نفس ہے کہ ناگ_______از مہ وش طالب

میں آج تک نہیں سمجھ سکی کہ خواہش اور دل کا آپس میں کیا تعلق ہے..?? اور کیسی تعجب کی بات ہے مجھ ایسی لڑکی اتنی گہری بات بھی سوچنے لگی ہے.. شاید یہ وقت کے گھاؤ ہیں جن پر مرہم رکھنے کے لیے مجھے اتنی گہرائی میں اترنے کی ضروت پڑی …
میں انمول معین جس کے بارے میں میری سہیلیوں کا خیال ہے کہ میں بے نیاز من موجی،،، ہر پریشانی کو ہتھیلی پہ رکھی خاک کی مانند اُڑا دینے والی . اپنی کہنے اور منوانے والی.. موتیے کی منہ بند کلی.. دلکش,من کو مہکاتی اور آنکھوں کی پیاس بجھاتی .. مگر جس کا اپنا دل تو یوں صاف تھا مانو سلیٹ ہو،لیکن کیا اس خالی دل کے اندر کوئی دھڑکتا تھا؟؟ اس کا راز کبھی کسی کو دیا ہو تو پتہ چلے… یعنی میری دوستوں کو پریشانی یہ بھی تھی کہ مجھ ایسی مہ جبین کو اب تک کسی نے دل کیوں نہ دیا..اور ساتھ ہی انہیں کچھ شک سا بھی گزرتا تھا.مگر میرے دل کے کورے کاغذ پر حقیقتاً عرصے تک کوئی اپنا نام نہ لکھ پایا..
وجہ.. کوئی ایک ہوتی تو بتاتی. یہاں تو
یہ اپنی من موجی طبعیت بھی بس سکول کالج تک ہی محدود رہی.. کلاس بنک کرنی ہوتی.. ٹیسٹ کینسل کرانے ہوتے, آج کا کام کل پر ڈالنا ہوتا تو ہر سہیلی مجھ سے رجوع کرتی..اور میں متعلقہ ٹیچر سے.. مگر گھر پہنچتے ہی بھائی اور ابا کی تند خوئی کا ڈر مجھ پر حاوی ہوجاتا.. یہ الگ بات کہ باقی بہنوں کی نسبت میں ذرا کم ہی دب کر رہتی یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے گھر کے بڑے موسلا دھاربارش کے نتیجے میں ہونے والی واہی تباہی سے ڈراتے رہتے ہیں, پر نئی پود کے چند جیالے اس خوف کو زیادہ خاطر میں لانے کی بجائے بارش کے بعد نم مٹی کی سوندھی خوشبو سے لطف اندوز ہوتے ہیں . کسی نقصان کا ڈر ان کی اندر کے جوش کو ختم نہیں کرپاتا..
بہر حال دوستوں کا کیا ہے.. یہ تو پل بھر میں آپ کو باتوں ہی باتوں اور خیالوں ہی خیالوں میں فرش سے عرش پر بیٹھا دیتے ہیں .. اور جب دل کرتا ہے تو پھر عرش سے زمیں بوس کرنے میں بھی ایک پل نہیں لگاتے.
…….
سکھیوں سہلیوں کے طعنوں اور امی کے روز روز کے رونے سے تنگ آکر آخر ایک دن میں نے کسی کو اپنے دل میں جگہ دے ہی دی.. اماں میرے رشتے کی بابت پرہشان رہتی تھیں اور چاہتی تھی کہ میں بھی رہوں, جیسے میرے پریشان رہنے سے اماں کا من پسند لڑکا یا لڑکے کے گھر والے فوراً سے پیشتر ہم سےرجوع کرلیں گے اور مجھے بیاہ کر لے جائیں گے…
وقت گزرنے کے ساتھ مجھے بھی احساس ہوچلا تھا سو سوچا کہ اگر گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکل رہا تو انگلی ٹیڑھی کرلیتے ہیں, مگر مجھے کیا خبر تھی کہ مسئلہ صرف انگلی ہی نہیں, خرابی گھی کے کنستر میں بھی ہے . کمبخت لٹیرا, گھی کا کنستر ہی نقص زدہ ہے .. وہ مجھے پہلی بار کالج کے آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں نظرآیا تھا.. شاید اس کا پہلا دن تھا کہ اس سے پہلے اس کی جگہ پر بددماغ سے انکل ہوا کرتے تھے.. مگر اندر سے بڑے رنگین مزاج واقع ہوئے تھے, میں چشم دید گواہ تو نہ تھی, مگر اُڑتی پڑتی خبریں ہمارے بھی کانوں میں پڑ جاتی تھیں.
