وصل__________از صوفیہ کاشف

💖

پھولوں اور خوشبوؤں سے بھرپور اک باغ تھا جسمیں ہر طرف روپہلے،اودے،کاسنی،قرمزی،نارنگی جامنی اور گلابی پھول اوپر نیچے،دائیں بائیں بھرے ہوے تھے۔روش کے گرد کھڑی مہرابیں،کناروں پر رکھے سینکڑوں گملے اور پرندوں کے مجسمے،طنابیں اور چھپریاں سب کی سب پھولوں سے یوں شرابور تھیں کہ جیسے اس بوندا باندی سے کچھ پہلے گل وگلزار کا موسم طوفانی بارشیں برساتا گزرا ہے اور اب ہر اوڑھ ہر نکڑ پر ،ہر گملے اور ہر چبوترے پر ڈھیروں ڈھیر پھول دائیں بائیں ہوا کے سنگ بارش کے بعد والے قطروں کی مانند ٹپکتے ہیں۔اسی باغ کی خوشبوؤں اور کلیوں سے لدی اک چھپری میں’ میں اور وہ اک ساتھ داخل ہوے تھے ایسے کہ ٹکراتے ٹکراتے سنبھل گئے تھے۔ بیلوں کی لچکیلی ٹہنیاں نیچے کو گرتیں اور پتوں سے جھڑتی بونداباندی قطرہ قطرہ بینچ کو گیلا کرتی تھیں۔پاوں تلے ہری گھاس کا نرم ملائم غالیچہ بچھا تھا۔پہلی نگاہ میں ہی اسکا چہرہ مجھے آشنا سا لگا تھا یوں جیسے اسی چہرے کو کسی پچھلے جنم میں بہت تکا ہو یا جیسے کوئی سات پشتوں پیچھے میرا اس سے کوئی گہرا ربط رہا ہو۔اسکی آنکھوں میں بھی گمنام سی آشنائی کی رمق سی اُبھری اور ابھر کر پھر سےآبس میں کھو گئی تھی۔

“آپ یہاں بیٹھنا چاہتے ہیں؟”میں نے استفسار کیا۔وہ خوبصورت چوڑی پیشانی اور کتابی چہرے والا مؤدبانہ مسکراہٹ سے گویا ہوا تھا۔

“جی_ارادہ تھا مگر کوئی بات نہیں!آپ چلیئے میں پھر آ جاؤں گا”.

“نہیں!اسکی ضرورت نہیں! مجھے آپ کے ساتھ بیٹھنے پر کوئ اعتراض نہیں!”میں نے اسے فیاضانہ پیشکش کی تھی۔اور ہم دونوں اس خوش رنگ پھولوں سے لدے ہٹ میں داخل ہوے تھے۔ہٹ کے وسط میں کھڑے ہو کر اس نے آنکھیں بند کیں اور اندر کی خنک ہوا کا گہرا سانس بھراجیسے نجانے کب سے ہوا کے ان چند سانسوں کی آس میں ترس گیا ہو۔اور میں نے____ بینچ کی گیلی سطح پر ہاتھ پھیرا تھا جیسے صدیوں سے اس لمس کے لیے میں نے تپسیا کاٹی ہو۔

“آپ بھی کسی کو ڈھونڈنے آئی ہیں؟”

“ہوں۔۔۔۔۔۔۔”اسکے الفاظ نے مجھے چونکا دیا تھا.میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔”ہاں___بہت عرصہ پہلے یہاں پر میرا کچھ کھو گیا تھا!”

میری نگاہیں دور کی کیاریوں میں سجے دھنک رنگ گلابوں پر رکتی تھیں اور پھر تھوڑی تھوڑی دیر بعد لپک کر اسکی نگاہوں کی طرف لپکتی تھیں جیسے انکا مرکز گلابوں میں نہیں ‘ اسکی آنکھوں کی گہرائیوں میں ہو۔

“تو پھر ملا کیا وہ؟”

“سب تو نہیں___بس زرا سا !______________اور آپ؟؟”پھولوں سے خالی نظریں پھر اسکی نگاہوں کی اوڑھ لپکیں۔

“ہاں۔۔۔۔۔میں بھی!___کسی کو ڈھونڈتا یہاں تک آ پہنچا ہوں!”

