امید کی کرن

⁦🇵🇰⁩

میرے وطن کے شاداب چہرے
گر تم جو دیکھو
تو یہ سمجھنا
ابھی یہ دھرتی
ہوئی نہیں بنجر
اور اس کے وارث
سلامتی کی دعائیں کرتے
تکھتے نہیں ہیں رات بھر بھی
کبھی جو کوئی طوفان آئے
اور دکھ کی کوئی لہر جو پھیلے
جناح کے وارث
نہ دن کو دیکھیں نہ رات دیکھیں
نثار اپنی جان کر کے
زمانے کو وہ کر دکھائیں
کہ حوصلہ گر جواں ہو
اور
من میں دھرتی کی لگن ہو سچی
تو ڈر نہیں کوئی بھی ایسا
جو وارثوں کو نڈھال کر دے
یہ وارثوں کا نہیں ہے شیوہ
کہ ڈر کر اپنی وہ راہ بدلیں
یہ تو ہیں سب کو راہ دکھاتے
ہمت و حوصلے کے سب کو سبق پڑھاتے
ہیں کر دکھاتے
سارے جہاں میں روشنی کی کرن پھیلا کے
یہ زندہ قوموں کی ہے نشانی
فراموش نہیں کرتے وہ
اپنوں کی لازوال قربانیوں کو
یاد رکھتے ہیں اسباق سارے
عمل کی کنجی کو تھامے
کامیابی کی منزلوں کو
پانے کی لگن میں
وطن کا نام ہیں روشن کرتے
سلام میرے جناح (رحمۃ اللّٰہ علیہ) کو پہنچے
سلام میرے وطن کے وارثوں کو
سلام پیارے وطن کہ تجھ کو
قائم و دائم رہنا ہے تا قیامت

ان شاء اللہ!

________________

شاعرہ : آبرؤِ نبیلہ اقبال

کور ڈیزائن:فرحین خالد۔صوفیہ کاشف

ینگ وویمن رائٹر فورم اسلام آباد چیپٹر

Advertisements