زرد پتوں کی اوٹ میں

🍂

مجھے یوں لگا خموش خوشبو کے ہونٹ تتلی نے چھو لئے

انہیں زرد پتوں کی اوٹ میں کوی پھول سویا ہوا نہ ہو

_________________________

اک عذاب تھی زندگی! اک لامتناہی انتظار! جسکا کوئی انت نہ تھا۔جو اسکی پلکوں پر، ماتھے کی سلوٹوں پر اور انگلیوں کی پوروں پر ٹھہر گیا تھا۔موبایل کی چمکتی روشنی گل ہوتی تو وہ اسے اٹھا کر پھر آن کر کے دیکھتی۔۔۔۔۔کہ جیسے میسج آنے پر روشنی چمکنا بھول جاے گی اور اسکی مدہم سی چہچہاہٹ اپنی آواز اور سرسراہٹ گم کر بیٹھے گی۔اور وہ پیغام جسکے انتظار میں اسکی انگلیوں کی پوریں ہی نہیں سارا وجود بیٹھا تھا کہیں اندھیروں میں اس سے لاپتہ ہو جاے گا۔مگر اسکے موبایل پر نہ نوٹس چمکنا تھا نہ چمکا تھا،نہ آج نہ گزرے کل نہ بیتے کل ہفتے, نہ پچھلے سب مہینے! ساری دنیا کی ٹیکنالوجی بھی ملکر لاکھوں کروڑوں میلز کا فاصلہ چند سیکنڈز میں کر کے بھی اسکا اور حزیم کا فاصلہ نہ پاٹ سکتی تھی۔وہ پیغام جو کوئی لکھنا نہ چاہے ،جو کسی کو بھیجنا ہی نہ ہو، سارے جہان کا سوشل میڈیا ملکر بھی اسے تخلیق نہ کر سکتے تھے۔وہ محبت کی ماری تھی اور جدیدیت کی اس نیلگوں دنیا میں تیز رفتار ٹیکنالوجی میں بھی تنہا تھی۔کواڑ کھلنے کا انتظار ہو. کسی خالی گلی میں کسی قدم کی آہٹ کی ادھوری سی آس ہو، یا موبایل کی جلتی بجھتی روشنی کی راہ پر رات بھر لگی رہنے والی آنکھیں،،،،،،،،،،،،، ایک سے دکھ میں ایک سی ازیت کاٹتی تھیں۔نارسائ! نارسائ! _________محبت کے امرلمحے تک پہنچنے کی نارسائ!______________ راہوں میں ٹوٹ بکھرنے والے زرد پتے جیسے بہار کو ترسیں! پر جلا لینے والے پتنگےجیسے آگ میں تڑپیں!!!!!!!!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔2۔۔۔فروری 2016

امارت پیلس ہوٹل۔

ابوظہبی

_________وقت بہت آگے چلا آیا تھا۔گزرے سالوں میں زمینی حقائق، موسمی رحجانات سے جغرافیای حدوں تک ہر شے بدل گیی تھی ۔انکی عمروں سے لےکر انکی شکلیں ،حلیے ،کپڑے، رویے! جاتے ہوے سال خموشی سےدبے پاوں نہیں بلکہ بہت سی تبدیلیاں لے کر اور دے کرگزرےتھے۔ جو کل تھا وہ آج نہ رہا تھا اور جو آج تھا وہ ایک دوسرے کے لئے نہیں تھا ۔ اب بے وفاوں کے ساتھ وفاوں کے موسم نہ رہے تھے۔اب سہانے خوابوں کی سچی تعبیریں ڈھونڈ نے کے دن بھی نہیں تھے ،اب جو بھی تھا یہی تھا انکے ہاتھوں میں، خوبصورت خوابوں کے ٹوٹے محلات، حقیقتوں کے اُگائے خاردار جنگلات، پتھروں پر چلنے والے سخت کھردرے پاوں اور سورج کی نظر سے نظر ملا کے چلنے والی بصیرت ۔ ذندگی میں سب کچھ تھا سوائے محبت کے اور محبت جو نہ رہی وہ کیا تھی ؟

بدشکل چہروں کا خوبصورت دکھنا ،تلخ سچائی پر جھوٹ کا گماں رہنا، خوبصورت لمحے لافانی دکھای دینا اور محبوب صفت لوگوں کا سچا اور ایماندار لگنا ۔یہی تھا وہ حسن جو اسکی زندگی سے روٹھ گیا تھا جس کے ریختہ ٹکرے بھی اب اسکے دامن میں نہ بچے تھے۔ڈوبتے سورج کے ساتھ اسکا ماضی اسکا حال اور محبت سب ڈوب چکا ۔ عابدہ پروین کے سُروں کے ساتھ سرہلاتی وہ کتنی ہی سرحدوں کے ادھر ادھر پھرتی رہی تھی۔ کتنے ہی فقروں اور لفظوں کو گھما پھرا کر ان سے کچھ نیے معانی اخذ کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی مگر ہر فارمولے اور ہر ضرب تقسیم کے بعد جواب پھر وہی نکلتا تھا۔نارسای___________________ محبت کے امر لمحے تک نارسای!۔۔

__________________________

اپریل15.

2000
فیصل آباد

اپنے کمرے میں رایٹنگ ٹیبل پر کتابوں کے ڈھیر کے بیچ بیٹھی نورت رف کاغذوں پر بال پن سے تیز تیز انگلیوں سے حروف اتارے جا رہی تھی۔کوئی پانچواں گھنٹا تھا اسے یہاں بیٹھے، اس کرسی کو چھوڑے اور اپنی کتابوں سے سر اٹھاے، ابھی اگلے کچھ گھنٹے مزید یہاں بیٹھ کر یہی کام نمٹانا تھا ۔دو دن بعد اسکے ایف ایس سی سیکنڈ ائیر کے امتحانات شروع تھے ، اسکی زندگی کے سب سے اہم امتحان جو اسکی منزل کا سب سے اہم زینہ تھے۔ایک پڑھاکو طالبہ کی زندگی کے قیمتی ترین امتحانات جو اسکی بارہ سالہ زندگی کا کل حاصل ہوتے ہیں۔

فزکس کے پہلے پرچہ کی تیاری دو دن پہلے مکمل کر کے اب وہ اسکی دہرای میں مصروف تھی ۔ نمیریکل حل کرکر تھک جاتی تو سوالات کی دہرای کرنے لگتی ، لکھتے لکھتے ہاتھ تھک جاتا اور کندھے دکھنے لگتے تو اٹھ کر چل پھر کر دہرانے لگتی ۔ کالے پن سے تھک جاتی تو رنگ برنگی مارکرز اٹھا لیتی۔ اور جب ہر چیز سے تھک جاتی تو میز کے ایک کونے پر رکھے گلاس میں پانی ڈالکر رکھے گیے تازہ پھول سونگھنے اور دیکھنے لگتی ۔

اپنے خوابوں کے بعد سب سے زیادہ پیار اسے خوبصورتی کے شاہکار پھولوں سے تھا جن پر پڑی ایک نظر اسکا دل بہلا دیتی اور اسکے دل و دماغ کو تروتازہ کر دیتی۔ محنت کے ان آخری اوقات میں اپنی تھکاوٹ اور مشکلات کو وہ ہر حال میں ہرانا چاہتی تھی اس لیے اگر گھر کی کیاریوں میں پھول نہ کھلتے تو بازار سے منگوا کر قریب رکھتی۔۔زندگی کے ایسے اہم فیصلہ کن موڑ پر وہ کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھنا چاہتی تھی۔پچھلے کئی دنوں سے نہیں کئی ہفتوں سے خصوصاً وہ دن رات میں ہر ممکن کوشش کر رہی تھی زیادہ سے زیادہ کام کر لینے کی اپنی اہلیت اور قابلیت کا آخری قطرہ تک نچوڑ دینے کی۔ گھر کے شورشرابا ،ماسیوں کے آنے جانے، کام کاج اور کچن کی اٹھک پھٹک سے پرے بنا اسکا کمرہ گھر کا سب سے پرسکون اور بند کمرہ تھا جسمیں ایف ایس سی کے دو سال نورت نے ہمیشہ کی طرح بند ہو کر گزارے تھے۔ یہ کمرہ اسکےان رتجگوں اور محنت کا جیتا جاگتا گواہ تھا جس کا اجر لینے کا وقت قریب آ رہا تھا۔۔اس کی زندگی نے ایک ہی خواب ہمیشہ سے پلکوں پر پرویا تھا، ایک ہی شوق جو اس کا جنوں بھی تھا۔

چھوٹی عمر سے ہی کلاس میں پہلے نمبر پر آنے سے کم عمری میں ہی سب سے سناتھا کہ وہ تو ضرور ڈاکٹر بنے گی۔ کیوں؟ یہ کبھی اس نے سوچا نہیں تھا ۔اسے شعور نے یہ سکھا دیا تھا کہ یہ کوئی بہت بڑا عہدہ اور بہت عزت کے قابل رتبہ ہے جو حاصل کرنا اس کا عین فرض بھی ہے اور حق بھی۔ اس کے علاوہ دنیا کی ہر ڈگری بیکار ہے ، ہر پیشہ کمتر اور رزیل ہے۔ اگر اسے ہمیشہ سب سے اوپر رہنا ہے تو اسے ڈاکٹر بننا ہے۔ ہر حال اور ہر قیمت پر بننا ہے۔ اور اب فاینل کے امتحانات ہونے میں دو دن باقی تھے۔ پندرہ بیس دن کے ان امتحانات کے بعد اس کی زندگی کا سب سے بڑا پل پار ہو جانے والا تھا۔ فرسٹ ایئر میں پچانوے فی صد کے بعد اب اٹھانوے فی صد نمبر مقصد تھا۔ کتابیں چاٹ چاٹ کر خوبصورت چہرے پر ایک غیر معمولی متانت اور سنجیدگی آ چکی تھی، کتابوں کی الماری میں نوٹس کے ڈھیر کے پاس رف کاغزوں کے پن اپ کیے ہوے دستوں کے دستے پڑے رہتے جن پر لکھ لکھ کر انگلیاں تھک جاتیں ۔گردن اکڑ جاتی ، مزاج سوکھ جاتا مگر یہ اس کی بقا اور غرور کی جنگ تھی۔ پچھلے کئی سالوں سے ہر سال نمبر ون آنے والی کا سینہ اب وننگ روپ سے لگنے کا وقت تھا۔اپنی کامیابی کا یقین اس قدر تھا کہ اس نے اپنی ہر کتاب اور کاپی کے ساتھ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر نورت لکھ رکھا تھا۔

______________________________
۔

یکم فروری

2016
ابوظہبی

ابوظہبی کے سات ستارہ امارات ہوٹل کے سونے کے چمکدار رنگ میں چمکتے آڈیٹوریم میں سٹیج پر عابدہ پروین اپنی سریلی آواز کا جادو جگا رہیں تھیں اور ان کے سامنے ہال میں پاکستانی اور انڈین سمیت دنیا بھر کے عارفانہ کلام کے شوقین درجہ بدرجہ نزدیک ترین گاو تکیوں سے لے کر دور تک پھیلی آخری بالکونیوں تک بھرے ہوے تھے۔

۔کلام سنتے ہوئےمنیب کی نظر بہت دیر سے اپنے سامنے قالین پر گاو تکیے سے ٹیک لگائے ایک ّغیرملکی لڑکی کی طرف بار بار اٹھ رہی تھی ۔ کالی جینز اور چیک دار میرون شرٹ میں ملبوس یہ لڑکی عجیب تھی جو عابدہ پروین کے سُروں میں یوں گم تھی جیسے ایڈلے کا سینڈ مائ لوِّ یا لاونل رچی کا ہیلو چل رہا ہو۔ اسے شاید کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کون سی دنیا میں تھی۔ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ اس کی صورت نہ دیکھ سکا تھا چونکہ ایک بار بھی اس نے نظر گھما کر پیچھے دیکھنے کی زحمت نہ کی تھی۔ ۔اس کی محویت منیب کو متاثر کرنے کے لیے کافی تھی ۔ خود وہ آج کی رات فارغ ہونے کی وجہ سے اور دوست کے مفت کے پاس کے چکر میں آگیا تھا ورنہ غزلوں کا اسے کوی خاص شوق نہ تھا۔ بس مفت میں یو اے ا ی کے اندر پاکستانی کلچر اور پاکستانی کمیونٹی دیکھنے کا موقع مل رہا تھاجو وہ زندگی بھر بہت کم دیکھ پایا تھا۔ گھر میں بولے جانے والی اردو اور آس پاس سب پاکستانی گھرانوں میں بولے جانے والی بے پناہ پنجابی کے باوجود اس کا پاکستان کے بارے میں علم اور مشاہدہ خاصا کم تھا۔ اسی وجہ سے وہ اس غزل محفل کے فرنٹ پر بچھی چمکدار درریوں اور نفیس کشنز کے ساتھ پہلی صفوں میں بیٹھا تھا ورنہ تو اس کا خیال تھا غزلیں یا تو ناکام عاشق سنتے ہیں یا بڈھے ٹھڈے ، مگر خوش قسمتی سے وہ لڑکی نہ اسے ناکام عاشق لگ رہی تھی نہ بڈھی۔

آج دوپہر کی فلاییٹ سے پہنچنے کے بعد کل صبح سکای عریبیہ ابوظہبی کے آفس میں اس کی جواینگ تھی جسکے لیے اسے لندن آفس سے ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ جب عابدہ پروین کے سُروں سے اس کا دل بھر گیا تو وہ ادھر ادھر لوگوں کو دیکھنے لگا تبھی اس نے جانا کہ سامنے بیٹھی کالے رنگ کا
سکارف گردن کےگرد لپیٹے لبنانی یا ٹرکش خاتون کی محویت کمال کی ہے ۔اسی کی دلچسپی نے منیب کو بیٹھے رہنے پر مجبور کر دیا ۔اسے احساس ہوا عابدہ پروین کوئی بہت اہم ہستی ہےجسے غیر ملکی بھی اسقدر ڈوب کر سنتے ہیں ۔ایک وہ ہی کم عقل اور کم زوق ہے جسے سر اور کلام کی تمیز نہیں ۔

پتھرو آج میرے دل پہ برستے کیوں ہو
کیا تم کو بھی کبھی میں نے خدا رکھا ہے؟

لڑکی کے سر ہلانے سے لگتا تھا جیسے وہ الفاظ یا معانی بھی خوب سمجھتی ہو۔ رات بارہ بجے کے قریب جب یہ محفل ختم ہوی تورایل پریویلج والے اگلی صفوں کے سب لوگ عابدہ پروین سے ملنے کے لیے اٹھنے لگے تھے کہ یہ انکی ادا کی گئی قیمت میں شامل تھا۔ منیب آگے بڑھا تا کہ اس حسیں چہرے سے بھی تعارف ہو جاے۔ مگر وہ لڑکی بازو پر بیگ ڈالتی ہاتھ میں گاڑی کی چابی پکڑے واپسی کے لیے مڑی تھی ۔ منیب نے نظر ملتے ہی ایک ہاے اس کی طرف اچھالا تھا جس کا جواب وہ صرف ہلکی مسکراہٹ سے دیتی پاس سے نکل گیی ۔اس سے زیادہ کا منیب کو موقع ہی نہ مل سکا تھا۔مگر اتنی دیر میں وہ دیکھ چکا تھا
tiger eye balayage
کلر کی خوبصورت لٹوں کے ساتھ کھلے بالوں والی یہ لڑکی سب لبنانی لڑکیوں کی طرح خوبصورت اور نازک اندام تھی جسے عابدہ پروین کے کلاسک سر بھی تھکا نہ سکے تھے۔

_______________

.18 اپریل

2000

فیصل آباد

نورت ڈوپٹے سے پسینہ پونچھتی ہوی سب لڑکیوں کے ساتھ کمرہ امتحان سےنکلی۔اپریل کی سخت گرمی اور اوپر سے لوڈشیڈنگ کے سخت عذاب نے پرچہ کرنا دوبھر کر رکھا تھا۔گرلز کالج کے بڑے ہال میں دو تین سو لڑکیوں کی موجودگی سے حبس اور گھٹن نے یاداشت اورزہانت کے ساتھ ساتھ حوصلے اور برداشت کا بھی خوب امتحان لیا تھا۔ہال سے نکلتے ہی امبر اور سارا کا گروپ جو شاید نورت کے انتظار میں ہی کھڑا تھا اسکی طرف لپکا تھا۔ دوسری اور تیسری پوزیشن والی امبر اور سارا نورت کا حریف گروپ تھا جو ہر حال میں نورت کی ہر حرکت پر دھیان رکھنا اپنا فرض سمجھتا تھااور نمبر ون ہونے کے لیے مزید محنت کرنے کی بجاے مزید حسد کرنے کا شوقین۔ نکلتے ہی انکی صورت نورت کی تھکاوٹ مزید بڑھا دیتی تھی۔انکی صورت ایک اور امتحاں ابھی سامنے تھا جنکے کھلکھلاتے چہرے نورت کو احساس دلاتے کہ ابھی دور تک کا سفر مزید لاحق ہے۔وہ جتنا پڑھای کے لیے پریشان ہوتی انکے چہرے اتنے ہی کھلکھلا رہے ہوتے جیسے نمبر لینا تو انکے لیے بہت آسان سا کام ہے۔

اسی رویے نے ان لوگوں کو ایک دوسرے سےخاصے فاصلے پر رکھا تھا۔
“کیسا پرچہ ہوا تمھارا نورت؟ ” امبر کے لہجے سے وہی شہد ٹپکا تھا جسکی وجہ سے وہ میٹھی چھری مشہور تھی جسکے جادو میں نورت ہمیشہ پھنس جاتی تھی۔اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ بھی ایک قہقہہ لگا کر کہتی کہ اے ون!
مگر دل کا کیا کرتی جو کبھی اپنے کیے پر مطمئن ہوتا ہی نہ تھا ہر وقت” اور محنت اور اچھا اور آگے” کا راگ الاپتا تھا۔۔ایسی حالت میں قہقہہ لگانا خاصا مشکل تھا۔
ہاں۔۔ٹھیک ہو گیا!!!! ۔ ۔
ہمارا تو بہت اچھا ہوا ہے۔انشااللہ فل باے فل مارکس۔”

سارا کی گردن اکڑی تھی۔درحقیقت امبر اور سارا کے ایسے ہی فقرے تھے جو نورت کو کبھی رک کر سانس نہ لینے دیتے تھے۔ حریفوں پر پریشر ڈالے رکھنا سارا اور امبر کی طاقت تھا ۔اعصاب کی جنگ وہ ہمیشہ جیت جاتی تھیں ۔وہ اپنی کمزوریاں مانتی نہ تھیں اور نورت کو اپنی کمزوریاں بھولتی نہ تھیں۔ انکا غرور نورت کی رفتار میں ہمیشہ اضافے کا باعث بنتا تھا۔

اسی وقت پیچھے سے اسکا ہاتھ پکڑ کر سعدیہ نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔”جلدی چلو میڈم فوزیہ بلا رہی ہیں”

سب کے منہ کے بگڑتے زاویے چھوڑ کر وہ گیلری کی طرف بڑھی تھیں۔

“میڈم فوزیہ کی تو چمچی ہے یہ!
امبر نے منہ مروڑا تھا ۔نمبر ون ہونا ایک ایسا استحقاق تھا جسکا مقابلہ انکے اعصاب بھی کر نہ پاتے تھے۔
“تم کہاں چلے گئے تھیں؟ دو منٹ انتظار نہیں ہوتامیرا ، فٹا فٹ چل پڑتی ہو ہال سے نکلتے ہی۔ہزار بار کہا ہے انتظار کیا کر میرا”۔سعدیہ اسکی واحد دوست تھی جس پر وہ بگڑی تھی۔
“یار بھوک لگی تھی سوچا بھاگ کر کچھ کھانے کو لے آوں۔۔۔۔۔ رستے میں میم نے پکڑلیا۔اب تم بھاگ کر جاؤ اور بات سن کر آوتاکہ کینٹین چلیں۔”
میم سٹاف روم میں کچھ کتابوں کو سامنے رکھے نوٹس بنا رہی تھیں۔
مے آی کم ان میم؟ ”
یس کم ان! ”
انہون نے چشمہ اتار کرکتاب میں رکھا تھا۔
کیسا ہوا پرچہ آپکا؟
یس میم اچھا ہو گیا! ”
” کوی کسر نہیں رہنی چاہیے!۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے سکالر شپ کے لیے کچھ نام مانگے گیے تھے میں نے آپکا دے دیا ہے .اب پوری توجہ سے پرچے دینےہیں!” ۔
تھینک یو میم! انشااللہ!”
“اور ابھی اسکا کسی سے زکر نہیں کرنا آپ نے۔مجھ پر بہت سے ناموں کے لیے پریشر تھا پر یہ آپکا حق تھا۔ اب مجھے شرمندہ مت کروا دیے گا۔”
انشااللہ ناٹ میم!! ”
باہر نکل کر نورت نے کچھ گہرے سانس لے کر پریشر کو ریلیز کرنے کی کوشش کی تھی۔”حوصلہ کر بیٹا یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کے لیے!!!”
سعدیہ نے اسکی بازو میں بازو ڈالکر اسے چھیڑا تھا۔خود نورت کو بھی اندازہ تھا ابھی تھک کر رک جانے کا وقت نہیں آیا تھا۔
_________________________

20اپریل

2000

فیصل آباد

ابو کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھی نو رت
ہاتھ میں کتابیں لیے ٹیوشن کے لیے نکلی تھی کہ اچانک سڑک پر چلتے چلتے سڑک جیسے کسی دریا میں ڈوب گیی تھی۔۔سامنے پانی ہی پانی تھا جیسےسڑک کے بیچ میں ٹھہرا ہوا دریاجو ساحل کی طرح قدم قدم گہرائی کی طرف جاتا تھا۔ وہ کتابیں ہاتھ میں لیے اس میں سے نکلنےکا رستہ ڈھوند رہی تھی جو کسی سمت سے دکھای نہ دیتا تھا۔ادھر ادھر دیکھتےاسکا پاؤں پھسلا تھا اور وہ اس پانی میں جا گری تھی ۔بچاو کے لیے ہاتھ پاؤں مارتےوہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیی۔

باہر فجر کی ازانیں سنای دے رہی تھیں اور لاؤنج کی بتی جل کرگواہی دے رہی تھی کہ اماں ابا فجر کی تیاری کے لیے اٹھ چکے ہیں۔ایسے عجیب و غریب خواب اسے آجکل ایک تسلسل سے آ رہے تھے۔کبھی دریا،کبھی سمندر ،کبھی سیلاب۔۔۔ہرطرف پانی ہی پانی بہتا ہوا ،رکا ہوا یا پھیلتا ہوا۔وہ انکو سمجھ تو نہ پاتی تھی نہ کوی خاص اہمیت ہی دیتی تھی مگر مسلسل ایک جیسے خواب آنےسے اسے کچھ پراسرار سا محسوس ہوتا تھا اور اس پر مستزاد ایسے خوِاب اسے آنکھوں دیکھی حقیقت کی طرح یاد رہتےتھے۔نہ دھندلے ہوتے تھے نہ بھولتے تھے۔اس نے فجر کی نماز کے لیے بستر چھوڑ دیا تھا۔جسکے بعد کیمسٹری کے پیپر کے لیے نکلنے سے پہلے وہ کچھ نہ کچھ دہرای کرنا چاہتی تھی۔–
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2فروری
۔2016ابوظبی

ٹوفو رففٹی فور میں سکای عریبیہ کے بڑے خوبصورت سٹودیو ہال میں نینسی منیب کو اپنی ٹیم سے متعارف کروا رہی تھی۔سرخ اور سفید کے خوبصورت امتزاج سے بنا یہ بڑا سٹوڈیو لندن آفس سے کسی طرح کم نہ تھا۔منیب کو یہاں ڈاکومنٹری ڈیپارٹمنٹ میں سینیر پروڈیوسر کے طور پر کام کرنا تھا۔ملتے ملاتے وہ اسٹنٹ پروڈیوسر کی سیٹ تک پہنچے تھے جہاں اسکے سامنے والی کرسی پر جو چہرہ اسکے طرف گھوما تھا وہ اسکی لیے کچھ آشنا سا تھا۔
meet miss anne kamal. she will assist you! Anne it’s Muneeb from London office.
hi!

یہ تو وہی چہرہ تھا جو کل رات عابدہ پروین کے ساتھ سر دھنتا رہا تھا۔

“hello! nice to see you again! ”
.”..again? ”
“yea… last night we we’re in the same ghazal show! if you remember! ”
“oh!!!! sorry I don’t!”
“that’s great if you have a little encounter already. and as you both belong to Pakistan hopefully you will manage a good working relationships!
نینسی نے فراغت محسوس کی

“so see you again! “

نینسی منیب کو این کے حوالے کر کے لوٹ گیی تھی۔

آپ پاکستانی ہیں؟ ”
اب کہ منیب اردو میں بولا تھا

“جی”
۔

“لگتی تو نہیں ہیں۔ میں تو سمجھا آپ لبنانی یا ٹرکش ہونگی آپکے فیچرز کچھ انکے جیسے ہیں۔”

“چلیں شکر ہے آپ نے یہ نہیں کہ دیا کہ میں تو آپ کو انڈین سمجھا تھا۔”
این ہنس پری تھی۔

عابدہ پروین کی بہت شوقین ہیں آپ۔”
“جی بہت۔۔۔۔آپ نہیں ہیں؟ ”
“نہیں !بہت زیادہ نہیں ۔میں تو زیادہ وقت آس پاس کے لوگوں کو دیکھتا رہا۔”
” اسکا اندازہ تو ہو ہی گیا ہے مجھے۔! “این مسکرای تھی۔

۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

______________________

25فروری2000

فیصل آباد

سوموار کے دن کا آغاز خاصا خوش گوار تھا۔ بائیو نورت کا پسندیدہ مضمون ہونے کی وجہ سے اسے انگلیوں پر ازبر رہتا تھا دوسرا چھٹیاں مناسب مل جانے کی وجہ سے گھر سے نکلتے اس کی تیاری بھرپور مکمل تھی۔ڈایاگرامز تک وہ کئی کئی بار دہرا چکی تھی۔یہ چھوٹی چھوٹی خوش گواری پرچہ دیتے بھی ساتھ رہی جب لوڈ شیڈنگ نہ ہوئ اور تین گھنٹے کا پرچہ بغیر کسی حبس یا اندھیرے کے سکون سے حل ہو گیا۔بائیو اس نے گھول کر پی رکھی تھی ،بغیر تیاری کے بھی ساری کتاب وہ بند آنکھوں سے دہرا سکتی تھی ،ہر مشکل سے مشکل ڈایاگرام منٹوں سیکنڈوں میں بنا لیتی، چناچہ پہلی بار کمرے سے نکلی تو چہرے پر مسکراہٹ اور اعصاب پر سکون تھے۔ حسب معمول امبر گروپ اس کی سن گن لینے کو پہلے سے دروازے پر موجود تھا اور دور سے ہی نورت کی مسکراہٹ پکڑ چکا تھا۔

“لگتا ہے آج تو خوب اچھا پرچہ ہوا ہے؟”

کوئ خدشہ تھا یا سوال امبر کی مسکراتی آواز میں جسے سن کر نورت بے ساختہ ہی کھل کر مسکرا دی تھی۔

“اللہ کا شکر ہے آج تو بہت اچھا ہوا ہے!”

“ہاں بھئی!_____تمھارے تو برے بھی کچھ کم نہیں ہوتے آج تو پھر کمال ہی ہوا ہو گا!”امبر کے لہجے کی مٹھاس پھر چھلکی۔

“ہاں،تم تو جیسے کسی سے کم ہو!”نورت نے مسکراتے جواب دیا تھا

“ہم تو نکمے لوگ ہیں دوسری تیسری پر گزارا کر لیتے ہیں مگر تم کو تو پہلی ہی چاہئیے ہوتی ہے!”

