سفر حجاز۔6___آخری حصہ

🕋

وہ رات زندگی کی اک قیمتی رات تھی جسکی یاد ہمیشہ دل میں اک محرومی، اک تپش اک آگ جلاۓ رکھنے والی تھی۔کالا لباس اوڑھے رب کعبہ کا گھر تھا وقت تہجد تھا اور میں تنہا تھی اپنے رب کے ساتھ راز و نیاز کے لئے۔پر بدقسمتی تھی کہ پیروں کے ساتھ زنجیر کی طرح بندھی چلے آئے تھی کہ رب کعبہ کا جلال ڈراتا تھا اور اک خاص حد سے آگے جانے نہ دیتا تھا اس جلالی ذات کے خوف نے کچھ اور جکڑ دیا جب دوسری منزل پر طواف کرتے حرم کعبہ کی ہزاروں لوگوں سے بھری وسیع عمارت کے اندر کسی عورت کی بلند چیخیں سنیں جو ہزاروں زائرین کے چلنے پھرنے اور دعاؤں کے بیچ میں بھی گونج رہی تھیں۔حیرت سے نیچے جھانکا تو عربی لباس میں ملبوس اک مصری عورت کو “حال” میں لت پت دیکھا۔شرطے(پولیس) دور رہنے پر مجبور فاصلے پر کھڑے لوگوں کو اس سے دور رکھتے اور اسکے ساتھ موجود ایک مرد اسے سنبھالنے کے لئے ناکافی تھا۔نجانے اس خاتون کی رب کعبہ سے کیا سرگوشیاں ہوئیں کہ جو اسکا شعور سنبھال نہ پایا تھا،سو وہ چیختی چلاتی،دہائیاں دیتی،سب زائرین کے دل دہلا رہی تھی۔رب کعبہ کا خوف کچھ اور بڑھ جاتا،نظر کچھ اور ڈر جاتی،فاصلہ کچھ اور بڑھ جاتا۔رب کعبہ کے سلسلے اور اپنے لوگوں سے اسکے کیا کیا رشتے تھے،صرف رب کریم کی ذات جانتی ہے۔ہم اسکی حکمتوں اور رازوں سے ناواقف لوگ بہت کچھ دیکھنے اور دیکھ کر بھی سمجھ لینے سے قاصر تھے۔وہ کیا منظر تھا ہماری بصیرت اسے سمجھنے اور اسکی تشریح کرنے سے قاصر تھی اگرچہ بصارت گواہی دینے پر قادر ہے۔خدا اور بندوں کے بیچ ہزاروں پردے ہیں اور یہاں ہزاروں لاکھوں لوگوں کے بیچ خدا کا اسکے ہر بندے کے ساتھ تعلق الگ اور وکھڑا ہے تبھی کوئ عمدہ پوشاک پہن کر آیا ہے اور کوئ ننگے پاوں،کوئ پرے پرے چلتا ہے اور کوئ بھاگ بھاگ لپٹتا ہے،کسی کا دل چھاؤں میں بھی لگ نہیں پاتا اور کچھ کے سجدے گرم دھوپ میں تپتے فرش پر بھی اپنا خشوع وخضوع برقرار رکھتے ہیں۔تو یہ سلسلہ سب کا اپنا،یہ رابطہ ہر ایک کا انوکھا۔ہم بھی ہزاروں عام انسانوں کی طرح جل جلالہ کے پردے کے پیچھے رب کو چھپاۓ بیٹھے تھے اور چاہ کر بھی اس وارفتگی کا اظہار کر نہ پاتے تھےجو روضہ رسول کو دیکھ کر طاری ہوتی تھی۔وہاں پر رابطہ دل کا تھا اور یہاں بندگی کا تعلق تھا تو سر جھکائے ڈرتے ڈرتے چلتے،نیچی نظر سے دیکھتے اور گن گن کر طواف پورا کرتے.

آجکی رات کا پہلا طواف صحن کعبہ میں پرے پرے کھسکتے،اسی کے نام کا ورد کرتے مکمل ہوا جسکی چوکھٹ تک جانے کی ہمت نہ پڑی تھی۔خانہ خدا میں دوسری اور آخری رات تھی کہ صبح واپسی کے لئے جدہ کی طرف روانگی تھی ۔تو آج رات بیگ میں کیمرہ بھی تھا جسے مسلمان کرنا تھا خانہ خدا کے جلوؤں کی بیعت دلوا کے۔میں جو ہر پھول،کلی،ہر سورج ہر بارش اور ہر موسم کی تصویر بناتی پھرتی ہوں تو یہ کیونکر ممکن تھا کہ اس عظیم گھر جاتی اور اسکا فوٹو نہ لیتی۔

