جہنمی لوگ________از ثروت نجیب

🔥

“آہ سفاکی اور ظلم کی انتہا ‘ کیسے لوگ ہیں یہ ‘”
آبنوسی بالوں کی جھالر سے جھانکتی اس کی چندھی آنکھیں سکرین پہ مرکوز اور انگلیاں بےچینی سے ماؤس کو جنبش دے رہی تھیں ـ ایک کے بعد ایک’ انکشاف اسے ماضی میں دھکیل دیتا ـ نسواری لپ اسٹک والے ہونٹ پریشانی سے سکڑتے وہ سر کو جھٹک کے پھر سکرین پہ جھک جاتی ـ میز پہ پڑی سفید پیالی میں پڑی کافی کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی ـ آج رپورٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی ـ امیکو کو یورپ آئے بیس سال ہو چکے تھے اس کے ڈچ شوہر نے اسے مشورہ دیا تھاکہ وہ اپنا کوئی یورپی نام رکھ لے تاکہ وہ یہاں کے لوگوں سے منفرد نہ لگے مگر امیکو نے کہا!
” انفردیت ہی تو میری پہچان ہے جانِ من”
جب وہ پہلی بار افغانستان گئی تو مقامی لڑکیوں کی طرح ڈھیلا لباس پہن’ پھولدار حجاب اوڑھے مزے سے کابل اور اس کے اطراف میں گھومتی رہی ـ’ اس کا گول مٹول چہرہ ‘ چھوٹا قد اور چپٹی ناک دیکھ کر اسے ہزارہ قومیت والے بھی ہزارہ ہی سمجھتے رہے ـ
“نام کیا ہے اس کا ؟”
امیکو نے نرس سے پوچھا
” جی! زرلخت، ”
عمر؟
“تیرہ سال ــ”
مطلب شادی ایک سال پہلے ہوئی اور: یہ اس کا پہلا بچہ ہے ـ امیکو نے اندازہً کہا!
جی جی نرس نے تابعداری سے جواب دیا
امیکو اپنی نوٹ بک پہ جھکی زرلخت کی رودار لکھنے لگی ـ
“زرلخت ستر ہزار کلداری کے عوض پینتالیس سال کے بے اولاد آدمی کی دوسری بیوی ہے ”
سامنے بستر پہ لیٹی نحیف و نزار زرلخت کی آنکھ سے آنسو ٹپکا اور بہتا ہوا کان کی نکر پہ تحلیل ہو گیا ـ ایک مردہ بچے کو جنم دینے والی اب کبھی ماں نہیں بن سکتی ـ
چودہ سالہ دبلی پتلی ترکمن گڑیا مرسل اسے دارلامان میں ملی جس کی شادی پچاس سال کے رنڈوے سے ہوئی ـ وہ اس پہ شک کرتا تھا ـ ایک دن مُرسل گھر سے بھاگ گئی ـ ایک آدمی اس پہ ہاتھ صاف کرنے کے بعد اسے دارلامان چھوڑ گیا ـ
امیکو نے مرسل کے ریشمی بالوں کو اس کے چہرے سے ہٹایا تو دائیں آنکھ سے گال تک تقریباً دس ٹانکوں کے نشان تھے ـ امیکو نے لرز کے مرسل کے بالوں کو چھوڑ دیا ـ بالوں نے لہر در لہر سفر کر کے دوبارہ چہرے کو ڈھانپ لیا ـ جاتے وقت اس نے مرسل سے وعدہ کیا کہ وہ اسے اپنے پاس بلائے گی ـ مرسل ایک بہترین قالین باف تھی ـ
اف ـــ مرسل ننھی سی جان! اسے یاد آیا اِ.سی بابت اس نے کل افغان سفیر سے ملنا ہے ـ سیل فون پہ اس نے تاریخ مارک کی ـ
چھ سو پچاس داستانیں ـــ
چھ سو پچاس کم سن لڑکیاں ـــ
نہیں چھ سو پچاس زندہ درگور لاشیں ـــ
اسے یاد ہے جب دارلامان کے منشی نے کہا کہ مادام اِس طرف نہیں اُس طرف آئیں ـ
امیکو چونکی مگر یہ لڑکیاں؟
” آپ کو کم سن لڑکیوں پہ ریسرچ کرنی ہے نا! یہ تو پنرہ ‘،سولہ سال کی ہیں ”
اس نے اپنی خشخشی داڑھی کجھاتے ہوئے کہا
” ہمارے پاس آٹھ ‘ نو ‘ دس سال کی بہت سی شادی شدہ بچیاں ہیں ”
امیکو دہل گئی تھی ـ اس نے دل میں کہا !
“اتنی کم سن بیٹیوں کو بیاہنے والے اور بیاہ کر لے جانے والے دونوں ہی جہنمی ہیں ـ”
امیکو کا فولڈر ایسی داستانوں سے بھر چکا تھا جو”جہنمی لوگ ” کے نام سے اس کے ڈیسک ٹاپ پہ سیو تھا ـ امیکو نے عالمی تنظیم کے لیے اپنی رپورٹ میں درج کیا ـ” غربت فساد کی جڑ ہے اور مسائل جہالت کے درخت کا پھل ہیں ـ ”
اُسی وقت امیکو کی عقبی جانب کھڑی کے پیچھے سڑک پہ میٹرو گزری ـ جس کے اندر بیٹھی بارہ سالہ سرخ بالوں اور چندھی آنکھوں والی لڑکی اپنی انگلیاں چٹخاتے ہوئے سوچ رہی تھی وہ کیسے ماں کو بتائے کہ وہ حاملہ ہو چکی ہے ـ اسے یہ بھی نہیں معلوم اس کی کوکھ میں پلتا بچہ اس کے بوائے فرینڈ کا ہے یا ٹینس کوچ کا ـ جو اِسے بےحد برا لگتا ہے مگر وہ مسلسل پچھلے چھ ماہ سے اسے ہراساں کر رہا ہے ـ ” ہشششش اگر تم نے کسی کو بتایا تو تمھارا مستقبل تاریک کر دوں گا ـ

(ینگ وومنز رائٹرز فورم اسلام آباد کے مقابلے میں پہلے نمبر پر آنے والی تحریر )

_____________________

تحریر:ثروت نجیب

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

5 Comments

Comments are closed.