غزل_______رابعہ بصری

شوق دریا میں اتر جانے کا
خوف لہروں میں بکھر جانے کا
زُلف بِگڑی رہی قسمت جیسی
خواب دیکھاتھا سنور جانے کا
خاک اڑاتے رہے صحراوُں کی
اب اِرادہ ہے کِدھر جانے کا ؟
آخری فیصلہ , چل مہر لگا !!!
خوف اب ختم ہے سٙر جانے کا
یہ میری بہن ہے، قرباں ہوگی
اور کیا چاہئیے ہرجانے کا ؟؟
راستے پاوُں پکڑ لیتے ہیں !!!
آج سوچا تھا اُدھر جانے کا
رابعہ، رات ہوئی چاند آیا
بس یہی وقت ہے گھر جانےکا

_______________________

شاعرہ:رابعہ بصری

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.