روم نمبر 53

مریض کو ڈاکٹر کی حوالے کر کے ہم مطمئن تھے اور ہسپتال کے کیفیٹیریا میں بیٹھے چائے پی رہے تھے . سلیم حسب عادت کوئی نہ کوئی چٹکلا چھوڑ رہا تھا ،ہنستے ہنستے میری نظر عقب میں بیٹھی لڑکی پہ پڑی جو نہایت سنجیدگی سے لیپ ٹاپ پر لکھنے میں مشغول تھی . ماڈرن وضع قطع کی اس سانولی لڑکی پر مردنی سی چھائی تھی . ہونٹ بھینچ کے جانے وہ کونسی تکلیف دہ داستان لکھ رہی تھی . سلیم نے مجھے ٹوکا ،” لڑکیوں کے چہرے پڑھنا چھوڑے نہیں تم نے ؟”میں نے کھسیانا ہوکر کچھ کہنا ہی چاہا کہ اسکا فون بج اٹھا اور وہ بات کرنے کا کہہ کے باہر نکل گیا .

“ایکسکیوز می ، آپ مشہور صحافی زین العابدین ہیں نا ؟” میں چونک کے مڑا تو وہی لڑکی کھڑی تھی ،بولی ” سر ، میری کہانی چھاپیں گے آپ ؟”اس کی آنکھوں میں ایسی یاسیت تھی کہ میں کچھ بول نہ پایا بس پلکوں سے اثبات میں جواب دیا تو اس نے بلا تامل اپنا لیپ ٹاپ دھر دیا . بولی ،”آپ کو مایوسی نہیں ہو گی .” یہ کہہ کے وہ آگے چل پڑی تو مجھے یکایک ہوش آیا .” سنیے ، یہ لیپ ٹاپ؟” وہ چلتے چلتے بولی ،” روم نمبر ٥٣ میں ملوں گی ” اور باہر نکل گئی . میں دن رات عورتوں میں اٹھنے بیٹھنے والا آدمی کسی سے ایسے مر عو ب نہیں ہوا کرتا تھا مگر اس میں کچھ انوکھی بات تھی جس نے مجھے لیپ ٹاپ کھولنے پہ مجبور کردیا . سینٹ میل کا فولڈر کھلا تھا ،جس پہ درج

تھا …

سہیل ،

جانتے ہو ، مجھے رات کی سولی پہ چڑھے جاگتے ستارے کیوں ناپسند ہیں .اس لیئے نہیں کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ چمکیلے ہیں ،بلکہ اسلیئے کہ وہ میرے سوختہ خواب ہیں جو ر ڑ کتے آنسو بن کر آنکھوں میں ڈولتے رہتے ہیں . میں رونا نہیں چاہتی .کیوں روؤں ؟ تم مجھے نہ ملے اسلیئے؟ یا تم نے مجھے حاصل کر کے کھو دیا اسلیئے . حاصل کر بھی لیتے تو آخر میں کھونا ہی تھا ،کہ یہ زندگی ایک دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں . رونا تو احساس زیاں کا ہے کہ کیوں میں نے روح و ذات کو مجروح ہونے دیا .کیوں میں خود کو اس سطح پر لے آئی کہ ہر گناہ کو بلا خوف و خطر کیا کہ ثواب میں تمہیں پانا مقصود تھا .

تم پھر بھی نہ ملے …

جب ملے تو یہ کہا کہ ،” تم بھی حد کرتی ہو ، چھوٹے سے کرش کو محبت سمجھ بیٹھیں ؟ یہ کیمسٹر ی کا جوک ہے سویٹی ،اس سے زیادہ کچھ نہیں ! شادی کا عذاب بار بار کون جھیلے ؟ بس اچھی دوست بن کے رہو !”

میں اس وقت تک دو قتل کر چکی تھی .

کاش تم نے اپنی زندگی کا فلسفہ پہلے بتایا ہوتا تو تم سے محبت کرنے والی دو جانیں نہ جاتیں .

پہلا قتل میں نے تمہاری ماں کا اسوقت کیا جب رازداری میں انہوں نے بتایا کہ اولاد کی خاطر وہ تمہاری دوسری شادی اپنی بھانجی سے کرنا چاہتی ہیں . میں جیتے جی یہ کیسے ہونے دیتی ؟ اس لیئے ان کو آسان موت بخش دی . پہلے بیہوش کیا اور بعد میں انسولین کی اوور ڈوز دے کر چین کی نیند سلا دیا .

دوسرا قتل تو اس بھانجی کا ہی بنتا تھا .ان دنو ں یونیورسٹی کا ٹرپ ناران جا رہا تھا . اس نے بتایا وہ بھی جا رہی ہے تو میں بھی ساتھ شامل ہو رہی . دوستی تو گانٹھ ہی چکی تھی . پلان تو میرا کچھ اور تھا مگر سیلفی کریز ہی اس کو لے ڈوبا . بہتر ویو کے بہانے سے اس کو کنارے کی حد تک لے گئی اور پھر جھٹکے سے کوہنی پیٹ میں گھونپ ڈالی . کام تمام .

افسوس …سب بے سود گیا .

سوچا ہے محبت کی خاطر ایک گناہ اور کر لوں . اپنے لو کرائم کو اپنے ساتھ دفنا لوں جو پانچ ماہ کا ہو چکا ہے .

مجھے پتا ہے کہ تم مجھ کو مس نہیں کرو گے .یاد تو انکو کیا جاتا ہے جن سے محبت ہو .

میری باقیات تمہاری منتظر رہیں گی . آنا ضرور . روم ٥٣ . لائف لائن ہاسپٹل

خدا حافظ .

میں سکتے سے جاگا تھا . بیخودی میں لفٹ کی جانب دوڑ پڑا . وہ بند ملی تو سرپٹ پانچویں فلور کی سیڑھیاں چڑھ گیا . بدحواسی میں روم نمبر ڈھونڈتا ہوا روم ٥٣ کے باہر آ کر رک گیا .اندر جانے کی ہمت جٹا رہا تھا کہ نرسوں کا ایک ریلا مجھے پیچھے دھکیلتا ہوا داخل ہوگیا . اندر کہرام مچا ہوا تھا .مجھے صرف بلکتی ماں کی آواز سنائی ،” میری گولڈ میڈلسٹ لڑکی چلی گئی .”

____________________

تحریر____فرحین خالد

کور ڈیزائن:احمد

Advertisements

4 Comments

Comments are closed.