کاش کہ وہ رات حرم میں میری آخری رات نہ ہوتی،یا میری توفیق میں کچھ وسعت ہوتی،کاش کہ کچھ گھڑی میں بھی غلاف کعبہ سے لپٹ کر روتی،حطیم میں جھک کر کچھ سجدے کر لیتی،چوکھٹ کو تھامے کچھ دہائیاں دیتی،یا کچھ اور نہیں تو خانہ خدا کے سامنے دھرنا ہی دے کر بیٹھ جاتی اور طلوع صبح تک اٹھنے سے ہی انکاری ہو جاتی۔۔۔کاش کہ ایسا ہوتا مگر میں کم نصیب کیمرہ لئے پچھلی صفوں میں چھپ کر بیٹھی اور خانہ خدا کے کچھ مناظر چرانے لگی۔اس صحن میں جہاں لوگ سر جھکاتے تو اٹھانا بھول جاتے،ہاتھ اٹھاتے تو سسکیاں لیتے, آہیں بھرتے ,واسطے دیتے وہاں میں تصاویر بنانے کی فکر میں تھی۔مجھے احباب یاد کرواتے کہ عبادت پر دھیان دو پر میں ہر جگہ کچھ گھڑیاں تصویر کشی کے لئے بچا لیتی۔اب سوچتی ہوں گر جو انکی بات مان کر اس آخری رات کیمرہ کمرے میں ہی چھوڑ جاتی تو ضرور جھولی میں وہ سب بھر لاتی جسکی مرادلئے وہاں تک پہنچی تھی۔تو جب مرادیں پوری ہونے کا وقت نہ ہو تو انسان بیکار رکاوٹوں میں الجھتا جاتا ہے۔یہ زرا سی دیر کا کیمرہ بھی اک رکاوٹ تھا جو میرے اور میرے رب کے بیچ آ گیا تھا۔تو میں فرصت سے دھرنہ دے کر بیٹھنے کی بجائے کیمرہ لئے ادھر ادھر پھرتی تھی۔ وہ آنسو جو بہانے کی وہ مقدس ترین گھڑیاں تھیں،وہ دہائیاں جو آج رات مجھے دینی تھی میری جھولی سے گر گئی تھیں،مجھے محروم مراد کر گئی تھیں،آج اس لمحے مجھے ادراک ہوا کہ یہ سودا خسارے کا تھا۔۔۔۔۔بے انتہا خسارے کا۔

عمرہ یا حج مکمل کر کے واپسی پر انساں تصور کرتا ہے کہ اسکا ایک بہت اہم کام کی تکمیل ہوئ۔یہ خبر واپسی کہ بعد ہوتی ہے کہ تکمیل نہیں ابھی تو آغاز ہوا۔اللہ کے گھر سے واپسی اللہ کے ساتھ اسکے بندے کا وہ ذاتی تعلق استوار کر دیتی ہےجو انسانی زندگی پر گرفت میں بڑی حد تک قادر ہے۔وہ خدا جو آج تک محض تلاوت ،مڈجد اور نماز میں فرض کیا جاتا تھا اسکی چوکھٹ کو تھام لینے کے بعد آپکا اپنا ہو جاتا ہے۔پھر وہ دل جنم لیتا ہے جو اس راہ پر ہر بار مرنا چاہتا ہے جو مکہ یا مدینے کے رخ جاتی ہو،یہ واپسی دل کو وہ یاد دیتی ہے جو انساں کو فنا کر دینے پر قادر ہے،انساں کو وہ ادراک دیتی ہے جو اس وسیع کائنات میں اسکی بے زری حیثیت کو معتبر کر دیتی ہے۔اگر آپ خوش قسمت ہیں تو اس سفر میں ملنے والے نگینوں کو دل و جاں سے لگا کر ہمیشہ کے لئے اپنی ہستی اور زندگی کا اک حصہ بنا لیتے ہیں اور اگر آپ ہمارے جیسے کم نصیب اور ان ہیرے موتیوں کے اہل نہیں تو بیچ راہ میں ہی اپنی جیب کٹوا بیٹھتے ہیں۔ان زیارتوں پر جانے والوں پر خدا وہ دن کبھی نہ لاۓ کہ انکی سب ریاضتیں مٹی میں ملکر مٹی ہو جائیں،انکے دامن کے ہیرے موتی کہیں کنکر نہ بن جاییں،اسکے دامن سے لپٹی رحمتیں اسے تنہا نہ کر جائیں۔چلیں ہم سب دعا کریں کہ خدا اپنے مقدس در کے صدقے ہمارے جیسے ہر کم نصیب کے نصیب کی حفاظت کرے،ایسے جیسے خود ہم کر نہیں پاتے۔ مجھے بھی خانہ خدا کو آخری بار الوداع کہتے میں بھی فتح مند قدم اٹھاتی یہی سوچتی نکلی تھی کہ زندگی کا اک اہم کام پورا ہوا یہ بہت بعد میں جانا کہ جو ہوا سب کا سب ادھورا ہوا۔تو اب یہ ادھورا کام پورا کب ہو گا اسکی خبر کسی کو نہیں۔خدا جانے پھر کب لائیں ہمیں یہ راستے واپس اس نور کی طرف کہ جہاں جا کر ہمارے میلے لباس بھی اجلا گئے تھے۔اگلےی صبح واپسی کے لئے جدہ کی طرف روانگی تھی اور دامن میں بھری آسودگی کے روپ میں تشنگی تھی جسے نجانے کب اس گھر کا مالک سیراب کرے۔

________________

مصنفہ و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

بشکریہ:اے آر وائ نیوز ڈاٹ ٹی وی

پورا سفر نامہ پڑھیں: سفرحجاز_اے آر وائ نیوز

Advertisements