔۔وہ دونوں میرے اندر زندہ ہیں ۔۔۔اور اُن کی نا انصافیاں بھی۔۔۔کیسے بھول جائوں کہ دلاور نے مجھے ٹھکرا دیا تھا۔۔۔کیسے بھول جائوں کہ نگہت میرے حصے کی محبت اپنی باہوں میں لے کر اترا اترا کر چلتی تھی۔۔۔۔کیسے بھول جائوں کہ ارشد خان نے مجھ پر ترس کھایا تھا۔۔۔جانتی ہوں آگ لگانے والوں کے ہاتھ ضرور کالے ہوتے ہیں۔۔۔لیکن اُن کالے دلوں کے لیے یہ انتقام جائز ہے ۔”
ذکیہ بیگم نے درشتی سے اُن کا ہاتھ پیچھے جھٹکا ۔اُن کی آنکھوں سے نکلتے نفرت کے شعلے دیکھ کر رقیہ ناز ایک پل کے لیے خوفزدہ سی ہوگئیں ۔
“ایسا انتقام تو تب لیا جائے جب کوئی کسی سے بے وفائی کرے۔۔۔کوئی کسی کو رسوا کرے۔۔۔بس تم سے کسی نے زبردستی محبت نہیں کی۔۔۔تمھارا بدلہ انتقام سب ناجائز ہے کیونکہ یکطرفہ محبت تمھارا اپنا قصور ہے ۔”
رقیہ ناز اُن کے غضب کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر اُنھیں سمجھانے لگیں۔
“انتقام بس انتقام ہوتا ہے جائز ناجائز نہیں ہوتا ۔درد ملتا ہے تو بدلہ لیا جاتا ہے۔۔۔تکلیف ہوتی ہے تو حساب مانگا جاتا ہے ۔۔۔زخم لگتا ہے تو چوٹ پہنچائی جاتی ہے۔”
وہ اپنے جیسی بس ایک تھیں اُن کے پاس ہر حملے کا جواب تھا۔
“اگر ارشد خان کو تمھارے ارادوں کی بھنک پڑ گئی تو کیا ہوگا؟ کبھی اِس بارے میں سوچا ہے تم نے۔”
رقیہ ناز کے لہجے میں سخت تشویش تھی ۔
“پیاری امّی جان! آج تو آپ نے بھولے پن کی انتہا ہی کردی ۔ارشد صاحب اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے دل میں جیون کے لیے کوئی جذبہ نہیں اور سیف کے لیے صرف نفرت ہے۔ویسے بھی اُن کا کاروبار اتنا وسیع ہو چکاہے کہ اُن کے پاس لاوارث رشتوں کی زندگی میں جھانکنے کا وقت ہی نہیں۔وہ حویلی میں مہمانوں کی طرح آتے ہیں اور چند دن جھوٹی میزبانی تو کی ہی جا سکتی ہے۔”
ذکیہ بیگم کی قہقہہ لگاتی آواز نے رقیہ ناز کو ساکت کردیا تھا۔وہ چند ثانیے ہکّا بکّا سی اُس بے حس عورت کو دیکھتی رہیں ۔
“تم ایساکچھ نہیں کرو گی ذکیہ ۔۔۔یہ غلط ہے ۔۔۔یہ گناہ ہے۔۔۔معصوم بچوں کی زندگی سے کون کھیلتا ہے ؟غیر کو تکلیف پہنچانے کے لیے اپنا خون جلانا کہاں کی عقلمندی ہے آخر ! ۔کسی اور کا نہیں تو اپنے شوہر اپنے بیٹے اور اِس حویلی کی آن بان کا سوچو۔”
رقیہ ناز کو آنے والے وقت نے خوف میں مبتلا کردیا تھا۔اُن کے دل میں ہول سے اُٹھنے لگے ۔وہ ہر صورت ذکیہ کی سوچ کا زاویہ بدلنا چاہتی تھیں۔
“بس کریں یہ اچھائی برائی کا درس ۔آپ ہوتی کون ہیں؟ میرے معاملات میں اِس قدر دخل اندازی کرنے کا حق کس نے دیا ہے آپ کو۔”
ذکیہ بیگم نے اُن پر ایک اجنبی نگاہ ڈال کر غصے کا برملا اظہار کیا۔
“مت بھولو ! کہ میں تمھاری ماں ہوں ذکیہ ۔”
رقیہ ناز نے حق جتایا ۔
“ہا ہا ہا ۔۔۔ بیٹی سے صرف پانچ سال بڑی ماں جو سگی کے زمرے میں تو آتی نہیں اور سوتیلی کہتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے ۔رقیہ ناز آپ ابّا حضور کی آخری غلطی ہیں جس کا بوجھ وہ چند سال ہی اُٹھا پائے ۔مرتے وقت اُنھوں نے مجھے ایک وعدے میں نہ باندھا ہوتا تو میں کبھی آپ کو اِس حویلی میں نہ رکھتی۔ آپ نے میری مرحومہ ماں کی جگہ چھینی تھی آپ کے لیے بھی زمین تنگ پڑ گئی ۔اِس حویلی میں آپ کو ملنے والی جگہ اور مقام کسی بھیک سے کم نہیں جو میں نے صرف آپ کو ابّا حضور کے احترام میں دی ہے ۔ بہتر یہی ہے چپ چاپ محبت اور نفرت کا تماشا دیکھیے ۔بے شک اِس کھیل کا حصّہ نہ بنیے ،مگر تالی ضرور بجائیے۔”
ذکیہ بیگم کے طنزیہ لفظوں نے رقیہ ناز کو اُن کی حیثیت یاد دلائی تو وہ تڑپ کر رہ گئیں ۔وہ کچھ دیر ذکیہ بیگم کا تمسخر اُڑاتا چہرہ دیکھتی رہیں ۔وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ وہ ذکیہ سے نہ لڑ سکتی ہیں نہ اُنھیں مزید سمجھا سکتی ہیں۔وہ اُن کی ضد سے اچھی طرح واقف تھیں۔ جو عورت ضد میں آکر مرے ہوئے شخص کو معاف نہیں کرسکتی ، زندہ انسان کی قدر نہیں کر سکتی ،جسے محبت نبھانا نہیں آتی ،جو احسانات جتلانا نہیں بھولتی اُس سے کیا بعید کی جا سکتی ہے ؟
“تمھارے جو دل میں آئے کرو ذکیہ ۔۔۔مگر ایک بات یاد رکھنا ! جس انسان نے اپنے اندر محبت کی تربیت اچھی طرح کی ہو ، وہاں نفرت کبھی پرورش نہیں پاتی۔ یہ تمھاری اپنی محبت اور انسانیت کی آزمائش ہے ۔”
رقیہ ناز نے ایک ترس بھری نگاہ ذکیہ بیگم پر ڈالی اور بغیر کوئی جواب سنے کمرے سے باہر چلی گئیں۔
“ناکام عورت کی ناکام باتیں ۔۔۔کچھ نہیں کر سکتی آپ سوائے جلنے کڑھنے کے ۔۔۔جائیے جائیے حویلی کے بہت سارے کام آپ کے منتظر ہیں ۔”
ذکیہ بیگم نے چلاتے ہوئے کڑھائی والے دونوں گول تکیے زمین پر پٹخے اور بائیں جانب رکھی میوئوں سے بھری طشتری فرش پر اُلٹ دی ۔آواز رقیہ ناز کے کانوں سے جا ٹکرائی تو وہ غصے کی اِس معمولی حرکت سے خوب محظوظ ہوئیں۔
*****
ہے یہ تمھاری جانی پہچانی
دو دوستو کی ایک کہانی
انجام سے پر گھبرانا مت
سبق یہ بھول جانا مت
“ایک گائوں میں دو دوست رہتے تھے۔ایک بہت ہی حسین ۔۔۔حُسن ایسا کہ کوئی دیکھے تو ہونٹوں سے تعریف پھسلے اور دوسرا انتہائی بدشکل ۔۔۔بدصورتی ایسی کہ دیکھ کر دل خوف کھائے۔دونوں کا رشتہ مالک نوکر کا تھا ،لیکن دوستی کا رشتہ ہر رشتے سے بڑھ کر تھا۔جو رنگ روپ میں آگے تھا اُس کے پاس چلاکی پرکھنے والی آنکھیں نہ تھیں اور جس کی صورت معمولی تھی وہی دل اور دماغ کی مکار آنکھوں سے دنیا دیکھتا تھا۔اُن دونوں کی بہت بنتی تھی۔بڑی گہری دوستی تھی اُن کی ،وہ ایک دوسرے کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہتے تھے۔ایک بار خوبصورت لڑکا اپنی جماعت میں اوّل آیا تو اُس کے باپ نے اُسے انعام میں ڈھیر سارے پیسے دیے ۔اِتنے سارے پیسے دیکھ کر بدصورت لڑکے کے اندر کی بدصورتی مزید جاگ گئی۔اُس نے اپنے دوست کو مشورہ دیا آئو! دریا پر چلتے ہیں یہ پیسے مچھلی پکڑنے والے کو دیں گے اور وہ ہمیں ڈھیر ساری رنگ برنگی مچھلیاں پکڑ کر دے گا۔پھر ہم اپنی حویلی میں ایک تالاب بنائیں گے ۔ساری مچھلیاں اُن میں تیریں گیں اور ہم ہر روز یہ دلفریب منظر دیکھیں گے۔رنگ برنگی مچھلیوں کا تصور پاکر ہی پیارا لڑکا خوشی کے دریا میں اُترتا چلا گیا۔اُسے مچھلیاں بہت پسند تھیں ۔وہ ہر رنگ کی مچھلی اپنے تالاب میں رکھنا چاہتا تھا۔اُسے اپنے دوست کی تجویز بے حد پسند آئی۔”
آدھی کہانی سنا کر وہ خاموش ہوگیں ۔پان کی طلب نے اُنھیں کچھ توقف کرنے پر مجبور کردیا تھا۔
“پھر کیا ہوا تائی امّی ؟ ”
جیون سے اُن کی خاموشی برداشت نہ ہوئی تو بے صبری سے بولی۔
“جی امّی جان بتائیے نا آگے کیا ہوا؟”
جازم کا تجسس بھی عروج پر تھا۔
“صبر کرو بچو ! تم دونوں بہت ہی جلد باز ہو۔یہ دوستی کی کہانی ہے ،ایک جھوٹی بے ایمان دوستی کی اِتنی جلدی ختم نہیں ہوگی ۔”
ذکیہ بیگم نے اُنھیں آہستگی سے جھڑک کر چپ بیٹھنے کا حکم دیا۔وہ کسی گہری سوچ میں کھو کر دھیرے دھیرے مسکرانے لگیں۔اُن کی رچائی فرضی کتھا میں بچوں کی دلچسپی نے پان کا مزہ دوبالا کر دیا تھا۔
