غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا

💖

آپ مجھ سے شادی کریں گی؟؟؟ وہ فون.کی سکرین.کو دیکھ کر رہ گئی….آج تک جس کسی نے بھی ریکوسٹ بھیجی تو یہی لکھا ہوتا تھا….آپ بہت اچھی ہیں….ہائے! کیسی ہیں آپ؟…..آپ مجھ سے دوستی کریں گی؟؟……آپ لکھتی بہت اچھا ہیں……وغیرہ وغیرہ……مگر یہ کون احمق تھا جس نے اس کی توجہ حاصل کرنے کا نیا انداز ڈھونڈا تھا……بے ساختہ نگاہ پروفائل پر گئی……وہ جو کوئی بھی تھا….آنکھوں سے باتیں کرتا تھا……اس کی آنکھیں بندے کو اسیر کر لیتی تھیں….وہ اس کی پروفائل دیکھتی چلی گئی…..شارم مرتضی…..سول انجینئر…..کام.کی جگہ دبئی……دیکھتے دیکھتے ساری ٹائم لائن چیک کر لی…….تصاویر تو اس نے لگائی ہی نہیں تھیں…..ایک پروفائل پہ لگی تھی بس…..وہ بھی کمال تھی……سول انجیئرنگ کٹ پہنے…ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے وہ سامنے میز پر پھیلے نقشے پر دوسرا ہاتھ دھرے اوپر کیمرے کی جانب دیکھ رہا تھا………وہ مسحور کن حد تک بولتی آنکھوں کا مالک تھا……
جیا ……جیا…..بیٹا آپ کی پھپھو آ رہی ہیں……کچھ بنا لو..میں ذرا مارکیٹ سے ان.کی بہو کو دینے کے لیے کچھ لے آؤں….اچانک امی نے نیچے لاؤنج سے آواز لگائی تو اس محویت ٹوٹی…وہ وائی فائی آف کر موبائل دراز میں رکھ کر نیچے چلی آئی……پھپھو کیا آئیں.گھر میں بہار اتر آئی…..رات تک وہ کچن میں مصروف رہیِ….رات کو تھکاوٹ نے وہ سلایا کہ صبح فجر قضا ہو گئی…پھر یونی ورسٹی اور اکیڈمی کے کاموں نے اسے شام تک مصروف رکھا…رات سونے سے پہلے اسے خیال آیا کہ موبائل کے میسجز دیکھ لیے جائیں….
وائی فائی آن کرتے ہی میسیجز کا ایک ریلہ بہہ نکلا…..شارم مرتضی کے نوٹیفیکیشن وہ بھی اتنے زیادہِ……یہ کیا….ہی کب….وہ حیرت کا بت بنی ہوئی تھی….یہ کب ایکسیپٹ کی میں نے…….شارم کی ریکوئسٹ ایکسیپٹڈ تھی…مطلب کل کی بے دھیانی میں وہ ایکسیپٹ کر بیٹھی تھی……
شکریہ…آپ نے مجھے بات کرنے کا موقع دیا…
آپ نے میرے پرپوزل پر غور کیا؟؟؟؟
آپ مجھے مذاق مت سمجھیے گا…میں بہت سنجیدہ ہوں….
ہیلو…..جیا…..
جیا……….
آر یو دئیر؟؟؟؟
میں آپ کی کوئی تعریف نہیں کروں….کیونکہ مجھے آپ کوئی فلرٹ نہیں کرنا….
جیا….پلیز جواب دیں…….

وہ میسیجز دیکھ دیکھ کر حیران تھی…..اب کیا جواب دے…نہیں بلاک کر دیتی ہوں…..اک بار کرنے میں کیا حرج ہے..
نہیں…نہیں ..بلاک…وہ شش و پنج میں تھی کہ پھر میسج آیا….
شکر ہے آپ آن لائن تو آئی…ایک بار بات تو کریں…..
پھر اس نے جواب دے ہی دیا….
مجھے آپ سے کوئی بات نہیں.کرنی….بلاک کر رہی ہوں آپ کو…اللہ حافظ…
جیا …..میں اتنا برا بھی نہیں….شادی کرنا چاہتا ہوں آپ سے…………………….
اور پھر باتوں.کا سلسلہ درازہو گیا…وہ اس کے لفظوں کا اسیر تھا….وہ روز بات کرنے لگے…..پھر ایک دن اس نے اس کی آواز سنی تو اسے لگا چہار سو گلاب کھلے ہیں……اس کی آنکھیں ہی نہیں اس کا لہجہ بھی لو دیتا محسوس ہوتا تھا…….
پھر اس نے اسے بتایا اپنے گھر بار…بزنس…..اور دیگر مشاغل.کے بارے میں…..محبت کب ہو گئی پتہ ہی نہیں چلا……وہ اس پگڈنڈی پہ اتر گئے…….جہاں سے واپسی ممکن نہیں.ہوتی….