“____ کیسے کھو گیا تھا؟”میں نے اسکے لہجے کی گہرائی میں اسکی دبی خموش آہوں کو سن لیا تھا!”

“بہت کمزور اور ناداں تھا میں____ زندگی کو محض مذاق سمجھتا تھا___مذاق ہی مذاق میں اپنے آپ کو بھی کھو بیٹھا اسکے ساتھ!”______انجانے میں میں نے بیل کا اک پتا توڑا اور مروڑا تھا۔

“آپ___؟؟؟”

اسکی سمت دیکھا پھر۔

“میں زندگی کے لئے اسقدر سنجیدہ تھی جتنی وہ میرے لئے نہ تھی۔”اک گونگی سِسکی میرے لبوں سے بھی پھسلی تھی۔”زندگی مجھ سے مذاق کرتی رہی اور میں اسکے مذاق کو محبت سمجھ کر گلے سے لگاتی رہی!”

“پھر؟……”

“پھر میری محبت اسکے مذاق سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو گئی!”

“اُسکا کیا ہوا؟”میں متجسس تھا

“وہ مذاق تھا___ قہقہوں کے سنگ بکھر گیا!”

مدہم بارش کی مدھرِرِم جھم میں ہم وہاں بیٹھے اک دوجے کے لیے دلوں میں ترس اور ہمدردی لئے اور دل میں اٹھتی ٹیسیں دبائے اک دوجے کو دیکھتے رہے۔میری آنکھوں سے ندیاں بپھرنے لگیں اور اسکے ضبط کے کنارے چھوٹنے لگے تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

“چلو___تمھیں اک جگہ دکھاتا ہوں” میرا ہاتھ پکڑے وہ مجھے چھپری سے باہر لے آیااور ہم بوندا باندی سے بھیگتے گیلی لال اینٹوں کی راہداری پہ چلنے لگے۔سڑک کنارے چند قدم پر کوی رنگین ٹھیلا بھٹے کا،کوی ڈرائی فروٹ کا تو کوئی کپ کیک کا سجا تھا۔روش کے آخر میں اک پھیلے کھلے چوڑے اینٹوں سے بنے تختے پر سارسوں کے مجسموں کے ساتھ قدآدم سے بھی بڑے لال رنگ کی دھات سے بنے اور سرخ پھولوں سے سجے کچھ دل بنے تھے۔اس نے مجھے ایک دل کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا۔

“یہاں کھڑی ہو کر اس نے مجھ سے محبت کا اظہار کیا تھا!”اس دل کی طرف منہ کئے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھوں پر سر ٹکا کر جیسے خود کو سنبھالنے لگا۔

“اسی کے سامنے مجھے اس نے ٹھکرایا تھا____!”میری پلکوں سے کنارے چھلک چکے تھے اور میری گردن اور قمیض کا کالر بھیگنے لگا تھا۔

“اس نے کہا وہ مجھ سے پیار کرتی ہے”

“اس نے کہا تھا اسے پیار پر بھروسہ ہی نہیں!”

” مجھے زندگی محض مذاق لگتی تھی”وہ اپنی ہی رو میں گم تھا میں اپنی سوچ میں غلطاں!

“مجھے اسکے بغیر زندگی عذاب لگتی تھی!”.

“اس نے کہا ‘مجھے ہمیشہ کےلئے اپنے پاس رکھ لو____کسی پرانی قمیض کی جیب میں’!”

“اس نے کہا’میری جیبوں میں سوراخ ہیں____سب کچھ گرا بیٹھتی ہیں!”

وہ بند ہتھیلیوں پر سر جھکائے جھکتا چلا گیا جیسے اک توبہ کا سجدہ کرنا چاہتا ہو یا یا اپنے گناہوں کا سارا بوجھ صلیب پر کھنچے کرائسٹ کے کاندھوں پر الٹا دینا چاہتا ہو۔میں اسکا جھکا سر دیکھ دیکھ گلے میں پڑے سکارف سے چہرہ اور آنکھیں رگڑتی رہی۔ہماری نگاہیں ملیں تو اک دوجے کا درد اپنی جھولی میں بھر لینے کو مچلیں،ہمارے دل اک دوجے کے کاندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ رونے کو ترسے۔عجب سی آشنائی تھی ہمارے بیچ اور عجیب سی بیگانگی!