وہ تینوں اُس وقت ذکیہ بیگم کی آرام گاہ کے اندر بنے ایک اور چھوٹے کمرے میں موجود تھے۔وہ چھوٹا کمرہ بڑے کمرے میں ایسے تھا جیسے سینے میں دل اور کیوں نہ ہوتا اُسے بڑی نفاست اور سلیقے سے سجایا گیا تھا۔وہ کمرہ ذکیہ بیگم کا خاص حجرہ تھا جس میں اُن کی مرضی کے بغیر کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔وہ اکثر وہاں تنہائی میں وقت گزارتیں ۔۔۔کتابوں سے راز و نیاز کرتیں۔۔۔خوشبوئوں سے ہمکلام ہوتیں۔اُس وقت بھی اُن کا حجرہ عطر کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔چاروں اطراف جلتے بلبوں کی روشنی اتنی تھی کہ وہ کمرہ باہر اُترتی رات کی گود میں چاند کے مترادف لگنے لگا۔کمرے میں تکون اور چکور سائز کی دو بڑی بک شیلف تھیں جہاں رکھی کتابوں کے لبوں پر ایک درد بھرا شکوہ تھا کہ اُن پر وقت اور عمر کی کمائی ضائع کی گئی ہے اور اُن کی دولت کو سمیٹا نہیں گیا ۔اچانک باہر ہوا چلی تو آنگن کی جانب کھلنے والی دونوں کھڑکیا ں آگے پیچھے جھول کر ایک شور سا پیدا کرنے لگیں۔سفید جالی دار پردے بار بار آسمان کی جانب اُچھل کر بتا رہے تھے کہ ہوا کا بہائو کس قدر تیز ہے۔باہر سے اُٹھنے والی کلیوں کی خوشبو عطر کی خوشبو میں گھل کر جیون کے دل کو سرور پہنچانے لگی تو جازم کے لیے یہ خوشبو ناقابلِ برداشت ہوگئی۔اُس نے ذکیہ بیگم سے نظریں بچا کر ایک جُھر جُھری سی لی ۔ذکیہ بیگم اپنی مخصوص شاہی کرسی سے اُٹھیں اور کرسی کے دونوں جانب بنے خوبصورت تاج پر انگلیاں پھرتے ہوئے اُنھیں گُھورنے لگیں۔ وہ دونوں سامنے لمبے رُخ بچھے سنہری قالین پر یوں سر جھکائے بیٹھے تھے جیسے کچھ دیر پہلے سنی جانے والی کہانی پر غور و فکر کر رہے ہوں۔
“لگتا ہے تم دونوں کو خاموشی پسند نہیں ،آئو پھر سے کہانی شروع کرتے ہیں۔”
ذکیہ بیگم نے ہلکا سا کھانس کر اُنھیں اپنی طرف متوجہ کیا تو اُن دونوں کے چہرے خوشی سے کھل اُٹھے ۔بچو کو کہانیوں کے ذریعے حقیقتوں سے کیسے بدظن کیا جاتا ہے اِس ہنر سے ذکیہ بیگم اچھی طرح واقف تھیں۔وہ پھر سے اپنی بڑی کرسی پر بیٹھ گیں اور چوڑیوں سے بھرے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑ کر باقی کہانی کی کڑیاں جوڑنے لگیں۔
“تو میں تمھیں دو دوستو کی کہانی سنا رہی تھی جو اب دریا کی طرف چل دیے تھے۔سارا رستہ وہ کھیلتے اور ہنسی مذاق کرتے رہے ۔دریا کے راستے میں ایک گھنا جنگل آیا۔مو ہنی صورت والا بڑا ڈرپوک تھا اُس نے سارے پیسے اپنے سیاہ رنگ والے دوست کے سپرد کر دیے اِس اُمید کے ساتھ کہ وہ اُس کی جان اور مال دونوں کی حفاظت کرے گا۔بدصورت دوست اِس اعتماد کو پاکر خوش ہوا اُس کی آنکھوں کی چمک دوگنی ہوگئی تھی ۔جنگل کا راستہ اُنھوں نے خاموشی اور احتیاط سے طے کیا اور آخر کار دریا پر پہنچ گئے۔”
ذکیہ بیگم نے تھوڑا رک کر اپنے پراندے میں جڑے بڑے بڑے شیشوں کو غور سے دیکھا۔گول گول شیشوں میں اُن کا سپاٹ سفید چہرہ خوف کی علامت نظر آرہا تھا۔
“پھر کیا ہوا امّی جان جلدی بتائیں ۔”
جازم نے بے چینی سے پہلو بدل کر استفسار کیا ۔
“پھر وہ ہوا جو اکثر کمتر لوگو پر بھروسہ کرنے سے ہوتا ہے ۔”
ذکیہ بیگم نے اپنی تیکھی نگاہیں اُن دونوں کے چہرے پر گاڑ دیں۔
“کیا؟۔۔۔۔۔کیا ہوا ؟”
جیون قالین سے اُٹھ کر اُن کے قریب چلی آئی تھی۔
“پیارے بچو! جوبدصورت دکھتے ہیں ،اُن کے دل کھوٹے ہوتے ہیں اور سوچیں زہریلی۔وہ اپنے ہر عمل سے بدصورتی کو ظاہر کرتے ہیں ۔اُس عام شکل والے نے بھی اپنی اوقات دیکھا دی ۔پیسوں کی لالچ میں دوستی قربان کردی۔آہ۔۔۔اپنے سچّے دوست اور مالک کو دریا میں دھکا دے دیا ۔خوبصورتی چلائی اور دریا میں ڈوب گئی جبکہ بدصورتی کنارے پر کھڑی ہنستی رہی۔”
ذکیہ بیگم کھڑکی کی طرف جاتے ہوئے جھوٹ موٹ کی آبدیدہ ہوئیں ۔جازم اور جیون کا منہ دہشت اور حیرانی سے کھل گیا تھا۔
“میرے بچو! اِس چھوٹی سی کہانی میں ایک بڑا سبق ہے ۔کبھی بدصورت لوگو سے دوستی نہ کرنا۔وہ جتنے اوپر سے برے ہوتے ہیں اُتنے ہی اندر سے خطرناک۔”
ذکیہ بیگم نے آزاد پردوں کو باندھ کر گہری سانس خارج کی، لیکن ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اُن کے سلگتے من کو پرسکون کرنے میں ناکام ہوگئے۔
“مگر ہماری ٹیچر تو کہتی ہیں انسان کی بدصورتی میں اُس کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔وہ کہتی ہیں انسان نیکی تب کرتا ہے جب دل کا اچھا ہو اور گناہ تب کرتا ہے جب دل کا بُرا ہو۔وہ کہتی ہیں ضروری نہیں کہ جو لوگ خوبصورت نظر آتے ہوں وہ دل کے بھی صاف ہوں اور جو عام سے دکھتے ہوں وہ دل کے بُرے ہوں۔وہ ہمیں سیکھاتی ہیں انسان کو اُس کی شکل سے نہیں اعمال سے پہچاننا چاہیے۔”
جیون کہانی سے اتفاق نہ کر پائی تو کلاس میں رٹی رٹائی باتیں تیزی سے دہرانے لگی۔
“ہاں امّی جان ! ٹیچر نائلہ یہی کہتی ہیں کہ اچھی صورت پر غرور نہیں کرنا چاہیے اور عام سی شکل کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔”
جیون کی طرح جازم بھی اپنی یاداشت کو ٹٹولتے ہوئے دو جملے بولا۔
ذکیہ بیگم نے پلٹ کر اُن دونوں کو آگ برساتی نظروں سے دیکھا۔کچھ پل کے لیے اُن کے اندر ایک طوفان سا اُٹھا۔اُنھیں لگا جیسے وہ جیتی ہوئی بازی ہار رہی ہیں۔
“غلط کہتی ہیں وہ۔۔۔جھوٹ بولتی ہیں۔۔۔نہ وہ میرے جتنی سمجھدار ہیں نہ تجربہ کار ۔۔۔وہ ابھی سیکھ رہی ہیں ۔۔۔میں سیکھ چکی ہوں۔۔۔وہ لوگوں کو جان رہی ہیں ۔۔۔میں جان چکی ہوں۔۔۔تمھیں میری باتیں سننی ہیں ۔۔۔سمجھنی ہیں ۔۔۔اور یاد رکھنی ہیں۔”
ذکیہ بیگم نے بلند کانپتی آواز میں جیسے اُنھیں حکم سنایا۔وہ دونوں ناچاہتے ہوئے بھی اثبات میں سر ہلانے لگے ۔
“اِدھر آئو میرے پاس ،دیکھو کھڑکی سے باہر ۔”
اگلے حکم پر وہ فوراً اُن کے پاس چلے آئے تھے۔
“دیکھو! سیاہ رات کو۔۔۔رات کے رنگ کو۔۔۔ستارے بھی ہیں چاند بھی ہے۔۔۔پھر بھی تم دونوں اِس رات سے ڈرتے ہو۔۔۔ایسے ہی بگڑی شکلوں والے جتنے بھی اچھے بن جائیں اُن سے خوف آتا ہے ۔”
“بتائو جیون رات کا رنگ کیسا ہے ؟”
ذکیہ بیگم نے جذبات پر قابو پاتے ہوئے دھیمی آواز میں پوچھا۔
“رات کالی ہے ۔”
جیون جھٹ سے بولی۔
“اب تم بتائو جازم سیف کی رنگت کیسی ہے ؟”
اُن کا لہجہ مزید نرم ہوا۔
“سیف ۔۔۔سیف بھی کالا ہے۔”
جازم نے ایک پل کے لیے سوچا پھر اٹکتے اٹکتے کہہ گیا۔
“باہر اندھیری رات ہے او ر چمکتی بجلی کی آنکھ مچولی ،اگر تم غلطی سے بھی سیف سے ٹکرا گئے تو تم ڈر جائو گے۔ میں جگنی بوا سے کہتی ہوں وہ تم دونوں کو تمھارے کمروں تک چھوڑ آئے۔”
ذکیہ بیگم کا انداز ایسا تھا کہ جازم اور جیون کا چہرہ خوف سے زرد پڑ گیا۔اِدھر اُدھر ڈگمگاتا تیر آخر نشانے پر لگ چکا تھا۔۔۔۔۔۔
*****
نفرت کی آگ لگائے ہوئے ہیں لوگ
مہرو وفا کا درس بھلائے ہوئے ہیں لوگ
وہ دونوں روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ سے نہ مانے تو وہ اُنھیں یونہی اپنے حجرے میں بلانے لگیں۔کبھی کسی واقعے کبھی کسی کہانی کے ذریعے وہ اُنھیں نفرت کے وجود سے متعارف کرواتیں ،وہ وجود جس کی عمر اُنھوں نے خود متعین کی تھی کہ انسان مر جائے پر یہ نفرت کا وجود جیتا جاگتا رہے۔ پہلے پہل جازم اور جیون اُن کی باتوں سے گھبراتے تھے ۔۔۔اُنھیں قبول کرنے سے انکار کرتے تھے۔۔۔سامنے کوئی دلیل رکھتے تھے۔۔۔پھر وہ اِن باتوں کے عادی ہوگئے۔۔۔اُنھیں لگنے لگا کہ وہ سچ بولتی ہیں۔۔۔بلکہ اُنھیں اُن سے زیادہ اور کوئی سچّا دِکھتا ہی نہ تھا۔نفرت کا زہر زبردستی پیا جائے یا خوشی خوشی اثر ضرور کرتا ہے ،لیکن خوشی سے پیے جانے والے زہر کا اثر دیرپا ہوتا ہے کیونکہ اُس میں زہر پینے والے کی اپنی رضا اور خواہش شامل ہوتی ہے۔
جازم اور جیون بھی آہستہ آہستہ سیف کو ناپسند کرنے لگے ۔۔ ۔نہ وہ اب اُس کے ساتھ کھیلتے نہ بات کرتے بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ اُن کا رویہ جارحانہ ہوتا جارہا تھا۔۔۔وہ اُس پر بدصورتی کے فقرے کستے ۔۔۔اُس کی چیزیں خراب کر دیتے ۔۔۔اُس کی کتابیں پھاڑ دیتے۔۔۔اُس کا مذاق اُڑاتے اور خوب ہنستے۔۔۔سیف شروع شروع میں بہت روتا ۔۔۔اُنھیں منانے کی کوشش کرتا۔۔۔اُن کے ساتھ کھیلنے کے لیے اُن کی منت کرتا ۔۔۔آخر ہر وقت کی بے عزتی کے بعد وہ سمجھ گیا کہ اُس کا جو قصور ہے اُس کی سزا کبھی ختم نہیں ہوسکتی اور اُس کا قصور اُس کی دانست میں بدصورتی تھا۔
یہ سچ ہے کہ بچپن میں دیا جانے والا سبق جوانی تک یاد رہتا ہے ۔بچے وہ معصوم پودے ہوتے ہیں جنھیں اگر محبت کی زمین میں بویا جائے تو اُن کا کردار اچھائیوں کی خوشبو سے مہکتا ہے اور اگر اُن کی نشوئونما نفرت کی زمینوں میں کی جائے تو اُن کے کردار سے برائیوں کی جڑیں پھوٹتی ہیں۔ذکیہ بیگم نے بھی محرومیوں کی مٹی منتخب کی تھی ،جلن کا آب چھڑکا تھا ۔وہ دن با دن پھل پھول رہے تھے،بڑھ رہے تھے ،وہ مستقبل میں پھول نہیں کانٹے بننے والے تھے اور وہ یہی تو چاہتی تھیں۔