“اچھا بھئی میں نکلتی ہوں ڈرائیور آ گیا ہو گا!”

سب کی جلتی نظروں سے بے خبر آج نورت جیسے ہلکی پھلکی سی خدا حافظ کہتے گیٹ کی طرف کو نکلی جہاں سامنے ہی سعدیہ دو کوک اور سموسوں کی اک پلیٹ لئے بھاگے چلی آ رہی تھی۔سعدیہ کو بھوک بہت لگتی تھی تبھی ہال سے نکلتے ہی کینٹین کی طرف بھاگتی۔

“نہیں یار ،آج جلدی نکلنا ہے ٫ آج ڈرائیور نے آنا ہے آفس سے ، اس کو جلدی نکلنا ہوتا ہے، تمھیں پتا تو ہے!”

“اچھا نکل جانا جلدی سے یہاں بیٹھ کر کھا لیتے ہیں فٹا فٹ!”سعدیہ نے کوک اسکے ہاتھ میں تھمای اور قریبی بینچ کی طرف بڑھی۔

نورت گیٹ سے نکلی تو ڈرائیور حسب توقع گیٹ کے بالکل سامنے موجود تھا۔ابو اسے ہمیشہ پانچ منٹ پہلے بھیجتے اس لئے وہ سب سے آگے کھڑا ہوتا ہمیشہ۔گاڑی میں بیٹھتے ہی نورت گھر نمبر ملانے لگی تا کہ امی کو پرچے کا بتا سکے۔اسے امی کو بتانے کی جلدی تھی کہ آج کے پرچے میں ضرور سو فی صد نمبر آئیں گے ۔اس کا لکھا ایک ایک لفظ صحیح تھا اور اس کا اسے بہت اچھی طرح ادراک تھا۔اس میں تو ممتحن نمبر کاٹنا بھی چاہے تو نہیں کاٹ سکتا۔مگر سب کچھ ممتحن کے ہاتھ میں ہوتا ہی کہاں ہے۔گاڑی بند رستے سے نکل کر کھلی سڑک پر چڑھنے لگی تھی جب ڈرائیور انکل کا موبائل بجا تھا اور انکا دھیان سڑک سے ہٹ کر موبائل کی طرف ہوا۔بس یہی چند سیکنڈوں میں بائیں طرف سے آتی ایک گاڑی پوری شدت سے نورت کے دروازے سے ٹکرا کر اسے دھکیلتی کچلتی آگے بڑھتی چلے گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاسپٹل کے آپریشن تھیٹر کے باہر سب موجود تھے۔ سسکیاں بھرتی، آنکھیں پونجھتی امی جنکی آنکھیں دوپہر سے بہہ بہہ کر لال شعلے کی مانند ہو چکی تھیں، تھکے ٹوٹے تشويش زدہ چہرے کے ساتھ ابو۔۔۔امی نے جبتک فون اٹھایا تھا نورت کا فون بند ہو چکا تھا۔نور کا نمبر دیکھ کر وہ کال بیک کرنے لگیں تو اسکا نمبر بند جانے لگا۔ انکو لگا کہ بیٹری ختم ہو گیی ہو گی۔ وہ کچن میں کھانا نکالنے کو بڑھنے لگیں تو دل پر اک نامانوس سا بوجھ پڑنے لگا۔ایک دم دل سے نورت کی خیریت کی دعا نکلنے لگی .

“۔یا اللہ سب خیر ہو!” وہم کو جھٹلانے کی کوشش کی مگر وہ وہم انکے دماغ سے جیسے چمٹ سا گیا۔

ڈایننگ کی کرسی پر وہ سانس بحال کرنے کو بیٹھ گییں مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا دل کا وہم بڑھتا جا رہا تھا۔آدھ گھنٹے بعد بھی نورت کی کوئی خیر خبر نہ آی تو باقاعدہ انکا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔فون کی گھنٹی بجی تو انہوں نے لپک کر فون اٹھایا تھا ۔

“نورت پہنچ گیی؟” دوسرے طرف ابو تھے

“نہیں! ابھی تک نہیں!! اللہ خیر کرے!!! آپ ڈرایور کو فون کریں”

اسی کو کر رہا تھا اسکا نمبر بند جا رہا ہے۔میں دیکھتا ہوں ”
۔
دوسری طرف فون رکھتے ہی ابو اٹھے تھے ڈرائیور انکے آفس کا بہت پرانا اور اعتماد کا بندہ تھا۔انہیں فکر ہوی، کوی پنکچر وغیرہ نہ ہو گیا ہو۔مگر جب کولیگ کی گاڑی پر وہ کالج کی روڈ پر اترے تو لوگوں کا ہجوم ،ناین ون ون کی گاڑی اور ایمبولینس کی جلتی بھجتی بتیوں سے انکا دل دھک سے رہ گیا۔کسی انہونی سےڈر کر وہ آگے بڑھے تو دو ٹوٹی کچرہ بنی کاروں میں سے ایک انکے آفس کی کار تھی ۔ وہ بھاگے تھے اپنی اس آزمائش کی طرف جو خون سے لت پت بیٹی کی صورت ایمبولینس کے سٹیریچر پر منتقل کی جارہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

15فروری

2016۔ابوظہبی

منیب کام میں بے حد ماہر اور سنجیدہ مزاج تھا۔کام کے وقت وہ کام میں اس طرح ڈوب جاتا جیسے اس کے آس پاس کسی دنیا کسی شے کسی فرد کا وجود ہی نہیں۔ اس کی اسقدر پروفیشنل اپروچ نے سب کے ساتھ ساتھ این کو بھی نہ صرف متاثر کیا تھا بلکہ وہ بھی اس سے بہت کچھ سیکھنے لگی تھی۔اپنی تماتر توجہ اور شوق کے باوجود وہ منیب جتنی پرفیکشنسٹ نہ تھی کہ ایک ذرا ذرا سی چیز کے لیے پاگل ہو جاتی ۔وہ چھوٹے موٹے کمپرومائز ز کر لیتی تھی مگر منیب کی زندگی میں کمپرومایز کا نام ہی نہ تھا۔ کوی ذرا سا روشنی کا فرق ،کوی ذرا سی رنگ میں تبدیلی وہ برداشت نہ کرتا تھا۔اسے ہر سین اسی طرح سے چاہیے ہوتا جیسے وہ اسے اپنے دماغ کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوتا۔صرف ڈیزرٹ سفاری پر اس نے کئی دن لگا دیےتھے اس کے محض کچھ سین حاصل کرنے کے لیے۔ریت کا ایک ایک زرہ، پیروں کا ایک ایک نقش، اونٹوں کے پیروں کا ردھم ،ان پر گرتے شام کے ساے ّاور شام میں تھرکتی ہوی ڈانسرز۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک ایک سین اسطرح بنا دیا تھا کہ ڈیزرٹ سفاری کو سامنے بیٹھ کر دیکھنے والے بھی حیران رہ گیے تھے ۔ سارا ہی عملہ ایسے پروڈیوسر پر ناک بھوں چڑھا رہا تھا پہلے دن ہی جو ہر شے پر غیر ضروری محنت کر رہا تھا ۔شاید ایک این ہی تھی جسے ایسے دن بھر کھپ کر مزا آیا تھا۔منیب سے اسے بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا تھا۔جو چیز وہ اس سے سب سے زیادہ سیکھ رہی تھی وہ اس کا بھرپور ارتکاز توجہ تھا۔کام کے وقت وہ جیسے سانس لینا تک بھول جاتا تھا اور جب کام سے فارغ ہو جاتا تو کام کو ایسے بھلا دیتا جیسے زندگی میں ان کا وجود تک نہیں۔تب وہ دنیا کا سب سے کھلنڈرا ،لاپرواہ اور نکھٹو انسان لگتا جسے سواے گپیں مارنے اور ہنسنے بولنے کے اور کوی کام نہیں۔۔مگر آہستہ آہستہ سب اس کے سٹایل کو سمجھنے لگے تو اسے پسند کرنے لگے تھے۔

ساتھ ہی این کے لیے ایک نئی مشکل جنم لینے لگی تھی۔منیب اس میں دلچسپی لینے لگا تھا ۔وہ کافی لنچ یا ڈنر کے لیے اس کے ساتھ چلنے پر بے چین رہنے لگا تھا۔شروع میں وہ آرام سے چلے جاتی مگر اب اس کی دلچسپی محسوس کر کے وہ کترانے لگی تھی۔منیب وہ جگہ لینے کی کو شش کر رہا تھا جسے وہ جیسے صدیوں سے کسی کے نام پر سنبھالے بیٹھی تھی۔منیب کے منہ سے ایسے فقرے نکلنے لگے تھے جو اس کے اردگر وایلن بجانے کی بجاے سانس روکنے لگتے تھے۔ایسی موسیقی جس پر وہ کان دھرنے سے قاصر تھی۔منیب اسے پسند تھا ایک اچھے اور پروفیشنل کولیگ کی طرح مگر جس جگہ کی طرف وہ بڑھنا چاہ رہا تھا وہاں پر آج بھی کسی اور کا راج تھا۔

جب سے منیب نگاہیں بدلنے لگا تھا اسے کوی شدت سے یاد آنے لگا تھا۔جسے وہ اپنے شعور کی تہوں میں دبا دینا چاہتی تھی،ایک دم سے نکل کر اس کے اور منیب کے بیچ کھڑا ہو جاتا تھا۔ ۔ کوئی ایساجس کے پار وہ کبھی دیکھ ہی نہ پاتی تھی۔این کی بینائی بس اُسی تک تھی۔اور ایسا اب اکثر رہنے لگا تھا۔ ۔جس محرومی کو لاشعور میں دبانے کی وہ کوشش کرتی رہتی تھی ۔منیب کی زرا سی توجہ نے اسے پھر سے سرد خانے سے نکال کر اس کے سامنے کھڑا کر دیا تھا۔ ۔اب وہ بچنا بھی چاہتی تو بچ نہ پاتی ۔کس کس سے بچتی ۔ماضی سے یا حال سے ؟ یہ بہت بڑی ستم ظریفی تھی اس کے ساتھ کہ جب بھی وہ اس یاد کو بھلانے لگتی اور زندگی کی طرف لوٹنے لگتی کوئ نہ کوئ اس کے سامنے آ کر نیند میں ڈوبتی کسک کو پھر سے جگا دیتا اور وہ پھر سے زمین و آسماں کے بیچ ڈولنے لگتی۔۔۔۔ آخر تھک ہار کر وہ منیب سے کنی کترانے لگی تھی۔کام ختم کر کے فورا اٹھ جاتی۔کافی لنچ سب کے لیے کوی نہ کوئی بہانہ تیار کرکے رکھتی۔منیب سے بچ کر آ جاتی اور اک یاد میں الجھ کر رہ جاتی۔رات بھر اپنی کھڑکی میں بیٹھی شہر کی جلتی بجھتی بتیوں میں کسی کی یاد کے جلترنگ سہتی ۔وہ ان روشنیوں پر نظر لگائے کہیں دور کے کسی علاقے میں کھوئی رہتی۔

نجانے اب وہ کہاں تھا ؟ نوشہرہ اور رسال پور وہ سالوں پہلے چھوڑ چکا تھا اب نجانے کس شہر، کس گلی، کس جہان میں ہو گا، کس کے ساتھ ہو گا!۔کسی خوبصورت محبوب بیوی کے ساتھ ،خوبصورت بچوں کے ساتھ ،کسی بڑے عالیشان عہدے پر۔ سالوں بعد بھی اسکےالفاظ اور لہجہ، اسکا انداز ،این کے اندر اسی رعنائی کے ساتھ زندہ تھے۔آج بھی وہ اسکی سماعت کی ہر حد میں اندر سے گونجتا تھا۔اتنے سالوں کے فاصلے پر سمندر پار بیٹھ کر وہ اس کے کسی لفظ کسی خط یا کسی نشانی کو دیکھنے کو ترس جاتی اور پھر پچھتاتی ،،،کاش کہ اس کے خط اور وہ کارڈز ہی سنبھال کر رکھ لیتی جو وہ ہر ہفتے اسے بھیجتا رہتا تھا۔سالوں پہلے غم وغصہ سے پھاڑتے ہوےاس نے کہاں سوچا تھاکہ یہ روگ عمر بھر کے لیے اس کی جان سے لپٹنے والا ہے ۔اس کے نام سے لگی زندگی پھر کبھی مسکرا نہ سکے گی۔ اسے کسی نے نہ بتایا تھاکہ محبت کہاں مرتی ہے۔نہ دو سال بعد نہ دس سال بعد نہ صدیوں بعد۔۔حقائق اور مجبوریاں ضرور بدل جاتی ہیں۔مگر وہ جو محبت کے لمحات ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اپنی جگہ پر قائم دایم تاحیات رہتے ہیں ،،،،،،،کب کسی کو ٹھوکر لگتی ہےاور وہ سر پٹختا اسی محبت کی نکڑ پر جا بیٹھتا ہے۔ساری رات وہ کھڑکی کے شیشے سے اس محبت کے در پر سر پٹختی جو اس سے چھن گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی کبھی زندگی میں گزارے چند لمحےآپ کی عمر بھر پر بھاری ہو جاتے ہیں۔کبھی سالوں کے انبار میں کوئی ایک سال یا چند ماہ بے تحاشا وزنی ہو جاتے ہیں ۔اتنے وزنی کہ ساری عمر بھی انکے مقابل رکھ دو تو ہلکی ہو جاتی ہے ۔اس کی زندگی کے سال بھی گزرتے جا رہے تھے۔ اس کی ساری زندگی ملکر بھی اس ایک سال کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے جو اُس کے سنگ گزرا تھا۔وہ سال جو اسکے وجود نے جادواں کر دیا ۔این کے بوڑھے ہوتے بدن پر، چہرے پر پڑتی لکیروں پر اور ماتھے کی شکنوں پر، لمحہ بہ لمحہ گزرتے وقت کے نقوش پڑتے چلے جا رہے تھے ۔مگر پھربھی نہیں ڈھویا جاتا تھا اس ایک سال کا بارجو اس کی زندگی کا رستہ زخم بن چکا تھا۔وہ کیا تھا؟ کوی سورج ؟کوی دیوتا کوی خدا کہ اس کے جیسا کوئی ملتا ہی نہیں تھا !۔

این نے بھیگتی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر جیسے ان آنسوں کے ساتھ اسکی یاد کو بھی صاف کرنے کے بہت ناکام کوشش کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

27 اپریل

۔2000۔۔۔فیصل آباد

نورت کے جسم اور سر پر پٹیاں لپٹی تھیں۔اسکا آدھے سے زیادہ جسم پلستر میں لپٹا تھا.سایڈ ٹیبل پر کچھ پھولوں کے گلدستے اور گیٹ ویل سون کے کارڈ رکھے تھے جنکی خوشبوؤں سے کسی کو غرض نہ تھی۔۔ساتھ والی کرسی پر پریشان حال، تھکی ہاری امی ہاتھوں میں پکڑی تسبیح کے دانے گراتی جیسے آدھی رہ گییں تھیں۔ پچھلے پانچ دن میں سرجری سے زخم بہتر ہو رہے تھےمگر ایک زخم ایسا تھا جو پانچ دن سے بہتر نہ ہوا تھا وہ نورت کے دماغ پر لگا تھا۔وہ ایکسیڈنٹ میں لگنے والی دماغی چوٹ سے ہوش میں نہ آ سکی تھی۔ فریکچرز کے ٹھیک ہونے کی نوید سنائی تھی ڈاکٹرز نے مگر کومے کے لیے صرف دُعا بتای تھی۔یہ آج بھی ختم ہو سکتا تھا کل بھی اور چھ ماہ بعد بھی۔مگر پچھلے پانچ روز سے دن رات اسکی صورت دیکھتے، سورہ یاسین پڑھتے، ورد کرتے اور اسکے منہ سر پرپھونکیں مارتے گزر گیے تھے مگر اسکی آنکھ میں کویٔ ہلچل نہ پیدا ہو سکی تھی۔اسکی سب سہلیاں ایف ایس سی کا امتحان دیتی میڈیکل کالج کی جنگ لڑ رہی تھیں اور ان مقابلوں میں ہمیشہ فاتح رہنے والی مقابلے سے ہی خارج ہو کر ہسپتال کے بستر پر بے سود پڑی تھی۔ایسے بھی بازیاں الٹتی ہیں زندگیوں کی ، جن کو جیتتے جیتتے زمانے لگ جاتے ہیں انکو ہرانے کی لیے ایک زلزلہ ایک آتش فشاں کہیں اچانک سے ابل آتا ہے اور سب کچھ نیست و نابود کر دیتا ہے۔زخمی تو ڈرائیور بھی تھا مگر وہ ہوش وہواس میں تھا اور دوسری طرف ہونے کی وجہ سے کچھ بہتر حالت میں تھا۔
نورت کا کوما پانچویں دن بھی اتنا ہی گہرا تھا جتنا پہلے دن تھا .امی اور ابو ہسپتال میں ہر وقت اسکے سرہانے بیٹھے رہتے ،کوئی نہ کوئی عزیز رشتہ دار حال پوچھنے آتا تو ایک گلدستہ اسکے سرہانے رکھ جاتا اور وہ پھولوں پر جان چھڑکنے والی اتنے پھولوں کے ڈھیر پر انکے رنگ اور خوشبوؤں سے بے نیاز کومے میں غرق تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔

۔۔۔۔۔۔۔25مئ2000۔.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے وہ ایسا جاگتی تھی کہ سونے کا وقت نہیں نکلتا تھا اور اب وہ ایسے سو رہی تھی جیسے زندگی سے اسے کوئی غرض ہی نہ رہی تھی۔جیسے اپنی ہار سے وہ بے خبر رہنا چاہتی تھی، جیسے اپنے لٹ گیے قافلوں کی اسے کوی پرواہ ہی نہ تھی۔
ایف ایس سی کے امتحانات ختم ہو گیے۔سب سہیلیاں ایک ایک چکر لگا کر چھٹیاں گزارنے خالہ یا نانی کے گھر نکل گییں۔چھٹیاں شروع ہونے کے پندرہ روز بعد بھی جو اپنے کمرے اور بستر سے باہر نہ نکل سکی تھی وہ نورت تھی۔اسکے جسم سے آہستہ آہستہ سب پٹیاں اتر چکی تھیں مگر آنکھوں میں اجالے ابھی تک نہ بیدار ہو سکے تھے۔اسےگھر شفٹ کر دیا گیا تھا مگر اس کا کوما نہ ٹوٹ سکا تھا۔ابو نے اٹھتے بیٹھتے صدقے خیرات دینے شروع کر رکھے تھے،بکرے اور پلاؤ کی دیگیں چڑھائی جاتیں ۔کتنی ہی درگاہوں اور مزاروں پر چڑھاوے چڑھاے گیے، منتیں مانگی گییں، دعاییں کروای گییں۔امی نے دورو نزدیک کے ہر عمرہ پر جانے والے سے خصوصی دعا کے لیے التجا کرنی شروع کر دی ۔

نورت کے کمرے میں بستر کے قریب ایک چھوٹا سا میوزک پلیئر سیٹ کر کے اس پر دن کا بیشتر حصہ تلاوت قرآن پاک چلای جاتی۔کسی روحانی عالم نے قاری عبدالباسط عبدالصمد کی سورہ رحمن کی تلاوت چلانے کا مشورہ دیا تھا۔ابو صبح فجر کے بعد اور رات سونے سے پہلے اسکے سرہانے بیٹھ کر تلاوت کرتے اور اس پر مختلف لوگوں کی بتای گیی دعاییں پڑھ پڑھ پھونکیں مارتے۔جو بھی اسکے پاس بیٹھتا ہلکی آواز میں قرآن کی تلاوت یا کسی اخبار اور رسالے کو پڑھ کر سناتا رہتا کہ شاید کچھ الفاظ اسکے سوے دماغ تک پہنچ سکیں۔۔شاید کہ اسکے لاشعور پر اس سے کچھ بہتر فرق پڑھ سکے۔
۔نورت کے ساتھ ہی اسکے عظیم مستقبل کا خواب بھی کومے میں چلا گیا تھا۔سچ تو یہ ہے کہ امی یا ابو میں سے کسی کو اسکے سال کے ضایع ہو جانے کی ،اسکے دو سال کی محنت کی پرواہ نہ تھی۔انکی اپنی عمر بھر کی کمایئ نورت کی صورت داؤ پر لگی تھی۔ابو کو دفتر اور کام کے اوقات بھول گیے تھے امی گھر کے مسایل سے بے نیاز ہو چکی تھیں۔انکی اکلوتی بیٹی انکے ہاتھوں میں آدھی زندگی کھوچکی تھی وہ کاروبار اور روزگار کی پرواہ کرکے بھی کیا کرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔
ابوظہبی۔۔۔.مرینہ بیچ

25اپریل

2006

منیب ،این اور رامین کی ٹیم مرینا ہیریٹیج ویلج میں شوٹنگ کر رہی تھی ابوظہبی کلچر کی ڈاکومنٹری میں اس جگہ کی بہت اہمیت تھی جہاں پر جدید اور قدیم ابوظہبی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے دکھای دیتے تھے۔ساحل کی اس طرف قدیم انداز کی دیہی زندگی پرمبنی میوزیم سمندر پرے چمکتی بلند و بالا شیشے سی عمارتوں کی جھلملاتی رنگ برنگی روشنیاں اور سمندرمیں چمکتے ان کے دلنشیں عکس۔

اپنا کام ختم ہوتے ہی وہ خاموشی سے رامین کو اشارہ کر کے مرینہ بیچ کی طرف نکل آی تھی۔سڑک کراس کرکے سڑک کنارے چمکتی روشنیوں میں سے گزرتی وہ سمندر کی طرف منہ کیے ٹانگیں بینچ پر رکھے بیٹھ گیی تھی۔ویک ڈے ہونے کی وجہ سے بہت رش نہ تھااور وہ وہاں تنہا بیٹھی کسی دور جاتی موج کے ساتھ نجانے کہاں بہنے کو تیار تھی۔آج پھر منیب کافی کے لیے اسکے ساتھ نکلنے کے موڈ میں تھااور وہ اس کافی کے لیے خود کو اپاہج سمجھتی تھی!

“حزیم! ،،،،،،،،حزیم! ،،،،،،،،، حزیم! ،،،،،،کیا تھا جو تم ایسا نہ کرتے میرے ساتھ۔”

اسکی آنکھوں سے کچھ قطرے بہہ نکلے تھےکتنے عرصے سے اس نے خواب میں بھی حزیم کا نام لینا چھوڑ دیا تھامگر آج اسے احساس ہوا تھا کہ اس نام کی کسقدر عادت تھی اسکی دھڑکن کو کہ بنا چاہے بنا سوچے اسکی زبان پر جب چاہے آ سکتا تھا۔اور اس نام کو بدلنے سے کتنا ڈر لگتا تھا اسے جیسے اسکا وضو ٹوٹ جاے گا یا روزہ ٹوٹ جاے گا یا ایمان ہی ہاتھوں سے نکل جاے گا۔نوجوان دل کی معصوم محبت بھی ایمان سے کم کہاں ہوتی ہے۔منیب اسکے سامنے نہ آتا تو شاید اسے آج بھی پتا نہ چلتا کہ حزیم کا نام کس طرح اسکی دھڑکن کے ساتھ دھڑکتا ہے۔جسے الگ کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔حزیم نام کی صدا جتنی بار اسکے دل سے نکلی پلکوں سے گرم گرم آنسو ڈھلکتے گیے۔

نجانے کیوں انسان خود کو اسقدر وابستہ کر لیتا ہے ایسے لوگوں کے ساتھ جنکا حیات کے لمبے سفر میں چند پلوں سے زیادہ ساتھ نہیں ہوتا۔ نجانے کیسے لوگ کسی کے ساتھ اچھا وقت گزارتے ہیں اور پھر چپکے سے نکل جاتے ہیں۔نورت کے لیے ایک ہی حزیم عزاب ہو گیا تھاجو اسکے دل سے اترتا ہی نہ تھا۔محبت خواب ہوتی ہو گی انکے لیے جنکی تعبیریں خوبصورت ہوں۔جنکے سب خواب ڈراونے ہوں انکے لیے محبت قیامت سے کم کہاں ہوتی ہے۔

“اور کتنی دیر بیٹھنا ہے؟ ”

اسے پیچھے سے رامین کی آواز آئی تھی تو اس نے آنکھیں پونچھی تھیں اپنے گلے میں لپیٹےسکارف کے ساتھ۔ ۔ رامین اسکے برابر آ کر بیٹھ گیی تھی۔

کیا ہوا ہے؟ پھر کوی بات ہو گیی ہے؟
وہ چپ تھی۔

“تمھیں پتا ہے سب محسوس کرنے لگے ہیں کہ تم کچھ اپ سیٹ ہو۔نینسی بھی کل کہہ رہی تھی کہ آجکل این کچھ لاسٹ دکھای دیتی ہے۔”
وہ پھر چپ تھی۔

…..”ایسا کب تک چلے گا آخر؟ ”
چپ۔۔۔۔۔۔۔۔

تم کوی فیصلہ کیوں نہیں کر لیتیں؟”
“۔کیا فیصلہ کروں۔؟”
آخر منیب میں خرابی کیا ہے؟ ”
“اسی بات کا تو رونا ہے۔اس میں تو اتنی اچھاییاں ہیں جتنی مجھ میں نہیں ہیں۔”

تو پھر اسے بڑھنے کیوں نہیں دیتیں؟ ”

“کیسے بڑھنے دوں؟؟ جگہ خالی ہو تو کوی بھرے بھی! “_______صدا اسکے دل سے نکلی تھی ، لبوں تک نہ پہنچی تھی مگر پھر بھی رامین نے سن لی تھی۔
“کب تک اسکی یاد کے مرثیے پڑھتی رہو گی این؟ ”
این کی آنکھیں پھر بھاری ہونے لگیں تھیں۔”ہاں!،،،، کب تک ؟آخر کب تک؟ ،،،،،،”

“زندگی کو چلانا تو ہے ناں! اس طرح اسکی یاد میں بیٹھنا تھا تو پھر چھوڑتی مت! ”
چل تو رہی ہے ذندگی ،دیکھو تو کہاں سے کہاں پہنچ گئ ہے۔!”

“کیا وہ بھی ایسے ہی کہیں سے کہیں پہنچا ہو گا جیسے میں پہنچی ہوں؟ حالات ،واقعات، مقامات کے تعین میں ہزاروں لاکھوں میل آگے ۔۔۔لیکن جذباتی طور پر آج بھی وہیں اسی نکڑ پر۔۔۔کیا وہ بھی اب تک میرے ہاسٹل کے گیٹ پر بیٹھا ہو گا؟ ”
یہ کیسا خیال گونجا تھا اس کے دل کی تہوں سے؟ یوں اچانک اتنے سال بعد۔؟

“کیا یہ ہو سکتاہے ؟ ۔۔۔۔اگر وہ بھی مجھے یاد کرتا ہو تو کیسا ہو؟ اگر وہ بھی کسی ساحل کنارے بیٹھا میرے نام کو دہرا دہرا کر دیکھتا ہو۔کسی تنہا شجر کے نیچے بیٹھا مجھے صداییں دیتا ہو۔۔۔۔”
کیسا جان لیوا احساس تھا اور اس سے بھی زیادہ جان لیوا حقیقت یہ تھی کہ یہ خیال بھی جھوٹا تھا ۔

after all these years I am still tragically yours!