وہ بولتا بہت کم تھا مگر کمال بولتا تھا …کئی کئی دن سحر قائم رہتا…وہ مصروف بھی بہت رہتا تھا..جیا تو اکثر اس کے میسج کے انتظار میں.موبائل ہاتھ میں پکڑے پکڑے سو جاتی تھی……
شارم……..فون کان سے لگائے وہ ٹیرس پہ چلی آئی….
جی فرمائیں….جانِ شارم……وہ شوخی سے بولا…
آپ کے بہت قریب رہنا.چاہتی ہوں…اتنے پاس کہ سننے کے ساتھ محسوس بھی کر سکوں آپ کو…..
جیا….یکدم اس کے لہجے میں بے پناہ سنجیدگی در آئی…..
میں بھی آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں…..یقین کریں میری نیت میں کھوٹ نہ تھا اور نہ ہے….لیکن…….وہ. خاموش ہو گیا…..
لیکن کیا شارم؟…جیا کی روح ایک لمحے کو فنا ہوئی تھی….
مگر ادھر گہرا سکوت تھا…….بہت گہرا…روح کے اندر اترتا سکوت……
شارم بولیں پلیز…..وہ شاید رو دینے کو تھی…..
جیا آپ میرے ساتھ نہیں چل سکتی…میرے دل نے کھیلنے کو چاند مانگ لیا ہے..اور چاند تو آسمان پہ اچھا لگتا ہے..اسے زمیں پہ رولا نہیں جا سکتا…وہ الفاظ کسی تیر کی طرح دل میں اترے تھے…بولتے بولتے اس کا لہجہ بھیگ گیا تھا…..
شارم ایسا کیسے سوچ لیا آپ نے…..کیوں نہیں چل سکتی…اتنی کمزور لگتی ہوں آپ کو….وہ سچ میں رو پڑی تھی….
جیامیں ایک ایسے علاقے تعلق رکھتا تھا جہاں ابھی پانی اور گیس کی سہولت بھی میسر نہیں ہے……..اور آپ نے جس علاقے میں جنم لیا وہ سہولیات سے آراستہ ایک جنت ہے…..میں.آپ کو دوزخ میں لے کے نہیں جا سکتا…..بہت پیار کرتا ہوں آپ سے…..آپ تو شہزادی ہیں……محلوں پہ راج کرنے کو پیدا ہوئی ہیں….وہ شاید ضبط کی انتہا پہ تھا…

شارم.کیا بات ہے ..آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں…..شارم پلیز بولیے…بتائیے مجھے…..دو ماہ میں.کیسے اندازہ کر لیا آپ نے میرے بارے میں……شارم میں چلنا چاہتی ہوں آپ کے ساتھ….چاہے کھنڈر ہوں کانٹے ہوں یا گلاب….پلیز مجھے اکیلا مت چھوڑیں…….میں نے پہلے دن.کہا تھا آپ سے..مجھ اس راہ پہ مت لے جائیے گا جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو…..کتنی منتیں کی تھیں.آپ کی….وہ بری طرح سسک پڑی تھی…..اس کی جدائی کا تصور بھی جان لیوا تھا……اچانک فون کاٹ دیا گیا….وہ موبائل کی طرف دیکھ کر سسک پڑی……
اس پاگل کو کیسے سمجھاوں….نہیں رہ سکتا اس کے بغیر…..مگر اسے اپنا کر اسے جہنم میں کیسے جھونک دوں….لگا تھا عام سی لڑکی ہے……صرف لکھنے کا شوق رکھتی ہے…..مگر وہ تو کسی ریاست کی شہزادی ہے….کتنی معصوم..دلفریب ادا ہے اس کی……اسے ان سنگلاخ پہاڑوں میں.کیسے لے جاوں جہاں سال سال بھر وہ میری راہ تکتی رہے….میں اپنے ساتھ کب رکھ پاوں گا اسے…..وہ کال کٹ کر کے کتنی دیر اسی پوزیشن میں کھڑا رہا…اس کی آنکھوں میں اس کی ماں….اس کی تین جوان بہنوں کا سراپا لہرا گیا….اور وہ ہار گیا…دستبردار ہو گیا اپنی محبت سے…..اپنے خواب بہنوں کی آنکھوں کو سونپ دئیے تھے…..بھائی کو ڈاکٹر بنانا تھا….
وہ میرے بعد کسی کا اعتبار نہیں کر پائے گی……..وہ موبائل کے وال پیپر پہ جگمگاتی اس کی مسکراتی آنکھوں میں آنسو سمو گیا تھا …..جیا مجھے معاف کر دینا….بہت دکھ دیا نا تمہیں…..وہ بےبسی سے بس اسے سوچے گیا.
ہفتہ پورا وہ ایک دوسرے کے منتظر رہے…….کون پہل کرے گا…….