اُن کے ارادے کامیاب ہورہے تھے ۔اُن کی خوشی دیدنی تھی ۔وہ جب جب زیادہ خوش ہوتیں تو اپنی سوتیلی ماں سے ساری عداوتیں بھلا دیتیں ۔اُن کی عجیب و غریب حرکتیں دیکھ کر رقیہ ناز کو کبھی غصہ تو کبھی ترس آتا۔اُن کے نزدیک ذکیہ بیگم وہ پاگل جیونی عورت تھی جس نے غیر کے بچے کا دل دکھانے کے لیے اپنے بچے کا استعمال کیا تھا بغیر سوچے سمجھے کہ مستقبل میں اِس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔کئی بار رقیہ ناز کا دل کیا کہ وہ ارشد خان کو ایک ایک بات سے آگاہ کر دیں ،مگر پائوں میں بندھی مجبوری کی بیڑیوں نے اُنھیں ہر بار روک دیا ۔آہستہ آہستہ وہ بھی اِس کھیل کی خاموش تماشائی بن گئیں، کیونکہ دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر رکھنا اُنھیں گوارا نہیں تھا۔
*****
دل آئینہ ہے مگر اک نگاہ کرنے کو
یہ گھر بنایا ہے اُس نے تباہ کرنے کو
گلِ وصال ابھی دیکھا نہ تھا کہ آپہنچی
شب فراق بھی آنکھیں سیاہ کرنے کو
دروازے پر دی جانے والی دستک چاروں طرف گونج رہی تھی۔۔۔اُسے یہ غصیلی بھاری ٹھک ٹھک اپنے دل پر محسوس ہونے لگی۔۔۔صاحبہ۔۔۔صاحبہ۔۔۔دروازہ کھولو۔۔۔دروازہ کھولو۔۔۔آواز آگے بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔وہ خوف سے پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔سوچ بے قابو ہوئی تو اُس نے منہ پر ہاتھ رکھ لیے ۔۔۔ اُسے لگا وہ اِتنا طاقتور ہے کہ بند دروازے کو بھی پار کرلے گا ۔۔۔اُسے لگا وہ ابھی آ کر کوئی سخت سزا سنائے گا ۔۔۔اُس کے ہاتھوں میں رسّیاں پہنا دے گا۔۔۔اُس کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دے گا۔۔۔صاحبہ ۔۔۔صاحبہ ۔۔۔بلند آواز سلگتی ہوئی ،چبھتی ہوئی ،کاٹنے والی ۔۔۔اچانک دروازہ کھل گیا گیا۔۔۔نجانے کیسے کھلا۔۔۔دروازہ ٹوٹ گیا۔۔۔یا توڑا گیا۔۔۔وہ آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔وہ سمٹتی ہوئی دیوار سے جا لگی ۔۔۔گرم اُبلتی سانسیں اور قریب آئیں ۔۔۔اُس کا سانس لینا دشوار ہوگیا۔۔۔وہ برف کی بن چکی تھی ۔۔۔اُس نے آنکھیں بند کرلیں ۔۔۔اُسے لگا یہ سانسیں اُس کی سانسیں چھین لے گیں ۔۔۔اُسے لگا وہ اب اُسے خود میں یوں جکڑ لے گا۔۔۔کہ اُس کا دل باہر نکال دے گا۔
“یہ کیا بچکانہ حرکت تھی صاحبہ ؟تم جانتی ہو کہ تم صرف اوپر بھاگ کر نہیں آئی بلکہ میری عزت روند کر آئی ہو۔سارے نوکروں کے سامنے بے عزت کیا ہے تم نے مجھے۔”
وہ اُس کی نازک ٹھوڑی مضبوط ہاتھ کے شکنجے میں دبوچ کر چلایا ۔
آنکھوں کے لال ڈورے بتا رہے تھے اُس کے اندر لہو کی بوند بوند طیش میں ہے ۔
“بولو ۔۔۔میں کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔۔کیوں کیا تم نے ایسا؟”
اُس کے ہاتھ کی گرفت اورمضبوط ہوئی۔صاحبہ نے تکلیف سے آنکھیں کھول دیں ۔آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے ۔
“کیا یہ سب نوکر ہیں؟ ”
وہ تھوک نگل کر بامشکل بولی ۔
“تو تمھیں کیا لگتا ہے یہ سب چڑیلیں یا جن بھوت ہیں۔”
وہ اِس بھولے پن پر مزید تپّا۔
وہ مبہوت سی کچھ دیر اُسے دیکھتی رہی جیسے کچھ سمجھ گئی ہو،جیسے کچھ کہنے کا حوصلہ جمع کر رہی ہو۔
“یہ سب کیا ہے؟ یہ سب کون ہیں ؟ تم کیوں لائے ہو مجھے یہاں ؟میں ایسے گھرمیں نہیں رہ سکتی ۔۔۔میں یہاں نہیں رہ سکتی۔”
وہ اُسے گریبان سے پکڑ کر صدمے سے چیخی ۔اب وہ مکمل ہوش میں آچکی تھی ۔۔۔دل پریشان تھا۔۔۔دماغ اُلجھ رہا تھا۔۔اُسے یقین ہونے لگا کہ وہ وہی ہے۔۔۔اُس کا محبوب ۔۔۔اُس کا شوہر۔۔۔مگر اِتنا اجنبی۔۔۔اِتنا پرایا۔۔۔اِتنا ظالم۔۔۔
“خاموش ہو جاؤ،خبردار ! جو تم نے یہ ڈرامہ اِس کمرے سے باہر کیا ۔”
اُس نے جھٹکے سے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی کی ۔وہ چکراتے ہوئے پیچھے دیوار سے جالگی تھی۔
“یہ دھوکہ ہے ،تم یہ دھوکہ نہیں کرسکتے، تم نے کہا تھا صرف ہماری دنیا ہوگی ،صرف تمھاری اور میری ،ہماری دنیا میں اِتنے لوگ نہیں آسکتے، اور اِتنے بدصورت بالکل نہیں آسکتے۔”
وہ آہستہ آہستہ فرش پر گرتے ہوئے بے یقینی سے سر ہلانے لگی۔
“مسلسل صدموں اور دھتکار نے تمھارا دماغ خراب کر دیا ہے۔ہر گھر میں نوکر ہوتے ہیں اور ہر گھر میں اُس کی شان اور ماحول کے مطابق نوکر رکھے جاتے ہیں۔بہتر ہے خود کو سنبھالو۔اِتنا اور ری ایکٹ مت کرو۔”
وہ اُسے انگلی کے اشارے سے سرزنش کرتے ہوئے صوفے پر اطمینان سے بیٹھ چکا تھا۔
“اِن ہیبت ناک چہروں سے کہو چلے جائیں ۔۔۔تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔۔تم میرا اِتنا بڑا امتحان نہیں لے سکتے۔۔۔تم بہت اچھے ہو ۔۔۔تم یہ نا انصافی نہیں کر سکتے۔۔۔تم جانتے ہو مجھے خوبصورتی اچھی لگتی ہے۔۔۔تم بھی خوبصورت ہو۔۔۔میں بھی خوبصورت ہوں۔۔۔پھر یہ لوگ یہاں کیوں ہیں۔۔۔انھیں اِن جیسے لوگو کے ساتھ ہونا چاہیے۔۔۔کہو یہ لوگ چلے جائیں گئے ۔۔۔کہو تم اِنھیں بھگا دو گے۔”
وہ بھاگتی ہوئی اُس کے پاس آئی اور محبت بھرے لہجے میں التجا کرتے ہوئے سسک پڑی۔
“محبت کا اِس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔اِس حویلی کے کچھ اُصول کچھ ریت رواج ہیں ۔تمھیں اُنھیں ماننا ہوگا ۔سب سے پہلے خود کو نارمل کرو ،اِس بات کو مانو کہ یہ سب اِنسان ہیں اور اِس بات کو قبول کرو کہ یہ سب اب یہی رہیں گے ،ہمارے ساتھ۔”
وہ اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دو ٹوک انداز میں بولا۔
صاحبہ نے اِک نظر اُسے مایوسی سے دیکھا اور دور سرکتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ بڑے کمرے میں گونجتی اُس کی اونچی اونچی کرب ناک سسکیاں پورے ماحول کو سوگوار کر رہی تھیں۔اپنے پیچھے ساری کشتیاں وہی لڑکیاں جلاتی ہیں جو محبت کے سمندر میں پور پور ڈوب چکی ہوں ۔وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ جس سمندر میں خوشی خوشی اُتر رہی ہے اُس کا توکوئی کنارہ ہی نہیں۔وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے کچھ دیر خاموشی سے سوچتا رہا۔ آخر اُسے احساس ہونے لگا کہ یہ وقت اتنی زیادہ سختی کرنے کے لیے مناسب نہیں۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور آکر اُس کے پاس زمین پر بیٹھ گیا۔
“جانتی ہو صاحبہ !پھولوں کے گرد کانٹوں کا گھیرا کیوں ہوتا ہے؟ اُن کی خفاظت کے لیے، سرد گرم ہواؤں سے بچانے کے لیے۔یہ کانٹے پھول مسلنے والوں کو کچھ پل کے لیے ڈرا دیتے ہیں اور کبھی کبھی پھول توڑنے والے کی بے دھیانی میں اُنھیں کاٹ بھی لیتے ہیں۔”
وہ اُسے باہوں میں تھام کر بیڈ پر لیٹاتے ہوئے نرم لہجے میں کہہ رہا تھا۔اُس وقت اُس کی آنکھیں غصّے سے لال نہیں بلکہ محبت سے مخمور تھیں۔
“تم اِس دنیا کی سب سے حسین لڑکی ہو۔یہ بدصورت فوج تمھارے حُسن کی پہرے دار ہے ۔یہ وہ نوکیلی دیواریں ہیں جو نہ کسی کو تمھیں چرانے دیں گیں ،نہ تمھیں بھاگنے دیں گیں۔”
آخری بات کرکے وہ خود بھی فتح کے احساس سے مسکرایا۔محبت کے دیوتا کی ہنسی میں جھلکتی شیطانیت دیکھ کر وہ اندر تک کانپ اُٹھی تھی۔
*****
زندگی میری مجھے قید کئے دیتی ہے
اُس کو ڈر ہے میں کسی اور کا ہو سکتا ہوں