…. کالج میں منقعدہ تجریدی آرٹ کی نمائش کے دوران ہی پہلی بار میری اس سے مدبھیڑ ہوئی تھی.. اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک پینٹنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے میں اپنے نادر خیالات کا اظہار کر رہی تھی, جب اس نے مداخلت کی.. “ارے آپ کو تو رنگوں کی خوب پہچان ہے”? وہ لمبا چوڑا وجہیہ مرد, دونوں ہاتھ سیاہ پتلون کی جیبوں میں اڑسے میری آنکھوں میں دیکھ رہا تھا.. بشرٹ کی آستینیں کہنیوں تک موڑی ہوئی تھیں اور سیاہ رواں اس کے بازوؤں پر پھیلا نظر آتا تھا..
میں مسکرانے کے سوا کچھ نہ کرسکی..
“کبھی فرصت سے ان آنکھوں کے رنگ بھی پڑھیے..” میں نے بے اختیار نظر اٹھا کر دیکھا.. اور یقین کرنا چاہا کہ یہ الفاظ اسی نے کہے ہیں اور کہتے ہوئے وہ مجھ سے ہی مخاطب تھا.. کیونکہ پل بھر میں رخ موڑے وہ فون پر متوجہ نظر آرہا تھا.. عجب بے نیازی تھی اس کے انداز میں, جو میرے دل کے سُر تال ہلا گئی تھی..
آسیہ, فوزیہ حسرت کی تصویر بنی بیٹھی تھیں.. اور مجھے ہر دوسرے دن یاد دلاتیں کہ اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دوں.. کچھ مجھے بھی اپنی اماں کے بوجھ کو کم کرنے کا خیال تھا.. لہذا اگلے ٹکراؤ میں اس کے دیے گئے فون نمبر پر کال ملانے میں دیر نہ لگائی..
بس پھر کیا تھا.. پھول , تتلیاں اور پتنگے .. گھٹی ہوئی فضا میں بھی مہکتے ہوئےمحسوس ہوتے.. اپنے آپ سے تو میں پہلے بھی غافل نہ تھی, مگر اب خود کو دیکھنے کا انداز ذرا بدل سا گیا تھا, بظاہر آئینے میں خود کو دیکھتی تھی, مگر یہ آنکھیں… آنکھیں عین وقت پر دغا دے جاتی ہیں.. نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اپنی آنکھوں کی پتلیوں میں وہ جان لیوامسکراہٹ لئے نظر آتا.. میں بھی کب تک بچاؤ کرتی, سو ہتھیار ڈال دیے .. دل اور آنکھوں کو خواہش کے بہاؤ پر چھوڑ دیا کہ جدھر کو لے جائے. ویسے بھی دل کو اس کے سوبر ہونے کا یقین تھا کہ وہ ایک حد سے تجاوز نہیں کرے گا..