یہی اسکی زندگی کا دکھ تھا۔جس کو وہ کبھی ختم نہ کر سکی تھی۔سالوں کے بکھیڑے بھی اسکی زندگی میں سے حزیم کا نام و نشاں نہ مٹا سکے تھے۔زندگی کی تماتر تلخ اور سنگدل حقیقتوں کے باوجود آج بھی اسکی زندگی میں وہ یوں موجود تھا جیسے وہ زندگی صرف اسی کے لیے ہی تو بنائی گیی ہو۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

ابوظہبی

30اپریل 2016

سامان سمیٹ کرکیمرے بند کرکے بیگز لپیٹ کر انہوں نے اسسٹنٹس اور سپاٹ بوایز کے حوالے کر دیے تھےجو انہیں گاڑیوں تک لے گیے تھے۔ بوفے ڈنرختم ہونے میں ابھی گھنٹا باقی تھا اور یہ وقت انکے ڈنر کے لیے کافی تھا۔
۔وہ بھی فارغ ہو کر اپنی میزوں کی طرف آ گیے تھے۔آجکی شام ابوظہبی میں ائیر شو کی تقریب تھی جسکی انہوں نے لائیو کوریج کی تھی اور اب فایر ورک کے اختیتام پر کارنیش پر واقع سینٹ ریجس کے ٹیرس ڈاینگ ہال میں ڈنر کے لیے پہنچے ۔ اس نے منیب کی بات مانی تھی اور آج وہ اس سے دو ٹوک بات کرنا چاہتی تھی ۔ ۔

“کسقدر خوبصور ت نظارہ تھا ناں۔”
منیب نے خوب مزا لیا تھا۔

ہاں! واقعی !۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے یہاں ایک اور بہت یاد گار فائر ورک ہوتا ہے نیشنل ڈے پر ۔ وہ بہت زیادہ شاندار ہوتا ہے جسے یہاں رہنے والا کوی شخص مس نہیں کرنا چاہتا۔سارا شہر اس روزکارنیش پر ہوتا ہے”
تم نے تو بہت دیکھے ہونگے۔؟”

“ہاں!…… پہلے کچھ سال تو دور دور سے دیکھتے تھے۔ پھر ہم بھی لوگوں کی طرح دوپہر سے کورنیش پہنچنے لگے تاکہ اس فائرورک اور پوری تقریبات کو دیکھ سکیں۔لیکن اتنی خوبصورت اور کھلی جگہ سے، فایو سٹار کے ساحل پر بالکل قریب سے امیروں کی طرح استحقاق سے ہم نے بھی پہلی ہی بار دیکھا ہے۔”

“ویسے مجھے تمھاری سمجھ نہیں آتی این !تم اپنے انداز اپنی صورت سے ایسے روکھی پھیکی لگتی نہیں ہو جیسے تم بعض دفعہ خود کو شو کرواتی ہو۔تمھیں ہنستے دیکھ کر تم سے بات کر کے لگتا ہے تم ہنسنے مسکرانے والی زندگی کو انجواے کرنے والی لڑکی ہو مگر بعض دفعہ تمھارے کام دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے زندگی سے تمھیں کوی غرض ہی نہ ہو۔”

این گود میں نیپکن پھیلاتے ہوے مسکرا دی۔
“بس یار______زندگی مزاق تو ہوتی نہیں ہے۔یہاں تک آتے آتے ظاہر ہے زندگی بہت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔”

“اس عمر میں تو زندگی بنتی ہے جس میں تم ٹوٹنے پھوٹنے کی بات کر رہی ہو۔!”

کچھ لوگوں کو ہر کام کی جلدی ہوتی ہے! “وہ مسکرای
“میرے راستے تمھاری طرح سیدھے اور آسان نہیں ہیں اسکے باوجود میں آج تمھارے برابر میں کام کر رہی ہوں۔تو پھر یقینا یہ سفر میرے لیے اتنا آسان نہیں رہا ہو گا۔”

میں تمھارا دوست ہوں مجھے بتاو اپنے تجربات!!!! ”

“میں تمھارا دوست ہوں مجھے بتایا کرو نہ اپنی ہر بات!”اس کے اندر حزیم کی آواز کے ساتھ کچھ کڑک سے ٹوٹا تھا

“دوستوں کو بھی فضول باتیں نہیں سنانی چاہیں_____۔کچھ حوالے صرف لگانے کے ہوتے ہیں بتانے کے نہیں ۔”فقرہ بولنا بھی مشکل ہوا تھا

“میں چاہتا ہوں تم مجھے ہر بات بتاو۔مجھے اچھا لگے گا۔”
منیب ہاتھ میں فورک پکڑے اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔این نے جوس کا گلاس سامنے رکھ کر نیپکن سے منہ صاف کیا تھا ۔اور منیب کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
“اور یہ میں نہیں چاہتی کہ تمھیں وہ آس دوں جو میں پوری نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔”اب بس ہو چکی تھی اس کی
منیب سوالیہ نظروں سے دیکھتا رہا۔مطلب؟
“میں تمھاری توجہ کے جواب میں توجہ نہیں دے سکتی۔”آج اس نے منیب کی انکھوں میں آنکھیں ڈال دی تھیں

۔
“اس کی کوئی خاص وجہ۔۔۔۔۔؟”
“تم وجہ ابھی نہ پوچھو تو بہتر ہے”

۔این بات ختم کر کے اٹھ کر سلاد سٹیشن کی طرف چل دی تھی۔منیب مضطرب سا اس کی طرف دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔

۔20ستمبر2000

فیصل آباد

چار ماہ بعد ایف ایس سی کا رزلٹ آیا تھا۔کس کا کیا بنا انہیں کچھ خبر نہ تھی۔خبر تھی تو یہ کہ پانچ ماہ بعد بالآخر امی ابو کے صدقات ، خیرات اور منتیں رنگ لای تھیں ۔دو دن تک اسکی آنکھوں میں ہلکی ہلکی سرسراہٹ رہی تھی اور تیسرے دن بالآخر اس نے دھیرے سے آنکھوں کے پٹ جیسے بہت مشکل سے اٹھاے تھے۔امی ابو کے لیے یہ ہی بہت بڑا مقام شکر تھا کہ بالآخر پانچ ماہ بعد انکی آزمائش کچھ کم ہوی تھی۔نورت کے بے ہوش جسم اور انکھوں نے زندگی کی پہلی ہچکی لی تھی۔نورت نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں اور سامنے جھکی امی کی طرف دیکھا۔آنکھوں کی تہہ میں ہلکی سی چمک ہوئی اور پھر پلکیں ڈھے گییں تھیں… شام تک نورت وقفے وقفے سے انکھیں کھول کھول دیکھتی رہی پھر چھوٹے چھوٹے فقرے بولنے لگی۔تھوڑا سا بولتی تو جیسے تھک جاتی۔سانس پھول جاتی ۔ اور وہ آنکھیں بند کرلیتی یوں لگتا جیسے وہ کھلی آنکھیں رکھنا ہی بھول چکی ہے۔کمرے سے کیلنڈر اخبار اور رسالے اٹھا دیئے گیے۔اسکے سامنے دن اور مہینے ،وقت کا تزکرہ کرنے سے گریز کیا جاتا۔سب کی کوشش تھی کہ اسکے سامنے امتحان اور رزلٹ کی کوئی بات نہ کی جاے۔سعدیہ کے سوا کسی سہیلی کو اس سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔ڈاکٹر نے اسکے سامنے کوئی بھی پریشانی کی بات کرنے سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔۔اس سے قطعی طور پر پوشیدہ رکھا گیا تھا کہ اسکی سب کی سب حریف اور حلیف سہیلیاں مختلف میڈیکل کالجز میں داخلہ لے چکی ہے اور جلد ہی انکے پہلے سال کا آغاز ہونے والا ہے۔جبکہ پہلی پوزیشن پر ہمیشہ راج کرنے والی بستر پر پڑی اپنے جسم کو زندہ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔

اتنی لمبی تنویم سے نورت کی یاداشت بہت بری طرح متاثر ہو چکی تھی وہ خود بھی جیسے ابھی تک کسی خواب غفلت میں تھی۔اس لیے چیزوں کو سمجھ نہ پا رہی تھی۔اسکا کتابوں اسباق اور خوابوں سے بھرا دماغ کسی خالی سلیٹ کی طرح صاف ہو چکا ہے اسکا ادراک ہونے میں ابھی اسے کچھ دیر تھی۔۔اسے احساس تھا کہ وہ نقصان کر بیٹھی ہے پر کتنا اسکا حساب کرنے کا ابھی اسکا شعور قابل نہ ہوا تھا۔ہفتہ بھر میں نورت جسم کو حرکت دینے اور بستر پر اٹھ کر بیٹھنے لگی تھی۔فزیو تھراپسٹ اسکے ہاتھوں اور جسم کا روزانہ مساج کرنے آنے لگی تاکہ اسکی جسمانی طاقت جلد بحال ہو سکے۔پانچ ماہ بعد اسکو زندگی کی طرف جلد لانے کی ہر کوشش کی جا رہی تھی۔
۔
……………………………

فیصل آباد ۔
فروری 2001

جو خواب آنکھوں نے دیکھ رکھے تھے وہ کب سے اپنی موت مر چکے تھے۔جن پٹریوں پہ اسکی زندگی کی ٹرین چل رہی تھی وہ ایک اندھی گھاٹی میں آ کر گر گئی تھیں ۔اسکی زندگی کا سفر جیسے ایک دم سے دو لخت ہو گیا تھا ۔دو حصوں میں بٹ گیا تھا ایک گزرا ہوا ماضی جس میں وہ ایک جذبوں خوابوں اور ارادوں سے بھری ایک پرجوش لڑکی تھی منزل کی طرف تیزگام کی طرح بھاگتی شعلوں کی طرح لپکتی، چکوری کی طرح بیتاب اور دوسرا حصہ برف سا ٹھنڈا،لاش کی مانند بے حس ،کسی اندھے کی طرح نابینا اور تاریک ،کسی بدقسمت کی طرح خواب اور خواہش سے محروم! ۔غضب تو یہ تھا کہ اسکا ایف ایس سی ادھورا تھا ۔ دو مضامین میں اسی فی صد نمبر لیکر باقی سب مضامین میں وہ غیر حاضر تھی۔اگر حادثہ محض چند دن میں گزر جاتا اور وہ دس پندرہ دن میں بستر سے اٹھ جاتی تو محض ایک سال ہی ضائع ہوتا ،کچھ بڑا نقصان نہ تھا۔مگر پانچ مہینے کا کوما اسکی میموری، اسکے پڑھے لکھے اسباق سب کھا گئے تھے اور اب دماغ کورے کاغذ سے بھی ذیادہ کورا اور کمزور ہو چکا تھا۔اس پر کوئ سبق،آرگینک کیمسٹری کا کوئ فارمولہ، فزکس کا کوئ مسلئہ رقم نہ تھا۔اب ہر کتاب اسکے تسخیر شدہ قلعے سے اک انجان جہان میں بدل چکی تھی۔

مسلئہ اس سے بھی گہرا تھا۔اب اسکا ذہن عام انسانوں کی طرح چستی اور طاقت سے عمل کرنے کے قابل نہ رہا تھا۔لمبی تنویم اور مسلسل چلنے والی ادویات اسکے دماغ اور صلاحیتوں کو وقتی طور پر ہی صحیح بنجر اور باہنجھ کر گئی تھیں۔ کوئ لفظ کوئ فقرہ وہ پکڑ نہ پاتی،کسی بات پر ذہن لگا نہ پاتی،نظروں کے سامنے سے چیزیں ، اشیاء اور اسباق ایسے گزر جاتے جیسے کہ پہاڑوں میں سے ہوا گزر جاتی ہے،بن چھوۓ بن رکے۔کتاب لے کر پڑھنے کی کوشش بھی کرتی تو دماغ پر دباو نہ دے پاتی، پڑھ لیتی تو سمجھ نہ پاتی،سمجھ پاتی تو حافظہ میں رقم نہ ہو پاتا،کٹھنائیوں سی کٹھنائیاں آئیں تھیں جن کو سر کرنے کو اب اسکے پاس بال و پر تھے نہ آس اور خواب کے جگنو۔

۔ڈاکٹرز حوصلہ دیتے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے دواؤں کا استعمال ختم ہوتا جائے گا اسکی صلاحیتیں کام کرنے لگیں گی مگر اس روکھی بے جان اور بے روح سی امید کو وہ اگلے کئے ماہ تک بند کمرے کی دیواروں سے گزرتے بغیر کچھ بدلے مہینوں کو بدلتے دیکھتی رہی۔ابو روزانہ اسکے پاس بیٹھتے اسے اچھی اچھی امیدیں دیتے ہمت بڑھاتے،اور وہ بنجر آنکھوں اور بند کانوں سے انکے چہرے کی طرف تکتی رہتی،انکا دیا کوی بھی امید کا جگنو اسکے دل اور دماغ میں کوئ آس کوئ دیا جلانے سے قاصر تھا۔پڑھائ ،کالج،تعلیم،میڈیکل،دوست،جذبے ،خواب اور شوق ذندگی سے یوں رخصت تھے جیسے وہ کبھی وہاں رہے ہی نہ تھے۔اب ذندگی سے لڑنے کی طاقت بھی نہ تھی۔اک سادہ سی اذیت ناک حقیقت جو اس نے مان لی تھی کہ اسکے سب کارواں لٹ چکے تھے۔ اب وہ محض اک بے جان چیز کی طرح گھر کے اک کونے میں بیٹھی رہتی اور خالی دیواروں کو تکتے رہتی۔

سعدیہ، امبر ،سارا سمیت سب کی سب کسی نہ کسی میڈیکل کالج میں کامیابی سے پہنچ گیی تھیں۔جو بہت پیچھے تھیں وہ مختلف دوسرے شعبہ جات میں بکھر کر بھی اس سے بہت آگے تھیں۔ اور میر کارواں، ہر ریس کی نمبر ون ایک تاریک کمرے میں بیٹھی رہتی تھی دنیا اور لوگوں سمیت زندگی سے بیزار ۔اس نے کہیں پڑھا تھا
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
اور اب خود اپنی زندگی میں دیکھ لیا تھا۔ ۔ زندگی اسکے سامنے صفر پر تھی

ر وز فون کرنے والی سعدیہ کو میڈیکل کالج سے چھٹی نہ ملتی تھی۔نورت کی گھڑی گھڑی خبر رکھنے والی لڑکیاں اب غیر حاضر تھیں۔اسکی زندگی سے بھی اور اس کے حالات سے بھی ۔وہ ٹھوکر کھا کر مقابلے سے باہر جا گری تھی اور جو مقابلے میں ہوں انہیں پیچھے گر جانے والوں کی پرواہ بھی کب ہوتی ہے۔سترہ سال کی عمر نے اسکے سامنے وہ امتحان رکھے تھے جنکو حل کرنے سے وہ قاصر تھی۔ابو نے اسکا داخلہ اک آرٹ اینڈ کرافٹ کے کورس میں کروا دیا تھا۔وہ چاہتے تھے کہ کسی بھی بہانے نورت زندگی کی طرف لوٹے۔وہ کلاس کی آخری کرسی پر بیٹھ کر ادھر ادھر دیکھ کر واپس لوٹ آتی۔وہ ابو کو اطمینان دے رہی تھی اور وہ اس بات پر راضی تھے کہ نورت کوشش ضرور کر رہی ہے۔
۔۔۔

(ایک سال بعد)

فروری2002
فیصل آباد

امی ابو نورت کو شہر کے باغوں اور تفریحی مقامات پر لیے پھرے۔نورت کی غیر دلچسپی کے باوجود ایک کے بعد ایک کورس میں داخلہ دلویا گیا۔ڈاکٹر کی ہدایت کے عین مطابق سال بھر میں دو بار اپنے مشکل آفس آورز سے وقت نکال کر اسے مری اور بھوربن کے پرفصا مقامات کی سیاحت پر لیجایا گیا تھا اور جب اتنی محنت ذندگیوں کو قائم رکھنے کے لیے کی جاتی ہے تو خدا ذندگی عطا کر دیتا ہے۔نورت کی جسمانی صحت بالکل ٹھیک تھی فکر سب کو اسکی ذہنی حالت کی تھی جو اب سال بھر بعد دھیرے دھیرے بدلنے لگی تھی ۔ نورت مسکرانا ،بولنا اور آہستہ آہستہ لوگوں سے ملنا ملانا سیکھنے لگی تھی۔ابو کے ایک دوست کی بیٹی لاہور کے کالج میں فوٹوگرافی کا ڈپلوما کرنے جا رہی تھی۔ انہوں نے اس کا بھی داخلہ وہیں کروا دیا تھا۔وہ ہر قیمت پر نورت کو زندگی کی طرف لانا چاہتے تھے کسی بھی جگہ، کسی شعبے میں، کسی بھی چیز میں دلچسپی لے کر۔اس ڈپلومہ سے اسے کچھ لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملتا ،کوی دلچسپی حاصل ہوتی ،اسکا دھیان بدل جاتا اور پھر رامین کی صورت اسکا دھیان رکھنے والا بھی کوئی ہوتا۔امی ابو اپنی گاڑی میں نورت اور رامین کو ہاسٹل چھوڑ کر گیے تھے جہاں دونوں کو ایک ساتھ کمرہ الاٹ کروایا گیا تھا۔

رامین نورت کی ہم عمر، خیال کرنے والی ،ذہین اور صاف گو لڑکی تھی دوستوں کی شوقین، ملنے ملانے گھومنے پھرنے والی۔دونوں کی آپس میں مناسب سی دوستی بھی ہو گئیی تھی۔نورت کمرے میں کیمرے اور کتابوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی تو رامین زیادہ وقت نیٹ کیفے یا بازار میں گھومتے پھرتے یا دوستوں کی کمپنی میں گپ شپ لگاتے گزارتی۔۔نورت کا دھیان آہستہ آہستہ فوٹوگرافی کی طرف جمنے لگا تھا ۔رنگ، گہرائی اور تاثر، لائٹ روم یہ سب چیزین اسے متاثر کرنے لگی تھیں ۔وہ سیکھے ہوے اسباق کے تجربے کرتی رہتی یہ اور بات کہ سوشل لائف میں اسکی دوستی رامین سے آگے نہ بڑھ سکی تھی۔ازکی خموشیوں اور سناٹوں کی شکار طبیعت وہاں کی شور وغل، ہنگامے موج مستی کی شوقین لڑکیوں کےساتھ نہ چل پاتی تھی۔رامین کے اکسانے پر رفتہ رفتہ وہ بھی کبھی کبھار نیٹ کیفے جانے لگی جہاں یاہو کے چیٹ رومز میں رنگ برنگےآی ڈیز پر ہر وقت اے ایس ایل کے شوقین بیٹھے رہتے۔نورت کا دل اگرچہ یہاں بھی نہ لگا ۔مگر یہ جگہ ہاسٹل کی زندگی سے بھرپور لڑکیوں سے زرا پرے تھی جنکے ساتھ اسکا دل اور دماغ چل نہ پاتا تھا۔پہلا سوال کوئی آ کر اے ایس ایل کا کرتا تو اسکا موڈ خراب ہو جاتا۔اسے چڑ تھی اس بات سے کہ ہر انسان کو صرف دوسروں کی عمر ،جنس اور مقام سے غرض ہے، انسان سے دوسرے انسان کو کوی غرض نہ تھی.پھر بھی کچھ عرصے میں چند ایسے لوگ اسکی فرینڈ لسٹ میں شامل ہو گیے تھے جنکو بات کرتے وقت اے ایس ایل کی فکر نہ ہوتی تھی جو جنرل موضوعات پر گپ شپ برائے گپ شپ کر سکتے تھے۔جن سے وہ کبھی کبھار گھنٹہ بھر بات کر لیتی تھی۔۔ اسے خبر نہ تھی کہ اسی میسنجر پر اس کی زندگی کا ایک بہت اہم باب کھلنے والا تھا جو اس کی زندگی کو ایک بار پھر ہمیشہ کے لیے بدلنے والا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مئی،5

2002

” پھول مر جاتے ہیں بہاریں زندہ رہتی ہیں۔”

۔۔” مرجھاے پھولوں کا بہاروں سے کیا تعلق رہ جاتا ہے؟؟؟ ”
نورت کی طرف سے جواب آیا تھا۔

تھنڈر کی انگلی وہیں رک گیی تھی جہاں وہ تھی۔اب اس بات کا کیا جواب دے وہ۔ اسکا رویہ بتا رہا تھا کہ مایوسی کے مقابل کوی بھی توجیح سننے کی روادار نہیں وہ۔

“اجالوں کی طاقت اندھیرے سے زیادہ ہوتی ہے۔اک چھوٹا سا چاند بھی اتنی بڑی دنیا کے اندھیرے سے لڑ پڑتا ہے۔” اس نے ایک اور ڈایلاگ مارا تھا۔

“اسکے لڑنے کی اک مدت ہوتی ہے۔اس مدت کے بعد راتوں کا اندھیرا اسے نگل جاتا ہے”

“کیا زندگی میں کبھی امید کو آزما کر نہیں دیکھا آپ نے؟ “اب اسکی بس ہو گیی تھی کتنی مایوس تھی یہ لڑکی۔
“نہیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یقین کو آزمایا ہے اوراسے ہارتے دیکھا ہے۔اسکے بعد امید بہت چھوٹی چیز ہوتی ہے۔”
“حوصلے والے ہار سے ٹوٹتے تو نہیں! “تھنڈرکا تجسس بڑھ رہا تھا۔ “حوصلے والی نہیں ، میں ٹوٹنے والی ہوں!!!!! ”

نورت اتنا لکھ کر کمپیوٹر سے اٹھ گئی تھی ۔ نیٹ کیفے کا گھنٹا ختم ہو گیا تھا۔نجانے تھنڈر نامی یہ شخص کون تھا جو انجانے میں اسکے زخم کرید رہا تھا۔”۔۔۔باتیں کرنی بہت آسان ہوتی ہیں سب کر لیتے ہیں۔جنہوں نے زندگی سے لڑکے دیکھا ہو ان سے پوچھے کوئی ۔۔۔۔۔کس بھاو بکتی ہے زندگی!!”!

نورت کے دل سے اک دکھتا ہوا سوال نکلا تھا۔نیٹ کیفے سے نکل کر وہ کمرے کی طرف چل پڑی تھی۔گیارا بج رہے تھے ہاسٹل کے گیٹ بند ہو چکے تھے۔لڑکیاں بلڈنگ کے اندرونی میدان میں تھیں۔کچھ ادھر ادھر کے کونوں میں موبایل کانوں سے لگاے دھیرے دھیرے بولتی تھیں۔کمرے میں آ کر وہ روشنی بند کیے بستر پر لیٹ گیی تھی۔نیند کہاں اسے دیر تک آنی تھی وہ بس کھلی انکھوں سے کھڑکی کے باہر سے جھانکتی روشنی اور درختوں کے سایوں کی طرف گھورتی رہی تھی.

2002,

12مئی
لاہور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیزار سی نورت نیٹ کیفے کے پرانے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھی تھی۔۔آج کوئی بھی بات کرنے والا موجود نہ تھا ۔ویسے بھی آج اسکا دل ہمیشہ سے زیادہ بیزار تھا .اس نے پھر اپنی کچھ کلاس فیلوز کا تزکرہ سنا تھا جنہوں نے ایم بی اے میں ایڈمیشن لیا تھا اور وہ بیکار ہاسٹل میں فوٹوگرافی کے ڈپلومہ میں سر کھپا رہی تھی۔۔زندگی اسکے ہاتھ سے کیا کچھ چھین کر لیجا چکی تھی حتی کہ شوق سفر اور شوق منزل بھی۔اب اسکے ہاتھوں میں اک بے نام دکھ تھا ،اک بے شناخت ناکامی۔وہ خود ایک بیکار حقیقت بنکر رہ گیی تھی۔۔اپنی پسند، محبت، خواب ،سب، کہیں بہت پیچھے رہ گیے تھے اب تو زخم بھی نہیں رہے تھے۔ بس جیسے ٹوٹے ہوے پر رہ گیے تھے ۔نہ درد دیتے تھے نہ دہای ۔زندگی جیسے اک ٹوٹے شجر کی مانند پانی کی لہروں کے ساتھ بہے جاتی تھی۔

۔۔اپنی شکستہ حال زندگی کی تلخیوں کو سہنے یا بھول جانے کی ابھی عادت ہی کہاں ہوی تھی اس لیے وہ ہاسٹل میں آ کر بھی کسی سے دوستی نہ کر سکی تھی۔مسکرانے کی کوشش میں اسکے اند ر کئی کچھ ٹوٹتا۔۔کہاں وہ کہ جسکو دنیا کے فیشن سے تو کیا موسم تک سے غرض نہ تھی اور کہاں یہ فیشن سے لبالب بھری لڑکیاں جنکی بات میوزک سے شروع ہوتی تو ساری دنیا گھوم کر آتی ۔نورت جسکے ہاتھ میں بائیو کی ڈایاگرام کے سوا آرٹ کا بھی کوئ شوق اور تجربہ تک نہ تھا اور وہ بھی اب اک ناسور کی مانند رقیب کا سا۔۔ سچ تو یہ تھا کہ آرٹ اسکے لیے نکمے لوگوں کے دل بہلانے کا اک کام تھا کبھی پر اب وہ خود۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔اس سے آگے وہ سوچ نہ پاتی۔ایسے میں یہ ہاسٹل کا نیٹ کیفے، اسکے پرانے کمپیوٹرز،یہ پھنستا ہوا یاہو میسنجر اور اس میں ایڈ کچھ لوگ اسکی زندگی کے لیے اک بے ضرر سا سہارا تھے۔ ایک ایسا سہارا جن سے کبھی کبھار اسکا دل بہل جاتا ورنہ اکثر وہ ان سے بھی بیزار ہی رہتی تھی۔

آج بھی کافی دیر سے نیٹ کیفے میں بیٹھی ٹانگ کرسی پر رکھے ہاتھوں پر تھوڑی ٹکاے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھی وہ نجانے کونسی سوچوں میں گم تھی۔میسنجر پر ایک دو لوگوں کے پیغام بھی آے مگر اسکا دھیان اپنی کھوئی منزلوں کی طرف تھا۔کوما نے اسکی زندگی کو عجیب طرح سے متاثر کیا تھا۔اگر صرف ایکسڈنٹ ہوا ہوتا تو وہ اپنے ساتھ قسمت کے اس مذاق پر رو رو پاگل ہو جاتی۔مگر پانچ ماہ کا کوما اپنے ساتھ اسکی کچھ قیمتی یاداشت کے ساتھ اسکے جذبات بھی لے گیا تھا۔وہ اپنی بربادی پر رو سکی نہ سر پیٹ کر ماتم ہی کر سکی تھی۔ اپنے خالی ہاتھوں کو ساکن آنکھوں اور بے نیاز ازیت سے تکتی رہتی۔اسے اپنے خالی پن کا ادراک تو ہوتا مگر اپنے دل میں وہ تکلیف اور وہ جوار بھاٹا نہ اٹھ پاتا جو اسکے اندر کے لاوے کو بہا کر باہر لے آتا اور اس کو اندازہ تک زندگی کی نمی سے شانت کر دیتا۔ کچھ ماہ کی تنویم اسکے دماغ کے بہت زندہ حصوں کو موت سی خاموشی اور قحط سال زمین سی بے حالی دے گئی تھی ۔وہ سوکھتی ٹوٹتی اور بکھرتی مگر بہہ نہ پاتی ۔ اب اسکے سناٹے میں اُلو بھی آنے سے گھبراتے تھے۔

کمپیوٹر کی سکرین کی طرف منہ کیے نجانے نورت کہاں گم تھی۔گمشدہ سی اس نے لاگ آف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ایک دم سے سکرین پر تھنڈر نام کی طرف سے ہائ ظاہر ہوا۔ تھنڈر نامی یہ کونٹیکٹ اسکی فرینڈ لسٹ میں تو تھا اور ایک آدھ بار ہی اس سے بات ہوئی تھی ____ کیا ہوی تھی یہ اسکو اب یاد بھی نہ تھا۔یونہی اٹھتے اٹھتے نورت رک گیی۔