قید اور آزادی کے بھی کئی درجے ہوتے ہیں۔۔۔ بڑی قید کو چھوٹی قید غنیمت لگتی ہے ۔۔۔اور تھوڑی آزادی کو زیادہ آزادی کی خواہش رہتی ہے ۔۔۔اُس نے بس قید کا نام سنا تھا ۔۔۔وہ قید کے دل گیر نغموں سے واقف نہیں تھی ۔۔۔اُس نے تو صرف آزادی سے نظریں ملائی تھیں ۔۔۔اُس کا دل تو بس آزادی کے گیت جانتا تھا۔۔۔اُسے ہر طرح کی آزاد ی ملی تھی ۔۔۔لیکن اُسے لگتا تھا یہ آسمان کا ایک حصّہ ہے۔۔۔اُسے پورے آسمان کی آرزو تھی ۔۔۔وہ پورے آسمان میں اڑنا چاہتی تھی ۔۔۔اور پورے آسمان کی چاہ اُسے زمین کے اُس کونے پر لے آئی جہاں سے آسمان دکھتا ہی نہ تھا ۔۔۔وہ زمین کا وہ تنگ کونا تھا جہاں رسموں رواجوں ،انا اور غرور کی مضبوط چھتیں اور دیواریں تھیں ۔۔۔ وہ محبت کی انگلی تھام کر اُس جہاں آچکی تھی۔۔۔جہاں محبت پورا ہاتھ دینے کو تیار نہ تھی۔۔۔اب اُسے جینے کے لیے یہ انگلی تھامے رکھنی تھی ۔۔۔وہ اِسے چھوڑ کر بھاگتی تو پیچھے نہ کوئی قبول کرنے والا تھا نہ آگے کوئی سہارا دینے والا۔۔۔اب اُسے یہی رہنا تھا۔۔۔اُس کے پاس اور کوئی راستہ ہی نہ تھا۔
رنگ ہی سے فریب کھاتے رہیں
خوشبوئیں آزمانا بھول گئے
دو دن میں اُس نے اِس شخص کے اِتنے رنگ دیکھے تھے کہ پچھلے چار مہینوں کے سارے رنگ جھوٹے لگنے لگے ۔وہ جیسے بول رہا تھا وہ ایسے بولتا نہیں تھا۔وہ جیسے ہنس رہا تھا وہ یوں ہنستا نہیں تھا۔وہ جیسے حکم دے رہا تھا وہ ایسے حکم سناتا نہیں تھا ۔وہ سمجھتی تھی کہ وہ اُسے جانتی ہے ،مگر وہ کس قدر پردے میں تھا،کس قدر مبہم ،کس قدر چھپا ہوا۔اُس کی باتیں ،اُس کی سوچ،اُس کے خیالات کچھ بھی پہلے سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔خوف اور صدمہ اُس کے حواس پر یوں سوار ہوا کہ وہ دو دن کمرے سے نہ نکل سکی۔کبھی محبت دیوانگی کو چھونے لگتی تو وہ سوچ کر خوش ہو جاتی کہ اُس کے لیے بنائے گئے اصولوں میں ترمیم کی گنجائش ہے ،اور کبھی وہ اتنا اجنبی بن جاتا کہ اُسے کمرے سے باہر لوگوں کو اپنانے پر مجبور کر دیتا۔آخر اُسے ڈر کے سامنے لگائی گئی کنڈی کھولنی ہی پڑی۔یہ کس طرح کی دنیا تھی ؟یہ کیسے لوگ تھے؟ نہ کوئی بولتا تھا نہ ہنستا ۔وہ سب کو خوفزدہ نظروں سے دیکھتی اور سب اُسے اجنبیوں کی طرح نظر آتے۔کچھ دنون تک وہ جان گئی کہ وہ سب کٹھ پتلیاں ہیں اور ایک ظالم حکمران اُن کے گلے پر بندھی ڈور کھینچ کر اُنھیں ناچنے پر مجبور کر رہا ہے۔اُسے بھی ایک کٹھ پتلی بننے کا حکم دیا گیا تھا ۔۔۔اُسے بھی ایک کٹھ پتلی بننا تھا مگر وہ اِس تماشے میں شامل سب عورتوں سے حسین تھی ۔۔۔۔بے حد حسین۔
“شاید آپ کو علم نہیں سورج چھپ چکا ہے۔۔۔ہوا میں ٹھنڈک بڑھ گئی ہے ۔۔۔اور گھاس پر شبنم اُتر آئی ہے۔۔۔چھوٹے صاحب دیکھیں گے تو ناراض ہونگے۔۔۔اپنے کمرے میں چلی جائیے۔”
اُس کے عقب میں گھبرائی ہوئی جانی پہچانی آواز اُبھری۔
اُس نے یکدم آنکھیں کھول دیں ۔وہ گھاس پر بیٹھی ہوئی تھی۔ نجانے وہ کب سے یہاں بیٹھے کیا کیا سوچ چکی تھی ،مگر کوئی اُسے خیالوں کی دنیا سے واپس بلانے آیا تھا،اور وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ کون ہے ۔آنے والے کے کہنے کامطلب یہی تھا کہ آزادی کا ایک اور دن ختم ہو چکا ہے ۔مرضی سے گھومنے پھرنے اور سانس لینے کی مہلت تمام ہو چکی ہے۔اُس نے پلٹ کر دیکھا ۔شام کے پھیلتے اندھیرے میں چاچی شگو کا دودھیا لباس مزید چمک رہا تھا۔وہ ہمیشہ کی طرح اُسے بھٹکتی ہوئی روح لگیں،لیکن اُس کا ڈر اب قدرے کم ہو چکا تھا۔
“آپ جائیے ،میں آرہی ہوں۔”
وہ خشک بدمزہ لہجے میں بولی۔
“جی بہتر ۔۔۔مگر دیر مت کیجیے گا ۔”
چاچی شگو ایک گہری نظر اُس کے حلیے پر ڈال کر تنبیہہ کرتی ہوئی چلی گئیں۔
اُس نے خود کو چھو کر دیکھا ۔سر پر کچھ نہیں تھا۔ہاتھوں پر جگہ جگہ مٹی کے نشان تھے۔اُس کی گرم شال گھاس پر بکھری ہوئی تھی۔ریشمی سیاہ شرارہ شبنم کے قطروں سے بھیگ چکا تھا۔اُس نے اوپر سر اُٹھایا تو حویلی کی ساری بتیاں ایک ایک کر کے جلنے لگیں ۔سرد ہوا نے چاروں اُور سے چھوا تو وہ خود سے اچھی طرح شال لپیٹ کر اُٹھ کھڑی ہوئی ۔بکھرے بالوں کو ہاتھ سے سنوارتے ہوئے وہ اندر کی طرف تیز تیز چلنے لگی ۔آج پھر اُنھیں رات کا کھانا ساتھ کھانا تھا۔ اِس لیے وہ اُس سے پہلے کھانے کی میز پر پہنچنا چاہتی تھی۔
*****
وہ ڈھنڈے چکنے فرش پر مٹی لگے پاؤں سے تقریباً دوڑ رہی تھی۔ راستے میں سترہ کمروں کا ٹکراؤ سات سمندر پار کرنے جیسا تھا۔اُس کے پاس اِتنا وقت نہیں تھا کہ وہ اپنا حلیہ درست کرسکتی۔ اُس کی بکھری زلفیں ،گیلے کپڑے ،مٹی اُڑاتی شال یہ ظاہر کر رہے تھے کہ وہ کسی چھوٹی بچی کی طرح سارا دن کھیلتی رہی ہے ۔اِس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ صبح سے شام تک یادوں سے کھیلی تھی اور اِس کھیل نے اُسے بے تحاشا تھکا دیا تھا۔وہ ہانپتے ہانپتے مطلوبہ کمرے کے دروازے تک پہنچ گئی۔دروازہ کھلا ہوا تھا اور وہ سامنے کرسی پر بیٹھا اُسی کا ہی منتظر تھا۔
“تمھیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ سات بجنے والے ہیں ۔کہاں تھی تم؟”
وہ دونوں کہنیاں میز پر ٹکائے رعب دار آواز میں پوچھ رہا تھا۔
“بہت دنوں بعد باہر کاموسم دیکھا ۔چلتے چلتے لان میں پہنچ گئی۔گھاس پر بیٹھی اور کھو گئی ۔پھر نجانے کیا ہوا ؟شاید میں سو گئی تھی۔”
صاحبہ نے کرسی پر سمٹ کر بیٹھتے ہوئے دیر سے پہنچنے کی تھوڑی بہت صفائی دی۔
“پورا ہفتہ سونے کے لیے کم نہیں ہوتا۔تم اچھی طرح جانتی ہو کہ ہم ہفتے بعد ساتھ کھانا کھاتے ہیں ،اگر میں یہ عنایت روز کرنے لگو تو شاید تم اور زیادہ لاپرواہ ہو جاؤ۔وقت کی پابندی کرنا سیکھو ورنہ وقت مشکل ہوجاتا ہے۔”
وہ بالکل اُسے ایسے ڈانٹنے لگا جیسے چھوٹے بچے کو ڈانٹا جاتا ہے۔
عشق میں پینے کا پانی بس آنکھ کا پانی
کھانے میں بس پتھر کھائے جا سکتے تھے
وہ کھانا شروع کر چکا تھا ۔صاحبہ نے مزید کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ اُس کی بے عزتی کی گئی تھی سوال نہیں پوچھا گیا تھا۔وہ کچھ دیر اُسے اور کھانے سے بھری میز کو دیکھتی رہی اور بالآخر
چند نوالوں کے ساتھ کھیلنے میں مگن ہو گئی۔
“تو کیسا گزرا آزادی کا ایک اور دن ؟”
خلافِ توقع اُس نے کچھ خوش مزاجی سے پوچھا۔
صاحبہ نے استعجاب سے اُس کی طرف دیکھا ۔وہ اُس کے بدلتے موڈ پر ہمیشہ حیران ہوتی تھی۔موسم چار تھے ،لیکن اُس کاموڈ موسموں کو بھی مات دے گیا تھا۔ایک پل میں وہ چیختا چلاتا تو دوسرے پل مصنوعی ہمدردی اُوڑھ لیتا ۔ایک لمحے نفرت کا واضح اظہار کرتا تو دوسرے لمحے محبت کو کچھ موقع دے دیتا۔
حصار ذات کے دیوار و در میں قید رہے
تمام عمر ہم اپنے ہی گھر میں قید رہے
“عارضی آزادی مستقل قید سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔یہ ایسی قید ہے جو انسان کو اپنے ہی گھر میں پابندیوں کی زنجیروں سے جکڑ لیتی ہے ۔سب کچھ ہو کر بھی کچھ اپنا نہیں ہوتا۔انسان خوش ہونے کا بس سوچ سکتا ہے۔خوش ہو نہیں سکتا۔”
صاحبہ کے چہرے پر دکھ اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات تھے۔
“قید ! کونسی قید؟ تم اِسے قید کہتی ہو۔یہ قید ہوکر بھی قید نہیں ۔تم اِس حویلی کی مالکن ہو۔اتنی نعمتیں تمھارے سامنے ہیں ۔ ضرورت کی ہر چیز تمھارے پاس ہے ۔تمھارا کھانا، تمھارا پہننا، تمھارا رہنا سب عالیشان ہے۔ سارے نوکر تمھاری خدمت پر مامور ہیں۔تم ہر کام ہر ذمہ داری سے دستبردار ہو۔یہ تمھاری بے قدری ہے ایسی شہزادیوں جیسی زندگی تو کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔”
وہ اُس کے جواب پر تیوری چڑھاتے ہوئے خاصا برہم ہوا۔
“شہزادیوں جیسی زندگی ؟ کیا شہزادی اور قیدی میں کوئی فرق نہیں ؟بتاؤ مجھے کیا کوئی فرق نہیں؟”
صاحبہ نے سٹیل کا خوبصورت چمچ مٹھی میں دبوچتے ہوئے بے خوف ہو کر پوچھا ۔
“قیدیوں کو اتنی راحتیں نصیب نہیں ہوتیں جتنی تمھارے پاس ہیں۔تمھارے پاس وہ سب کچھ ہے جس کاخواب ہزاروں لڑکیاں دیکھ رہی ہیں۔”
اُس نے اپنا پسندیدہ مشروب ہونٹوں سے ٹکرا کر اُسے اُس کی ناشکری کا مزید احساس دلایا۔
وہ اُس کے اِس رویے کا کچھ عادی تھا ۔وہ جانتا تھا کہ کبھی کبھار دل کی بھڑاس نکالنے کے علاوہ وہ کچھ نہیں کر سکتی۔
“مجھے یہ سب نہیں چاہیے۔”
صاحبہ کی آواز میں مزید تلخی بڑھی ۔
“پھر کیا چاہیے تمھیں ؟”
اُس نے ٹشو پیپر مسلتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔
“تم ایسا کرو مجھے سے اِس کھلے احاطے میں جھاڑو لگواؤ۔۔۔مجھ سے طرح طرح کے کھانے پکواؤ۔۔۔اپنے سب چھوٹے بڑے کام میرے حوالے کردو۔۔۔ مجھے نوکرو ں والا ہر کام قبول ہے۔۔۔مجھے میری جگہ نہیں چاہیے ۔۔۔مجھے آزادی سے سانس لینے کا اختیار چاہیے۔”
صاحبہ کی آواز جذبات کی شدت سے رندھ گئی تھی۔
“تم شہزادی ہو ،تمھیں یہ سب زیب نہیں دے گا۔”
وہ اُس کے آنسو نظر انداز کرتے ہوئے استہزائیہ انداز میں بولا۔
“نہیں ہوں میں شہزادی ۔۔۔میں باندی ہوں ۔۔۔ جو نہ اپنی مرضی سے کسی سے ہنس بول سکتی ہے۔۔۔جو نہ اپنے حق سے کہیں آجا سکتی ہے ۔۔۔جو نہ اپنی خوشی سے جی سکتی ہے۔۔۔جو نہ تم سے محبت کا تقاضا کر سکتی ہے۔۔۔جو نہ اپنی مری ہوئی چاہت کو زندہ کرسکتی ہے۔”
بولتے بولتے اُس کے رونے کی شدت میں تیزی آگئی تھی۔
“تم جیسے حسین لوگ پنچھیوں کی طرح ہوتے ہیں ۔۔۔بے چین پھڑپھڑاتے ہوئے پنچھی ۔۔۔جن کے لیے مضبوط پنجرے بنانے پڑتے ہیں۔۔۔تمھیں قید نہیں رکھا گیا اِس لیے تم اڑ کر میرے پاس چلی آئی۔۔۔ یہ قید تمھارے لیے ضروری ہے۔۔۔ تاکہ تم یہ حماقت پھر نہ کرو۔”
وہ تلخ و ترش لہجے میں اُس کی کردار کشی کر گیا تھا ۔
صاحبہ نے نم پلکیں اوپر اُٹھائیں ۔اِس بے اعتباری پر وہ کلس کر رہ گئی تھی۔اِس سے پہلے وہ اپنے کردار کے دفاع میں کچھ کہتی وہ کرسی پیچھے سرکاتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا ،جس کا مطلب یہ تھا کہ کھانے اور باتوں کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔
*****
میرے اعصاب معطل نہیں ہونے دیں گے
یہ پرندے مجھے پاگل نہیں ہونے دیں گے
وہ کھڑکی سے پرندوں کو آزاد اُڑتا دیکھتی تو سوچتی۔۔۔ اِن میں سے بہت سے پرندوں کو قید کیا گیا ہوگا۔۔۔اُن کے پر باندھ دیئے گے ہونگے ۔۔۔شاید کبھی کسی ستمگر کو ترس آیا ہو۔۔۔ کہیں تو کوئی پنجرہ کھولا گیا ہوگا ۔۔۔ہوسکتا ہے کچھ پرندوں کو قید راس آگئی ہو۔۔۔ممکن ہے کوئی ظالم مہربان ہوگیا ہو ۔۔۔امکان ہے پرندے کو اُس سے اور پنجرے سے محبت ہو گئی ہو۔۔۔پرندوں کو دیکھ کر وہ عجیب عجیب باتیں سوچتی ۔۔۔اُسے اپنا آپ بھی اُس زخمی چڑیا کی طرح لگتا ۔۔۔جس کے نصیب میں آزادی مشکل تھی۔۔۔اُسے رو کر یا ہنس کر اپنے مالک اور پنجرے سے دل لگانا تھا۔
اُن کی شادی کو تین ماہ ہونے والے تھے اور یہ سارا وقت اُس نے کبھی خاموشی سے سوگ مناتے اور کبھی لڑتے جھگڑتے گزار دیا تھا۔وہ ایک بات تسلیم کر چکی تھی کہ وہ واپس مڑ کر نہیں جاسکتی۔وہ سمجھ گئی تھی کہ اُسے یہی زندگی گزارنی ہے ،مگر وہ اِس زندگی کو گزارنے کے قابل بنانا چاہتی تھی۔اُس نے چند دن خود کو فراموش کر کے اپنے شوہر کی حرکات کا جائزہ لیا تو اُس پر کئی اور انکشافات ہوئے۔سیگریٹ مہ نوشی کے علاوہ اُس میں اور بھی کئی بُری عادتیں تھیں۔ وہ اُس کی ہر سختی جھیل رہی تھی ،لیکن اُس کا اتنا بیباک ہونا صاحبہ کو گوارا نہ تھا۔
“مجھے تمھارا غیر عورتوں کے ساتھ گھومنا پھرنا ، اُن کے ساتھ پارٹیز میں جانا بلکل پسند نہیں۔ میں نے تمھاری ہر پابندی قبول کی ہے ،لیکن یہ بے شرمی نہیں سہہ سکتی۔”
اُسے آج پھر بھرپور طریقے سے تیار ہو کے کہیں جاتا دیکھ کر وہ آپے سے باہر ہوئی۔
“یہ وڈیروں کے شوق ہیں صاحبہ۔دل کا پورا باغیچہ تمھارا ہے، اب اِتنا تو جائز ہے کہ چند تتلیاں اِرد گرد منڈلا لیں۔”
اُس نے گلدان سے ایک سوکھا پھول صاحبہ کی طرف بڑھاتے ہوئے اُس کی بات ہنسی میں اُڑائی۔
“تم کیسے انسان ہو ۔تم دوسروں کے کردار کو میلا ہونے سے بچانے کے لیے اُن پر پہرے بیٹھاتے ہو۔اور اپنے کردار پر کھلم کھلا ملّی جانے والی کیچڑ تمھیں نظر نہیں آتی ۔”
وہ پتی پتی بکھیرتے ہوئے بلند آواز میں جھٹپٹائی۔
“بند کرو یہ بکواس ۔۔۔تمھارے پاس اِس خوبصورتی کے علاوہ کچھ نہیں۔۔۔تمھارے یہ گستاخ تیور یہ لمبی زبان میں ہر وقت نہیں برداشت کرسکتا ۔۔۔کم عقل لڑکی تمھاری یہ بد زبانی تمھاری سزاؤں کو بڑھا رہی ہے۔۔۔۔خود کو سنبھالو ! اِس سے پہلے کہ لگامیں اور کسّ دی جائیں۔”
وہ اُس کے بالوں کو سختی سے مٹھی میں جکڑ کر دھمکی آمیز لہجے میں غرّایا۔ایک ٹیس پورے بدن میں یوں دوڑی کہ صاحبہ میں کچھ کہنے کی ہمت نہ رہی۔
وہ زور سے دروازہ بند کر کے جا چکا تھا۔وہ وہی گم سم کھڑی اُس کے آخری لفظوں کو سوچتی رہی ۔
“وہ ٹھیک ہی کہتا ہے میں بہت بدتمیز ہو چکی ہوں۔میں شادی کے پہلے دن سے ہی اُس سے لڑ رہی ہوں۔میں کچھ وقت کے لیے یہ قبول کرکے عقل سے کام کیوں نہیں لیتی کہ وہ ایک ذہنی مریض ہے ۔ اگر اُس کی بے شمار پابندیاں ناجائز ہیں تو میرے ہر وقت کے شکوے بھی غلط ہیں۔ایسے انسانوں کو زبان کی تلوار سے نہیں محبت کے وار سے مات دینی چاہیے۔ایسے بہکے ہوئے قدموں کو زبان کی کاٹ نہیں باہوں کے ہار روک سکتے ہیں ۔مجھے اُس گمشدہ شخص کو ڈھونڈنا چاہیے ۔مجھے اُس سوئی ہوئی محبت کو جگانا چاہیے ۔مجھے التفات کی انتہا کرنی چاہیے ۔بار بار اپنی الفت کا والہانہ اظہار کرنا چاہیے۔آخر وہ میری محبت کی شدت کے آگے گھٹنے ٹیک دے گا۔جو بھی ہو وہ ایک انسان ہے ،پتھر تو نہیں ۔”
پورے کمرے میں اُس کی خود کلامی گونج رہی تھی۔اِس نئے فیصلے نے اُسے ایک مثبت راہ دیکھائی تھی ۔ اُسے اپنے کمزور وجود میں طاقت کا احساس ہونے لگا۔مرجھایا ہوا دل پھر سے کھلنے کو بے تاب ہوا،بے نور آنکھیں پھر سے خواب دیکھنے پر آمادہ تھیں۔
*****
بدن کی مٹی سے نکال کر
رنجشوں کے کانٹے
روح کی طاق پر رکھ کے
ڈھیروں گلاب ہم
پرانی چاہت کو نئی الفت کے
رنگوں میں رنگ کر
دل اور دماغ کی ختم سازش
کر لیتے ہیں
دل سے اترے ہوئے شخص کا
ہاتھوں میں لے کے ہاتھ
ہر ستم بھلا کے اُسے مان دے کر
اُس کے ساتھ کو پانے کی خواہش
کر لیتے ہیں
یہ محبت زور اور جبر کا
کھیل تو نہیں
پر کچھ دن اِس دل کے خلاف ہو کے
تسلیم کرکے اپنی مات کو ہم
اُسے جیتنے کی ایک ادنی کوشش
کرلیتے ہیں
“یہ لیجیے بی بی جی۔آپ نے جو جو پھول کہے سب توڑ لائی ہوں۔”
چپٹی ناک والی صندل نے پھولوں سی بھری ٹوکری اُس کے سامنے شیشے کی میز پر رکھتے ہو ئے فخریہ اندازسے کہا۔
“شکریہ تم جا سکتی ہو۔”
صاحبہ ایک نظر اُس پر ڈال کر سادہ سے لہجے میں بولی۔
صندل نے اثبات میں سر ہلایا اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔باہر آکر اُس نے یہ خبر چند اور نوکروں کو بھی سنائی۔ اُس سمیت سب ہی حیران تھے کہ آج اُن کی کھڑوس مالکن کو پھول منگوانے کا خیال کیسے آیا۔
وہ کچھ دیر محبت سے پھولوں کو دیکھتی اور سوچتی رہی کہ اُسے کیا کرنا چاہیے۔اُس کے پاس سوچنے اور عمل کرنے کے لیے کافی وقت تھا ۔ہر روز کی طرح وہ آج رات بھی دیر سے آنے والا تھا۔آج وقت ہمیشہ کی طرح تیزی سے نہیں بلکہ دھیرے دھیرے گزر رہا تھا ۔انسان جب کسی کا محبت اور شدت سے انتظار کرتا ہے تو آنے والے کی طرح گھڑی کی سوئیاں بھی اُس کا امتحان لیتی ہیں ۔وہ کمرے میں ٹہلتے ہوئے بار بار گھڑی کی طرف دیکھتی رہی ۔گھڑی پر دو بجتے ہی اُسے مخصوص قدموں کی چاپ سنائی دی ، جو اُس پل دماغ پر ہتھوڑے کی طرح نہیں لگی بلکہ دل کو کسی دھن کی طرح معلوم ہوئی تھی۔اُس نے دھڑم سے دروازہ کھولا توکمرے کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔تازہ خوشبو کے جھونکے بتا رہے تھے کہ اُس کے آنے سے کچھ دیر پہلے ہی پھول گلدان میں سجائے گئے ہیں۔۔۔جگہ جگہ رکھے ٹمٹماتے دیے جتا رہے تھے کہ کسی کی جلتی آنکھوں نے اُس کا شدت سے انتظار کیا ہے۔۔۔مدھم روشنی میں سُر بکھیرتا سریلا گیت اِس بات کی علامت تھا کہ کوئی اُس سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔۔۔ کھڑکی کے پاس کھڑی صاحبہ تو صاحبہ نہ تھی۔۔۔وہ تو کوئی آپسرا تھی۔۔۔کوئی حور تھی ۔۔۔یا کوئی پری۔۔۔گلابی کامدار ساڑھی میں اُبھرتا اُس کا پہلے دن کی دلہن جیسا روپ ساری روشنیوں اور خوشبوؤں کو مات دے رہا تھا۔
“خیر تو ہے تم کسی سے ملنے جارہی ہو یا کوئی تم سے ملنے آرہا ہے ؟ ”
اُس نے ہاتھ میں پکڑا کوٹ بیڈ پر پھینکتے ہوئے حیران کن طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
“میں نے بہت انتظار کیا کہ تم مجھ سے ملنے آؤ گے ، لیکن میں آج خود تم سے ملنے آگئی ۔”
وہ گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹوں کو جنبش دیتے ہوئے کچھ اداسی سے مسکرائی۔
“بہت دیر کی مہرباں آتے آتے۔”
وہ دونوں پیروں کو جوتے سے آزاد کرتے ہوئے کھلکھلا کر ہنسا۔
“تو نہ آیا تو ہم چلے آئے۔”
وہ اُس کے جوتوںکو سائیڈ پر رکھتے ہوئے اُسی کے انداز میں گنگنائی۔
“بندہ اِس سمے آنے کی وجہ دریافت کر سکتا ہے۔”
اُس نے مضحکہ خیز نگاہوں سے اُسے دیکھا ۔
” محبت وجہ اور سمے کی پابند کہاں ہوتی ہے ۔اِس کا جب دل کرتا ہے آجاتی ہے ۔”
وہ شریر لٹوں کو کانوں کے پیچھے چھپاتے ہوئے اُس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
“ساڑھی اچھی ہے ۔”
وہ اُسے سر تا پیر گھورتے ہوئے کنجوسی سے بولا۔
“مگر وہ انسان اِس بناؤسنگھار سے زیادہ اچھا ہے جس کے لیے یہ سب کیا گیا ہے۔”
وہ نظریں چراتے ہوئے کچھ شرمائی۔
“تم ٹھیک تو ہو صاحبہ ؟ آج بہت اچھا بول رہی ہو۔”
وہ باادب حسن کی آواز اور انداز سے محظوظ ہو رہا تھا۔
“یاد ہے میں تم سے ایسے ہی بولتی تھی اور تم بھی ۔میں اُس وقت کو واپس لانا چاہتی ہوں۔میں تم سے بہت ساری باتیں کرنا چاہتی ہوں۔شاید یہ جلدی کی شادی ہمارے بیچ کی بہت ساری باتوں کو نگل گئی ہے۔”
صاحبہ کے لہجے میں پیار بھی تھا اور گزارش بھی۔
“تمھیں تین ماہ بعد خیال آیا ہے کہ تمھیں مجھ سے باتیں کرنی ہیں۔صاحبہ وقت دیکھو !تمھیں کیا لگتا ہے میں اِتنا پاگل ہوں کہ اِس وقت تمھاری احمقانہ باتیں سنوں گا ۔میں اِس وقت آرام کرنا چاہتا ہوں ۔بجھاؤ یہ ٹمٹماتی روشنیاں اور اِن پھولوں کو اُٹھا کر باہر پھنکو۔ ”
اُس نے بے پروائی سے آنکھیں موندتے ہوئے بھنویں اچکا کر کہا۔
اُس کی اِس سنگدلی پر صاحبہ کا دل کٹ کر رہ گیا ۔وہ شکست خوردہ نظروں سے اُسے اور کمرے کو کچھ پل دیکھتی رہی ۔وہ جھوٹ موٹ کا ڈرامہ کرتے کرتے سچ مچ سوچکا تھا۔کمرے میں ہونے والی چند لمحے پہلے کی ہلچل خاموشی میں بدل گئی تھی۔بس ہر سو اُس بے اعتنائی کے قہقہے کی بازگشت تھی جس سے خفا ہو کر ساری خوشبوئیں اڑ نے لگیں ، تمام بتیاں بجھ گئیں اور اُس کا سنگھار رو پڑا۔
*****
بچپن سے اُن کے اندر پلتی ہوئی نفرت اُن کے ساتھ ہی جوان ہوئی تھی۔ نفرتیں جب جوان ہو جائیں تب محبت اور انسانیت ایک نحیف زدہ وجود کی طرح دل کے کسی کونے میں پڑی رہ جاتی ہیں۔جازم اور جیون کو اب یہ سبق ازبر یاد ہوچکا تھا کہ سیف جیسے لوگ نہ اُن کے معیار کے ہیں اور نہ اُن کی دوستی کے قابل ہیں۔اُنھوں نے نہ صرف یہ سبق سیکھا بلکہ قدم قدم پر اِس کا عملی مظاہرہ کر کے سیف کو چوٹ بھی پہنچائی ۔ ارشد خان کی زندگی میں یہ کھیل چھپ چھپ کر جاری رہا،مگر اُن کی آنکھیں بند ہوتے ہی سب قفل زدہ زبانیں کھل سی گئیں۔وہ کڑوی باتیں جو کبھی کبھار ہوتی تھیں وہ اذیتیں جو کبھی کبھار دی جاتی تھیں اب سیف کی زندگی کا معمول بن گئیں ۔اُس کی زندگی اجیرن کرنے کے لیے ایک نہیں تین تین لوگ تھے اور اُس کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا ۔کبھی اُس میں اتنی ہمت پیدا نہیں ہوسکی تھی کہ ارشد خان کے آگے مان سے سر اُٹھا کر سوال کر سکتا کہ اپنوں اِس آشیانے میں اُس کے ساتھ اِس قدر بیگانوں جیسا سلوک کیوں؟ کبھی اُس میں اتنی جرت نہیں جاگی کہ وہ ذکیہ بیگم کی گود میں سو کر ضد کرتا کہ وہ اُن دو کی طرح اُسے گلے سے کیوں نہیں لگاتیں۔کبھی وہ اِتنا حوصلہ نہیں جمع کر پایا کہ جازم اور جیون کی طرف سے پڑنے والے نفرت کے پتھر اُن کی طرف بھی اُچھال دیتا۔ اُسے غلام کا درجہ دیا گیا تو اُس نے چپ چاپ قبول کرلیا ۔اُسے کٹھ پتلی بنایا گیا اور وہ تابعداری سے بنتا چلا گیا۔ذکیہ بیگم سارا دن حویلی میں دوڑا دوڑا کر اُس کی طاقت کا امتحان لیتیں تو جازم ہر وقت بے عزتی کر کر کے اُس کی عزت نفس کا۔بس ایک جیون کے طنز اور مذاق وہ زخم تھے جس سے درد کی ٹیسیں نہیں محبت کا سرور اُٹھتا تھا۔
جازم اور جیون کو زندگی کی ہر آسائش اور ہر اختیار حاصل تھا،لیکن سیف سے دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ پڑھنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ہر کلاس میں اوّل آنے والے سیف کی ذہانت کو حویلی کے دیگر امور میں استعمال کیا جانے لگا تھا۔کبھی وہ ذکیہ بیگم کے اشاروں پر حویلی کی حفاظت کے لیے کونے کونے کا چکر لگاتا تو کبھی مالی بابا کے ساتھ مل کر باغ کی کانٹ چھانٹ میں جت جاتا ،کبھی وہ جازم کے جوتوں سے لیکر گاڑی تک ہر شئے کو صاف کرتا تو کبھی جیون کی فرمائشی لسٹ پکڑ کر آئے دن شہر کی راہ لیتا ۔حکمرانوں کا ایک دائرہ تھا اور وہ گول گول چکر کاٹ رہا تھا ،کسی بھی کونے پر نہ محبت تھی ،نہ رعایت تھی اور نہ ستائش ۔گزرتے وقت نے ذکیہ بیگم کے دل میں جیون کے لیے اپنائیت کی جگہ تو کشادہ کردی ،مگر سیف کے لیے ہمدردی اور انسانیت کی زمین مزید سکڑتی گئی۔وہ حویلی کا ایک نوکر بن کر رہ گیا تھا ہر حکم بجا لانے و الا، ہر وقت کی ذلت سہنے والا،اُس کا قصور صرف پرانی دشمنی اور بغض ہی نہیں بلکہ سانولا رنگ، عام سے نقوش اور ہکلاتی زبان بھی تھے۔
*****
پوشیدہ محبت قید پنچھی کی طرح ہوتی ہے ڈری ہوئی ،سہمی ہوئی اور جب یہی پنچھی اظہار کی فضاؤں میں اڑا دیا جائے تو اُس کی آزادی کا گیت اور مسرت ہر زمانہ شناس شخص سن اور دیکھ سکتا ہے۔بھاگ بھاگ کر جازم کے کام کرنا، اُس کے من پسند کھانے بنانا،اُس کے پسندیدہ رنگ اوڑھنا اور پھولوں کے پاس بیٹھ کر ہاتھوں میں پھول لیے اُس کا انتظار کرنے کا مطلب نہ ذکیہ بیگم کی جہاندیدہ نگاہوں سے چھپ سکا تھا نہ سیف کی بے قرار نظروں سے۔ذکیہ بیگم کے دن یہ سوچ کر مطمئن گزرنے لگے کہ حویلی کی حکومت اُن کے زیرِ سایہ پلی لڑکی کے ہاتھوں میں جانے والی ہے ،مگر سیف کی راتیں یہ جان کر بے چین ہو گئیں کہ آنے والے طوفان سے اُس کی محبت کا تخت اُلٹنے والا ہے۔ایک طرف یہ تڑپ تھی کہ وہ اُس کی کبھی نہیں ہو سکتی۔دوسری طرف یہ ڈر کہ جازم کے لاپرواہ ہاتھ اُسے سونے سے پیتل کا نہ کر دیں۔
لمحہ لمحہ صدیوں جیسا
تم بن پیا انتظار کا
کوئی تم کو جا بتلائے
حال جیا بے قرار کا
ساون رت میں کلیاں بھیگی
بھیگی موری اکھیاں بھی
نام لے لے کر جی جلائیں
نٹ کھٹ ساری سکھیاں بھی
سونی ہمری من کی حویلی
رنگ برسا دے پیار کا
کوئی تم کو جا بتلائے
حال جیا بے قرار کا
وہ کوئی لوک گیت گنگناتے ہوئے کلیاں چُن رہی تھی۔باریک سیاہ سیلقے سے گندھی ہوئی مینڈھیوں نے اُس کا درخشاں چہرہ یوں حصار میں لے رکھا تھا جیسے بادلوں کے جھرمٹ میں چاند لک چھپ کر دیکھ رہا ہو۔چاندی کی پلیٹ کلیوں سے بھر چکی تھی اور اُس کی پیاسی آنکھیں انتظار سے، لیکن آج کا انتظار تو لاحاصل تھا۔جازم دو دن کے لیے شہر گیا ہوا تھا ،مگر وہ اُس کے کمرے کے گلدان میں تازہ پھول اور اپنی مینڈھیوں میں کلیاں سجانا نہ بھولی تھی۔
ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا
تصور میں تیرے رہنا عبادت سے کم نہیں
“جانتا ہوں کہ یہ تمھاری نظر میں کوڑی برابر ہونگے ،مگر میں آج تمھاری چاندی کی پلیٹ میں اپنے سب جذبات رکھ دونگا۔تم چاہو تو ایک نظرِ کرم ڈال دینا،چاہو تو انھیں مٹی میں بو دینا، چاہو تو حویلی سے باہر اُچھال دینا، اور چاہو تو انھیں اپنے کھُسّے کی نوک سے مسل دینا ۔ ”
سیف نے دور ہی دور سے اُسے دیکھ کر خودکلامی کی۔آسمان پر ہلکے ہلکے بادل تھے اور جیون کا حُسن بارش بن کر ہر شئے پر برس رہا تھا ۔وہ ہر بار اِس بارش میں بھیگتا ،لیکن کبھی جھوم کر گا کر اپنی کیفیت نہ بیاں کر سکا ۔آج وہ چاہ کر بھی خود کو روک نہیں پا رہا تھا۔جیون کے مقناطیسی حُسن کی کشش ایسی تھی کہ پتھر بنے قدم اُس کی طرف بڑھنے کو بے تاب ہوئے ۔ بلآخر اُس نے خوف کی لگام چھوڑ دی اور جیون کی طرف قدم بڑھا دیے۔
