عام انتخابات 2018 اور میں

⁦🇵🇰⁩

عام انتخابات 2018 ( براے قومی اسیمبلی اور صوبائ نشست )اپنے ساتھ کئ کہانیاں چھو ڑ گئے ۔کئ گھر اجڑے ، بچے یتیم ھوئے ، ماؤں نے بچے، بہنوں نے بھائ اور سہاگنوں نے سہاگ کھودیئے ۔لا تعداد قربانیوں کے عوض پاکستان میں آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ھو سکا ، اس شفافیت کے پیچھے ایک بہت بڑی طاقت ہے وہ ہے افواج پاکستان کا حوصلہ ، پختہ عزم اور جانثاری جن کے بغیر شفاف انتخابات کا قیام نا ممکن تھا لیکن شفافیت کو بر قرار رکھنے والی افواج پاکستان کے بعد(“بعد” لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ شفافیت کا پہلا اعزاز افواج پاکستان کو جاتا ہے) اہم کردار ان سرکاری ملازمین (محکمہ صحت ، تعلیم ، قانون ، پولیس) کا ہے جنھوں نے اس مشکل ترین عمل کو بخوبی انجام دیا ۔ سرکاری ملازمان کی خدمات جون ماہ کے اختتامی ایام سے لی گئں ، پہلا مرحلہ تربیت کا تھا لہٰذا تربیت کے دوران اگلی صورتحال کا اندازہ ھونے لگا ۔ بیٹھنے کا نا مناسب انتظام ، غیر معیاری خوراک اور دوسری بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں تربیت ختم ھوئ ، پولنگ اسٹیشنز مقرر کر دی گئے ، بد قسمتی سے جیکب آباد کی کچھ خواتین پریذائڈنگس اور دوسرے عملے کی ڈیوٹی گڑھی خیرو اور ٹھل میں لگی اور وہاں کی خواتین کی جیکب آباد میں لگی جن میں سے کچھ کی تبدیل ھوئ کچھ کو مجبوراََ جانا پڑا ، خیر 24 جولائی کو سامان ملنا تھا سول کورٹ سے ، سامان ملنا کسی محاذ سر کرنے سے کم نہ تھا ، سینکڑوں خواتین اور مرد پریذائڈنگس کی ادائگی کے لیے ایک کاوؑنٹر بنایا گیا تھا ، سامان لےکر پولنگ پہنچے تو اکثر پولنگس کی عمارات خستہ حال تھیں ، یہاں تک کہانی سب کی سانجھی تھی آگے کا احوال میں اپنا بیان کر رھی ھوں کیونکہ میں اپنی ہی پولنگ اسٹیشن کا آنکھوں دیکھا حال بتا سکتی ھوں ، مجھے جو پولنگ اسٹیشن دیا گیا ، وہ ای سی پی کی لسٹ کے مطابق حساس قرار دیا گیا تھا ، میرے 3 بار اصرار کے با وجود بھی اسے تبدیل نہ کیا گیا خیر میں اللہ تعالیٰ کا نام لیکر سامان رکھنے عملے کے ھمراہ پولنگ پہنچ گئ ، آفس خستہ حال تھا فرنیچر نہ ہونے کے مترادف تھا اور کمرے بند ، شدید گھٹن کا ماحول تھا ، 25 جولائی کی صبح پولنگ کا آغاز کیا، ووٹرز آنا شروع ھوئے پولنگ بغیر کسی کھانے اور نماز کے وقفے کے مسلسل چلتی رھی، ملک کی بڑی پارٹیز کی چیف ایجنٹ ، امیدواروں کے رشتہ دار اور پارٹی عہدیداران بغیر کسی اجازت نامے کے اندر داخل ھونے کی کوشش کرتے رہے( مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئ کہ جو عزت دار ، با پردہ خواتین ان لوگوں کی اتنی گرمی میں خدمت کر رہی تھیں ان کو ان کے امیدوار ایک ویلڈ اکریڈیشن پاس بھی نہیں دے سکے تھے) لیکن آرمی کے جوانوں نے انہیں با ہر بھیج دیا جس کو وجہ بنا کے باہر کافی کشیدگی چھائ رہی اور پولنگ کے باہر ان کا جھگڑا ہوگیا اور قانون کے خلاف باہر دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے نعرے لگے ۔ اگر افواج وہاں نہ ہوتیں تو وہ سب شاید اندر آ کر پولنگ کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتے ۔ ایک سوال مجھے تنگ کرتا ہے کہ ھمارے دلوں میں جو خوف اور ڈر (اور تھوڑی بہت عزت بھی) سیکیورٹی فورسز کا ہے وہ پولیس کا کیوں نہیں ؟ اگر صرف پولیس ہوتی تو شاید الیکشنز اتنے شفاف نہ ہوتے ۔ پولنگ پہ آنے والی لیڈیز (ووٹرز کے علاوہ) کو یہ کیوں لگتا ہے ک پولنگ کے اندر دھاندلی ہو رہی ھے وہ بھی آرمی کی موجودگی میں ؟ ان کی سوچ کے لیے بس اللہ تعالیٰ سے دعا ہی کی جا سکتی ھے باقی بدلا نھیں جا سکتا ۔ پریذائڈنگز کا بھی رب ، ایمان اور ضمیر ھوتا ہے ان کی بھی عزت نفس مجروح ھوتی ھے ، سب سے بڑی بات یہ کہ ان میں اکثریت اساتذہ ہوتے ہیں ۔جن کو پاکستان کے علاوہ ہر معاشرے میں صدر سے بھی زیادہ احترام کے قابل سمجھا جاتا ہے ۔ الله کو حاضر ناظر جان کے آرمی کے مکمل تعاون سے پولنگ شفاف ہوئ ۔ وقت ختم ھوتے ہی ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی ، اندھیرا چھا گیا ، بجلی بند ، حبس ، گرمی اور ٹارچ کی روشنی شدید مشکلات کا سامنا ، رزلٹ بننے میں کافی مشکلات کی وجہ سے تاخیر ھو گئی ، گرمی، تھکان ، 24 گھنٹے کی بھوک اور پیاس کی وجہ سے نیم بی ھوشی طاری ھونے لگی ، باہر دو بڑی پارٹیز کے لوگ شدید شور مچا رھے تھے کے رزلٹ میں جان بوجھ کے تاخیر کی جا رہی ھے ، کیونکہ پیٹ بھر کے کھانے والے بھوکوں کی کیفیت سے نا آشنا ہوتے ہیں ۔ ایجنٹس کو رزلٹ دے کر میں نے جوس پیا ، چلنے کی ہمت ہوئ تو لاغر سی حالت میں کورٹ پہنچی ۔ سیکیورٹی کی وجہ سے آرمی کی گاڑی میں کورٹ پہنچی پھر رزلٹ جمع کروانے کا مرحلہ کافی کٹھن اور نا قابل بیاں . آج تک جوڑوں اور پٹھوں کے درد اور جلد کی الرجی کا عذاب جھیل رہی ھوں ۔ اب عوام نے حق عمران خان کو دیا ہے کہ وہ پاکستان کو نئے سرے سے بنائیں تاکہ جنہوں نے اپنے عزیز کھوئے ہیں ان کو یہ تسلی ہو کہ ان کی قربانیاں رائگاں نہیں گئیں۔ میں جب تصاویر میں دیکھتی تھی کے لوگ افواج پاکستان کی تعریف کرتے تھے لیکن اب ان لوگوں میں میں بھی شامل ھوں ، کیونکہ انھوں نے میری ہر طریقے سے حفاظت کی۔ میں سلام پیش کرتی ھوں آرمی ، رینجرز ، ایئر فورس ، لیویز ، ایف سی اور تمام فورسز کو انھوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کے ہماری حفاظت کی۔ الله ان کو اجر دے گا۔ مجھ سمیت میری تمام کولیگس کا بھی یہی حال ہے اوپر سے 2 بہت بڑی مزاحیہ باتیں سننے کو ملیں کہ دھاندلی ھوئ ہے (آرمی کی موجودگی میں ) 😂😂😂 دوسری بات بہت بڑا مذاق ھے جو لکھا نھیں جا سکتا۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ فیصلے میں تاخیر کیوں ہوئ ؟ ان اللہ کے بندوں کو کون سمجھائے کہ دور دراز کے گاوں سے فجر کے وقت تک رزلٹس آ رہے تھے ۔ سینکڑوں پولنگس کے ووٹوں کی ملا کے گنتی کرنا اور پورے ضلع کا رزلٹ جمع کرنا کوئ آسان بات نہیں۔ اس کے لیے میں سلام اور خراج تحسین پیش کرتی ہوں جیکب آباد کے دونوں سول ججز کو جنہوں نے اپنی نیندیں ، چین ، سکون برباد کر کہ الیکشنز منعقد کیا۔ اتنی اذیت سے گذرنے کے بعد ایک 28،30 سال( عمر کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ آپ اس بندے کی امیچورٹی کا اندازہ لگا سکیں) کے بندے نے میرے بھائ سے الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی سسٹر کی پولنگ پے دھاندلی ہوئ ہے ۔ بھائ نے پوچھا اچھا کیسے ؟ تو اس نے اپنے شدید اوور کانفیڈنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بوتھ پے موجود “ایجنٹس” نے ہمارے ووٹرز سے کہا کہ آپ کے ووٹ یہاں رجسٹرڈ نہیں ہیں ۔ آرمی کے جوان ( جو بوتھ کے اندر تعینات تھے اور ایجنٹس سمیت سب پہ سخت نظر رکھے ہوئے تھے ) وہ بھی جھوٹے ، پریذائڈنگ بھی اور پولنگ کا باقی عملہ بھی جھوٹا ۔ بس وہ بندہ سچا جس نے سمندر میں انگلی بھی ڈبوئے بغیر سمندر کی گہرائ کا اندازہ لگا لیا۔ ایسے اوور کانفیڈینٹ لوگوں کا علاج پاگل خانے میں الیکٹرک شاکس سے کرنا چاہئے کیونکہ انکا اوور کانفیڈینس دوسروں کی دل آزاری کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ انکے اپنے مستقبل کے لیے بھی نقصان دہ ہے ۔ حیرت میں ڈالنے والی ایک بات اور آپ کو بتاتی چلوں ( بات ایک خاتون ہونے کے ناطے حیرت میں ڈال رہی ہے اور ایک سوال ذہن میں آ رہا ہے ) ایک لیڈی میری پولنگ پے آئیں کچا اتھارٹی لیٹر لے کر ( جو کہ عام ایجنٹ کو دیا جاتا ہے) اور خود کو چیف ایجنٹ ( جن کے پاس پولنگ وزٹ کرنے کا ویلڈ اکریڈیشن پاس ” جائز اجازت نامہ” ہوتا ہے) بتا رہیں تھیں ، میری ذاتی معلومات کے مطابق ان کو ایک بڑی پارٹی کے امیدوار نے اپنی منہ بولی بیٹی کہا ہے وہ بیچاری اتنی گرمی میں جن کے لیے ( بغیر اجازت نامے) ہر پولنگ پہ جا رہی تھیں ان کو اپنے لیڈر نے اکریڈیشن پاس کے قابل کیوں نہیں سمجھا تاکہ وہ جائز طریقے سے ہر پولنگ کا وزٹ کر سکتیں ؟؟؟ ان کو تو اسپیشل پاس دینا چاہیے تھا ۔خیر ان کو بھی باقی ” معزز” خواتین کی طرح جلدی پولنگ سے رخصت کر دیا کیونکہ وہ بھی غیر قانونی تھیں اور وہ پولنگ پہ ٹک نہیں سکتی تھیں۔ الله ان سب کو ہدایت دے کہ سیاستدانوں کے علاوہ عوام کا بھی ضمیر ، ایمان ، عزت نفس اور غیرت ہوتی ہے۔

__________________

تحریر: نتا شا سولنگی

فوٹوگرافی:فرحین خالد

۔ پریذائڈنگ آفیسر پولنگ اسٹیشن نمبر 197 ۔(NA- 196 , PS- 1 )۔ جیکب آباد

Advertisements