“۔ہای! ”
“کیا ہو رہا ہے؟ ”
“کچھ خاص نہیں! بس اٹھنے لگی تھی” ۔نورت کا بیزار سا جواب تھا۔
“ارے ابھی کیوں؟ ابھی تو میں آیا ہوں” ۔
“تو ؟۔۔۔۔۔۔ میں تو تھک چکی ہوں “۔
“کچھ دیر تو رکو ناں صرف تمھاری خاطر تو اتنی دور آیا ہوں”۔
“میری خاطر؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری خاطر کیوں؟ ”
“اور تو کوئی دوست نہیں میرا ایک تم ہی تو ہو! ”
نورت حیران ہوی۔ایسی دوستی کب ہوی ہماری کہ کوئی اسکی خاطر نجانے کتنی دور سے آ جاے۔۔۔۔۔اس نے ذہن پر زور دیا پر یہ بھی یاد نہ آیا کہ آخری بار بات کیا ہوی تھی۔ایسے ہی کچھ لوگوں کے ساتھ وہ بھی تھا جن سے وہ کبھی کبھار کسی نہ کسی ادھر ادھر کے موضوع پر یا کسی دلچسپی پر بات کر لیتی تھی۔مگر اسکے باوجود تھنڈر سے ہونے والی گفتگو اسکی یاداشت میں نہ تھی اتنی اچھی دوستی ہو جانا تو دور کی بات تھی۔

اچھا! ٹھیک ہے!۔” بیکار تو اسے بیٹھنا ہی تھا کمرے میں جا کر بھی یہاں ہی صحیح!
اس نے ہار مان لی ویسے بھی کرنے کے لیے کچھ نہ تھا اس سے بات نہ کرتی تو بستر پر لیٹ کر چھت کو گھورتی رہتی۔
حال احوال سے شروع ہونے والی گفتگو شروع ہوی تو دور جا نکلی۔حزیم جو رسالپور اکیڈمی ایویشن فورتھ ائیر کا کیڈٹ تھا۔اپنی اکیڈمی کے مزے دار قصے سنانے لگا تو نورت کو بھی مزا آنے لگا۔وہ بھی اسکے قصوں میں دلچسپی لینے لگی۔ایسا مزے کا بندہ کہاں چھپا تھایا شاید پہلے اس نے دھیان ہی نہ دیاتھا۔اُسکے قصے ختم ہوے تو اس نے نورت سے پوچھاکہ کچھ اپنے بارے میں بتائے کیا کرتی ہے۔نورت جھجک گیی ۔
اب کیا بتاوں! کیا کرتی ہوں! یہ کہ ایف ایس سی میں فیل ہو کر پڑھای چھوڑ کر اب فوٹوگرافی سیکھ رہی ہوں ۔کتنا احساس محرومی تھا اسکے اندر۔کچھ احساس محرومی صرف انسان کے اونچے اونچے خوابوں سے جنم لے لیتے ہیں۔جو اب اسکا بھی مقدر بن چکے تھے۔۔۔۔۔۔
۔اس نے وقت دیکھا تو رات کے گیارہ بج رہے تھے دو گھنٹے بعد جب اس سے سوال ہوا تھا تو اسے وقت دیکھنے کا دھیان آیا تھا۔وہ حیران ہوی کہ دو گھنٹے ہو گییے اسے میسنجر پر چیٹ کرتے۔ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی سے دو گھنٹے تک گفتگو کی ہو۔
“بتاو ناں! ”
کیا کرتی ہو کیا دلچسپاں ہیں تمھاری؟
“میں نے ایف اے کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب فاین آرٹس میں ڈپلومہ کر رہی ہوں۔۔”
نورت جھوٹ بولتے اٹک گیی تھی مگرپورا سچ بولنے کی ہمت نہ تھی ۔
“واو !تم فاین آرٹس کرتی ہو؟ تم تو بہت ٹیلنٹڈ ہو! ”
نورت کے دل سے ٹیس اٹھی۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے بھی دکھاو اپنا آرٹ؟” حزیم نے فرمایش کی تھی
“ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دکھاوں گی! ”
“ہاں ضرور دکھانا میں بھی تو دیکھوں تم کیسا آرٹ کرتی ہو۔”
۔”اب میں تھک گیی ہوں سونے لگی ہوں” ۔
“ارے تم سونے لگی ہو، میں صرف تمھارے لیے اتنی دور آیا ہوں”
“کتنی دور آ گیے ہو تم؟ ”
“میں خاص طور پر نوشہرہ کے نیٹ کیفے میں آیا ہوں “۔
“یہ بہت دور ہے کیا؟ ”
“ہاں بہت دور ہے۔اکیڈمی میں تو نیٹ کیفے نہیں ہے۔آج ویک اینڈ تھا تو اس لیے نوشہرہ آ سکتے تھے۔ورنہ ہفتہ بھر تو یہاں آ بھی نہ سکتے تھے۔”
“تو اب کیا ساری رات بیٹھی رہوں گی؟ ”
“تو میری خاطر بیٹھ جاو ناں! ”
“تمھاری خاطر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ”
صبح پانچ بجے تک یہی ہوا تھا وہ جب اٹھنے لگتی حزیم اسے ضد کرکے بٹھا لیتا اور وہ بیٹھ جاتی۔ایسا پہلی بار ہوا تھا۔آج کی رات اس نے جانا تھا حزیم نامی یہ شخص کون تھا جس میں اپنی بات منوا لینے کی ہمت تھی۔صبح چار بجے حزیم جاتے جاتے اسکا فون نمبر لے کر اس سے وعدہ کر کے گیا کہ صبح نو بجے اسے فون کرے گا۔پانچ بجے جب نورت سیدھی ہوی۔تو باہر صبح کی سفید لکیریں افق کی تہہ میں دھیرے دھیرے اپنے بازو پھیلانے لگی تھیں۔اسکی نیند کا وقت بھی گزر گیا تھا وہ نیٹ کیفے سے نکل کر ہاسٹل کے اندرونی چھوٹے سے لان میں آ گیی۔آس پاس خاموشی اورچھٹتا ہوااندھیرا تھا ۔ایک پرسکون سی نوخیز صبح کی معصومیت آہستہ آہستہ آنکھیں کھول رہی تھی ۔گرما کی شبنم گھاس اور پتوں پر ایک محسورکن نمی بکھیر رہی تھی۔وہ لان میں آ کر بینچ پر بیٹھ گیی۔اسکے اندر صبح کی تازگی جزب ہونے لگی۔کیسی رات تھی آجکی اور کیسی صبح تھی۔ہمیشہ سے مختلف ہمیشہ سے الگ۔آجکی رات بہت کچھ نیا اور عجیب تھا مگر کچھ خوبصورت اور دلکش بھی تھا جو اسکے اندر ایک نوزائیدہ سی راحت کا پتا دیتا تھا۔موسم بدلنا چاہ رہے تھے ،اسکے اندر کی برف پگھل رہی تھی۔ اس سے پہلے کبھی وہ اتنے گھنٹے اپنے بدقسمت حال سے بے خبر نہ رہی تھی،اپنی چوٹوں کی طرف سے لاپرواہ نہ ہوی تھی ۔شاید اسکے اندر بھی نیے سورج اور نیے دنوں کی صبح صادق طلوع ہونا چاہ رہی تھی جو اپنی شفیق نمی اور محسور کن سنہری کرنیں اسکے من کے مندر میں بکھیر رہی تھی۔آج سے پہلے اس نے کبھی میسنجر پر اتنا وقت نہ گزارا تھا۔دو سال سے کسیی کے ساتھ کبھی اتناوقت بھی نہ گزارا تھا ۔حزیم کی گفتگو بھی ایسی کہ رات بھر اسے خبر ہی نہ ہوی تھی کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ بیٹھی ہے چاہے میسنجر پر یی صحیح۔۔اسقدر بے نیازی اسقدر واضح۔کوئی لفظ کوئی حرف بھی تو ایسا نہ تھا جو نورت کو چوکنا کرتا اور کہتا کہ خبردار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انشا جی اجتناب! اجتناب! وہ نورت کو روکتا رہا اور وہ بند آنکھوں کو زبردستی کھولتی رکتی رہی۔پہلی بار کسی دوست کے لیے ساری رات جاگی ہی نہیں بلکہ اسکو فون نمبر بھی دیا تھا وہ بھی ایک لڑکا ,اسکی زندگی سے تو دوست کے نام کی لڑکیاں بھی نکل چکی تھیں۔دو سال میں دوستوں کے اتنے رنگ دیکھے تھے کہ اب دوستی کے نام سے ہی دبکتی تھی اور کہاں کہ ایک لڑکے نے آ کر کہا تھا کہ میں تمھارا دوست ہوں اور وہ بھی اچھا اور سچا۔۔اس دن کے بعد پہلا دوست، پہلا رت جگا، پہلی سکوںکی کرن، پہلی شبنم، شاید پہلی کلی! ۔اتنے سارے نیے کاموں کی مدھر شروعات ایک ہی رات میں ہو گیی تھی۔اور جب ایک ساتھ اسقدر انہونیاں ہو نے لگیں۔تو پھر یہ طے ہو جاتا ہے کہ آپکی لگام آپکے ہاتھ سے نکل کر سامنے والے کے ہاتھ میں گیی۔نورت کے جیسے سارے اختیار بھی ایک ہی رات میں حزیم نے اپنے ہاتھ لے لیے تھے۔اب مستقبل میں بھی رستوں، باتوں، فیصلوں اور منزلوں کے فیصلے کا اختیار حزیم کے ہی ہاتھ میں تھا۔کچھ دیر نورت گیلے بنچ پر بیٹھی صبح کی نازک پاکیزگی اور خوشبو سے مہکتے احساس کو اپنے اندر اتارتی رہی۔پھر نیند آنے لگی تو اٹھ کھڑی ہوئی ۔اندر کی طرف جاتے اسکے ہلکے پھلکے قدم کہکشاؤں پر نہیں تھے مگر ان کی ٹوٹی روش میں وہ شکستگی نہ تھی جب وہ ناکامیوں کے بوجھ میں لڑکھڑا کر چلتی تھی۔بلکہ کچھ اعتماد سا کچھ بے نیازی کا سا رنگ چھلکنے لگا تھا. تھکا ہوا سر شاید جھکنا چھوڑنا چاہ رہا تھا۔کچھ نیے جزبے یا تعلق بن رہے تھے مگر۔۔۔کیا اسکے دل کے گہرے بادل بھی چھٹ سکتے ہیں۔؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔

***.13مئی 2002.*************
نورت سونے کو لیٹی تو صحرا میں برسنے والی نرم اور شفیق شبنم سے بھیگ چکی تھی۔ساری رات کی چیٹ سے ہاتھ انگلیاں اور کندھے سب دکھ رہے تھے مگر تھکاوٹ کے احساس پر خوبصورت ان چھوے ان دیکھے رنگوں کے دلکش اور محفوظ احساس کا غلبہ تھا جو اسکے اور نیند کے بیچ پوری قوت سے معلق تھا۔رات بھر سنی باتیں اور فقرے اسکے آس پاس منڈلا رہے تھے۔یہ ضروری نہیں ہوتا کہ صرف پیار محبت کے فقروں میں ہی انسان کو قوس قزح کے رنگ دکھای دیں ۔کبھی کچھ لوگوں کی تاثیر ایسی ہوتی ہے جو بغیر میٹھی باتوں کے بھی بہار سے کم نہیں ہوتیں۔۔اسکی راہ میں آیا تھابغیر مانگے ایسا ان چاہا موڑ جس سے پرے مسکراہٹیں تھیں جو اسکے تھکاوٹوں سے سوجے چہرے پر سکوں لانے کی منتظر تھیں۔
دو تین گھنٹے تک بند آنکھوں اور جاگتے شعور کے ساتھ وہ کروٹیں بدلتی رہی تھی پھر کہیں جا کر اسکے آس پاس کی ہواوں میں ٹھراو آنے لگا اور آنکھ لگی۔مگر نیند کی وادی میں ابھی گہرای تک ڈوبی بھی نہ تھی کہ سرہانے کی میز پر رکھا موبائل بجنے لگا۔بیزار سی ٹوٹی نیند سے اس نے موبائل اٹھایا نمبر دیکھا تو سکرین پر حزیم کا نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم اتنی جلدی اٹھ گیے؟”
رامین نے لیٹے لیٹے فون کانوں سے لگایا تھا.
جلدی ؟ باہر نکل کر دیکھو! ساڑھے نو بج گیے ہیں…. یہ اور بات ہے کہ ہم فوجیوں کو منہ اندھیرے اٹھنے کی عادت ہو جاتی ہے.”
حزیم کی چہچہاتی آواز آی تھی.
اچھا! …رامین اٹھ کر بیٹھ گیی.اور سامنے لگی کھڑکی کی جالی سے باہر جھانکا.ہاسٹل کے بڑے سے لان میں سورج کی دھوپ چمک رہی تھی”

ابھی تو نیند آی تھی!
“سو لینا ساری عمر سوتی ہی رہی ہو ایک دن نہیں سو گی تو عزاب نہیں آ جاے گا.”
تم نہیں سوے؟.”
سو گیا تھا پھر آنکھ کھل گیی جلدی عادت سے مجبور”.
مجھے بھی نیںند بہت مشکل سے آی.
کیوں ؟””
بےوقت نہیں آتی مجھے.سارا نیند کا وقت گزر گیا تھا.”
یہ بات بھی اتنی ہی سچ تھی جتنی کہ یہ کہ وہ تو اسکی باتوں کا ہی مزا لیتی رہی تھی.
تمھاری آواز کٹ کٹ کر آ رہی ہے باہر نکل آو ناں کہیں.””
“باہر؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ افوہ ادھر ہی کر لیتے ہیں ، باہر سب لڑکیاں دیکھیں گی میرا تو کبھی ایسا فون نہیں آیا..اور اچھی خاصی دھوپ بھی ہے.” رامین کو تشویش ہوی تھی.
“تو کسی ایسی جگہ چلے جاو جہاں سگنل اچھے آئیں۔ اور لڑکیاں بھی نہ ہوں۔!”
اب ایسی جگہ کہاں سے لاوں میں گرلز ہاسٹل میں ہوں ، یہاں تو ہر طرف لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوتی ہیں۔
نورت کان سے موبایل لگاے کمرے کا دروازہ بند کر کے سیڑھیوں کی طرف آ گیی.باہر دھوپ خاصی پھیل گئی تھی پھر بھی اسکے زہن میں ایک ہی جگہ آی تھی جس جگہ لڑکیاں کچھ کم ہونگی. وہ تھی ہاسٹل کی چھت.سیڑھیاں چڑھتے وہ تیسری منزل پر آ گیی.چھت پر کھلی دھوپ تھی تیسری منزل ہونے کی وجہ سے کسی درخت کی پہنچ ممکن ہی نہ تھی.دھوپ میں اتنی تیزی تو نہ تھی ۔مگر حرارات بڑھ رہی تھی.چند ایک لڑکیاں وہاں بھی موجود تھیں۔ کوی بیٹھی بالوں میں تیل لگا رہی تھی کوی دیوار کی اوٹ میں کپڑا بچھاے پڑھ رہی تھی.اور کچھ اسکی طرح کان سے موبائل لگاے ادھر ادھر پھر کر بات کر رہی تھیں .کل تک وہ ان کی طرح نہ تھی مگر آج رات کے فرق سے وہ ان کے برابر ہو گئی تھی۔
حزیم ایک ہی رات میں اسے کمرے کی قید سے نکال کر کھلی چھت پر لے آیا تھا اور اسے لا کر جیسے ساری دنیا کے سامنے کھڑا کر دیا تھا۔
لو جی آگیی چھت پر اب بولو”
“میں کیا بولوں تم بولو ناں”

“بولنا نہیں تھا تو اتنی گرمی میں اوپر کیوں بلایا؟”
“حد ہے بھئی..اب اتنی بھی گرمی نہیں ہے تم کو زیادہ ہی دھوپ لگتی ے ..”
“ہاں تم تو ضرور چاہتے ہو گے کہ میں تمھاری طرح دھوپ میں سڑکر کالی ہو جاوں.”

“تو تم اتنی گوری ہو کہ کالی ہو جاؤ گی؟مجھے بھی کوئی ٹوٹکا بتا دو رنگ گورا کرنے کا.”
“کیا تم کو رنگ گورا کرنا ہے۔ ؟ ” نورت کو ہنسی آ گیی تھی
کیوں کیا ہم لڑکوں کا دل نہیں ہوتا؟ ادھر سے اختلافی نوٹ آیا تھا.
“لڑکوں کا دل لڑکوں جیسا ہی ہو تو اچھا لگتا ہے۔ویسے بھی ہمارے ہاں تو لڑکے سانولے سلونے بھی شہزادوں سے کم نہیں سمجھے جاتے”۔ نورت کھل کر ہنسی۔
“سانولے سلونے تو نہیں ہم تو سڑے ہوے پیتل کی طرح پک جاتے ہین۔سارا دن دھوپ میں اتنا رگڑے جاتے ہیں کہ اب خود سے بھی خود نہیں پہچانے جاتے۔”
“کوی بات نہیں ۔۔۔۔فلاییٹ آفیسر بھی تو تمکو ہی بننا ہے۔پھر رنگ کالا ہو یا گورا فرق کیا پڑتا ہے۔”
۔تمھیں کالے فلاییٹ افیسر پسند ہیں کیا؟
“نہین۔۔۔۔۔۔۔مجھے ہر رنگ اور ہر ڈیزاین کے فلاییٹ آفیسر پسند ہیں” ۔۔۔۔۔۔ حزیم نے ایک ہی رات کے رت جگے میں اسے ہنسنا بولنا اور دوست بننا سکھا دیا تھا۔ایسے جیسے کسی تاریک کمرے میں ایک دم سے بلب روشن ہو جاے! کچھ جادو ختم کرنے کے لیے کہیں دور دیس کے شہزادوں کو آنا ہی پڑتا ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2003
17مئی
لاہورہاسٹل۔
وننگ کے آخری کونے پر دو پانی کے ٹھنڈے الیکٹرک کولر لگے تھے۔پانی بھر کر نورت واپس پلٹی تو اسے وننگ کے دوسرے کونے سے ڈاکیا انکل آتے دِکھائی دئیے۔نورت کی آنکھیں چمک اُٹھیں ۔
انکل 231 کا کوی خط ہے؟؟؟
جی ہے! نورت کمال؟؟
جی جی! نورت خط کا وزنی لفافہ وصول کرکے اندر آ گیی۔ٹھندا جگ بے دھیانی سے میز پر رکھا۔اب کسے یاد تھا کہ پیاس کتنی شدید تھی۔کتنی ہی دیر وہ لفافے پر لکھی خوبصورت تحریر میں اپنے نام اور پتے کو دیکھتی اور مسکراتی رہی۔یہ ایک کارڈ تھا اور وہ جانتی تھی کس کا تھا۔ہاسٹل کے اس ویرانے میں اسے خط لکھنے والا صرف ایک ہی شخص تھا۔گھر سے فون آتے تھے اور سعدیہ کے صرف میسج۔ یہ ھزیم ہی تھا جس نے اس جدید زمانے میں اپنی معاشیت اور اکیڈمی کے سخت ڈسپلن کی وجہ سے طے کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو خط لکھیں گے تاکہ جو چاہے جتنی چاہے بات کر سکیں ۔چار ہی دن میں ھزیم کا پہلا خط اسکے ہاتھوں میں پہنچ گیا تھا۔
۔نجانے اسکا نام خوبصورت تھا یا آج ھزیم کی انگلیوں نے اس میں کوئی ایسی زندگی بھر دی تھی کہ جیسے دنیا بھر سے خوبصورت ہو گیا تھا۔ہوتی ہے کچھ ہاتھوں اور کچھ لوگوں میں ایسی تاثیر کہ دیکھ لیں تو حیات رک جاے،چھو لیں تو امر کر دیں اور اگر آپ کے پاس کچھ دیر رک جایی تو زرا سی دیر میں آپکی ساری زندگی کی خوشیاں اور خواب اپنی مٹھی میں دبا کر لے جاییں۔لفافہ احتیاط سے کھولا تھا اس نے جیسے وہ کاغز کا کوئی بیکار ٹکرا نہیں کسی بہت مقدس اور محبوب تحریر سے سجے اوراق ہوں۔خوبصورت پھولوں سے سجا ایک کارد اسکے سامنے تھا۔
you brighten my days
so many ways!
thank you!
کارڈ کے اندر دو تین بڑے بڑے صفحات پر حزیم کی خوبصورت انگلش تحریر تھی۔

“پیاری دوست!

کیسی ہو؟ تم سے وعدہ کیا تھا کہ جلد خط لکھوں گا ۔سو دیکھو کتنی جلدی وعدہ پورا کر رہا ہوں حالانکہ کسقدر تھکا ہوا ہوں میں۔۔آج کا دن بہت مشکل تھا۔صبح سے جو سزائیں پر سزاییں ملنے لگیں تو دوپہر تک برا حال ہو گیا ۔آج شاید موسم زیادہ گرم تھا جو جو بھی سینیر ملا آج غصے سے بھرا سزاوں کا شوقین ہی ملا اور ہم سارا دن کسی ٹوٹے کھلونے کی طرح ادھر ادھر پھینکے جاتے رہے۔ٹوٹے جسموں سے ہاسٹل پہنچے تو ایک خوشخبری ملی کہ فریشرز پہنچنا شروع ہو گیے تھے۔خدا کا شکر ادا کیا کہ سارے دن کی مصیبت آگے دھکیلنے کا ہمیں بھی موقع ملا۔ ۔شاید اسی لیے آج قدرت نے ہمیں اتنی سزاییں دی تھیں کہ شام تک ہم اچھے سواگت کے قابل ہو جاییں۔شام میں گیم سے فارغ ہو کر ہم فرسٹ ائیر کے کمروں میں گیے جن میں نیے نویلے چمکتی سفید شرٹس میں اور لش پش ہیر سٹایلز کے ساتھ چنے منے سے ببلو اور پپو اکٹھے ہو رہے تھے۔سب ببلو اور پپوز کی چو چو ٹرین بنوا کر ہم باہر گراوینڈز میں لے گیے۔

صبح جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا تھا ہمیں سب تھا یاد ذرا ذرا سو یہی وقت تھا کہ رسوائی کے داغ دھوے جاتے۔سب کو گراونڈ میں اتار کر قلابازیوں پر لگا دیا جب تک انکی چم چم کرتی شرٹس ساری عمر کے لیے بیکار نہ ہو گییں۔اور انکی شکلوں میں سے سامری جادوگر اور زگوٹا جن کی صورت نہ دکھای دینے لگی۔انکی صورتیں دیکھ کر ہماری طبیعت کچھ شانت ہوی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلنے لگی۔کیی شکلیں ابھی سے رونے والی ہو رہی تھیں پر انکو خبر نہ تھی کہ ابھی تو شروعات ہیں۔۔قلابازیوں کے بعد انکو ایک ایک ٹانگ ہاتھ میں پکڑای اور لاین میں چکر لگانے کا حکم دیا۔شہزادے آتے فاییٹر پائلٹ بننے ہیں اور دو چھلانگیں نہیں لگای جاتیں ان سے۔ کوی ادھر گر دہا تھا کوی ادھر اور انکی حالت دیکھ کر ہم خوب ہنسے اور مزا کیا۔جب انکی شکلوں کے ساتھ حالتیں بھی برباد ہو گیین تو انکو دھکیل کر مسجد لے گیے عشاء کی ازان ہو رہی تھی سوچا کچھ ثواب ہی لے لیں نماز میں سب نے خوب بددعائیں دی ہونگی ہمیں اور خوب رحم مانگا ہو گا اپنے لیے۔پر ہم جانتے ہیں کہ اکیڈمی کی اس مسجد میں کسی کی بددعا نہیں لگتی نہ کسی کو رحم ملتا ہے۔یہ بچے ابھی معصوم ہیں ۔اکیدمی کے موسموں سے واقف نہیں ۔مسجد سے انکی ٹرین ۔کمرون میں پہنچای مگر اتنے آرام سے کہاں چھوڑا ہم نے۔اب سب اپنی اپنی الماریوں کے اوپر بیٹھے ساڑھے نو کا انتطار کر رہے ہونگے اور خوب رو رہے ہونگے گے کیونکہ اس سے پہلے انکو نیچے آنے کی اجازت نہیں ۔بیچارے فوجی بننے آے ہیں ۔بھلا بتاو اتنی تعلیم و تربیت کے بغیر کیا وہ اچھے فایٹر پایلت بن سکیں گے۔نہیں ناں! جیسے ہم کتنی اچھی تربیت لے چکے ہیں اب انکی باری ہے کہ اپنی اہلیت ثابت کریں اب بھی انکی شکلیں یاد کر کر کے ہنسی آ رہی ہے۔شاید ہم بھی ایسے ہی لگتے ہونگے پہلے سال۔سوچا یہ اتنی مزے کی بات تم کو تو سنا دوں ۔اب سنا دی ہے تو کچھ سکون ہو رہا ہے۔اندھیرے کمرے میں موبایل کی روشنی میں تمھیں خط لکھ رہا ہوں۔اس سے پہلے کہ کسی کو میرے موبایل کی روشنی نظر اے اور وہ مجھ تک پہنچ جاے اسے بند کر دیتا ہوں۔تم سناؤ تم کیا کرتی ہو سارا دن ؟ تمھاری روٹیں کیا ہیں ،فراغت میں کیا کرتی ہو کیا مشاغل ؟
تم جلد از جلد جواب مجھے لکھ دینا تا کہ اسی ہفتے پہنچ جاے۔میرا تو تھکاوٹ اور نیند سے اتنا برا حال ہے کہ اب لکھا بھی نہیں جا رہا۔
خداحافظ
تمھارا بہت اچھا دوست!
ھزیم فیصل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیارے دوست!
کتنے ظالم ہو نا تم اپنا بدلہ اپنے چھوٹوں سے لیتے ہو۔تمجھیں تو چاہیے تھا انکو آشیرواد دیتے انکا حوصلہ بڑھاتے تاکہ وہ مشکلات سے لڑنے کے قابل ہو سکیں مگر تم بھی ظالم اور جابر سینئر بن گئے۔میں تمھاری جگہ ہوتی تو کبھی ایسے نہ کرتی ویسے میٹرک میں مجھے بھی بہت مزے کے لگتے تھے ملٹری کے گانے اور ڈرامے اور میرا بھی دل چاہتا تھا کہ کاش لڑکیاں بھی ائیر فورس میں جا سکتیں
۔۔اب لڑکیاں جانے لگی ہیں تو میری ذندگی اتنی بدل چکی ہے کہ ایسا کوی شوق بھی نہیں رہا۔ہاں تمھاری باتیں سن کر مزا ضرور آتا ہے۔تمھیں بھی خوب مزا آتا ہو گا ۔میری کوئ روٹیں نہیں بس کلاسز سے سیدھی ہاسٹل،پھر میں کمرہ کتابیں اور کیمرہ۔کوی پراجیکٹ ہو تو وہ کرتی ہوں۔روم میٹ میری اچھی ہے کمرے سے باہر دوستوں میں ذیادہ رہتی ہے مجھے تنگ نہیں کرتی۔شام کو وہ پوائنٹ پر اپنی سہیلیوں کے ساتھ گول گپے کھانے چلے جاتی ہے تو میں تھوڑی دیر باہر نکل کر ہرے میدانوں میں بیٹھ جاتی ہوں ڈوبتے ابھرتے سورج کی تصویریں بناتی رہتی رات ہو جاے تو سو جاتی ہو ۔یہ ہے کل میری روٹیں!اور کیا بتاؤں!
تمھاری دوست
نورت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مئی 22,2003
ڈییر دوست
میں کیوں بنوں بھلا اتنا اچھا سنیئر جو مزا نہ کرے۔ہماری باری پر آوروں نے مزے کیے اب ہماری باری۔ویسے بھی یہ ڈسپلن کا ایک حصہ ہے اور جونئیرز کو عام انسانوں سے فوجی بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔تمھی شوق تھا آنے کا؟اچھا ہوا نہیں آئیں۔
یہ سب دور کے دھول سہانے والی بات ہے۔تمھین مزے کی لگتی ہیں یہ باتیں ہم سے پوچھو کتنی مزے کی لگتی ہیں جب ہم پر بیتتی ہیں ۔رات کو فرست اییر کے لڑکے بھاں بھان کر کے روتے ہیں۔کیی تو شروع دنوں میں ہی پڑھائی چھوڑ کر بھاگ جاتے ہین۔کم ہمت اور کمزور اعصاب کے لوگوں کے لیے یہاں ٹکنا مشکل ہے۔جسکی قوت ارادہ مضبوط ہو گی جس میں خوب دم ہو گا وہی یہاں حوصلے سے رہ سکے گا۔ٹانگیں٬ بازو ٬جسم٬ تھک تھک کر ٹوٹ جاتا ہے۔لڑکے پریڈ کرتے کرتے بےہوش ہو کر گر جاتے تھے فرسٹ ائیر مین۔۔اب تو چارسال میں ہم اتنے مضبوط اور عادی ہو گیے ہیں۔کہ کھڑے کھڑے سو جاتے ہیں اور سوے سوے پریڈ کر لیتے ہین۔ہے ناں نہ سمجھ میں آنے والی بات۔اس بات کو سمجھنے کے لیے بندے کا فوج میں ہونا بہت ضروری ہے۔
چلو اچھا ہے تمھاری روم میٹ اچھی ہے اور تمھیں زیادہ تنگ نہیں کرتی آرام سے پڑھای کرنے دیتی ہے۔ورنہ مجھے تو لگتا تھا کہ ساری لڑکیاں خودغرض ہوتی ہیں۔ دہی بڑے
کھانے جاتی ہے تو تم بھی ساتھ چلے جایا کرو! ۔کیا تم کو گول گپے اور دہی بڑے اچھے نہیں لگتے۔؟ آج میرے روم میٹ کو رات کی ڈرل کی سزا ملی ہے وہ رات کا بڑا حصہ ڈرل کرے گا اور صبح اسی طرح بغیر آرام کیے واپس اکیڈمی جا کر سارا دن گزارے گا۔اگر تھوڑی سی میری بری قسمت ہوتی تو یہ سزا میرا مقدر بھی بن چکی تھی۔بس میرا موبائل کمرے میں بھول جانے کی وجہ سے بچت ہو گئی ۔اور وہ پکڑا گیا۔کہانی لمبی ہے اگلے خط میں سناوں گا۔ابھی تو بہت نیند آآ رہی ہے بس اسی پر صبر کرو۔اور ہاں یاد سے جلدی جلدی پوسٹ کر دیا کرو خط کو ذیادہ دن تمھارے خطوں کا انتظار نہیں ہوتا!
گڈ نایٹ
تمھارا دوست
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جون1،2003
پیارے دوست
جن خطوں کو تم مزے لے لے کر پڑھ لیتے ہو تمھیں کیا پتا انکو پوسٹ کرنا میرے لیے کتنا مشکل ہے۔کل ہاسٹل شاپ سے تمھارے لیے کارڈ لای تھی۔لیکن لکھ لینے کے بعد پوسٹ کرنے کا مسلئہ۔میں تو بازار جاتی نہیں ۔اور ڈاکیا انکل ہفتے میں صرف منگل کو آتے ہیں۔میری روم میٹ رامین چونکہ روز جاتی ہے تو اب آج کے خط کے ساتھ پیک کر کے اسکو دییے کہ بہن بن کر پوسٹ کر دے۔ایڈریس دیکھ کر اس نے مجھے خوب تنگ کیا کہ کون ہے٬ کیسا ہے۔اب اسکو کیا بتاتی کہ کون ہے کیسا ہے۔مجھے بھی حیرت ہوئی کہ مجھے تو خود نہیں پتا کہ تم کون ہو اور کیسےہو۔تم نے کبھی کوئی تصویر ہی نہیں دکھائی۔اب کی بار چیٹ پر اپنی کوئی تصویرضرور لانا میں بھی تو دیکھوں کس کالے بھنگی سے بات کرتی ہوں۔
نورت۔۔۔۔
نورت کی الماری میں خطوط اور کارڈزکا
ڈھیردن بدن بڑھتاچلا جا رہا تھا اور انکے ساتھ ساتھ یادوں کا بھی! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