“جیون کیا تم آج اپنی زندگی سے مجھے پانچ منٹ دو ںگی ؟ ”
وہ اُس کے قریب پہنچ کر بغیر ہچکچائے حق سے بولا۔
جیون نے پہلے اُسے تعجب سے دیکھا پھر اِس احمقانہ سی التجا پر دھیرے سے مسکرا دی، جو اِس بات کا اشارہ تھا کہ وہ جو کہنا چاہتا ہے کہہ سکتا ہے۔
کبھی کبھار اُسے دیکھ لیں،کہیں مل لیں
یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو
“میں مانتا ہوں نہ میری شکل اِس قابل ہے ،نہ میرا حسب نسب اِس معیار کا کہ تم سے دل کی باتیں کر سکوں،مگر مجھ جیسے معمولی انسان کو اتنا تو حق ہے کہ وہ اپنے قیمتی جذبات ایک بار بیان کرنے کی جسارت کر سکے۔”
وہ سر جھکائے عاجزانہ انداز میں مخاطب تھا۔
“غلاموں کو بھی خواہشات بتانے کا اختیار ہوتا ہے ۔ بلا جھجک کہو !جو کہنا چاہتے ہو۔”
جیون کی دان کی گئی اتنی عزت افزائی بھی اُس آب کی مانند تھی جس نے سیف کے خشک ہونٹوں کو تر کر دیا تھا۔
“میں جان چکا ہوں کہ تمھارے دل میں جازم ہے ۔تم اُس سے محبت کرتی ہو۔تم اُس کے خواب دیکھتی ہو۔تم اُس کے گیت گنگناتی ہو۔”
وہ شکستہ آواز میں گفتگو کی تمہید باندھنے لگا۔
“تم یہ بتاؤ تمھارے دل میں کون بستاہے؟ تمھیں کس کے خواب آتے ہیں ؟تم کس کے گیت سنتے ہو؟”
جیون کے لہجے کی حلاوت سے اُس کامایوس چہرہ پھول کی طرح کھل اُٹھا ۔
“کیا تم واقعی میرے دل کی کیفیت جاننا چاہو گی۔”
اُس نے اِس عنایت کی ایک بار پھر تصدیق چاہی۔
“سیف تم اِتنے ڈرپوک کیوں ہو؟ کہو آج کھل کر کہو؟میں تمھیں سننے کو جی جان سے تیار ہوں۔”
جیون نے پھولوں سے بھری پلیٹ کانپتے ہاتھوں میں پکڑا کر اُسے بھرپور حوصلہ دیا۔
“تو سنو۔۔۔تم جب لوک گیت گنگناتی ہو ،تو تمھاری اِس دلکش آواز سے میری زندگی سکوں کی بانسری لیے خوشی کی دُھن بجاتی ہے۔۔۔تم جب اپنی ست رنگی چنریا ہوا میں لہراتے ہوئے میرے پاس سے گزرتی ہو ، تو میں زندگی کے سارے رنگ خود پر بکھرتے ہوئے دیکھ لیتا ہوں۔۔۔تم جب اِس باغ سے کلیاں سمیٹنے میں ہلکان ہو رہی ہوتی ہو ،تو تمھارے پسینے کے سنگ گرنے والی کچھ خوشبوئیں میں قید کرکے اپنے کمرے میں لے جاتاہوں۔۔۔تم جب اِن وسیع دالانوں میں مورنی کی طرح جھومتی ہو بھاگتی ہو ، تو میں تمھارے اُجلے قدموں کے نشانوں پر چپکے سے آکے اپنے ہونٹ رکھ دیتا ہوں ۔۔۔اور تم جب حویلی کے سارے آئینوں میں اپنی صورت دیکھ کر اپنے حُسن پر نازاں معصوم بچوں کی طرح کھلکھلاتی ہو ،تو میں تخیل میں تمھاری ہنسی کے لب پر نظر کا ایک ٹیکہ لگا تا ہوں۔۔۔اگر میں کہو یہ محبت ہے تو یہ سراسر غلط ہوگا۔۔۔یہ عشق ہے جیون۔۔۔میرے عشق کو ایک بار تکریم کی نگاہ سے دیکھ لو ۔۔۔اِس عشق کی کا مرانی کی منت پوری ہوجائے گی۔”
اُس کی ننھی آنکھوں سے احساسات کی روشنی پھوٹ رہی تھی ۔۔۔اور وہ اُسے دیکھتا جارہا تھا۔۔۔بولتا جارہا تھا۔۔۔اچانک کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی۔۔۔دریا میں پتھر گرنے سا چھپاکا ہوا۔ ۔۔ساکت لہو اور ٹھری سانسیں پوری ر فتار سے دوڑی تھیں۔
“اتنی دیر سے مجھے ہونقوں کی طر ح تاڑے جا رہے ہو، بد نظر، نادیدے کہیں کے ،کیا کھا ہی جاؤ گے مجھے؟ ”
وہ تو وہی منجمند کھڑا تھا ،مگر وہ اُس کے سامنے خونخوار شیرنی کی طرح غرّا رہی تھی۔جو کرچی کرچی ہوا تھا وہ اُس کی جاگتی آنکھوں کا کچھ دیر پہلے دیکھا جانے والا خواب تھا،اور اُس چھپاکے کی آواز تھپڑ کی وہ کڑک گونج تھی جو جیون اپنی نازک انگلیوں سے اُس کو سنا کر چلی گئی۔
*****
“ویسے تو تمھاری اتنی جرت نہیں کہ تم میرے کسی حکم سے روگردانی کرو، مگر پھر بھی یاد رہے میری غیر موجودگی میں کوئی غفلت نہیں ہونی چاہیے۔سارے معاملات کی دیکھ بھال تمھارے سپرد ہے۔”
ذکیہ بیگم اُس سے کچھ قدم آگے چلتے ہوئے حکمانہ انداز میں کہہ رہی تھیں۔
“جی بہتر کوئی کوتا ہی نہیں ہو گی۔”
اُس نے دو نوں ہاتھ سینے پر باندھ کر اثبات میں سر ہلایا۔
“تم جانتے ہو جازم اور جیون کا بچپنا ابھی تک عروج پر ہے۔اُن کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔تمھاری طرف سے کوئی شکایت نہیں ملنی چاہیے ۔”
وہ چند اور ضروری ہدایات دے کر گاڑی میں بیٹھ گئیں۔
“آپ بے فکر رہیے ۔ ”
سیف سر جھکائے مودبانہ انداز میں بولا۔جب کہ وہ اندر ہی اندر ایک فکر میں گھلا جارہا تھا۔
“جی وہ میں آپ کو بتانا بھول گیا تھا کہ جیون بی بی کو کل باغ میں بھاگتے ہوئے چوٹ لگ گئی تھی۔”
سیف نے اُنھیں روکنے کی جیسے ایک ناکام کوشش کی۔
“یہ اُس کے لیے معمول کی بات ہے۔اُسے کہنا کہ دو چار د ن باغ میں مت جائے ۔اُس شرارتی لڑکی کو کوئی دوائی ضرور دے دینا۔ میرا جانا بہت ضروری ہے۔”
ذکیہ بیگم نے تھوڑی سی ہمدردی دیکھا کر اُس کی آخری آس بھی توڑ دی۔
وہ اُن کی تیاری کا سن کر صبح سے ہی بے چین تھا۔وہ جو سوچ رہا تھا ، جو محسوس کر رہا تھا ذکیہ بیگم کی دور اندیشی شاید وہاں تک نہ پہنچ سکی تھی۔وہ اُنھیں روکنا چاہتا تھا ،مگر اُن کے بیچ خوف اور احترام کی اِتنی بڑی دیوار تھی کہ وہ خاموش رہا۔وہ بولتا بھی تو کیا کہتا؟ شاید جو اُس کے اندر پل رہا تھا وہ ایک دیوانے محبوب کا ڈر تھا،ایک شک تھا، جس کے متعلق نہ کوئی ٹھوس ثبوت تھا نہ کوئی واضح دلیل۔ بس ایک بے قراری تھی جو بار بار دل میں شور مچا رہی تھی کہ ذکیہ بیگم کو روک لو۔یہ پہلا موقع تھا جب ذکیہ بیگم ایک ہفتے کے لیے حویلی سے باہر جارہی تھیں۔ وجہ اُن کی بڑی بہن کی شدید علالت نہ ہوتی ،تو وہ بھی اُس کی طرح کچھ نازک معاملات پر ضرور غور کر تیں۔
“ممانی جان آپ کو نہیں جانا چاہیے تھا۔۔۔یہ میرا گھر ہے ۔۔۔میرا ٹھکانہ ہے ۔۔۔میں اِس کی ہر شئے کی حفاظت کر سکتا ہوں ۔۔۔مگر اُس کی حفاظت کیسے کروں جو میرا نہیں ہے۔۔۔۔کچھ چوریاں میرے سامنے ہو گئیں تو میں کچھ نہیں کر پاؤں گا۔”
ذکیہ بیگم کب کی جا چکی تھی اور وہ کافی دیر سوچوں کے گرداب میں پھنسا وہی کھڑا پریشان ہوتا رہا۔
سارا دن اُس نے بے چینی سے گزارا ۔یہ ایک ہفتہ اُس کے لیے ایک امتحان کی طرح تھا جس میں اُس کی ذرہ سی غفلت اُسے محبت کی نگاہوں میں ہمیشہ کے لیے رسواکر سکتی تھی۔
“میں اُسے باغ میں جانے سے روک سکتا ہوں۔۔۔میں اُسے پھول نہ توڑنے کا کہہ سکتا ہوں۔۔۔میں اُسے بارش میں نہانے سے منع کر سکتا ہوں۔۔۔میں یہ سب کچھ کرکے اُس کی ڈھیروں گالیاں کھا سکتا ہوں۔۔۔مگر میں اُسے کیسے روکوں کہ وہ جازم کو نہ دیکھے ۔۔۔کیسے سمجھاؤ ں کہ وہ جازم کو نہ سوچے ۔۔۔کیا طریقہ اپناؤں کہ وہ جازم سے نہ ملے۔۔۔اتنی ہمت اتنے اختیارات کہاں سے لاؤں ۔”
وہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہا تھا۔۔۔مگر اُسے یہ سب کرنا تھا۔۔۔کچھ حویلی کی شان کے لیے۔۔۔کچھ جیون کی عزت کے لیے ۔۔۔کچھ اپنی محبت کی خاطر۔۔۔
اُس نے صبح سے شام تک چھپ چھپ کر جیون پر نظر رکھی تھی۔آج صبح اُس نے روزانہ کی نسبت زیادہ پھول توڑ کر گلدانوں میں سجائے تھے، تو دن کا زیادہ حصہ جازم کے من پسند کھانے بنانے میں صرف کیا۔آج اُس کے سُروں میں زیادہ گہرائی تھی ،تو ہنسی میں زیادہ کھنکھناہٹ ۔دن کی کھلتی سفید دھوپ میں وہ اپنے جلوؤں کو چھپاتی رہی اور جب شام ڈھلی تو اُس کے حُسن کا چاند پوری آب و تاب سے نکلا۔وہ ضرورت سے زیادہ سجی سنوری تھی، حد سے زیادہ نکھری اُجلی لگ رہی تھی۔سیف کا دل بیٹھا جارہا تھا ایک وہی تو اِس حویلی کا غرور تھی۔ اُس پر آنچ آنے کا مطلب سب کچھ جل کر راکھ ہونے جیسا تھا۔دن کے پہرے کافی نہیں تھے اُسے جیون کی سلامتی کے لیے اپنی راتیں اور نیندیں بھی قربان کرنی تھیں۔
*****
قدم قدم پہ بچھے ہیں گلاب پلکوں کے
چلے بھی آؤ کہ ہم انتظار کرتے ہیں