پھر جب اس نے مجھے اپنے گھر آنے اور کسی سرپرائز کا ذکر کیا تو مجھے خوش گمانیوں کی ہوا نے مست کردیا کہ اس سے اچھا سرپرائز کیا ہوسکتا ہے اگر وہ آج مجھے اپنے والدین سے ملانے والا ہو. سو میں خوب نک سک سے تیار ہوئی, جدید طرز کا معیاری لباس زیب تن کیا, ڈھیر ساری خوشبو اپنے بدن پر انڈیلی.. گاڑی میں سوار خیالوں کی بگھی پر بیٹھ کرمیں یارِ من کے دیس نکل پڑی..
وہ حسبِ توقع بے چینی سے میرا انتظار کر رہا تھا.. اس کا محل نما عالیشان گھر دیکھ کر میری آنکھیں چندھیا ہی جاتیں.. اگر وہ دشمنِ نصیباں میرے حواسوں پہ چھایا نہ ہوتا , میرے اطراف میں منڈلاتا نہ ہوتا..
“سرپرائز “? مجھے محسوس ہوا کہ اس محل میں میرے اور کے سوا کوئی اور ذی نفس نہیں..
” میری جان, جانِ بہاراں یہی تو سرپرائز ہے.. کہ آج میں نے تنہائی میں تمہیں اپنے گھر کی زینت بنایا ہے..
اس نے میرے ہاتھوں کو اپنے لبوں پر سجایا.. میں ہلکا سا مسکرائی..
پھر کچھ پلوں بعد خامُشی سے اس نے اپنے لبوں کو میرے ہونٹوں کے کنارے پر پڑے تل پہ جمادیا.. میں تھوڑا گھبرائی تھی, حالانکہ یہ پہلی بار نہیں تھا.. مگر نجانے کیوں آج دل کی دھڑکن اتھل پتھل ہوئے جارہی تھی.. شاید اس کا انداز ہی چونکا دینے والا تھا..
“کک.. کیا کر رہے ہو…”? میں نے تھوک نگلتے ہوئے اسے روکنے کی ناکام سعی کی
“وہی جو مجھے کرنا چاہئے.. یہ موقع بار بار ہمارے درازوں پر دستک نہیں دے گا..”
ریشم کا ڈوپٹا میرے کندھوں سے ڈھلکتا میرے گھٹنوں پہ لڑھکنے لگا تھا..
ہم ابھی تک اس گھر کے لاؤنج میں ہی تھےزین کشادہ صوفے پر نیم دراز تھا. اور مجھے بھی اپنے ساتھ لپٹا لینا چاہتا تھا..
” اپنا ڈوپٹا پرے کردو” یہ اس کے الفاظ تھے.. مگر مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ جملہ زین کے منہ سے ادا ہوا ہے, شاید یقین نے اسی پل کسی بلند عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی تھی.. میرے جسم کا سارا خون میرے چہرے پر جمع ہوگیا تھا.. یوں جیسے لوگ تماشا دیکھنے کے لیے سڑک پر اکٹھے ہو جاتے ہیں..
“او میری نشے کی بوتل! سنا نہیں کیا .. گھبراؤ نہیں.. صرف اتنی سی ہی تو بات ہے.. کچھ اور فرمائش نہیں کرونگا..” یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی ٹی شرٹ بھی اپنے کسرتی دھڑ سے جدا کرلی.. اس کے سینے پر گھنے بال دیکھ کر مجھے کسی خوفناک جنگل کا سا گمان ہوا, جہاں کوئی… شہزادی.. اوننہہ میں کوئی شہزادی کہاں رہی تھی اب.. … جہاں ایک عام سی لڑکی کھو چلی تھی.. وہ لڑکی جو, شہزادیوں کی مانند کچھ حسین خواب لےکر اس محل میں داخل ہوئی, مگر راستے میں پڑتے جنگلی جانور نے اسے اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ مزید کسی خواہش کو اپنے دل کی سیج پر سجا پاتی..
