ٹیکسٹروورٹ______( textrovert)

💐

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی ….

یہ ہماری پہلی ملاقات تھی .میں اپنی ماں کے سامنے انجا ن بنی بیٹھی تھی اور وہ بھی مجھے اپنی پیشنٹ ہی سمجھ رہی تھی کیونکہ آج تک میں نے اس سے صرف ٹیکسٹ میسج پہ ہی بات کی تھی . وہ مجھے ہنس ہنس کے اپنے بچپن کا قصہ سنا رہی تھی اور میں بظاھر پرسکون، اپنے اندر طوفان سمیٹے بیٹھی تھی .

وہ پتا نہیں کیا کیا کہہ رہی تھی اور میرے دل میں نہاں ،کرب کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر امڈنے کو بیقرار تھا . دل کہتا تھا کہ میں چلّاؤں ، اسے جھنجوڑوں ، کہوں، کہ ماں … مجھے دیکھو غور سے ، میں تمہاری بیٹی ہوں کاشفہ !! یاد ہے …وہ شیر خوار بچی جسے تم چھ ماہ کا چھاتی سے نوچ کے پھینک گئیں تھیں . میں وہی ہوں . وہی، جو ایڑیاں رگڑتی بڑ ی ہوگئی اس انتظار میں کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے اور اسکی ماں واپس لوٹ آ ئے . مگر تو نہ آئی …. کیوں نہ آئی ماں ؟ میں نے تو ہر ہر سالگرہ پہ تیرا انتظار کیا ہے . اللہ تعالی سے رو رو کے دعائیں مانگی ہیں کہ اللہ میاں مجھے تحفے میں گڑیا نہیں چاہیئے بس مجھے گڑیا بلانے والی ماں دلا دے …. پر کسی نے میری کوئی سسکی کوئی فریاد نہ سنی ، یہانتک کہ میری آواز بھی گھٹ کر رہ گئی

زمانے کے گرداب نے مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا مگر تجھے پانے کی جستجو زندہ رہی . آخرکار پچیس سال بعد میں نے تجھے فیس بک پہ کھوج نکالا . میں نے تمہاری ڈی پی دیکھی تو دیکھتی رہ گئی … کتنی پیاری ہو نا تم ماں … بالکل میرے جیسی … وہی آنکھیں وہی ناک ، وہی گال پہ تل اور ویسی ہی تنہا . میں نے جانا کہ تم ملک کے ایک دور دراز سرد مقام پہ رہنے والی ایک سائیکولوجسٹ ہو ، جو آن لائن نفسیاتی علاج کرتی ہے. سوچا …ممتا نہ سہی ،مسیحائی سہی . جلد ہی تمہاری فرضی پیشنٹ بن کے کی بورڈ کے سہارے اپنی سرگوشیاں رقم کرنے لگی . اتنا کچھ تھا تمہیں بتانے کو سو ایک ایک کر کے ہر راز تم پہ آشکار کرتی رہی ، اور اس بہانے اپنی ہر ہر محرومی کا علاج پاتی رہی . تمھارے حرف کبھی سپاٹ ہو جاتے تو میں رنگ برنگی اموجیز بھیج کے تمہارا دل لبھاتی ، اور پھر بے چینی سے تمھارے بوسے والے ا یموجی کا انتظار کرتی .ان عبارتوں کے تبادلوں نے ہمارے درمیان ایک بھرم کا تار عنکبوت بن دیا تھا جو ایکدن میرے ہونٹوں پہ حرف تمنا لے آیا . میں نے تمہیں بتایا کہ میرا تمھارے شہر آنے کا پلان ہے تو تم نے ایک کیفیٹیریا میں ملنے کا وقت دان کر دیا .

یوں آج میں تمھارے سامنے گنگ بیٹھی تھی اور تم … مجھے پہچان ہی نہیں رہی تھیں …کیوں ماں ؟ مائیں تو نجومی ہوتی ہیں . مائیں تو اپنے بچوں کی ہر بات بنا کہے بھانپ جاتی ہیں . تو کیسی ماں تھی جو اپنی پچیس سالہ بیٹی کا فراق نہیں سمجھ سکی . کیوں اسکی آنکھوں کی حسرت اور کپکپاتے ہونٹوں پہ دھری شکایت سن کے تیرا دل نہیں چٹخا ماں ؟ میں مایوس ہو چکی تھی سو فلائٹ کا بہانہ کر کے کیفیٹیریا سے باہر نکل آئی . خود مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ میں تیرے آگے زبان کے مقفل تالے کھول پاتی . سو خاموش ہی لوٹ آئی . ابھی ائیرپورٹ پہنچی ہی تھی کہ تمہارا ٹیکسٹ آیا .” تم سے مل کے انوکھی خوشی ہوئی .” تو میرے ضبط کا پیمانہ بھی ٹوٹ گیا اور میں نے مدتوں سے گھٹی ہوئی ہوک کو ٹیکسٹ کی شکل دے ڈالی .” ماں ، میں تیری کاشفہ پہچانا ؟

__________________

تحریر:فرحین خالد

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements

4 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.