تیری جستجو تیرا خیال تیری ہی آس ہے
آ دیکھ تو سہی تیرے بغیر کوئی کتنا اداس ہے……
وہ اس کا سٹیٹس دیکھ کر تڑپ گیا تھا……
جیا….خفا ہو؟؟؟؟….پلیز جیا بولو….جیا مجھے پریشان کر رہی ہو آپ…بولو تو…کتنے ہی میسج وہ پڑھ کے اگنور کر رہی تھی…..
اس نے کال کی تو کاٹ دی گئی….جیا میرا روم دسویں.منزل.پہ ہے کود جاوں گا میں…..اس نے ٹائپ کیا….
شارم……یہ کیا بدتمیزی ہےوہ بری طرح کانپ کے رہ گئی تھی
…..میں تو قابل نہیں آپ کے پھر کیوں میسج کرتے ہیں.مجھے….
جیا ایسا نہیں ہے.. بہت پیار کرتا ہوں آپ سے..مگر آپ میرے ماحول میں ایڈجسٹ نہیں ہو پاو گی…..
یہ کیسا پیار ہے..محبت مجھ سے ..شادی کسی اور سے……وہ شاید اندر کہیں سلگ رہی تھی…..
جیا شارم شادی نہیں کرے گا….اگر جیا کو نہیں اپنا سکتا تو کسی اور کا تو سوال ہی پیدا نہیں.ہوتا…وہ ان.کی باضابطہ آخری گفتگو تھی…….
اب ہم بات نہیں.کرتے….چپکے چپکے ایک دوسرے کے سٹیٹس دیکھتے ہیں……..محبت کے اس عروج پر ہیں کہ لفظوں کی ضرورت نہیںِ……لیکن دھڑکنوں کی تال پہ رقص اب بھی جاری ہے……..لوگوں کو غربت مار جاتی ہے….مجھے امیری کھا گئی ….. یہ جو محبت کرتے ہیں نا اور یقین نہیں کرتے…ان کو تو توپ سے اڑا دینا چائیے……آج بابا نے مجھے کسی اور سے منسوب کر دیا ہے…شارم سوچ رہی ہوں کسی سے زیادتی نہیں کرنی چائیے….دل نہیں دے سکتی تو وہ میرے جسم کا کیا کرے گا اور اب کے اعتبار کیسے کر لوں وہ بھی تو مرد ہے شارم تم نے مجھ سے مرد کا اعتبار چھینا ہے……ایک بار تو اعتبار کر کے دیکھتے….وہ لکھتے لکھتے ڈائری پہ سر رکھ کے سو گئی تھی…..مگر اب کی بار اسے اٹھنا نہیں تھا…..کسی کی صدا پہ نہیں…..کہ اب اس نے اپنے دل اور دماغ کے سارے ایپس ان انسٹال کر دئیے.. بلکہ سانسوں کے انٹر نیٹ کو ہی بلاک کر دیا تھا…کہ کہیں بے دھیانی میں وہ پھر سے کوئی ریکوئسٹ ایکسیپٹ کر بیٹھے….
شارم پتر دس سال گزر گئے….اب تو واپس آ جا….ان کی آواز ریشہ سے کانپ رہی تھی……
آ جاؤں گا اماں اگر آپ شادی کا نام نہ لینے کا وعدہ کریں….وہ ان کے روز روز کے بلانے پر ہتھیار ڈالنے جا رہا تھا….
اچھا نہیں.کرتی…بس تو آ جا آنکھیں.ترس گئی ہیں…..بے قراری ان کے لہجے سے عیاں تھی..ِ..
اچھا اگلے ہفتے آ رہا ہوں…..اللہ حافظ….وہ کال بند کر کے موبائل بیڈ پہ اچھالتے اچھالتے رک گیا……
جیا میں تمہارا اعتبار نہیں توڑ سکتا…نہ تمہارے علاوہ کسی کو سوچ سکتا ہوں…..مرد ہوں تو کیا….بھائی بہنوں کی محبت سے مجبور ہو کر تمہیں کھو بیٹھا…مگر تمہاری محبت کا مان سلامت رکھوں گا…..ورنہ کوئی لڑکی مرد کی وفا پہ بھروسہ نہیں کر پائے گی…..وہ سکرین پہ مسکراتے اس کے لبوں کو اپنے لبوں تک لے آیا تھا….
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا…..اس کے کانوں.میں جیا کی آواز گونجی……
تمام رات قیامت کا انتظارکیا…..
وہ دھیرے سے سر گوشیانہ انداز میں بولا تھا…

____________________

مصنفہ:رضوانہ نور

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements