چھوٹی سی ضد

👪

ہر شخص میں تھوڑی بہت ضد ھوتی ھے خاص طور پر بچوں میں بہت ھوتی ھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ھے وہ اپنی اس جبلت پر قابو پانا سیکھ جاتا ھے اسے اس بات کی سمجھ آجاتی ھے کہ کیا چیز اسکے لیئے بہتر ھے اور کیا نہیں یا کون سی چیز اسکی دسترس میں ھے اور کونسی نہیں مگر بچپن ان سب عقلمندیوں سے مبراء ھوتا ھے اگر بچوں کو کوئ شے چاھیئے تو بس چاھیئے وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ شے انکے لیئے اچھی ھے یا نہیں یا والدین اسے افورڈ کرسکتے ھیں یا نہیں والدین کی بھی کوشش ھوتی ھے کہ وہ اپنے بچوں کی چھوٹی یا بڑی خواہشات پوری کرتے رھیں بلکہ کبھی کبھی تو ہم اپنی اوقات سے بڑھ کر اپنے بچوں کی خوشیاں اور ضدیں پوری کرتے ھیں ۔۔۔۔۔کیوں
اسلیئے کہ ھم ان سے محبت کرتے ھیں اور چاھتے ھیں وہ اداس نا ھوں وہ کسی شے کے لیئے اپنی زندگی میں ترسیں نا ایسا کم وبیش ھر والدین کرتے ھیں یہ کوئ انہونی بات نہیں ھے بدلے میں والدین اولاد سے صرف محبت اور عزت کے طلب گار ھوتے ھیں اور یہ انکا حق بھی ھے مگر کیا سب والدین کو انکا یہ حق ملتا ھے؟؟ نہیں نا ھمارے معاشرے میں ایسے کئ گھرانے ھیں جہاں والدین سے محبت اور حسن سلوک تو کجا الٹا انکو بوجھ سمجھا جاتا ھے انکی دل آزاری کی جاتی ھے یہ اس معاشرے کی تصویر ھے جو ایک اسلامی معاشرہ ھے ھمارے مذہب میں والدین کے حقوق کیا ھیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں بچپن سے دینیات کی کتب میں ایک چیپٹر والدین کے حقوق پر مبنی ضرور ھوتا ھے مگر ان سب باتوں کے باوجود معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ھے ھم دن بدن اپنی اقدار سے دور ھوتے جا رھے ھیں اسکی ایک چھوٹی سی مثال آج میں نے سر بازار دیکھی جس وجہ سے یہ تحریر میں لکھنے بیٹھ گئ ۔۔
ھمارے گھر کے نزدیک ایک چھوٹا سا بچت بازار لگتا ھے میں بھی اکثر خریداری کرنے وہاں جاتی رھتی ھوں آج بھی گئ ایک اسٹال پر پلاسٹک کے خوشنما برتن بھرے ھوئے تھے مجھے بھی اس اسٹال نے متوجہ کیا میں بھی برتن الٹ پلٹ کردیکھنے لگی میرے برابر میں ایک بہت گریس فل سی خاتون بھی کھڑی تھیں جو اپنے جوان بیٹے کے ہمراہ خریداری کے لیئے آئ ھوئیں تھیں جو مسلسل تیوری پر بل ڈالے بڑ بڑا رھا تھا امی فضول وقت نا برباد کریں آگے بڑھیں جو لینا ھے وہ لیں فضول کے پیسے نہیں میرے پاس ان چیزوں کے لیئے خاتون بے چارگی سے بول رھی تھیں بیٹا یہ ڈش لے لو جو شاید پچاس روپے کی تھی مگر بیٹے صاحب تقریبا اماں کو گھسیٹتے ھوئے برابر کے ٹھیلے پر لے گئے اور سبزی خریدنے لگے میں ان خاتون کی نظروں کو دیکھ رھی تھی جو مڑ مڑ کر برتن کے اسٹال پر طواف کر رھی تھی مگر شاید پیسے بیٹے کے پرس میں تھے ماں کے ھاتھ خالی تھے کیا تھا اگر ایک چھوٹی سی سو پچاس کی ڈش بلا ضرورت بھی صرف ماں کی خواہش پر خرید لیتا وہ ماں جس نے نا جانے بچپن میں کتنی ھی ناجائز ضدیں پوری کی ھونگی مجھے نئے نئے برتن خریدنے کا جنون ھے بہت ساری خواتین کو گھر کی ارائشی اشیاء برتن گلدان شو پیس خریدنے کا شوق ھوتا ھے جسے وہ وقتا فوقتا پورا کرتی رھتی ھیں شاید کبھی اس ماں کو بھی میری طرح ھی یہ شوق ہو اور اب وقت اور اولاد کے ھاتھوں مجبور ھوکر صرف ایک چھوٹی سی ڈش خریدنا بھی ناجائز ھوگیا ھم کتنے جتن کرتے ھیں اپنے بچوں کے لیئے انکی پسند کے کھانے کھلونے اور بڑا ھونے پر مہنگے موبائل فونز لیپ ٹاپ کیا نہیں دلاتے آج دل بری طرح دکھ گیا اس ماں کی ضد کو رد ھوتے دیکھ کر یقین جانیئے وہ خاصہ متمول گھرانے کا پڑھا لکھا ویل ڈریس لڑکا تھا جو صرف ایک برگر یا آئسکریم پارلر پر ہزاروں خرچتے ھوئے ملول نہیں ھوتے کیا تھا اگر وہ اپنی ماں کی چھوٹی سی خواہش پوری کردیتا
ایک بار سوچیئے گا ضرور جو آپکی ضدیں پوری کرتے ھیں جب اپ کی جیب میں پیسے ھوں تو انکی چھوٹی چھوٹی ضدیں ضرور پوری کیجئے گا پلیز ۔۔۔۔۔

______________________

تحریر اسماء ظفر

فوٹوگرافی:خرم بقا

Advertisements