15جون
2016
۔ ابوظہبی
رامین این کا ہاتھ پکڑ کر اسے لنچ کے لیے ٹو فور ففٹی فورکے ساتھ بنے پارک روٹانا میں لنچ کے لیے لای تھی۔اسکا بس چلتا تو وہ اسکے آفس میں ہی اسکی پٹای کر دیتی۔کئی دنوں سے اسے کسی کی بات سمجھ نہ آ رہی تھی۔اور اتناعرصہ اسکے ساتھ گزار کر رامین اسکے اندر باہر کے سب موسموں سے واقف تھی جنکو این اپنی دانست میں ساری دنیا سے چھپا کر رکھتی تھی۔ این کو لگتا تھا کہ یہ سالوں پرانی دوستی کے سبب ہے پر اسے نہیں پتا تھا کہ جب اسکے قدم ٹھوکر کھانے لگتے تھے ہاتھ سے چیزیں گرنے لگتی تھیں، اور وہ بولتے بولتے باتیں بھول جاتی تھی اور کام کرتے کرتے گم ہونے لگتی تھی تو صرف رامین نہیں سارا آفس آگاہ ہوتا تھا کہ این کو پھر کوی مشکل آن پڑی ہے وہی مشکل جو سال چھ ماہ میں لازماً اس پر نازل ہو جاتی تھی۔اور وہ اپنے ہاتھ کی ہر صلاحیت ہر اہلیت بگاڑ بیٹھتی تھی ۔اسکی مشکل میں منیب، نینسی سمیت سارا آفس شریک تھا مگر اس سے پوچھنے کی جرات صرف رامین کرتی تھی باقی سب اسے دیکھ کر ہی رہ جاتے تھے۔۔۔۔جنجر ڈائنگ ہال کے ایک زرا خالی کونے کی ٹیبل پر رامین نے اسے بٹھایا تھا اور خود اسکے سامنے بیٹھ گئی تھی۔
بولو اب! “”
کیا بولوں؟
کیا بہت یاد آ رہا ہے وہ؟ ”
این کھڑکی سے باہررکھے خوبصورت پھولوں سے بھرے پودوں کو دیکھتی رہی۔
“تمھیں پتا ہے ان دس بارہ سالوں میں اسکے دس بارہ بچے ہو گیے ہونگے جسکی یاد میں تم آج تک دس بارہ لوگ ٹھکرا بیٹھی ہو۔”

وہ رامین کی محبت سے گھبراتی نہ تھی اسے پتا تھا وہ مخلص ہے اور اسکی فکر کرتی ہے۔وہ خیال کرنے کی نصیحت جو سالوں پہلے امی ابو نے اسے کی تھی وہ آج بھی خود کو این کی سرپرست سمجھتی ہے۔اسے سمجھانے ڈانٹنے حتی کہ مارنے کے اختیار بھی دے رکھے تھے این نے۔اور سچ تو یہ ہے کہ اکثر اسکے سخت الفاظ اور جھڑکیوں کی ضرورت پڑتی تھی اسے اپنی پھنسی گاڑی کو حالات کی دلدل سے نکالنے کے لیے۔
میری ذندگی بھی تو چل ہی رہی ہے”
“ہاں !ٹھیک ہے اس سے اگے بھی تو سوچو ناں اب! بتیس سال کی ہو گیی ہو میرے دو بچے ہو چکے اس عرصے میں تم نے ابھی تک شادی نہیں کی۔کب تم نے خود کو اس سے آگے بڑھانا ہے؟ منیب سمارٹ ہے برٹش نیشنل ہے بہترین حال اعلی مستقبل پھر تمھین اس قدر پسند کرتا ہے. ۔۔۔اور ماینڈ مت کرنا مگر تمھارے حزیم سے کیی گنا زیادہ ہیندسم اور سٹیبلش ہو گا وہ۔۔تم کیوں اپنی زندگی کے ساتھ جوا کھیلتے رہنا پسند کرتی ہو؟”
وہ جانتی تھی کہ منیب حزیم سے زیادہ ہیندسم اور استیبلش ہے۔مگر جب زندگی کسی پچھلے گیر کی محبت میں گرفتار ہو تو آگے کی خوبصورتیاں کسے دکھائی دے سکتی ہیں ۔ ہینڈسم اور خوبصورت لوگوں سے اسکے آس پاس کی دنیا بھری پڑی تھی مگر اسکی ٹرین کا انجن تھاکہ آج تک نوشہرہ کے اسی پھاٹک پر کھڑا تھاجہاں وہ اسے چھوڑ کر آی تھی۔
تم کو پتا ہے میں حزیم کو یاد نہیں کرتی ہوں ۔”
“ ہاں مجھے پتا ہے تم بھولتی بھی نہیں ہو
“میں اپنی زندگی کو ہمیشہ فل سپیڈ سے بھگاتی ہوں”
ہاں اور ہر نکڑ پر پھنس کر بھی تم ہی کھڑی ہو جاتی ہو۔”

رامین کے پاس ہر سوال کا جواب تھا۔
تو اور کیا کروں اب؟ “”
“تم ایک کام کرو! تم حزیم سے رابطہ کرو!”
حزیم سے رابطہ؟کس ناطے سے؟ کس حوالے سے؟ اس لیے کہ” وہ مجھے چھوڑ گیا تھا؟ یا اس لیے کہ سال بھر وہ دوستی کے وعدے کرتا رہا اور آخر میں وعدہ کر کے گم ہو گیا تھا! اس حزیم کومحض جس کی وجہ سے میری ساری زندگی مزاق بن کر رہ گئی ہے! ”
“این تم ایک کام کر لو! یا اسے بھول جاو یا یاد رکھ لو! یہ غصے اور نفرت میں لپیٹ کر محبت کرنا چھوڑ دو! ،،،،اگر اس نے تمھیں اتنی ہی تکلیف دی ہے تو نکال پھینکو اسکے لیے ہر غصہ بھی اپنے دل سے! بھول جاو اسکے دییے زخموں کو بھی! ”
“یہی تو نہیں بھولتا مجھے! کسقدر اہم تھا وہ میرے لیے، کتنا مخلص، کتنا خیال کرنے والا اور آخر میں کیا نکلا،،، وہیی ایک روایتی جھوٹا لڑکا!! وہی ایک دقیانوسی دھوکے بھری کہانی! ”
“کیا اس نے کبھی کہا تھا کہ وہ تم سے پیار کرتا ہے؟ ”
اک چپ!
“پھر دھوکہ تو نہ دیا نہ اس نے، اگر تم خود ہی اس سے یکطرفہ پیار کرتی رہی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا؟ ”
قصور؟؟؟ “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں ناں! پھر تو وہ بہت اچھا انسان تھا جس نے سال بھر کی دوستی میں محبت کا نام نہیں لیا.احمر کے جیسا دھوکہ ہوتا تو کہتا کہ محبت کرتا ہوں جیسے وہ کہتا تھا!اور کرتے کیا ہیں یہ لڑکے۔۔۔محبت کے نام پر ہی تو بیوقوف بنتی ہے عورت!”
“تب تو تم کہتیی تھیں یہ سب جھوٹ ہوتے ہیں فریب ہوتے ہیں؟اب وہی اچھا لگنے لگ گیا تم کو؟۔۔۔”
تب مجھے کہاں پتا تھا تم اتنا پیار کرتی ہو اس سے! مجھے دیکھو میں بھی تو بھول گئی ناں احمر کو۔مجھے سمجھ آ گیی کہ وہ صرف دھوکہ تھا اور آج مجھے اسکا نام بھی یاد نہیں۔اور تم۔۔۔۔تم کبھی بھول ہی نہیں سکی اسے۔تم نے ہمیشہ اسے رستا ذخم بنا کے رکھا ہے۔مجھے پتا ہوتا کہ تم اسقدر پیار کرتی تھیں تو میں تمھیں روکتی اسے چھوڑنے سے۔”
اور پھر میں کچھ بھی کہتی رہوں تم کو خود پتا ہونا چاہیے تم کیا چاہتی ہو! ہر شخص کا تجربہ مختلف ہوتا ہے، ہر شخص کی شخصیت مختلف ہوتی ہے۔ہر شخص کو اپنے سچ خود دریافت کرنے پڑتے ہیں”
این چپ تھی۔
“مجھے لگتا ہے تمھیں اس سے رابطہ کی کوشش کرنی چاہیئے ۔کوی نمبر کوی ای میل اگر کچھ ہے تو اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرو ،ایک بار کم سے کم!ہو سکتا ہے تمھیں کوئی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جائے! ہو سکتا ہے اسے ہنستے کھیلتے زندگی گزارتے دیکھ کر تمھیں شرم ہی آ جاے! ”
این خموش نظروں سے گم صم بیٹھی اسے دیکھتی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2003
نومبر20
اتنی دیر لگا دی ”
” دیر کہاں ہوی ہے؟ ابھی تمھارا ٹیکسٹ آیا ہے۔کمرے سے اٹھ کر نیٹ کیفے تک آی ہوں اب اتنی دیر بھی نہ لگتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔نورت جیسے ہی ہی میسنجر پر آن لاین ہوی تھی ھزیم کا میسج کلک ہوا تھا۔
اچھا سناو کیا چل رہا ہے؟ ”
“کچھ خاص نہیں ! کتابوں اور کیمرہ کے علاوہ کوی کا م ہے میرے پاس ؟”
یہ کام بھی تو کسی سے کم نہیں ہین۔تمھیں مزا نہیں اتا؟؟؟ ”
“مزا اتا ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی تو ایک چیز رہ گیی ہے دنیا میں اب جس میں مزا اتا ہے۔”نورت کے منہ سے ایک بات پھسلی تھی۔
” اب اسکا کیا مطلب ہے۔۔ تھوڑا آسان بولا کرو جو میں بھی سمجھ لیا کروں۔فوجی بندہ ہوں تمھارے جیسی بڑی بڑی باتیں سمجھ نہیں آتییں”۔
“ہر بات سمجھانے کے لیے نہیں ہوتی بندہ کچھ باتیں صرف اپنے ہی لیے بول جاتا ہے”۔
“پھر ایک مشکل بات۔۔۔۔۔،،،،،آج صرف مشکل مشکل ہی بولنا ہے تم نے! ”
” باتیں تو سب آسان ہوتی ہیں بس کچھ لوگ سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔،،،
“اور میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو سمجھنا نہیں چاہتے؟؟؟” “

شاید۔۔۔یا پھر میں ہی سمجھانا نہیں چاہتی”۔”
” چلو چھوڑو یہ بتاو آج خلاف توقع ویک میں کیسے نظر آ گیے۔۔۔اکیڈمی نے چھوڑ دیا اتنی آسانی سے؟”
“اتنی آسانی سے کہاں۔۔۔۔اکیڈمی کے کام سے نوشہرہ آیا تھا زرا ساٹایم بچ گیا تو سوچا تم سے گپ شپ لگا لوں۔تم نے سارا ٹایم آنے میں لگا دیا۔”
“حد ہے بھئ! اب اس سے جلدی کیسے آتی؟ کمرے سے نکل کر دوسری منزل سے نیچے آنا تھا اب اتنا وقت تو لگنا تھا یہ دو قدم پر تو کمرہ ہے نہیں میرا تم پہلے بتا دیتے تو میں پہلے پلان کر کے جلدی پہنچ جاتی۔”
“اب اتنا تو مجھے بھی اندازہ نہیں تھا۔سارا گھنٹہ تمھارے انتطار میں گزر گیا اب تو بس وقت ختم ہی ہونے والا ہے۔”
“تم اتنے اچھے بچے ہو کہ صرف میرا انتطار کرتے رہے۔اور کوی سہیلی نہیں ملی بات کرنے کو۔”
“میں اتنا ہی اچھا بچہ ہوں اور میری تمھارے علاؤہ کوئی اور سہیلی نہیں ”
کیوں ”
کیونکہ میری صرف تم سے دوستی ہے ”
“کیا لڑکی اور لڑکے میں صرف دوستی ہو سکتی ہے۔؟ میں نے سنا ہے کچھ اور بیچ میں ا جاتا ہے۔”
اچھا وہ کیا ہے جو بیچ میں آ جاتا ہے؟ ”
اب یہ بھی میں ہی بتاوں!””
“جب اتنا بڑا فلسفہ بتا دیا ہے تو یہ بھی بتا دو! مجھے تمھارے جیسے فلسفے نہیں آتے۔”
نہیں،،، رہنے دو! ”
کیوں؟ ”
یہ فلسفے تمھارے کسی کام کے نہیں! ”
بتا دو جلدی ورنہ جا رہا ہوں میں ”
ہیں کیا مطلب،،، ابھی تو آی ہوں ”
تم اب آی ہو میرا گھنٹا پورا ہو گیاہے”
تم آدھ گھنٹا اور بیٹھ جاؤ”
اتنے پیسے اور وقت نہیں ہے میرے پاس ”
نورت کا دل چاہا اٹھ کر اپنا سر دیوار میں دے مارے یا یہی پھتیچر کمپیوٹر اٹھا کر ھزیم کا سر پھاڑ دے. ھزیم کے پاس دس روپے اور آدھا گھنٹہ اور نہ تھے۔
تمھاری خاطر میں اپنا کام چھوڑ کر یہاں آ بیٹھی ہوں اور تم پندرہ منٹ میں اٹھ کر جا رہے ہو ”
“نہیں بیٹھ سکتا ناں! پورے ساڑھے سات اکیدمی پہنچنا ہے۔اچھا ویک اینڈ پر بات کریں گے انشاءاللہ! باے! ”
نورت ہونٹ بھینچے بیٹھی رہی۔صرف بال نوچنے کی کسر رہ گیی تھی۔
زرا سی دیر میں پھر ایک بار ظاہر ہوا تھا لیکن نورت نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔لیکن اسکا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ، بات کا انتطار کیے بغیر ھزیم جا چکا تھا۔
اور ساتھ ہی سکرین آف لائن آ گیا تھا۔ ۔
۔ جو پڑھای وہ اتنا دل لگا کر کر رہی تھی اب اس سے ڈسٹرب ہو کر دوبارہ کہاں کر سکے گی۔اس شخص نے سارے فوکس کا بیڑہ ہی غرق کر دیا تھا۔نیٹ کیفے سے اٹھ کر وہ باہر لان میں آ گیی۔اور روش سے قدرے دور ایک خالی بنچ پر بیٹھ گیی۔
“کسقدر بدتمیز شخص ہے اس نے صرف مجھے تنگ کرنے کا ٹھیکا لے رکھا ہے۔اپنا قبلہ سیدھا کر کے چلا گیا ہے اور میرا سارا کام بگاڑ جاتا ہے۔میں کیوں اسکی باتوں میں آجاتی ہوں ۔صرف اپنے گھاٹوں کے لیے۔”
اب ایسے الجھے دماغ سے کیا خاک کام کروں گی۔نورت بنچ پر ٹانگین اوپر رکھے گہرے سانس لے کر خود کو ریلیکس کرنے کی بجاے وہاں بیٹھی غصہ کیے جا رہی تھی۔حزیم کو کبھی کام سے نکلنا ہوتا تو زرا سے بچتے ٹائم پر نیٹ پر نورت سے رابطہ کی کو شش کرتا مگر اسکے پاس وقت اتنا کم ہوتا کہ بھاگتے بھاگتے محض ہیلو ہاے ہی ہو پاتی تھی۔حزیم کے پاس وقت کا بہت مسلہ تھا بہت مشکل سے رخصت ملتی تھی۔ انٹرنیٹ پر جانے کی اور اتنے پیسے اسکے پاس تھے نہیں کہ وہ روز فون کر سکتا۔ایک خط وہ آرام سے لکھ سکتا تھا جو وہ ڈھیروں ڈھیر لکھ دیتا تھا ۔مگر اسکا بہت محنت سے نکالا وقت نور کے لیے کم پڑنے لگا تھا اسکا انتظار بڑھتا جاتا تھا۔اسے ہر پل اب حزیم کے میسج کا اسکے خطوں کا اور انٹرنیٹ پر آنے کا انتظار رہنے لگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپریل 19,2003
حزیم! کیا ہم صرف دوست ہیں؟”
شام ہاسٹل کی گیلریوں میں دھیرے سے اتر رہی تھی اور برآمدوں میں روشنیاں آنکھیں جھپکتی روشن ہونے لگی تھیں۔نورت عمارت سے پرے ہاسٹل کے طویل ساے میں چھپتے لان کے ایک بنچ پر بیٹھی حزیم سے محو گفتگو تھی۔اور اب اسکی گرفت موبائل پر سخت اور توجہ اسکے جوا ب پر امنڈ آیی تھی۔
نورت کے لیے یہ بات پوچھنا کچھ اتنا بھی آساں نہیں تھا۔انکے بیچ لڑکا لڑکی والی باتیں کبھی رہی ہی نہ تھیں۔کبھی حزیم نے لڑکوں والی کوئ بات کی نہ نورت کو کبھی لگا کہ اسکا دوست ایک لڑکا ہے۔مگر ہاسٹل چھوڑنے سے پہلے ایک بار ضرور اسے یہ بات کرنی تھی۔اسکی ہمت اس میں ہو یا نہیں،اسے یہ پوچھنا اچھا لگتا یا نہیں،حزیم کے بولنے کا انتظار کرتے خالی ہاتھ جانے سے ڈرتی تھی۔وہ بند آنکھوں سے اس راہ سے نہ اتر سکتی تھی۔حزیم اسکے بہت قریب تھا ان میں غضب کی ہم آہنگی تھی،وہ اسے بہت پسند تھا کیا ہی خوبصورت ہو اسکی ذندگی اگر اس کے ساتھ ہی گزر جاے!نورت کے لیے تو یہ بہترین اور دلنشیں خیال تھا مگر حزیم کیا سوچتا ہے اسے خبر نہ تھی۔ایک خوبصورت بندھن یونہی چھوڑ کر جانا اسکے لیے مشکل تھا اور کل اسے ہاسٹل چھوڑ کر جانا تھا اور جانے سے پہلے چاہے آنکھ بند کر کے،دل کو مضبوطی سے پکڑ کر یا دماغ کو خموش کرکے اسے یہ جرات کرنی ہی تھی۔
اور اب جب یہ جرات کر لی تھی تو خبر ہوئی تھی کہ جگھڑا تو سارا آنا کا تھا۔
“کل مجھے چلے جانا ہے ۔میرے والدین میرا رشتہ طے کر دینا چاہتے ہیں۔اس لیے تم مجھے بتاؤ کیا میں صرف تمھاری دوست ہوں؟اسکے علاؤہ تمھارے دل میں میرے لیے کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں؟”
“دیکھو نور!!!میرے دل میں تمھارے لیے بہت عزت ہے!!!”
“اگر میں کہوں کہ مجھے عزت سے کچھ زیادہ چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہم عمر بھر کے لیے ساتھ نہیں رہ سکتے۔۔؟”
ڈوبنے سے پہلے نکلتی نور کی آواز بہت دھییمی ہو کر بھی بہت گہری تھی۔
“تم میری بہت اچھی دوست ہو نور،،،بہت اچھی!اور میرے دل میں تمھاری بہت عزت بھی ہے!!لیکن تمھیں پتا ہے میری پڑھای ابھی ختم نہیں ہوی۔ !میری پاسنگ آؤٹ کے بعد مجھے اچھی طرح سیٹ ہونے میں مزید کچھ ماہ لگ جائیں گے۔ ۔اس سے پہلے تو میں کچھ بھی نہیں ہوں۔اگر تم ایک سال میرا انتظار کر سکتی ہو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ جیسا تم چاہتی ہو ویسا ہی ہو گا!”
“اگر میرے والدین اتنا انتظار نہ کریں؟
“اسی لیے میں تمھیں کوی خواب نہیں دکھا رہا۔مگر اس سال تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ابھی تو میں پائلٹ بھی نہیں بنا۔ابھی میری تعلیم ادھوری ہے کمیشن مکمل نہیں کوی عہدہ گھر کچھ بھی نہیں۔”
“تو پھر؟
“اب تم مجھے شرمندہ کر رہی ہو!”
۔”چلو ٹھیک ہے تم شرمندہ نہ ہو،چلو کوئ اور بات کرتے ہیں!”نورت نے دل کو مضبوطی سے پکڑا تھا اور موضوع بدل دیا تھا۔وہ اپنی دوستی کے ساتھ عزت کو بھی مزید داؤ پر نہ لگا سکتی تھی۔اور اپنی تکلیف سے ذیادہ اسے حزیم کو شرمندگی سے بچانے کی فکر تھی۔اور اپنی آنا اور خودداری اس زرا سی دیر میں بلک بلک کر رو پڑی تھی۔یہ تو اس نے سوچا ہی نہ تھا کہ اگر حزیم انکار کر دے گا تو۔۔۔۔اور کسی بھی الفاظ اور انداز میں یہ انکار ہی تو تھا۔وہ لڑکی ہو کر اس سے ذیادہ کیا کر سکتی تھی نور کے خیال میں تو یہ سب حزیم ہی کے ہاتھ میں تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپریل20,2003
اسکا مطلب ہے وہ جان چھڑا رہا ہے!
رامین نے کہا تھا۔
“کیامطلب۔۔ ۔
” نورت اس بات سے لاعلم تھی یا اس پر یقین کرنے سے خوفزدہ تھی
“کیا مطلب کا کیا مطلب؟ ظاہر ہے وہ میٹھے میٹھے لفظوں میں جان چھڑا رہا ہوں ۔اسے پتا ہے ڈپلومہ ختم ہو گیا ہے، اب گھر جانے کا وقت ہے ااور تمھارا تو رشتہ بھی ہو ر ہا ے۔ ۔تمھارے اماں ابا نے کونسا تمھیں بٹھا کر رکھنا ہے۔ظاہر ہے شادی ہی تو کرنی ہے۔نہ ایک سال تک تم انتظار کرو نہ وہ پھنسے ”
رامین کی باتیں تھیں کہ خنجر تھیں کہ اندر ہی اندر رگیں کاٹ رہی تھیں۔
“نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ایسا نہیں ہے! ”
“کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا! جب جانے کا وقت ہوتا ہے تو سب ایک جیسے ہو جاتے ہین۔پہلے سے کون کہتا ہے کہ میں ایسا ہوں میرے ایسے خیالات ہیں۔ایسا کہیں گے تو لڑکیاں بھاگ نہیں جاییں گی۔”
“وہ ایسا نہیں ہے میں جانتی ہوں اسے اچھی طرح۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اس نے تو کہا ہے کہ ایک سال انتظار کر لو تو وہ ضرور وعدہ کرسکتا ہے۔۔ابھی اسکا کمیشن مکمل نہیں ہے ابھی اسے کچھ وقت لگے گا”
نورت نے خود کر سمجھانے کی شاید آخری کوشش کی تھی۔
“وعدوں پر نہ رہنا بیٹا! اسکے وعدوں پر رہی تو اماں ابا کے دھونڈے رشتے سے بھی جاو گی۔”

نورت جانتی تھی کہ رامین کی بات حقیقتا سچ ہو سکتی ہے ۔پر دل نجانے کیوں صرف اس پر یقین کرنا چاہتا ہے جو اسے اچھا لگتا ہے۔سچ سامنے کھڑا چیختا چلاتا رہتا ہے اور انسان جھوٹ کی ایک مسکراہٹ پر ایمان لے آتا ہے۔
“تم کیا جانتی ہو اسکے بارے میں؟ نام کے علاوہ ایک تصویر دیکھی ہے تم نے اسکی صرف وہ بھی نجانے اسکی ہے کہ نہیں ۔اسکے خط پڑھے یا باتیں سنی ہیں۔تمہیں پتا ہے بے ایمان شخص ہمیشہ خود کو ایماندار دکھاتا ہے! ہمیشہ! ”
اب رامین اسکو سمجھا رہی تھی۔خود اپنے ا حمر کے لیے کسقدر جزباتی اور اندھی ہو جاتی ہے جیسی اس وقت نورت ہو گیی تھی ۔مگر نورت کی دفعہ دنیا جہاں کی عقلیت اسکے اندر سما جاتی تھی۔جواب دینے کے لیے نورت کے پاس صرف ایک جملہ تھا “ھزیم ایسا نہیں ہے! ”
“دیکھو نور! یہ صرف تمھارا دل کہہ رہا ہے۔اپنے دماغ سے پوچھو۔اگر وہ ایسا ہوتا تو پھر وہ کیسے تم سے جان چھڑاتا؟ یہی کہتا ناں پھر بھی جو وہ اب خود کو اچھا دکھا کر کہہ رہا ہے۔منہ پر آ کر کوئی نہیں کہتا کہ وہ دھوکہ دے رہا ہے۔ہر جھوٹا شخص اپنی وفا کی قسمیں کھاتا ہے۔پر پھر بھی بے وفا ہی رہتا ہے۔!”
وہ دونوں ٹرین کی پیسنجر میں بیٹھی تھیں۔
ٹرین تیزی سے فصلوں اور کچے پکے علاقوں کے بیچ سے بھاگتی جا رہی تھی اور اب تو یہی ٹرین نورت کو اپنے اوپر سے گزرتی دکھای دے رہی تھی۔ہاسٹل سے انکے ساتھ آنے والی دوسری سوار لڑکیاں اپنے موبائل میں گھسی بیٹھی تھیں۔نجانے میسج کر رہی تھیں یا وہ بھی پرانی فون بک کو جھاڑ رہی تھیں۔یا کسی جھوٹے خواب کے دھند میں کسی کے تعاقب میں گم تھیں۔شاید کوی ان سے بھی کہہ رہا ہو کہ انتظار کر سکتی ہو تو کر لو! ابھی وعدہ نہیں کر سکتا! یونیورسٹی کے سیشن یکے بعد دیگرے ختم ہو رہے تھے۔روزانہ کچھ نیے بستر باندھے جاتے ۔لڑکیوں کو اب گھروں کو لوٹنا تھا۔ پرندوں کو اڑنا تھا نیے دانے کی تلاش میں۔
نورت کی پلکیں نم ہونے لگیں تھیں اس کو لگا سب لڑکیوں کی آنکھیں نم ہیں وہ بھی اپنے اپنے ھزیم پر صدقے واری جا رہی تھیں۔کہ وہ تو بہت اچھا سچا اور وفادار تھا۔انہی کے پاس وقت نہ تھا۔انکے گھر والوں نے سمجھا نہیں ورنہ خواب تو سارے سچےتھے۔ رامین کو ہر کام کی جلدی ہوتی تھی اس لیے
احمر سے چوٹ بھی سب سے پہلے کھا بیٹھی تھی۔اور اب اپنے تجربے کی روشنی میں سب کو دلاسے دیتی حقیقت دکھاتی تھی۔
۔رستے سب پیچھے کی سمت اور ٹرین آگے کی طرف رواں دواں تھی۔نورت. رامین کے الفاظ سنتی پلکیں پونچھتی باہر کی طرف پھیلی شام کو گھورتی تھی۔کچے پکے گھرشوگر ملیں، چھوٹے قصبے چھوٹے چھوٹے گاوں اور گنجان آباد بڑے شہر۔۔کہاں کہاں کے ٹوٹے دل گھروں کو لوٹ رہے تھے۔کوی خوابوں کے سہارے ،کوی وعدوں کے سہارے، کوی بے وفا کو پکارتا ،کوئی ٹوٹے دل کو سنبھالے ۔نوحہ شاید سب کا ایک تھا۔ ۔ ۔ ۔بے وفا! بے وفا! بس نام و عنوان جدا تھے۔
۔۔۔۔۔۔ مئی2016،ابوظہبی

این کام میں خود کو مصروف رکھتی مگر کبھی کبھی رات میں سونے سے پہلے اکیلے کمرے میں تکیے پر سر رکھے رونے لگتی۔اور کبھی کبھی تو رو رو پاگل ہو جاتی۔ھزیم جو اس سے بچھڑ گیا تھا۔یا اسے چھوڑ گیا تھا یا جسے وہ چھوڑ آی تھی۔اسے کچھ سمجھ نہ آتی کیا ہوا تھا۔بس سمجھ آتی تو اتناکہ وہ اسے بھول ہی نہ پای تھی۔سالہا سال گزار کر ،
نورت سے این بنکر،کچھہ نہ ہونے سے کچھ ہو کر بھی ،بتیس سال کی عمر میں مائگرین کی مسقل مریضہ بن کر بھی !زندگی میں کامیابیاں بڑھ رہی تھیں اور صحت گر رہی تھی۔ کل ہی ایک ڈاکٹر نےریگولر چیک اپ میں اسے بتایا تھا کہ اسکے دل کی عمر اسکے جسم کی عمر سے زیادہ ہے۔جسکی وجہ سے کولیسٹرول اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔اسے فرق نہ پڑا ۔ سنگینی کا اندازہ تب ہوا تھا جب اس نے اپنے برابر والوں کے دل کی عمر ان کے جسم سے آدھی دیکھی ۔ کیوں؟ ایک کامیاب نوکری، کامیابیاں، اعلی طرز زندگی، بہترین ماحول خوبصورت لوگ پھر کیا تھاجو اسکی صحت کو کھاے جاتا تھا۔ڈاکٹربھی نہ سمجھ سکا کہ کچھ دھڑکنیں روگ سے ہی رک جاتی ہیں۔انکے لیے شریانوں کے مسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔انسان کچھ راستے جدایوں کو جھیلتے گما بیٹھتا ہے۔کچھ منزلیں محبت سے کھوٹی ہو جاتی ہیں۔اسکے بھی بڑے چوڑے سےڈی اور بیگ میں کچھ دواییوں کی ڈبیاں رہنے لگی تھیں، ایک مایگرین کی ،دوسری بلڈ پریشر کی، تیسری اینٹی ڈیپریسنٹ۔۔۔۔سب کو اسکی زندگی کی کامیابیاِں اور رنگ دکھائی دیتے،ایک وہ خود تھی جسے زندگی میں صرف محرومی دکھای دیتی یا اس محرومی کے خلاف ہونے والی ہر وقت کی جنگ جھیلنی پڑتی۔اور جب جھیل جھیل تھک جاتی تو کبھی پھوٹ پھوٹ کر روپڑتی، کبھی سر جھٹک کر نکل جاتی۔وقت کی دھند میں گم کر ماضی بن جانے والے وہ قصے آج بھی زندہ تھے،آج بھی ماضی نہ بن سکے تھے۔سب جھوٹ کہتے تھے، بکواس کرتے تھے کہ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔وقت کے ساتھ تو اصل میں مرض بگڑ جاتا ہے ایسے کہ پھربچاو کے مرحلے بھی نہیں رہتے۔صرف دعا رہ جاتی ہے اور صبر!زندگی چلتی تھی۔۔کبھی گھڑ گھڑ…….. کبھی پھٹ پھٹ …..اور کبھی پنکچر ہو کر کھڑی ہو جاتی۔
این نے امارات میں بے حد خوبصورت زندگی دیکھ لی تھی دودھ کی طرح نکھرے چم چم کرتے لوگ، نفیس اور باکمال یورپی، عربی، ترکی ،شامی ،لبنانی، ایک سے بڑھ کر ایک وجیہہ ،ایک سے بڑھ کر ایک حسین اور ایک سے بڑھ کر ایک انداز! صاف ستھری شیشے جیسی عمارتوں میں چمکیلے بھڑکیلے سٹورز اور ان میں پھرتے گردن اکڑاے سر اٹھاے چلتی اجلی مہزب نواب کلاس! اتنے سالوں میں این نےزندگی کی نفیس تریں صورت دیکھ لیں تھی دنیا کے حسین ترین لوگوں سے ملی تھی ،زہین ترین دماغوں کے ساتھ کام کیا تھا ،قابل ترین لوگوں سے سیکھا تھا تو آہستہ آہستہ وہ سمجھنے لگی تھی کہ ھزیم اسے کیوں چھوڑ گیا تھا۔اسے بھی تو زندگی میں آ گے بڑھنا تھا۔وہ ایک چھوٹے شہر کی ڈپلومہ ہولڈر لڑکی سے شادی کرکے کیا کرتا۔جب اسکے سامنے برگیڈیرز اور جنرلز کی ڈاکٹر بیٹیوں کی دلربا آپشن موجود تھی تو وہ کیسے اس بیکار لڑکی کے بارے میں کچھ سوچتاجسکا کوی مستقبل نہ تھاجو خود ایک ٹوٹا تارہ تھی اسکی اییر فورس کی باوقار زندگی میں کیا سجتی۔اس سے بھی بڑا ستم یہ تھا کہ آج این کےسامنےدنیا کا بہترین سے بہتر موقع، بہتر سے بہتر مستقبل کی نوید ،وجیہہ سے بڑھ کر وجیہہ موجود تھا اور وہ اسی کھوے ہوے بے وفا کی یاد میں تڑپتی تھی۔خدا بھی کیسے کیسے مجبور دل دے دیتا ہے لوگوں کو ۔جو نہ اپنی مرضی سے چلتے ہیں نہ اپنے حکم پر رکتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔25اپریل 2003
نورت بھی اپنے شہر لوٹ آی تھی۔بڑے شہر کی بڑی درسگاہ سے چھوٹا ساعلم اور بڑے بڑے دکھ لے کر۔اپنی کمزور اور بے نام ہستی کا دکھ، بڑے شہر کے بڑے لوگوں کے دییے دکھ۔۔۔۔۔۔۔۔اور جسم وجاں سے لپٹے بہت سے سوال۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔کیا واقعی ھزیم مجھ سے جان چھڑا رہا ہے۔وہ دن میں کیی کیی بار خود سے پوچھتی۔دل چیختا! نہیں! نہیں! مگر دماغ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا رہتا! ساکت زدہ۔شعور کو شاید سکتہ ہو گیا تھا حواسوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔عقل کے سب گوشواروں میں موت سا سناٹا تھا۔اک دل ہی تھا جو اپنی دھن بجاتا جاتا
!نہیں! نہیں! نہیں!
مگر دل کے نہیں نہیں الاپنے سے ہوتا بھی کیا ہے۔
“تم ایسے کرو اسے کہو ہاں میں انتظار کرتی ہوں ۔”. رامین نے اسے مشورہ دیا تھا
“میں اسکے ساتھ جھوٹ کیوں بولوں جب میں کر ہی نہیں سکتی۔میری بات طے ہو گئ ہے۔”
“یہی بات ہے ناں! تم خود جتنا سچ بولتی ہو تمھیں لگتا ہے وہ بھی اتنا ہی سچا ہے۔مان لو میری بات نورت وہ جھوٹا ہے!!!!! وہ ایک نمبر کا جھوٹا اور دھوکے باز ہے۔تم آج اسکے فوجی ہونے کو اسکے کردار کی ضمانت سمجھتی ہو۔تمھیں کیا لگتا ہے وہاں جھوٹے اور غدار نہیں ہوتے۔تم آج میری بات نہیں مان رہیں ناں دیکھنا تم اسے ایک دن اتنی گالیاں نکالو گی جتنی آج تمھیں آتی بھی نہ ہونگی۔”
رامیں کو غصہ آ رہا تھا ۔اور وہ بولے جا رہی تھی۔تھوڑی دیر پہلے وہ رو رہی تھی اور نورت اسے چپ کروا کروا تھک گیی تھی اور اب وہ بولے جا رہی تھی اور اب نورت کے پاس کہنے کو کچھ نہ بچا تھا۔
دیکھ لیا ناں تم نے! احمر نے میرے ساتھ کیا کیا۔مجھے لگتا تھا وہ ایسے؟ میں نے سوچا تھا اسکے جیسا ہینڈسم قابل ڈاکٹر اندر سے ایسا پھٹیچر نکلے گا؟ اپنے گھر میں طوفان کھڑا کر دیا میں نے اسکے لیے اور وہ وہاں نیے تعلقات بناتا پھر رہا ہے۔کہتا ہے رامین تو صرف میری دوست تھی۔صرف دوست!……… تم بتاو ہمارے گھروں میں لڑکا اور لڑکی صرف دوست ہوتے ہیں؟۔اس شہر میں نہ سہی بڑے شہروں میں کتنے لوگ اس تعلق کو مانتے ہیں؟۔بتاو یہ ہے کوئی ہمارے معاشرے کا رشتہ! صرف دوست! دنیا جہان کی باتیں قسمیں، وعدے، خواب، ارادے اور آخر میں صرف دوست!!!
نورت کا سر جھکے جا رہا تھا۔ہاں کہاں ہوتے ہیں صرف دوست؟ صرف لڑکوں کی خوبصورت باتوں میں ۔لڑکیوں کی زندگی میں بھی کہاں ہوتی ہے گنجایش صرف دوست کی۔لڑکی اس قابل ہوتی ہی کہاں ہے کہ ایک کو دوست بنا لے، دوسرے سے پیار کر لے، تیسرے سے شادی کر لے! لڑکی کے سینے میں تو توحید کا بسیرا ہوتا ہے۔دل ایک ہی سے لگتا ہے اور جس سے لگتا ہے پھر وہی دوست ہوتا ہے وہی سگا، وہی محبوب وہی محرم سب کچھ وہی ہوتا ہے!کوی بول پڑھے یا نہیں ،کوی ولی بنے یا نہیں ،کوی ڈوپٹے باندھے یا نہیں پھر کچھ فرق نہیں پڑتا۔ایک تعلق صرف ایک تعلق ہوتا ہے لڑکی کے دل میں محبت کا۔اکیلا اور تنہا! یہ تو مردوں کی مہارتیں ہیں کہ کوی دوستیاں ہیں ،کچھ محبتیں، کچھ ہمسایاں، کچھ لٹو، کچھ غلطیاں ،کچھ دل لگیاں۔اور پھر آخر میں سب کو چھوڑ کر ایک بیوی۔نیک پروین ستی سوتری۔سات پردوں میں چھپی، دودھ میں دھلی۔ساری مارکیٹ چھان کر ایک بیوی ڈھونڈنے والا اس آس میں رہتا ہے کہ اسکی بیوی کبھی شوکیش میں نہیں سجی۔اسکی ونڈو شاپنگ نہیں ہوی۔نہ کبھی اسکے دل پر وحی اتری نہ الہام، نہ کسی کے قدم
۔ساری منزلیں سر کر کے آنے والا مرد اپنی بیوی کے چاند پر خود کو ہمیشہ پہلا قدم سمجھتا ہے۔
رامین چپ کرتی تو نورت کے اندر سے کوی بولنے لگتا۔آجکل یہی ہو رہا تھا اسکے ساتھ۔اسکے اندر ہر وقت کوی بولنے لگا تھا۔ہر وقت کوئی چیختا چلاتا رہتا تھا نہ جانے کیوں ۔وہ رامین کو بتا نہ پای کہ کہ ہاسٹل چھوڑنے سے پہلے حزیم سے کہہ بیٹھی تھی کہ ہاں میں انتظار کروں گی۔اور وہ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔اسی دن سے غیر حاضر تھا۔اسکا فون بند تھا اور ہاسٹل چھوڑنے تک کوی میسج کوی ای میل اسکی طرف سے نہ آیا تھا۔سب کچھ غایب تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ مئی 20،2003
فیصل آباد
ہاسٹل کساتھ نورت نے حزیم کو بھی چھوڑدیا تھا ہمیشہ کے لیے ،ای مل چیٹ رومز سب کے دروازےاپنی ذندگی پر ہمیشہ کے لیےبند کر دییے تھے اامگر وہ اپنے دل کے دروازوں سے اسے باہر نہ دھکیل سکی تھی بلکہ اب ہی تو اسے احساس ہوا تھا کسقدر اہم تھا حزیم اسکے لیے،اب ہی تو وہ جانی تھی کہ یہ تو محبت تھی جو دوستی کے بیچ آ گیی تھی۔جب ساری ساری رات لیٹی تکیہ بھگوتی رہتی تو اس نے جانا تھا اس نے تو عشق کیا تھا حزیم سے۔
اور یہ عشق اس پر تب آشکار ہوا تھا جب وہ حزیم کو مکمل طور پر کھو چکی تھی۔
اسکے باوجود ہر روز خود کو یاد کرواتی تھی کہ وہ دھوکہ فریب تھا۔ آ(ج بھی روز کی طرح ٹیرس پر ٹہلنے کی کوشش کرتے دماغ میں جاری شور شرابے نے پاوں جکڑ لیے تھے. دل کی الجھنوں نےقدموں سے طاقت چھین لی تو وہ وہیں ٹیرس پر رکھی کرسیوں پر ڈھے سی گیی تھی.
وہ مجھ سے ایسا کیسے کر سکتا ہے؟
نورت کے سارے حواسوں کے گرد یہ سوال بھوت بنکر چکرا رہا تھا.. اس اذیت سے نکلا ہی نہ جاتا تھا اس سے).سال بھر کے سب ویک اینڈ انہوں نے رات رات بھر ساتھ جاگ کر گزارے تھے۔انٹرنیٹ کے تیز ترین دور میں اتنے لمبے لمبے لمبے خط لکھتے اور پڑھتے تھے. کتنے ہی خوشی کے لمحے اور ازیتوں کے کرب انہوں نے مل بانٹ کر سہے تھے.
حزیم نے ااسے ،سر ٹھا کر جینا سکھایاتھا ٬ ذندگی سے پیار کرنا سکھا کر آخر میں اس بے دردی سے پھینک دیا تھا کہ وہ پہلے سے بھی ذیادہ بکھر گئ. نورت نے حزیم کی بیساکھی پر کھڑے ہونا سیسکھا تھا اور اسکے چھنتے ہی پھر سے اپاہج ہو گیی تھی۔
حزیم… حزیم……… حزیم…اس نام کی کتنی عادت تھی ااسے، رامین سن سن تھک جاتی تھی وہ بول بول کر کبھی نہ تھکی تھی۔ دل کی دھڑکن کے ساتھ ایک نام کی صدا آتی تھی وہ نام جو اسکے لیے زندگی کے کچھ لمحوں کو پکڑ نہیں سکتا تھا. کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے آسماں کے ستاروں کی طرف نظرٹکاے نورت کی آنکھوں میں نمی پھیلتی جاتی تھی۔ اتنا خیال تو اس نے نے کبھی خود اپنا نہیں کیا تھا جتنا وہ پاروو کا کرتی رہی تھی. ہاں پاروو ہی تو کہتی تھی وہ حزیم کو.
“یہہ پاروو کیا ہوتا ہے؟ اب لڑکیوں والے نک نیم تو نہ دو مجھے”!حزیم کو بھی اعتراض ہوا تھا.
“یہ پارو نہیں پاروو ہے. چھوٹے چھوٹے بچوں کو پیار سے کہا جاتا ہے”
“کون کہتا ہے؟. میں نے تو کبھی نہیں سنا! ”
“میں کہتی ہوں بیبیز کو پیار سے! پاروو مینس بہت سارے پیارے! ”
اچھا میں تم کو بہت سارا پیارا لگتا ہوں “”
“نہیں تم مجھے بہت سارے بچے لگتے ہو! معصوم سے!پیارے سے! بھولے سے پاروو سے”!!!!!!