اُس کا کمرہ بہت خوبصورت تھا ،مگر وہ اُسے جیون کے شانِ شایان بنانے کے لیے اور محنت کرنے لگا۔اُس نے کمرے کی دونوں بڑی دیواروں پر مختلف سائز اور ڈیزائن کے شیشے نصب کر دیئے۔جیون کو آئینہ دیکھنا بہت پسند تھا اور کیوں نہ ہو تا وہ اُن لوگوں میں سے تھی جن کی جھلک کا انتظار آئینہ بھی کرتا ہے ، جن کے حسین عکس سے آئینے کو بھی چار چاند لگ جاتے ہیں۔وہ کچھ دیر آئینوں کے سامنے کھڑا خود کو تکتا رہا۔وہ وجاہت سے بھرپور ایسا مرد تھا جس کا ساتھ ہر عورت چاہ سکتی تھی۔اُس کی آنکھوں سے جو جذبہ جھلک رہا تھا وہ اُس نے خود سے اور آئینے سے بھی چھپانے کی کوشش کی۔اُسے کلیوں سے چڑ تھی ،لیکن جیون کی خاطر اُس نے شیشے کے ایک سفید لمبے جار میں مٹھی بھر تازہ کلیاں قید کر لیں۔یوں لگ رہا تھا سفید ساڑھی میں لپٹی کوئی حسین دوشیزہ بوتل میں بند ہوگئی ہو۔اُس نے جار اُٹھاکر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔اُس کے پاس ڈھیر ساری خوشبوئیں تھیں جو اُس نے جگہ جگہ انڈیل دیں ۔اُس نے کچھ پھول لے کر دروازے کے بلکل سامنے ایک راستہ بنا دیا۔وہ چاہتا تھا جیون پھولوں کے اِس رستے پر چل کر اُس کا ہاتھ تھامے اور اُسے کانٹوں کا احساس تک نہ ہو۔ وہ کچھ دیر مسکراتارہا پھر گنگناتا ہوا کمرے کے وسط میں رکھی شیشے کی میز کی طرف آیا،جہاں موم بتیوں سے نکلتی آگ کا رقص اُسے اور ہی دنیا میں لے گیا تھا ۔اُس نے کوٹ کی پاکٹ سے ہیرے کی انگوٹھی نکالی اور میزپر بکھری پتیوں پر رکھ دی۔
حویلی کی آدھی بتیاں گل تھیں۔ سارے ملازم سو چکے تھے ۔ہر سو خاموشی کے پہرے تھے اور اندھیرے کی جلتی بجھتی آنکھیں۔اُسے نہ خاموشی کا خوف تھا نہ اندھیرے کا ڈر، بس یہی ایک دھڑکا تھا کہ کسی کی جاسوس آ نکھ اُسے دیکھ نہ لے۔ وہ سرخ چادر خود سے اچھی طرح لپیٹے سبک رفتاری سے چلی جا رہی تھی۔مہمان خانے سے ملحقہ سیڑھیوں کے قریب پہنچ کر اُس نے اردگرد نظر دوڑا کر طمانیت کی سانس لی ۔دبے پاؤں زینہ با زینہ چڑھتی وہ حویلی کے بالائی حصے پر واقع جازم کے کمرے کے قریب پہنچ گئی۔ اُس نے ایک بار پھر کمرے کے باہر کھلے دالان کے دریچوں سے نیچے بڑے احاطے کے پار لکڑی کے عالیشان دروازے کو دیکھا۔نیچے کسی ذی روح کا کوئی نشان تک نہ تھا۔پوری حو یلی سائیں سائیں کر رہی تھی ۔بس دروازے کے پاس ایک بوڑھا چوکیدار بیٹھا اُونگھ رہا تھا۔
وہ اپنے خیالوں میں گم حویلی کے چاروں طرف نظریں گھما کر دیکھ رہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ وہ اِس ناگہانی حملے پر خوف سے لرز اُٹھی۔اِس سے پہلے کہ اُس کی چیخ فضا میں بلند ہوتی جازم دروازہ بند کرتے ہوئے اُس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ چکا تھا۔وہ کچھ دیر سمجھنے کی کوشش کرتی رہی کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔پھر اُس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھول دیں ۔اُس کی سہمی ہوئی آنکھیں جازم کی سرخ ہوتی آنکھوں سے ٹکرا ئیں تو خوف کے شرارے یکدم بجھ گئے ۔
“تم نے تو میری جان ہی نکال دی تھی۔”
وہ خاموشی کی بندش سے آزاد ہوئی تو سکون کی سانس کھینچ کر زور سے بولی۔
“جان تو تمھارے انتظار نے نکال لی ہے۔ تم ایک گھنٹہ تاخیر کی مجرم ہو۔”
وہ اُس کی سرخ چادر سر سے سرکاتے ہوئے مدحوشی سے جتانے لگا۔
“جازم اتنے سارے آئینے! اُف یہ سب کتنے خوبصورت اور نازک ہیں۔ تم نے یہ سب میرے لیے کیا ؟”
وہ چادر جہازی سائز صوفے پر اُچھال کر آئینوں کے سامنے گول گول گھومتی ہوئی کہنے لگی۔
“یہ آبگینے اداؤں کے جلوؤں کو بکھیرنے کے لیے ہیں۔دیکھو! ہر جگہ تم ہی تم ہو۔یہ اِسی لیے یہاں آویزاں ہیں کہ تمھارے دلکش حسن کی نظر اتار سکیں۔تمھیں بتا سکیں کہ تمھارے وجود کی آمیزش سے یہ بھی جی اُٹھے ہیں۔دیکھو !یہ تمھارے حسین سراپے کے سنگ جھوم رہے ہیں۔سنو! یہ کانچ کی زبان میں تمھارے شیشے جیسے بدن کو سراہا رہے ہیں۔”
گول گول گھومتا سفید فراک جازم کی نیت میں پھیر ڈال رہا تھا۔اُس کے شاعرانہ انداز پر جیون کھلکھلا کر ہنس پڑی۔اُسے یوں لگ رہا تھا وہ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہے اور وہ سب سے خوبصورت تعریف کرنے والا۔
“یہ تو دلفریب دھوکے ہیں جو خود ذرہ سی چوٹ سے پاش پاش ہو سکتے ہیں وہ میری مدح کے مینار بھلا کیسے کھڑے کریں گے؟ مجھے تو تمھاری تعریف چاہیے جازم خان۔”
وہ گوٹا لگے سفید آنچل کے کناروں سے کھیلتی ہوئی اُس کے قریب آ گئی۔اُس کے ناز و ادا کا یہ عالم تھا کہ جازم کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا ۔وہ کچھ پل اُسے دیکھتا رہا ایسے جیسے حُسن اور دلربائی کے موتی دل کی جھیل میں پھینک رہا ہو۔
“میری جیون! تم تو کھنکتی ہوئی ہو۔۔۔مہکتی ہوئی ہو۔۔۔جگمگاتی ہوئی ہو۔گنگناتی ہوئی ہو۔۔۔تمھاری تعریف بیان کرنے کے لیے تو مجھے شاعر سے نظریں بچاکر کسی نظم پر ڈاکہ ڈالنا ہوگا ۔۔۔تتلیوں کی منت سماجت کر کے رنگ ادھار لینے ہونگے۔۔۔ پھولوں کے آگے ہاتھ جوڑ کے مہک کی بھیک مانگنی ہوگی۔۔۔۔چاند کو لالچ دے کر روشنی کا تقاضا کرنا ہوگا ۔۔۔اور آتش دان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر حدت کی درخواست رکھنی ہوگی۔تب میں اِن لفظوں،رنگوں،خوشبوؤں اور روشنیوں کو اپنے جذبوں کی حدت میں ملا کر تمھارے لیے کچھ کہہ سکوں گا۔”
وہ اُس کی نازک انگلیوں سے انگلیاں ٹکراتے ہوئے لفظوں کا جال بُن رہا تھا۔
“جازم میرے لیے کوئی گیت گنگنا دو۔جیسے تم سکول کالج میں گاتے تھے۔تب تمھارا گیت سب کے لیے تھا اور آج صرف میرے لیے ہوگا۔میری بڑی خواہش ہے کہ تم میرے لیے کچھ گاؤ۔”
جیون اُس کی تعریف سے بے خود ہوتی ہوئی ایک اور فرمائش کرنے لگی۔جازم نے گھنیری پلکوں کی جھلمل کو چھو کر کچھ سوچا پھر اُس کا ہاتھ پکڑ کر بڑے سے آئینے کے سامنے لے آیا ۔شیشے میں چاند اور رات کا حسین ملاپ تھا۔ جیون کا سمٹا ہوا سفید وجود اور اُس کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے جازم کی سیاہ چادر۔جیون نے اُس سے اور آئینے سے نظریں چرا لیں۔
چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال
ایک تو ہی دھنوان ہے گوری باقی سب کنگال
وہ اُس کی دو سنہری لٹوں کو گورے گالوں سے ٹکراتے ہوئے ایک مشہور زمانہ گیت گانے لگا۔یہ اُس کی آواز سے چھلکتے جذبات کا فسوں تھا کہ آئینے میں سفید گالوں سے لال رنگ پھوٹتے دیکھ کر جیون شرما سی گئی۔
جس رستے سے تو گزرے وہ پھولوں سے بھر جائے
تیرے پیر کی کومل آہٹ سوتے بھاگ جگائے
تو پتھر چھو لے تو گوری وہ ہیرا بن جائے
وہ گاتے گاتے دائیں ہاتھ میں اُس کا ہاتھ تھامے اُسے گول گول گھوماتا ہوا پھولوں کے رستے پر لے آیا تھا۔ جیون کے سارے بال خو شبو کی طرح بکھرچکے تھے اور ساری شرم پنچھی بن کر کھڑکی سے اُڑ نے لگی تھی۔پھولوں کے اطراف میں جلتی ہوئی موم بتیاں جیون کو سر تاپیر مہکانے اور روشن کرنے لگیں۔ جازم نے پتیوں کے سمندر میں ہاتھ مار کر انگوٹھی اُٹھائی اور جیون کی پتلی خوبصورت انگلی کے اوپر رکھ دی ۔جیون کی چمکتی آنکھیں خوشی سے پھیل گئیں اور وہ حیا سے مزید سمٹنے لگی۔انگوٹھی سرکتے سرکتے انگلی کے آخر تک پہنچ چکی تھی اور جیون کا دل اُس کے قدموں میں۔
تو جس کو مل جائے ،وہ ہوجائے مالا مال
ایک تو ہی دھنوان ہے گوری
باقی سب کنگال
وہ خود زمین پر بیٹھ کر اُسے بیڈ کے کنارے پر بیٹھاتے ہوئے خاموش ہو چکا تھا ، مگر اُس کی آواز کا اثر ابھی تک جیون پر رقت کی طرح طاری تھا۔ اُس کی آنکھوں ، اُس کے چہرے پر جو تقاضے تھے جیون وہ سب سمجھ چکی تھی۔اُسے اِ س شخص سے محبت تھی اور اِس محبت پر بے پناہ اعتبار۔وہ جانتی تھی وہ اُسی کی ہے آج بھی اور کل بھی۔اندھی محبت پوری آنکھیں کھولے اُس کے سامنے آ کھڑی تھی، اور اندھی محبت کی یہی چال ظالم ہے جس میں نہ غلط غلط معلوم ہوتا ہے اور نہ گناہ گناہ لگتا ہے۔

Advertisements