اور میں نے.. پھر اسکی فرمّائش پوری کر دی تھی, گو کہ ایسا کرتے ہوئے میرے نسوانی وقار , جذبات اور میری خوش فہمیوں کا مبینہ قتل ہوا تھا.. مگر میں نے بھی کچھ سوچ کر اپنے ڈھلکتے ڈوپٹے کو خود سے دور کردیا… کیونکہ اگر میں اس شام اپنی مرضی سے اس کا کہا نہ مانتی تو وہ موقع پرست مرد زبردستی دونوں اتار دیتا..
میرا لباس بھی …اورمیری عزت بھی..
عزت ?? ہاہ! … پتا نہیں ضمیر کی عدالت میں ,میں کس قدر گنہگار ٹھہری ہونگی.. عزت نام کی پونجی میرے دامن میں بچی بھی ہوگی یا نہیں..مگر اس نے مجھے یہ کہہ کر احساسِ گناہ سے بے بہرہ کرنے کی گھٹیا کوشش کی تھی .
“میری جان.. پریشان کیوں ہو.. میں نے تمہارا کوئی نقصان تو نہیں کیا.. بس تمہارے لمس اور خوشبو کو خود میں جذب ہی تو کیا ہے…”
“ہاں یہ تو ہے” میں نے نمائشی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے کہا
“ڈراپ کردوں”? شرٹ کے بٹن باندھتے ہوئے بدمست انداز میں وہ بولا تھا
“اس احسان کی کیا ضرورت ہے..?” میں نے ڈوپٹا دوبارہ کندھوں پر ٹکایا.. حالانکہ اس تکلف کی اب کوئی ضرورت تو نہیں رہی تھی میرے خیال میں..
“اچھا…. چلو پھر ملیں گے..” اس نے اپنا دایاں ہاتھ میری طرف الوداعی انداز میں بڑھایا..
واپسی کے سفر میں , میں سوچتی رہی , اپنی ذات کو کھوجتی رہی.. اور اس یونانی دیو کی اصلیت کو روتی رہی جس کا پتھر کا مجسمہ پاش پاش ہوگیا تھا
وہ محبت والے سارے پنکھ اس ذلت پر آپوں آپ ہی سکڑ گئے تھے
کیا یہی حیثیت تھی اس کی نظر میں میری??
کیا وہ مجھ سے بس یہی چاہتا تھا..
اور کیا اس کی محبت کا اصل یہی تھا?? … نفس پرستی!!
مگر میں نے اپنا مقام اس کی نظروں میں اتنا بلند سمجھ کیسے لیا تھا, مجھے کیوں گمان ہوگیا تھا کہ وہ اوروں سے مختلف ہے.. اس کا ظاہر جتنا دلفریب ہے.. میں کیوں اس گہرائی میں نہ جاسکی کہ اس کا باطن بھی اتنا ہی پیچ دار اور وَل فریب والا ہوگا.. گھر واپس آکر, سوتے ہوئے, نیند سے جاگتے ہوئے, کمرے سے نکلتے ہوئے ,باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے , ایک ہی جملے کی بازگشت میرے کانوں سے ہوتی ہوئی میرے دماغ پر ہتھوڑے برساتی جا رہی تھی.. “اپنا ڈوپٹا اتاردو”
اب میرے اندر باقاعدہ ایک عدالت لگ چکی تھی.. ضمیر کی عدالت ..جس کی نشست و برخاست لمحہ بہ لمحہ جاری تھی..
جہاں میرا دل وکیلِ صفائی بنا بیٹھا تھا اور میرا دماغ, اس دل کی ہر دلیل کو بے رحمی سے رد کردیتا.. دل نے مزید صفائی دی تو دماغ کے پاس نفس تھا اہم گواہ کے طور پر, ہاں یہ نفس امّارہ جو چھپ کے وار کرتا ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر بھی… جب زین نے مجھے پہلی بار ملنے کا کہا تھا.. تو یہ دماغ ہی تھا جس نے مجھے آنے والے خطروں سے روکنے کی کوشش کی, مگر دل کی بات مان کر نفس کی انگلی پکڑے میں کیفے میں اس سے ملنے چلی گئ.. اور جب پہلی بار اس نے میرا ہاتھ چھوا تھا سب سے چُھپ کر , تب بھی میرا ضمیر درد سے ُکرلا یا تھا.. مگر میرے نفس نے جوش سے تالی پیٹی اور میں بھی دل ہی دل میں بے حد مطمئن ہوتی رہی.. گویا اگر نفس میرے سامنے مجسم ہوتا تو اسے وکٹری کا نشان بنا کر دکھاتی . پھر جب پورے ہجوم میں بیچ سڑک پر میرا ہاتھ چھوڑ کر وہ واپس اپنی سفید گاڑی میں سنوار ہو کر گیا تھا تب ضمیر کی “چہ چہ” میں نے خود سنی تھی مگر نفس نے اشارے سے “سب نارمل ہے ” کہہ کر تسلی دی تو میں بھی پھر سے سرشار ہوکر گھر کی جانب چل دی تھی…
آخر کیوں میں نے پہلی بار اپنی طرف بڑھتے اس کے غلیظ لمس کو نہیں روکا..?
آخر کیوں میں نے اسے اتنی ہمت دی کہ اس نے اتنی آسانی سے میرے چہرے سے ہوتے ہوئے میرے جسم تک کا سفر طے کرلیا. ?
اس نے کیونکر اتنی جراءت سے مجھ سے بے لباس ہونے کی تمنّا کر ڈالی.. ?
آہ… سارا قصور اس کا تو نہیں تھا.. میں نے بھی تو اپنی کمزوری اس پر ظاہر کی تھی.. پھر وہ ہوس کا مارا کیونکر نہ اپنی پیاس بجھاتا,
کیا ہر محبت کرنے والا لڑکا , تنہائی میں اپنے پہلو میں بیٹھی لڑکی سے یہی کہتا ہے.. اور کیا ہر لڑکی اسی محبت اور توجہ کے لیے اپنی, اپنے معصوم والدین کی عزت اور اعتبار کا خون کرتی ہے..
ہر وہ لڑکی جو بظاہر خوشی کے دیپ آنکھوں میں سجائے مسکراتی ہے, کیا حقیقتاً اس کا نام نہاد محبوب اس کے عزتِ نفس کی حفاظت کرتا ہے یا
یہ رنگوں سےکھیلنے والے سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں..??
وہ خوابوں کا اڑن کھٹولا اونچائی پر پہنچ کر اچانک سے کھل گیا تھا اور میں , منہ کے بل زمین پر گری تھی…
مگر اب کیا ہوسکتا تھا…
کچھ ہفتوں بعد اس کا فون آیا وہ مجھ سے دوبارہ ملنا چاہتا تھا.. آہاں.. مجھ سے نہیں, میرے جسم سے.. نجانے اب وہ کیا فرمائش کرتا.. سوچ کر ہی میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے..مگر میں نے مضبوط لہجے میں اسے اپنا فیصلہ سنایا
” تھووو… تم … جیسی ترسی ہوئی لڑکیاں , اب مجھے حیا اور پاک بازی کے سبق پڑھائیں گی..?? اس کے الفاظ نہیں پگھلا ہوا سیسہ تھا جو میرے کانوں میں انڈیلا گیا.. مگر… میں نے جو کرنا تھا… کرڈالا..غلط ہی سہی.. جانے انجانے میں ہی سہی.. مگر وہ پہلی بار تھا.. اور آخری بار بھی…
…… اور پھر رات کے اندھیرے اور چبھتی چاندنی کے جلو میں مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ خواہش اور دل تو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں.. مگر جب یہ خواہش” لاحاصل ” کا روپ دھار لے تو یہ نفس میں سماجاتی ہے.. پھر دل کا بکھرنا لازم ہے اور عزت ہاتھوں میں ہی رہ جاتی ہے..

___________________

تحریر:مہ وش طالب

Advertisements