“ Friendship is a bridge
b/w you &me

when u r sad & lonely
cross it, I’ll wait
on the other side 4ever,
if you are afraid
just tell me…..
I will cross it 4 U!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھزیم نے ایک بار ٹیکسٹ بھیجا تھااور وہ کتنے دنوں تک اسے پڑھتی رہی تھی۔بار بار، کئی بار! اس نے ہر کاپی اور ہر کتاب میں یہ چند لاینیں لکھ رکھی تھیں۔پر نہ جانے کیا تاثیر تھی ان لفظوں میں کہ ہزاروں بار پڑھ اور لکھ کربھی اسکی شیرینی ختم نہ ہوئی تھی۔ گھر میں اسکی شادی کی تیاری ہو رہی تھی اور وہ یہاں سب سے بے نیاز بیٹھی گیلی آنکھوں سے نجانے کس سے باتیں کر رہی تھی۔!!!!!
۔۔۔
۔۔۔۔ 2003،نومبر ۔۔۔۔
پھر آخر تھک ہار کر نورت نے شادی سے انکار کر دیا۔حزیم کے چھوڑ جانے نے اسے جھنجوڑ دیا تھا۔وہ رو رو بکھر بکھر اور ٹوٹ ٹوٹ کر تھک گیی تھی۔۔وہ اسے کچرہ سمجھ کر منہ موڑ گیا تھا اور اپنا کچرہ سا وجود اب نورت سے دیکھا نہ جاتا تھا
اس بار اس نے کسی بیساکھی کا سہارا لینے سے انکار ر دیا ۔وہ اس دنیا سے دور چلے جانا چاہتی تھی جہاں وہ جی نہ پاتی۔وہ خود کو کچھ بنا لینا چاہتی تھی اس سے پہلے کہ وہ مکمل طور پر خود کو گنوا بیٹھے ۔ طے شدہ شادی سے انکار کر کے وہ نوکری کی تلاش میں جت گئ تھی۔رامین کے ساتھ وہ بھی دبیی میں کوی بھی چھوٹی موٹی نوکری ڈھونڈنے لگی تھی اور رامین سے پہلے اسے ابوظہبی کے ایک چھوٹے سے سٹوڈیوسے فوٹوگرافر کی نوکری کی آفر آ گئی تھی جسے اس نے فورا قبول کرلیا۔ ابو کے سمجھانے کے باوجود وہ اس ضد پر اڑ گئی تھی۔اسے شادی نہیں نوکری کرنی تھی اور وہ بھی سمندر پار۔
آخر انہوں نے بھی نورت کی مرضی پر سر جھکا دیا تھا۔کون جانے اسکی کوشش اسکی ذندگی کو پھر سے مکمل کر سکیں۔شادی سے نہ صحیح،نوکری سے صحیح۔
۔کچھ ہی دنوں میں نورت نے دوبیی کی طرف رخت سفر باندھا تھا۔وہ چھوٹے سی سٹوڈیو کی نوکری اس نے قبول کر لی۔ تین ہزار درہم فی ماہ اسے بہت مناسب لگا تھا۔اگرچہ کیی نے سمجھایا تھا کہ ابوظہبی جیسے مہنگے شہر میں تین ہزار سے کچھ نہیں ہوتا۔مگر نورت کو فکر نہ تھی۔وہ اس دنیا سے بہت دور چلے جانا چاہتی تھی۔اسکا بس چلتا تو جہاز پکڑ کر ساتویں آسمان پر چلے جاتی جہاں ھزیم کا لہجہ۔اسکی یاد اور اسکے دییے ہوے دکھ اسکے تعاقب میں نہ آ سکتے۔جہان وہ اس دنیا سے اتنی دور ہو کہ وہ پکرنا چاہے تو پکڑ نہ سکے وہ مڑ کر دیکھنا چاہے تو مڑ نہ سکے یہ تو پھر ابوظہبی تھا۔ ۔اس سے ھزیم چھن گیا تھا یہ ایک دکھ تھا۔ھزیم اسے بیکار سمجھ کر چھوڑ گیا تھا یہ دوسرا دکھ تھا۔وہ اسے بھول نہیں پا رہی تھی یہ تیسرا دکھ تھا۔دکھ سے دکھ تھے ۔اسے بھی وہم تھا کہ فاصلے محبت کو مٹا دیتے ہیں۔کچھ وقت ڈھل جاے تو عشق کا بھوت سر سے اتر جاتا ہے۔اسے بھی لگتا تھا کہ کچھ وقت گزر جاے تو سارا ماضی دفن ہو جاتا ہے۔یہی تو وہ خوش گماں فقرے تھے جن پر بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی یقین کر بیٹھی تھی اور اب ماضی کو دفن کرنے کے درپے تھی۔اپنے آپ سے بھاگ کر کہیں دور چلے جانا چاہتی تھی ۔اسے کسی نے نہ بتایا تھا کہ ماضی بھی کبھی مرتا ہے بھلا۔دس سال پرانا خون جون بدل بدل کر آپکے جسم میں طواف کرتا رہتا ہے۔ایک ہی سالوں پرانا دل زندگی کی آخیر تک چلتا ہے۔صدیوں کی تھکی آنکھیں آج بھی جاگتی اور سوتی ہیں۔تو دس سالہ پرانا وقت غایب کیسے ہو سکتا ہے۔وہ انسانی جسم میں ایک لازمی حصے کی طرح رہتا ہےخون کے ساتھ رنگ بدلتا ہے نبض کے ساتھ چلتا ہے دھڑکن میں دھڑکتا رہتا ہے۔انکھوں کی پلکوں پر بسیرا کیے ہمیشہ جاگتا رہتا ہے۔کبھی درد شقیقہ کی صورت، کبھی مرض قلب ہو کر ۔انسانوں کو بیماریاں نہیں شاید انکے ماضی لگ جاتے ہیں جو ہڈیاں تک بھربھری کر کے دماغوں کو بوڑھا کر دیتے ہیں۔ چلتے چلتے جب انسان کے گھٹنے بجتے ہیں تو ان میں انکا ماضی گونجتا ہے۔بیتے موسموں کی دھوپ ہی تھی جو بال اڑا جاتی ہے۔۔جو ہونٹوں کی تازگی اور سرخی کو سیاہی اور خشکی میں بدل دیتی ہے۔جو جھکی ہوی پلکوں کے نیچے بھی ڈھیروں ڈھیر شکنیں انڈیل دیتی ہے اور ہر شکن ایک نئی کہانی سے بندھی ہوتی ہے۔
ابوظہبی2016 ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابوظہبی
۔….. بارہ سال پہلے تین ہزار سے ایک چھوٹے سے سٹوڈیو سے ملازمت کا آغاز کرنے والی نورت کمال ۔آج ابوظہبی سکای ٹی وی کی اسسٹنٹ پروڈیوسر اور سینماٹوگرافر تھی۔شروع کے کچھ سال نورت نے صرف زندگی گزاری تھی اسے جیا نہ تھا۔چند انڈین مسلمان اور ہندو لڑکیوں کےساتھ اس نے ایک تھری بیڈ روم اپارٹمنٹ شییر کیا تھا جسمیں ایک ایک کمرے میں تین تین لڑکیاں تھیں سب نے زمین پر گدے پھینک کر بیڈ کا انتظام کر لیا تھا۔۔باقی انڈین لڑکیوں کی طرح اس نے بھی دو جینز جیگنگ کے ساتھ تین چار لانگ شرٹس اور دو تین سکارف لے لیے تھے جو دو سال تک چلتے رہتے۔ایک سستی برانڈ کا بیگ اور ایک اچھے سپورٹس شوز جو دو سال تک آرام سے چلتے۔بنیادی خرچے نکال کر باقی سب پیسے اس نے خود پر انویسٹ کر لیے تھے۔ایڈکس،کورسریا اور ایم آی ٹی کے آن لاین کورسز کے علاوہ اس نے نیویارک یونیورسٹی سے ریگولر ڈپلومے اور کورسز کیے تھے
تجربہ بڑھتے بڑھتے ، کورسز اور ڈپلوما زکی تعداد میں اضافہ کرتے اور چھوٹی سے بڑی اور بڑی سے بڑی ملازمت بدلتے آج وہ یہاں تک پہنچ گیی تھی۔بتیس سال کی عمر میں پچیس ہزار کی تنخواہ اور بہت سی اضافی سہولیات لینے لگی تھی۔ھزیم کے بعد اسکا دل صرف کیمرے سے لگا تھا۔وہ کام ختم کر کے نکلتی تو ہاتھ میں کیمرہ لے کر نکلتی۔آتے جاتے چلتے پھرتے بھی تصویریں اور وڈیوز بناتی۔ابوظہبی کے آسمان بہت بڑے اور وسیع تھے ۔شہر کے بیچوں بیچ اگر جدید ذندگی اپنے جوبن پر تھی تو شہر سے باہر کے علاقے وسیع تر اور کھلے آسمانوں سے ڈھکے تھے جن پر سورج کے ڈوبنے اور نکلنے کا نظارہ خوب سجتا تھا اور جب کبھی کچھ بادلوں کے بکھرے پر آسماں پہ ادھر ادھر پھیل جاتے تو سورج کی کرنوں کا رنگ ڈھنگ اور آسمان کی رنگت تک ذندگی کی رومانویت سے بھر جاتی۔تب نورت کیمرا لیے شہر کی ہر نکڑ،ہر ساحل ہر بیچ کے کنارے پھرتی اور فطرت کے ابوظہبی کے آسمانوں کے ساتھ کے اس معاشقے کا ہر رنگ اپنی مٹھی میں پکڑنے کی کوشش کرتی۔اس شہر میں اسکا دلپسند گلاب صرف مہنگے ہوٹلز کی ریسپشنس پر ملتا تھا یا پھولوں کی دکانوں پر ،مگر وہ اب گلابوں کی پرواہ ہی کب کرتی تھی۔اسکی ذندگی کی بہاریں اسے کب سے چھوڑ کر جا چکی تھیں ۔ذندگی میں میسر بے خوشبو کے پھولوں سے دل لگانا اس نے سیکھ لیا تھا۔ابوظہبی سمیت عرب امارات کا ہر رنگ اسکی اپنی لائبریری میں،اپنی فائلوں میں محفوظ تھا جن میں سے بیشتر اگر اس نے چینل کے لیے بنایا تھا تو بے تحاشا صرف اپنے لیے،اپنا دل بہلانے کے لیے بھی بنایا تھا۔
فوٹو بنانے سے لیکر ایڈٹ کرنا، لایٹ روم کا استعمال کرنا، بے رنگ تصویروں میں رنگ بھرنا، بدصور ت کو خوبصورت اور حسین کو دلنشین کرنا، اس نے سب شعبوں میں کام کیا تھا ۔پورٹریٹ، کینڈڈ، سٹلز۔بلیک اینڈ وایٹ، لانگ ایکسپوثر ویڈنگ اور ایونٹس، فنگشنز، وڈیوگرافی، سینماٹوگرافی غرضیکہ ہر شعبے کی مہارت اور پریکٹیس کر چکی تھی۔
میڈیکل کی زندگی تقدیر نے اسکی زندگی سے کھینچ کر نکالی تھی۔اگر تقدیر یہ چال نہ چلتی تو آج وہ رنگوں اور روشنیوں سے کھیلنے کی بجاے مریضوں اور بیماریوں میں گھری رہتی۔شاید آج کا حال اس وقت سے بہتر تھا شاید اسے رنگوں اور تصویروں سے ہی کھیلنا تھا نجانے کس نے اسکی انگلی پکڑ کر اسے ڈاکٹری کے رستے پر ڈال دیا تھا، ایک ایسا رستہ پر جو اسکا نہ تھا محض اس لیے کہ اس نوکری کا شملہ اونچا تھا مگر وہ شملہ یقینا اسکے سر کے لیے نہ تھا۔وہ جان گئی تھی کہ اسکی اڑان بس یہیں تک تھی۔اسکا مقدر بس یہی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سکای عریبیہ میں نوکری کے بعد پہلی بار نورت نے رہایش بدلی تھی۔۔اس نیی ملازمت کے ساتھ اسے اچھی تنخواہ کے ساتھ بہت سے الاونسز بھی ملے تھے جن میں سے ایک اسکی اکاموڈیشن کا الاونس بھی تھا۔اتنے سالوں میں پہلی بار پرانا سستا شییرنگ کمرہ چھوڑ کر اس نے اتحاد ٹاورز میں ایک مہنگا ٹو بیڈروم فلیٹ لیا تھا ۔ جسکے ایک کمرے میں محض اس نے اپنا جدید سٹوڈیو سیٹ کیا تھا جس میں وہ اپنا اہم آفس ورک بھی مکمل کرتی اور اپنے یوٹیوب چینل کے لیے وڈیوز اور ویلاگ بھی بناتی۔شہر کی ہر کلی،ہر دھوپ ہر بارش ہر خزاں کا فوٹو اسکے پاس محفوظ تھا۔اور انہیں فوٹوذ اور وڈیوذ کو جوڑ کر وہ اپنے ویلاگ میں استعمال کرنے لگی تھی۔اپنا چینل وہ ابوعظہبی کے شکرانے کے طور پر چلا رہی تھی۔اس شہر نے اسکے آنسو پونچھے تھے اسے سینے سے لگایا تھا،اسے کھڑے ہونے کا اور جینے کا آسرہ دیا تھا وہ اس شہر کے احسانوں تلے دبی تھی اور اس شہر کی خوبصورتی ساری دنیا کو دکھا کر اپنا کچھ قرض لوٹانا چاہتی تھی۔ جب سٹوڈیو کے کام سے تھک جاتی تو ۔۔شہر کے بیچوں بیچ سمندر کے کنارے امارات کے محل کی طرف کی طرف جھانکتے ڈیک پر رکھے کاوچ پر بیٹھتی اور اسے محل کی روشنیاں دور دور تک رنگ برنگی دنیا بساے نظر آتیں ،اسے لوریاں سناتی گزرے وقت کی حکایتیں بھلا کر روشنیوں کی طرف لانے کا جتن کرتیں۔۔وقت بہت کچھ بدلاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان تیرا سال میں کتنی بار اس نے کمزور لمحوں میں چپکے چپکے حزیم کو فیس بک ،انسٹاگرام یا ٹویٹر پر ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔
کیسی عجیب بات تھی نورت کے پاس ایک نمبر کے سوا حزیم کا کوئی ایڈریس نہ تھا نمبر ااسکی انا ملانے نہ دیتی اور سوشل میڈیا پروہ ملتا نہ تھا!سوشل میڈیا پر انساں کم سے کم نظر میں آنے بغیر کسی کو بھی دیکھ سکتا تھا۔ ۔حزیم کے پاس تو اس نے ایک نمبر تک نہ چھوڑا تھا اپنا۔کوی بلانا چاہے بھی تو کیا کرے ،کوی سر راہ بھی ملے تو کیسے!کبھی کبھی وہ اسکی ایک جھلک ، کوی خط ،کوی ایمیل دیکھنے کو ترس جاتی ۔ اپنی فون سم تو وہ ہاسٹل چھوڑنے کے کچھ ہی دن بعد توڑ کر پھینک چکی تھی۔اور اسکے خط ،کارڈز اسکی میلزتک اس نے کچھ نہیں سنبھالا تھا،رفتہ رفتہ ہر چیز جلا اور مٹا دی تھی۔یہ سوچ کر کہ اسکے ساتھ اسکی یاد اور یہ ادھوری محبت بھی جل جاے گی جو تسلیم نہ کی گیی تھی ،جو اسکی زبان پر نہ آ سکی تھی ۔مگر ایسا نہ ہو سکا تھا۔پچھلے کتنے سالوں سے اس نے تیس مارچ، چودہ اگست، چھ ستمبر کے نغمے تک نہ سنے تھےسب جھنڈوں کی ڈیپیاں لگاتے ،والز کو ملی ترانوں سے بھر دیتے تو وہ سوشل میڈیا سے غایب ہو جاتی۔وہ حزیم کے کس کس حوالے سے جان چھڑاتی۔اسکی دوستی کو بھولتی تو وہ ملی نغموں اور فوجی ترانوں سے چھلکنے لگتا۔حزیم کے ساتھ ہی نورت نے حب الوطنی کو بھی خیر آباد کہہ دیا تھا۔محبت ایسے ہی لے جاتی ہے اپنے ساتھ نجانے کیا کچھ سمیٹ کر۔اسکا بھی بہت کچھ چلا گیا تھا۔اسکے ہاتھوں سے بہت سے خواب چھوٹے تھے ۔زندگی نے اس سے بہت کچھ کھویا تھا تو اسکی جھولی میں بہت کچھ بھرا بھی تھا۔۔۔مشکل بہت تھی زندگی مگر اب بدل گیی تھی۔مگر ھزیم کا روگ آج بھی دل کی کسی تہہ میں چھپا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنے ہی سال وہ اس دکھ کو اپنے اندر سنبھالے بیٹھی رہی تھی مگر اب یہ رامین کے کہے کا اثر تھا یا منیب نے اسقدر جھنجھوڑ دیا تھا کہ وہ ایک بار پھر زندگی کے اک کمزور ترین لمحے کی زد میں آ گئ تھی۔ ۔آج وہ اسقدر کمزور تھی کہ جیسے اسے خود پر اختیار ہی نہ رہا تھا۔سب کچھ بھلا کر اس نے واٹس اپ پر ھزیم کا نمبر شامل کیا تھا۔ ۔اتنے سال اس خوش فہمی میں رہ کر کہ نمبر بھی وہ اسکے مالک کی طرح بھول چکی ہے،آج اچانک اسے ادراک ہوا کہ نمبر تو آج بھی اسکی یاداشت میں اسی طرح زندہ وجاوید ہےاور دہای بعد بھی اسکے لبوں سے بغیر غلطی کے برآمد ہو سکتا ہے۔اتنا عرصہ وہ خود کو یہ سمجھاتی رہی تھی کہ وہ یہ نمبر اپنی یاداشت کے ہر خانے سے کھرچ کر نکال چکی ہے۔سٹور میں کباڑ سمجھ کر پھینکی جانے والی ہر چیز کباڑ نہیں ہوتی۔جسے کوئی بھی بہت آسانی سے جب چاہے نکال کر باہر پھینک سکتا ہے۔یاداشت کی کچھ چیزیں اپنے ہاتھوں سے کیے گیے مضبوط پلستر کی طرح ہوتی ہیں جب تک عمارت قایم ہے تب تک زندہ رہتی ہیں۔ ہای بھیجنے سے پہلے این نے اپنی ڈیپی پر اپنا نام لگایا تھا۔
یہ جرات کرتے این کے دل کے کسی کونے میں یہ خدشہ چھپا تھا کہ اب یہ نمبر کہاں حزیم کے پاس ہو گا، نجانے کس کے پاس ہو ،ہو بھی کہ نہیں ۔اس نے بند آنکھوں سے ہوا میں تیر چلایا تھا جسکے نشانہ پر لگنے کی خواہش تھی تو ساتھ ہی یہ یقین بھی کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے دل کی کچھ دھڑکنیں رک گییں جب میسج کا جوابی ہای آیا تھا۔تو کیا وہ نمبر ابھی تک ھزیم کے پاس تھا ۔حزیم کی ڈیپی میں
ایک فائٹر ائیر کافٹ چمک رہا تھا. اتنے سالوں بعد بھی کیا وہ صرف ایک میسج کے فاصلے پر تھا؟ محض ایک میسج کے فاصلے پر؟؟؟؟ فاصلے شاید سارے جزبوں اور خیالوں میں ہوتے ہیں۔انساں خود اپنے ارادوں کے سامنے سرنگوں ہو جاے تو زمانے جتنے فاصلے بھی منٹوں میں پار ہو جاتے ہیں۔
۔”کون؟ “این نے دوسرا پیغام بھیجا تھا
“تم جانتی ہو!” ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔جواب حاضر تھا۔
“ھزیم۔۔۔۔۔”این کے سارے حواس بیدار ہوے تھے۔ دو الفاظ نے جیسے اسےچونکا دیا تھا۔تیرا سال تک دنیا کے تماشوں میں گم ہو جانے کے بعد اچانک ایک دن ایک پیغام سے ہی ھزیم اسے پہچان لیتا ہے ۔ایک ہی سیکنڈ میں ۔ایک ہی لمحے میں کتنی ہی گماں اسے چھیڑتے ہوے گزر گیے۔کیا وہ بھی۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
“کہاں تھیں تم اتنے عرصہ؟ ”
“زندگی بنانے میں مگن تھی۔۔۔”اک تھکے ہوے سوال کا اسکے پاس تھکا ہوا ہی جواب تھا۔
“تو پھر بنا لی زندگی؟۔
اسکا دل چاہا کہ کہہ دے نہیں بگاڑ بیٹھی ہوں۔اونچے اتحاد ٹاورز سی زندگی کھڑی کر کے اسکے اندر خاموش زینوں کی طرح تنہا ہوں ۔مگروہ کہہ نہ سکی تھی۔
“ہاں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بنا لی! ”
ایک بار پھر شروع ہونے والا سلسلہ ساری رات چلتا رہا.تیراسال بعد ایک رات پھر وہ دونوں ساری رات جاگتے رہے ۔کبھی ہنستے کبھی مسکراتے،کبھی بھیگی پلکیں پونجھتے۔۔۔۔۔۔ بیتے دنوں کی یاد میں ساری رات بھیگ گیی۔بس نہ پوچھ سکی تو یہ نہ پوچھ سکی “گھنٹوں میرے ساتھ گپ شپ کر سسکتے ہوتو وہ کونسی کمی تھی جس نے تمھارے ساتھ کےلئے بے کار کر دیا تھا مجھے ”
“پتا ہے یہ وقت اعتراف کروانے کا ہوتا ہے”
ھزیم نے آدھی رات میں نیند سے بھری آواز میں کہا تھا۔
“کیسا اعتراف۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔”
“جب قیدیوں کو نیند آرہی ہو تو تب ان سے اعتراف کرواے جاتے ہیں تم کو بھی کوی اعتراف کروانا ہے مجھ سے تو کروا لو۔”
“جب کروانے کا وقت تھا تب تو کروا نہ سکی اب کیا کرواوں گی”۔

بات کچھ کہے بغیر ہی بدل گیی تھی۔این بھی پوچھنا تو چاہتی تھی مگر اپنی بچا کر رکھی عزت کھو جانے سے ڈرتی تھی۔کیسے کہہ دیتی کہ کہ اسکے چھوڑ جانے نے کتنی شدت سے دل مسل دیا تھا اسکا٬ اسکی ایک حرکت نے کیسے اسے صفر کر دیا تھا۔
کیسے اسکے بغیر اک اک پل دوبھر ہوا ہے اسکا۔کیسے کہتی جسے وہ بہت غرور سے چھوڑ کر آی تھی اسکے عشق کی آگ میں سالوں سے جل رہی ہے۔وہ رشتہ جو دوستی کے نام سے شروع ہوا اور دوستی پرہی ختم ہو گیا تھا۔بس خبر یہ نہ ہوی تھی کب جسم و جاں میں آگ جلنے لگی تھی۔کب اسکا خیال دن رات کی حدوں میں پھیل گیا تھا اور خموش زباں اسکے تصور سے محو گفتگو ہونے لگی تھی۔جب رات سونے سے پہلے وہ ھزیم کے لہجے اسکی آواز کو ترستی تو خبر ہوی تھی کہ اسکا کیا کچھ لٹ گیا تھا۔۔

oh I kept the first for another day!
yet knowing how way leads on to way
I doubted if I should ever come back

اسے لگتا تھا وہ کبھی لوٹ کر نہ آے گی۔مگرو ہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ساری عمر اسی نکڑ کو چھوڑ نہ پاے گی۔
ھزیم شادی کر چکا تھا اسکا ایک بچہ بھی تھا۔یہ بھی ھزیم نے ہی بتایا تھا اس رات اور نورت نے ابتک شادی نہیں کی وہ سنکر حیران ہوا تھا۔
“تم نے تو کہا تھا تمھاری شادی ہو رہی ہے؟؟؟؟
نہیں کی!””
“…کیوں؟”
“۔بس ۔۔۔دل نہیں چاہا”
“کیوں نہیں چاہا؟”
“بہت سے کام تھے زندگی کے جنکو کرنا تھا۔بہت کچھ کھو چکی تھی جسے دوبارہ حاصل کرنا تھا۔”
مثلا۔۔۔۔۔۔۔ کیا؟ ”
” سارے کام ہی پڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی زندگی میں کیا ہی کیا تھا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے پاکستان کب آنا ہے؟

کیوں؟
جب اآو گی مجھ سے ملنا!
تم ملنا چاہتے ہو مجھ سے؟؟
ہاں۔۔۔۔۔زندگی میں ایک بار میں ضرور تم سے ملنا چاہتا ہوں ”
حزیم نے کہا تھا اور نورت کو مشکل میں ڈال دیا تھ ایک بار۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ایک بار۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ زندگی جیسے اسی ایک بار پر ٹھر گیی تھی۔حزیم نے ایک بار زندگی بھر کے لیے کہا تھا شاید اور اسکے لیے آج ابھی اور اسی وقت ہو گیا تھا۔وہ اس ایک بار کے انتظار کی سولی پر لٹک گیی تھی۔دنیا کا سارا نظام رک گیا تھا جو جہاں کھڑا تھا وہیں پتھر کا ہو گیا تھا۔سارے لمحات اس ایک بار کے منتظر ہاتھ باندھے کھڑے ہو گیے تھے۔نہ ابوظہبی کی خوبصورت صبحیں خوشگوار رہیں نہ لمبی حسین شامیں ہی حسیں رہیں۔کام کی طرف سے دھیان بگڑنے لگا۔دیسک ٹاپ سے کچھ دیر کو نظر پھیرتی تو گھنٹے بھر کے لیے نجانے کہاں غایب ہو جاتی۔کافی بنانے کھڑی ہوتی تو کافی کپ میں بھر کے پڑے پڑے ٹھنڈی ہو جاتی وہ اسے اٹھانا بھول جاتی۔ایسا ہمیشہ ہوتا تھا مگر آجکل تو حد ہو گیی تھی۔ہاتھ میں پکڑی چیزیں نجانے کہاں رکھ کر پھر سارے آفس میں ایک ایک میز پر ڈھونڈتی پھرتی ۔خود ایک طرف چلتی دل دوسری طرف بھاگتا۔ ۔ایک بار۔۔۔۔ایک بار۔۔۔اسے ھزیم کا ایک بار لڑ گیا تھا۔کیسے کہے اس سے کہ آ جاو پلیز! یا یہ کہ خدا کے لیے مل لو مجھ سے ایک بار۔۔۔۔۔۔ایک بار مجھے اپنی صورت دکھا جاو وہ صورت جو کبھی اسکے سامنے نہیں رہی مگر جس نے کبھی اسے تنہا نہیں کیا۔وہ الفاظ وہ لہجہ وہ تاثرات جس میں وہ کاغزوں پر ای میل پر یا فون پر گھنٹوں کھوی رہتی تھی جنکا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اسکی سماعتیں اور بصارتیں تھک چکی ہیں ۔کبھی اسے اپنے سامنے زندہ و جاوید دیکھ سکے۔وہ بولے تو کیسا لگتا ہے۔وہ ٹھرے تو کیسا دکھتا ہے، اسکے ہاتھ کی گرفت میں کسقدر زندگی بہتی ہے ،اسکے لمس میں کتنی جنتیں سوتی ہیں۔اسکا وجود جو دس سالوں سے اسکےاندر بن دیکھے بن چھوے زندہ ہے اس میں کونسا جادو ہے جس کا نورت کے پاس کوی کاٹ ہی نہیں ۔
اور کبھی اپنے آپ سے ہی باغی ہو کر ہتھے سے اکھڑ جاتی۔سوچتی حزیم کو منع کر دوں اسے مجھ سے نہیں ملنا چاہیے۔وہ شادی شدہ ہے گھر۔۔۔۔زمہ داریاں۔۔۔فرایض۔۔۔۔۔۔۔۔مگر پھر بے بس ہو جاتی۔یہی زندگی کا اک پل۔۔۔۔اگر پھر دوبارہ نہ آیاتو۔۔۔۔تو کیا جی لے گی۔اب تک جتنا جیا وہی کیا اسان تھا کہ وہ آگے بھی زندگی سے مشکلات ہی چنننا چاہتی تھی۔کون جانے پھر اس جنم میں یہ اک پل دوبارہ ملے کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔اگر اس سے مل لیا تو۔۔۔۔۔۔کیسے جی پاوں گی۔اس سے ملکر بچھڑ جانا تو عزاب سے بڑھ کر عزاب ہو گا۔۔۔۔اور وہ گھر بار۔۔بیوی بچوں والا حزیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں میرے پاس ٹھر سکے گا، کہاں میرا ہو سکے گا۔!!!!!!!

۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے کیوں چھوڑ دیا تھا مجھے؟ ”
کس نے سوچا تھا کچھ ہی دنوں میں حزیم اس تک پہنچ کر ااسکے سامنے بیٹھا ہو گا۔
ھزیم محض کچھ ہاتھ بھر کے فاصلے پر، نورت کے چہرے پر ٹکٹکی لگا کر دیکھتاتھا۔زندگی میں پہلی بار وہ اسطرح آمنے سامنے بیٹھے تھے۔اسقدر قریب تھے کہ ایک دوسرے کو چھو سکتے تھے ہاتھ لگا کر محسوس کر سکتے تھے کہ یہ خواب تو نہیں۔انکے وجود کو تسلیم کر سکتے تھے۔جب حزیم کے لفظوں نے اسکے جسم سے روح نکال دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بتاو نور۔۔۔!۔

وہ اس پر نظریں گاڑھے جواب کا منتظر تھا۔اور نورت ۔۔۔۔۔۔۔جیسے ایک ہی لمحے میں چٹان سے کنکر، پتھر سے ریت بن گیی تھی۔۔۔۔ا
اتنی ہی کمزور تھی کیا وہ؟ وہ جو اتنے سال سے خود کو ایک چٹان کی مانند مضبوط کیے ہوے تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں نے؟….رستے تو سب تم نے بند کر دییے تھے۔””
ہمیشہ کی طرح جواب آج بھی لب تک کم کم ہی پہنچا تھا۔
“میں تمھیں اتنے سال سے ڈھونڈ رہا ہوں نور۔میرا موبایل پکڑا گیا تھا جب تک ہمیں واپس ملے تمھارا نمبر آف ہو چکا تھا اور وہ آجتک آن نہیں ہوا۔تم نے اتنی جلدی کی مجھے چھوڑنے کی ۔مجھے کیا پتا تھا تم دو ہی دن میں مجھ سے اسقدر متنفر ہو جاو گی۔اس ایک نمبر کے علاوہ اور ہاسٹل کے ایڈریس کے سواتمھارا کوی بھی ایڈریس نہیں تھا میرے پاس۔ہاسٹل سے تم جا چکی تھیں۔کوی رابطہ٬ کوی نمبر کچھ نہ چھوڑاتم نے میرے پاس؟میں نے کتنے ای میل کیے تم نے کبھی کوئی جواب نہ دیا۔ کیا
کرتا میں؟تمھیں کہاں سے ڈھونڈتا؟ تم نے وعدہ لیا تھا تو کچھ اعتبار تو کیا ہوتا! سوچا بھی نہیں کہ تمھارے بغیر کیا کروں گا میں؟”

“اسکا مطلب ہے وہ جان چھڑا رہا ہے! “”””
نورت کے دھیان میں رامین کے فقرے گونجے تھے۔اور ساتھ ہی اسکے سر پر جیسے پہاڑ ٹوٹے تھے۔ کاندھے پر رکھے وزنی تیرا سال جیسے ایک بے گناہ کی سزا لگی تھی۔تو کیا وہ سب جھوٹ اور وہم تھا جو رامین اسے سمجھاتی رہی تھی۔تو کیا اسکے گماں سچے اور رامین کے جھوٹے تھے۔تو کیا وہ سب کے سب جنکے پیچھے وہ ایک لمبی قید تنہائی اور جدای کاٹ چکی تھی سب کے سب وہمے اور بدگمانیاں تھیں۔
“تم۔۔۔تم نے تو کہا تھا وعدہ نہیں کر سکتا!”
“یہ بھی تو کہا تھا اگر تم انتظار کرو گی تو پکا وعدہ کرتا ہوں۔اور تم نے کہا تھا انتظار کروں گی!”
مگر میرا آخری دن تھا اور تم غائب ہو گیے تھے۔”
“نور تم کو چھوڑ کر میں کہاں جا سکتا تھا!گم گیا تھا مر تو نہیں گیا تھا۔”

“میں نے کبھی تم سے جھوٹ نہیں بولا نور۔نہ کل نہ آج
تم بتاو پورا سال کوی بات کبھی تم سے جھوٹ کہی ہو۔ پھر بھی تم نے مجھ پر اعتماد نہیں کیا۔
تمھیں کتنا ڈھوندا فیس بک’ انسٹا گرا
م٬ای میلز کہاں کہاں تلاشتا رہا مگر تم کہیں نہ ملیں”۔

آس پاس کی دنیا سے سب کچھ غایب تھا نہ لہروں میں سکوں کے گیت تھے نہ شام کی ٹھنڈی ہوا راحت افزا تھی۔نہ آس پاس لوگوں کا شور شرابا تھا۔صرف ایک نورت تھی اور اسکے ساتھ بیٹھا حزیم! یہ کیا ہو گیا تھا نورت سے۔اس نے کبھی سوچا نہ تھا کہ اسکا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے۔وہ گالیاں جو حزیم کو اتنے سال سے دے رہی تھی۔وہ لعنت ملامت جو وہ اتنے سال سے ہر رات سونے سے پہلے خود کو کرتی تھی۔کہ اس نے ایک غلطی کی اور غلط آدمی پر بھروسہ کیا۔وہ صرف ایک بدگمانی تھی۔جھوٹ، دھوکہ فریب کی دنیا میں وسوسوں کی شکار ہو کر وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی منزل کھوٹی کر بیٹھی تھی۔

“ہم فوجی اکھڑ ہوتے ہیں ،ہماری سخت ڈیوٹیز ہمیں سخت مزاج بھی بنا دیتی ہیں، ہمارے اوقات کار بھی بہت مشکل ہوتے ہیں مگر ہم جھوٹے اور بے وفا نہیں ہوتے۔ہمیں وفا ایک سیرپ کی طرح گھول کر پلا دی جاتی ہے۔ اور تم تو کسقدر اہم تھیں میرےلی۔تم سے کبھی کہہ نہ سکا مگر تم نے بھی کبھی نہ سوچا کہ کیسے تمھاری ہر بات مانتا تھا میں۔کتنی مشکل سے تم سے رابطہ قائم رکھتا تھا۔
تمھارے بغیر تو میری ذندگی ہی ادھوری تھی۔”

“یہی بات ہے ناں! تم خود جتنا سچ بولتی ہو تمھیں لگتا ہے وہ بھی اتنا ہی سچا ہے۔مان لو میری بات نورت وہ جھوٹا ہے!!!!! وہ ایک نمبر کا جھوٹا اور دھوکے باز ہے۔تم آج اسکے فوجی ہونے کو اسکے کردار کی ضمانت سمجھتی ہو۔تمھیں کیا لگتا ہے وہاں جھوٹے اور غدار نہیں ہوتے۔تم آج میری بات نہیں مان رہیں ناں دیکھنا تم اسے ایک دن اتنی گالیاں نکالو گی جتنی آج تمھیں آتی بھی نہ ہونگی”

آج نورت خود کو بھی وہ گالیاں دینے کے قابل نہ رہی تھی۔۔”جس دکھ جس فریب کو اتنے سال سے اس نے روگ بنا کر زندگی کی تہمت بنا لیا تھا آخر میں وہ فریب ہی سب سے بڑافریب نکلا تھا۔

two roads diverged in a yellow wood, and I….
I took the one less traveled by
and that has made all the difference.
نور وہی راہ چن کر ہار گئی تھی جس پر سب چلتے ہیں۔وہ بدگمانی کی راہ پر نہ ٹھہر سکی تھی اور سارا فرق اسی رستے کا ہی تو تھا!
وہ حزیم جسے وہ دھوکہ سمجھ کر ہمیشہ اس سے نفرت کی کوشش کرتی رہی اور نہ کر سکی۔وہ اسی کا تھا۔اور آج جب اتنے عرصے بعد اسکے سامنے آیا تھا تو اسکا نہ رہا تھا۔اب کسی گھر کا سربراہ کسی کا شوہر اور کسی کا باپ بن چکا تھا۔نورت کی آنکھوں سے جیسے ندیاں بہہ نکلی تھین۔یہ کیا کر بیٹھی تھی وہ اپنے ساتھ۔ وہ خود پر وہ ظلم کر بیٹھی تھی جو کسی اور کو بھی کبھی نہ کرنے دینا چاہیے تھا۔اب اسکے ہاتھ میں صرف ماتم تھا۔اب وہ اپنا سفر اور منزل سب کھوٹی کر چکی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رسالپور اپریل 2003۔۔۔۔۔۔

ھزیم بستر پر کھلی آنکھوں سے کتنی دیر سے جاگ رہا تھا .اسکے پاس کے پلنگ پر اسکے روم میٹ کے خراٹے گونج رہے تھے اور ایک وہ تھا جسکی آنکھوں سے نیند یوں غائب تھی جیسے نابینا کی آنکھوں سے روشنی۔ سونے کا وقت گزرے جاتا تھا اسکی آنکھ نہ لگ سکی تھی۔یہ کیا ہو رہا تھا اسکے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔وہ کروٹیں بدل بدل تھک گیا تھا۔ مگر آج کی رات نیند اس سے کوسوں دور تھی صرف نیند یی نہیں جانے کیا کچھ اس سے کوسوں دور جا رہا تھا ۔نورت کا لہجہ اسکی آواز اور الفاط اسکی سماعتوں پر چپک گیے تھے۔کیا وہ اس سے پیار کرتی تھی؟ اسے ایسا کیوں لگا تھا کہ جیسے نورت نے بہت کچھ کہا ہو۔یا اس نے بہت کچھ سنا ہو۔اس نے کیا کہا تھا”ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اس دوستی کو کوئ تعلق بنا لیں۔”۔ نورت نے کتنے دھیرے سے کہا تھا جیسے کوئ بہت مشکل زباں میں سرگوشی کی اور حزیم اس نے کہا تھا:”ابھی تو میں اس قابل نہیں ہوں اگر تم کچھ انتظار کر سکو تو۔۔۔۔۔۔۔”
نورت نے ایک لفظ بھی نہ کہا تھا :اپنے سال کی رفاقت کا حساب مانگا تھانہ اسے بے وفا، ہرجای کہا تھا ،کوی درخواست کوئی شکایت نہ التجا۔وہ نورت کو قایل کرنا چاہتا تھا مگر نورت کی خاموشی اسکی سب دلیلوں کو ہرا گیی تھی۔

کچھ تھا انکے بیچ ایسا جو وہ کہہ نہ سکی تھی یا پھر ھزیم کی سماعت تک نہ پہنچا تھا مگر اسکے دل کی گواہی میں موجود تھا۔ایسا کیوں لگ رہا تھا جیسے کچھ زندہ حقیقت انکے بیچ موجود ہے جس سے وہ بھی ڈر رہا ہے اور شاید نورت بھی جھجک رہی تھی۔کچھ نیی تکلیف ،کوی جزبہ اسے اندر سے کھرچ رہا تھا اسے جتا رہا تھا۔دل کہ کہیں گہرای میں کوی آتش بھڑک رہی تھی من کے کنویں سے ایک ہی بازگشت ابھر کے آتی تھی ” روک لو اسے! “اسے مت جانے دو! ” محبت جیسے تخلیق کے مراحل سے گزر چکی تھی اب صرف منتظر ہاتھوں کی منتظر تھی۔قدرت کے دامن سے محبت کا جنم اسکی جھولی میں آنے کا منتظر تھا۔ اتنے بڑے اور چوڑے کمرے میں جیسے دم گھٹتا جاتا تھا۔حزیم بستر سے اٹھ کر بیٹھ گیا ۔اور ہاتھوں میں سر جکڑ لیا۔کاش کہ سر پکڑنےسے اسکی الجھنیں بھی پکڑی جا سکتی ۔پریشانیاں ہی مسایل کا حل ہو جاتیں مگر ایسا کچھ نہیں تھا ۔اندھیرے کمرے کی بند کھڑکیوں کی درزوں سے باہر کے چودھویں کے چاند کی دودھیا چاندنی اپنی باریک لہروں کو کمرے کی تاریکی میں بہاے لا رہی تھی۔بند دروازے اور کھڑکیاں بھی ایک چاندنی کا راستہ نہیں روک سکتے تھے۔اندھیرے کمروں میں محبت کی روشنی کو بھی پھیلنے سے کوی روک سکا ہے کبھی۔چاند چاہے بند کھڑکیوں کے باہر ، برآمدوں سے پرے اور منزلوں کے فاصلوں پر ہو، اسکی چاندنی کی حقیقت کو کوئی پکڑ نہیں سکتا۔اسکے نورانی وجود کی حقیقت مسلم ہے۔کیا نورت بھی میرا چاند ہو گیی ہے۔؟ وہ جو ہنسی خوشی مجھے چھوڑ کر جا رہی ہے؟ کیا میں بھی اسکی چاندنی کو جھٹلا دوں؟ مجھے وہ ماننا پڑے گا جو وہ کہہ نہیں سکی۔اور مجھے اسے وہ سب بتانا پڑے گا جو آج تک میں خود بھی سمجھ نہ سکا۔کیا یہی محبت تھی؟ نورت ہمیشہ کہتی تھی کہ لڑکا لڑکی کی دوستی نہیں ہوتی اس میں ہمیشہ کچھ اور آ جاتا ہے۔آج وہ اپنی بات میں جیت گیی تھی۔ محبت درمیان آ گیی تھی مگر وہ پھر بھی اپنا دعوی ہار رہی تھی۔اور میرا دعوی مان رہی تھی اپنی محبت کو ہرا کے؟ کیا یہی حقیقت تھی۔؟ مجھے اسے روکنا ہو گا! مجھے نورت کو ہر حال میں روکنا ہو گا۔کہیں یہ وقت گزر گیا تو عمر بھر شاید ہاتھ نہ آے پھر!! ھزیم کی جراتیں بھی بہت تھیں اور ہمتیں بھی۔وہ ایک فوجی تھا اور ایک محبت سے ڈر کر کیسے ہار جاتا۔ ۔چاندنی کی نورانی باریک لہروں کو زمیں سے لپٹتے دیکھ کر ھزیم نے خود سے اور اپنے بہت قریب دھڑکتے نور کے دل سے ایک وعدہ کیا تھا۔ مگر اسے خبر نہ تھی کہ وعدہ نبھانےکا وقت بیت گیا تھا۔۔۔۔۔۔ جس روزنور نے اسکا انتظار کرنے کا عندیہ دیا اسی رات اسکا موبائل سینئر کے ہتھے چڑھ گیا تھا اور موبائل کی یہ کچھ دن کی دوری انکی زندگیوں کو دو مختلف راستوں کی طرف دھکیلتی چل پڑی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابوظہبی 2016

“دیکھو نور! میں گھر بار والا ہوں اور میری فوج کی نوکری میں ہمارے پاس بہت زیادہ فارغ وقت بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے شاید اب یہ بات کہنی نہیں چاہیے مگر۔۔۔۔مجھے ایک بار کہہ لینے دو! ورنہ نہ کہنے کا دکھ میری تمام زندگی کا روگ بن جاے گا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔ ۔۔اگرکبھی تمھیں کوی اور پسند نہ آیا، اگر تم کسی اور میں دلچسپی نہیں لیتیں یا اگر تمھارا کسی سے شادی کرنے کو جی نہ چاہا تو۔۔۔پلیز ذندگی کے کسی بھی موڑ پر میرے پاس آ جانا!!!! میں ساری عمر تمھارا انتظار کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اب یہ دوسری قیامت تھی جو حزیم نے اس پر ڈھای تھی۔وہ نڈھال آنکھوں سے اسے دیکھے گیی۔
“تمھاری فیملی؟؟؟”
“میں بیوی کو سمجھا لوں گا۔انکو بھی نہیں چھوڑوں گا لیکن میری زمیہ داریوں کے بعد میں جتنا بھی بچتا ہوں سارے کا سارا تمھارا ہوں گا۔۔۔۔”
ھزیم بہت حوصلے سے کہہ رہا تھا۔
کیا ایسے بھی ہو سکتا ہے۔گھڑی گھڑی زمیں پیروں سے سرکتی تھی اور پھر تھام لیتی تھی۔وہ جیسے ایک کے بعد ایک طوفان کی زد میں تھی۔وہ سامنے تھا اور انکے بیچ ایک سوال۔۔۔۔جو پہلی ہی ملاقات میں حزیم نے اسکے سامنے رکھ دیا تھا۔ زندگی کا سب سے کم وقت میں کیے جانے والا فیصلہ۔۔۔ ۔ ۔۔۔اسکی زندگی اور محبت کا مقدر لکھنے والا تھا۔وہ جانتی تھی کہ زندگی کے اس پل وہ سوچنے کا وقت نہیں لے سکتی تھی۔ اس کا وجود کانپ اٹھا تھا۔

“نہیں مجھے کوی پسند نہیں ہے۔۔۔۔ ۔۔۔۔اور میں تمھارے سوا کسی سے شادی نہیں کرنا چاہتی!!!! “

ھزیم نے کانپتی نورت کو اپنے مضبوط بازوں میں لپیٹ لیا تھا ۔ایسے جیسے آج کے بعد نور کبھی تنہا اور بے بس نہیں ہو گی۔جیسے آج کے بعد نورت کبھی اداس نہ ہو گی۔ایسے جیسے آج کے بعد زندگی اسکے سامنے سرنگوں ہو جاے گی۔۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

…………..
ابوظہبی
2017،جنوری
……… ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھی مشکلیں راہ میں آ کر ایسے ڈیرہ جمان ہو جاتی ہیں۔جیسے اب کبھی ہلیں گی ہی نہیں۔اور جب ہٹنے پر آتی ہیں تو رستے یوں لمحوں میں روشن ہو جاتے ہیں جیسے کبھی تاریک تھے ہی نہیں ۔
اگلے ہی روز حزیم ااور نورت کے چند دوستوں کی موجودگی میں دونوں کا نکاح ہو گیا تھا۔ نورت کچھ دن بعد ریسپشن کا پلان کیا گیا ۔ نورت کو بھی یہی لگا کیا زندگی اتنی ہی آسان تھی جتنی اب اسکے لیے ہو چلی تھی۔وقت بدل گیا تھا اور اسکی زندگی کے سب طوفان تھم چکے تھے۔کل کے ہجر کا اک باب آج وصل میں بدل گیا تیرہ سال وہ حزیم سے نفرت کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔مگر کامیاب نہ ہو سکی تھی۔مگر اسے پھر سے محبت کرنے میں چند لمحے لگے تھے۔محبت کبھی مرتی ہے بھلا۔محبت دفن ہو سکتی ہےمگر یہ وہ واحد مخلوق ہے جسے ہاتھ لگاو تو پھر سے زندہ ہو جاتی ہے۔کبھی مر کر بھی مرتی نہیں ۔کبھی بچھڑ کر بھی کھوتی نہیں! محبت نے ایک بار جسکا ہاتھ تھامااسکے لیے اب عمر بھر قیامت ہے۔ہجر ہو یا وصال! محبوب کرے تو کرے محبت کبھی بے وفا ی نہیں کرتی!۔

“تم جیسی ہو مجھے ویسی ہی اچھی لگتی ہو نورت! تم کو کسی رنگ برنگے ملبوسات اور میک اپ کی ضرورت نہیں! مجھے تم سے بڑھ کر اب اور کچھ نہیں چاہیے۔
“نورت شاپنگ کرنا چاہتی تھی، سلون جانا چاہتی تھی، اتنا عرصہ اس نے اپنے لباس کی اپنے چہرے کی پرواہ نہ کی تھی آج اچانک اسے لگا تھا اسکی سکن ڈھلک رہی تھی بتیس سال کی عمر میں اسکا چہرے پر سو سالوں کی سنجیدگی طاری تھی۔اسکے ہنسنے کی لاینیں نجانے کب سے قحط کی شکار ہوکر اپنا وجود کھو بیٹھی تھیں۔اور سالوں کی آبیاری نے اسکے چہرے پر ازردگی ایسے گھول دی تھی جیسے پانی مین لال رنگ گھول دیا جاے۔ایسی نورت کا ہاتھ تھام کر حزیم نے کہا تھا۔اور اس نے اپنی کالی جیگنگ کے اوپر ہلکے گلابی رنگ کی سلکی شرٹ پہنے ایک چادر اوڑھ کر نکاح نامے پر دستخط کر دییے تھے۔
“آج کے بعد مجھے پھر کبھی چھوڑ کر مت جانا!” ھزیم نے اسکے چہرے کو اپنی ہاتھوں میں لپیٹ کر اسے کہا تھا۔
…………………….
“تمھارے پاس ہو کر لگتا ہے جیسے وقت کتنے سال پیچھے چلا گیا ہو۔میری عمر دس سال پیچھے چلے گیی ہو۔تم وہی کم عمر سی رنگوں سے کھیلنے والی نورت ہو اور میں وہی تھکا ہارا بے دھیان ھزیم جو ساری رات انٹرنیٹ پر بیٹھے گپیں مارتے رہتے تھے۔!
تمھارے ساتھ مجھے بھول جاتا ہے کہ میں ایک باپ ہوں ایک بیوی ایک گھر کا زمہ دار سربراہ۔۔۔۔صرف تم یاد رہ جاتی ہو اور میں۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ یوں لگتا ہے آج بھی ہم وہی دس سال پرانے دوست ہیں۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔یہ وہ حزیم تھا جو کہتا تھا لڑکا لڑکی میں محض دوستی بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ ۔نورت کا ہاتھ ہاتھوں میں لیے اسے دیکھتا تو دیکھتا چلا جاتا۔۔۔یہی حزیم تھا جس نے کبھی نورت کو دیکھا ہی نہ تھا وہ کیسی دکھتی ہے اسے خبر ہی نہ تھی۔ایک فوٹو دھندلا سا نورت نے دیکھا تھا ھزیم کا اور ایسا ہی ایک فوٹو ھزیم نے نورت کا دیکھ رکھا تھا۔اور بس ! اسکے بعد تیرہ سال کا ہجر تھا جو انکی جوانیوں کو کھا گیا تھا۔
“تم جیسا چاہتی ہو نورت ویسا کرو! تم کراچی میں میرے ساتھ چلنا چاہتی ہو تو بہت بہتر ہے ،لیکن اگر تم یہاں رک کر اپنی جاب جاری رکھنا چاہتی ہو تو بھی میں تمھارے ساتھ ہوں۔مجھے تمھاری ہر رضا منظور ہے۔
“میں ہمیشہ ہمیشہ تمھارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں”۔نورت کے اندر سے کوی چیخ چیخ کر بولنا چاہتا تھا۔جسے اس نے بہت مشکل سے تھاما تھا۔
“نہیں! میں تمھاری زندگی کو الجھن نہیں بنانا چاہتی۔میں یہیں رہ کر جاب جاری رکھوں گی
جب تک مجھے پاکستان میں کوی اچھی جاب نہیں مل جاتی
پھر میں ضرور پاکستان شفٹ ہو جاوں گی تمھارے پاس!”
“نور۔۔۔۔ ۔۔۔کبھی مت سوچنا کہ تمھاری وجہ سے مجھے کوی مشکل ہو گی۔اگر کوی ہوی بھی تو میں اسکا حل کر لوں گا۔مجھ پر بھروسہ کرو! “نورت چپ ہو گیی تھی کہ جب بھروسہ کیا جاتا ہے تو پھر سوال نہیں کیے جاتے۔
میں چاہتا ہوں تم میرے ساتھ رہو میں مینج کر سکتا ہوں۔مگر میں تمھیں کسی بھی فیصلے پر مجبور نہیں کروں گا۔ہم جہاں بھی رہیں گے ایک دوسرے کے رہیں گے۔اس طویل عرصے نے مجھے سکھا دیا ہے۔کہ ہمیں الگ کرنا فاصلوں کے بس میں نہیں ورنہ اتنے سال اس کام کے لیے بہت کافی ہوتے ہیں۔ ”
بید کے گول کاوچ پر نورت ھزیم کے بازو پر سر رکھے لیٹی تھی۔زندگی کبھی اتنی خوبصورت ہو جاتی ہے کہ جنتوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔آج حزیم بول رہا تھا وہ حزیم جو کبھی کہتا تھا مجھے بولنا نہیں آتا!!!آج فاصلے نے اسے سب سکھا دیا تھا بولنا بھی ،چاہنا بھی، چاہت کا اظہار بھی اور محبت کو سنبھالنا بھی۔وقت سب کے کس بل نکال دیتا ہے۔آج وہ اپنی جنت میں تھی۔یہ بازو اسکے لیے گھر ہو گیے تھے۔
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ حزیم کی واپسی پر جیسے زندگی بدل گیی تھی۔پہلے جس طرح وہ خود کو گمشدہ کیے پھرتی تھی اب جیسے خود کو پا گیی تھی۔پہلے جسقدر ٹوٹ کر کام کرتی تھی اب لاپرواہ ہونے لگی تھی۔زندگی میں صرف کام ہی نہیں ہوتا اسے لگنے لگا تھا۔ھزیم اسے روزانہ فون کرتا،دن بھر اس کے واٹساپ آتے ۔اپنی بیوی کو بتا چکا تھا وہ۔جاب کے ساتھ ماسٹرز کی تیاری کر رہا تھا اگلی پرموشن کے لیے۔ نورت کا دل چاہتا اس سے ہر گھڑی بات کرتی رہے مگر خود کو روکنا پڑتا ۔وہ آج بھی اتنا ہی مصروف تھا جتنا اکیڈمی کے دنوں میں تھا اور اسکے لیے نورت آج بھی اتنی ہی فارغ تھی جتنی اپنے ہاسٹل میں تھی۔
نورت نے چھ ماہ کی لانگ لیو کے لیے اپلائی کر دیا تھا۔چھ ماہ پاکستان رہ کر وہ جاب بھی ڈھونڈسکتی تھی۔ا سکی سیونگ میں اتنے پیسے موجود تھے کہ وہ چھ ماہ تک آرام سے گزارا کر سکتی تھی۔وہ حزیم کا ساتھ چاہتی تھی مگر ذندگی کے لیے اسکا تعاون نہیں۔
اس عرصے میں اسے وہاں کے کام اور کام کے ماحول کا اندازہ ہو جاتا۔وہ پاکستان میں پلی بڑھی تھی پر نوکری اس نے صرف یو اے ای میں کی تھی۔پاکستانی کاروباری ماحول سے لاعلم تھی، جتنا جانتی تھی وہ بھی بھول چکی تھی۔
ا وہ پاکستان جانے کی تیاری کرنے لگی تھی ۔ واپسی پر انکی ایک چھوٹی سی ریسپشن تھی۔
اس سے پہلے اسے امی ابو کے پاس جانا تھا۔اپنی رضامندی وہ فون پر ہی دے چکے تھے۔امی نے باقاعدہ شکعانے کے نوافل پڑھے تھے کہ انکی اکلوتی بیٹی نے آخر اپنی زندگی کے لئے فیصلہ کیا تھا۔وہ اس سے ہمیشہ ناراض رہتے تھے جب انکے ڈھونڈے رشتے وہ چھوڑ کر آ جاتی تھی۔ بہت پیار سے ہر کچھ ماہ بعد اماں ابا سے ملنے جاتی اور ہر بار رشتے پر آ کر ناراض ہو کر اور کر کے واپس آ جاتی۔ وہ چاہتے تھے نور شادی کے لیے مان جاے ۔اسکی بھی ایک ہی ضد تھی۔ابھی وقت نہیں میرے پاس۔۔۔۔۔ ۔حالانکہ وہ اسقدر ضدی نہ تھی۔مگر اس معاملے میں اسکا دل اس سے لڑ پڑا تھا۔پردیس میں ہونا اسکی ڈھال بن گیا تھا۔اپنی کمای پر زندگی گزارنا اسکا آسرا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔وہ ایک ہی جواب دے کر اپنے شہر لوٹ آتی تھی۔۔ابوطہبی اسکا بہت قریبی ساتھی تھا اس شہر نے اسکی مشکلیں بانٹی تھیں ۔اس شہر میں وہ خالی ہاتھ آی تھی۔اور اتنے سال اس شہر نے اسکا دامن بھرا تھا۔اسے آسرا دیا تھا۔ اپنے اپارٹمنٹ کے ڈیک میں رکھی جھولتی کرسی پر بیٹھ کر وہ شہر کی روشنیاں دیکھنے لگتی۔یہ روشنیاں اسکی زندگیوں کے کتنے اندھیروں اور کتنے آنسوں کی گواہ تھیں اور اب یہی روشنیاں ان ستاروں کی بھی گواہ تھیں جوا سکی ذندگی کے اندھیروں کے درپے تھے۔ ان پھولوں اور خوشبوؤں کی بھی جو زرد پتوں کی اوٹ سے نکلی تھیں۔
—————–
اسکے اپارٹمنٹ میں پانی بھر چکا تھا اک طوفانی سیلاب سی صورتحال تھی۔وہ اس کمرے سے نکلنے کی اور بچنے کی کوشش کر رہی تھی۔کہ اچانک اسکے سامنے والے بجلی کے بٹنوں میں سے آگ کی چنگاریاں نکلنے لگی تھیں۔اس نے ڈر کر پیچھے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ گھر کے ہر بجلی کے بٹن سے چنگاریاں نکل رہی تھی سیلاب سے بھرے کمروں میں شارٹ سرکٹ ہو رہا تھا۔ایک لمحے کے ہزارویوں حصے میں وہ جان گیی تھی کہ سب ختم ہو چکا۔قیامت کیا ہوتی ہے جسکے آگے کوی امید نہیں ہوتی۔اس نے ایک سیکنڈ میں جان لیا کہ قیامت وقوع پزیر ہو چکی اب اسکے ہاتھوں میں کچھ نہیں بچا۔
نورت لرز کر اٹھی تھی۔اسکی سانس بند ہو رہی تھی۔منہ سوکھا جبکہ ماتھے پر پسینہ تھا۔اس نے ادھر ادھر دیکھا۔اس خواب نے اسکے رونگٹے کھڑے کر دییے تھے۔
” یہ خواب میرا کب پیچھا چھوڑیں گے! ”
اس نے سایڈ ٹیبل سے اٹھا کر پانی کا گلاس پیا تھا اور بستر چھوڑ کر کھڑکی کی طرف آ گیی۔پردے کھینچ کر سورج کی روشنی کے لیے در وا کیےاور خود اسکے سامنے رکھے کاوچ پر نیم دراز ہو گیی۔خواب کا ہولناک اثر اسکے اعصاب کو بھاری کر رہا تھا۔ اس نے ہمیشہ اپنے بدترین خواب پورے ہوتے دیکھے تھے۔ہر برا خواب اسکے صدقے خیرات کو بڑھا دیتا۔دل کی حالت بھی بہت بدتر تھی۔ابھی تو دس بجے تھے ھزیم سے بات مشکل تھی پھر بھی نہ چاہتے ہوے اس نے ھزیم کا نمبر ملایا تھا۔مگر اسکا نمبر بند تھا۔وہ بار بار ملاتی رہی نمبر بند ہی ملتا رہا۔اتنے سال اجنی شہر میں اجنبی لوگوں کے بیچ رہنے والی ہر خواب کے بعد ایسے ہی ڈر جاتی تھی۔اس نے ھزیم کو واٹس اپ کیا تھا
“جلد مجھ سے بات کرو پلیز!!! ”
میسج کر کے اس نے موبایل پر منزل کی تلاوت چلا کر اپنے پاس رکھ لی تھی اور خود کاوچ سے ٹیک لگا کر منزل کی تلاوت سننے لگی تھی۔کسی دوست نے اسے یہ بتای تھی جب اپنے پرانے فلیٹ مین انڈین لڑکیوں کے ساتھ رہتی تھی جن میں سے دو ہندو تھیں ۔وہ اکثر انکے اثرات سے بچنے کے لیے اپنے پاس چلا کر رکھتی تھی۔رفتہ رفتہ اس نے محسوس کیا تھا کہ منزل صرف جن بھوت کے لیے نہیں ہر طرح کے ڈر خوف اور وسوے سے بھی بچاتے تھے اسے۔ایسے ڈراونے خوابوں کے بعد بھی اسکا سہارا یہی منزل ہوتی تھی۔وہ اس تلاوت کو سنتی باہر دیکھنے لگی تھی.جیسے
جیسے وقت گزر رہا تھا اسکا دل ڈر رہا تھا آدھے گھنٹےبعد اسکے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور حزیم داخل ہوا۔نور ت آٹھ کر اس سے لپٹ گیی تھی”
ارے کیا ہوا؟”
اسے لگا تھا آج نجانے کیا ہو گا!
“کیا ہوا نور؟”نور کی ٹھوڑی اٹھا کر دیکھی تو چہرہ نم تھا۔
فوجی کی بیوی ہو کر ڈرتی ہو پاگل!”
نورت کی آواذ بند تھی۔
پھر کوئی خواب دیکھا ہے؟”
ہوں!
“تمھارے خوابوں پر تو پہرہ نہیں لگا سکتا نور ،مگر تمھاری حقیقتیں اب محفوظ ہاتھوں میں یییں!میرے ہوتے اب کوئ بری تعبیر تم تک نہیں پہنچ سکتی!”
حزیم نے نورت کو بیڈ پر بٹھایا تھا
“یہ دیکھو! میں تمھارے لیے گفٹ لایا تھا تم نے الٹا مجھے سرپرائز دے دیا”
کیا؟نور نے آنکھیں پونجھ لی تھیں
“تمھیں وینس دیکھنا تھا ناں!چلو ہم چلتے ہیں دیکھنے”!حزیم نےٹکٹ نور کے ہاتھ پر رکھے تھے
نور کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا؟
یہ کیا؟”
تمھیں خوشی نہیں ہوی؟”
حزیم تھوڑا سا مایوس ہوا تو نورت نے دراز کھول کر حزیم کے ہاتھ پر کاغزرکھے تھے۔
تم نے ایمسٹرڈیم یکھنے کا کہا تھا ناں!””
حزیم کے ہاتھ پر ایمسٹرڈیم کے ٹکٹ تھے۔
وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا تھا!
“نکلی ناں تم وہی نورپرانی والی!چلو مہینے کی چھٹیاں لے کر دونوں جگہ چلتے ہیں!”
نور ہنس پڑی تھی
اسے یقین تھا حزیم کا ساتھ اب ستاروں کہکشاؤں کی منزلیں ہیں جو سفر حزیم کے ساتھ ہو گا وہ دنیا جہاں سے اجلا اور خوبصورت ہو گا۔جسکی کوی بری تعبیر نہیں ہو گی۔ا!
……….

۔۔.۔۔۔۔

۔

Advertisements