اب میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا لیا۔

“چلو______ میں تمھیں کچھ دکھاؤں!”

میں اسکا ہاتھ تھامے تقریبا دھکیلتی اک سمت چل پڑی۔وہی بارش کی سرگوشیاں،وہی آس پاس مسکراتے گنگناتے لوگوں کی اٹھکیلیاں،وہی گیلی روشیں ،مہکتی بیلیں۔ہم ایک بڑی اونچائی کے قریب سبزے اور پھولوں سے بنے اک بڑے گھڑیال کے کنارے جا پہنچے۔لال جامنی اور گلابی پھولوں سے بنی اک چھوٹی سی پہاڑی پر دلنشین پتوں اور دھنک رنگ پھولوں سے یہ گھڑیال بنا تھا جسکی بڑی بڑی سفید سویاں بالکل ٹھیک ٹھیک وقت بتاتی تھیں۔میری سانسوں کو کسی نے سختی سے مٹھی میں لیا تھا____

“__________یہاں وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا تھا!”

“پھر واپس بھی تو آیا تھا ناں___ یہیں!___”اب سوال میرے تھے اور جواب اسکے

” تب لوٹ کر آیا تھا جب میں کہیں نہیں تھی۔

_____اسکے آنے سے قبل ہی یہاں گر کر مر چکی تھی_____”

“ہاں___وہ کہیں نہیں تھی____اس دن مجھے اسکی محبت کی بددعا لگی تھی۔میں یہاں سے نکلا تو کہیں کا نہ رہا۔میرے جیون کی ہر راہ ہر نکڑ نے اسے پکارا!”

“بہت دیر کر دی تھی ______اسکی زیارت ہی میری زندگی تھی۔وہ نہ رہی تو زندگی کی سانس ہی رک گئی______ اک بھول ہوی تھی مگر میں توبہ کے لیے تڑپتا رہا!میں نے کتنے سجدے کئے ،کیسی کیسی مرادیں مانگیں کہ اک بار معافی مل جاے”۔

“معافی کا وقت گزر چکا تھا______کچھ دستکیں صرف ایک بار ہوتی ہیں۔”

“____ دستک پر دروازہ نہ کھولنے والے بدنصیب ہوتے ہیں۔”

وہ آستین سے آنکھیں پونجھنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” محبت ٹھکرا دینے والے ہمیشہ محبت کے لیے دربدر دھول بن جاتے ہیں۔”

میں مڑ کر اسکی طرف رخ کرکے گھٹنے ٹیک کر اسکے قدموں میں بیٹھ گیا ایسے کہ میری بصارتوں میں سوائے اسکی آنکھوں کے جلتے دیوں کے اور کچھ نہ رہا۔ساری کائنات منجمد ہو گئی۔بلاآخر میں نے اسکی نگاہوں کی حدتوں کو پہچان لیا تھا اور وہ میرے لہجے کی تھکاوٹ سے آشنا نکلی تھی۔

“آخر میری صدائیں تمھیں ڈھونڈ لای ناں_____ مجھے معاف کر دو سارا!_____”میں نے اسکا ہاتھ اک مقدس سہارے کی طرح اپنے ہاتھوں میں تھاما۔اسکا بھیگا چہرہ کچھ نہ کہہ سکا۔سارا نے اپنے باییں ہاتھ سے میری آنکھیں پونجھیں۔میرے چہرے کو تھاما اور کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی ایسے کہ جیسے صدیوں کے پیاسے کی پیاس اب بجھنے کے قابل بھی نہ رہی ہو۔اسکی نگاہوں میں وہی محبت تھی جو کبھی اسکا غرور اور میرا مذاق تھی اور میں______ آج بھی اک مذاق ہی تو تھا اور وہ____ آج بھی اک غرور ہی تھی۔اسکے چہرے پر ندیوں کے نشاں تھے جو اب سوکھنے لگی تھیں۔پھر اس نے میرے گیلے بکھرے بالوں کو سنوارا اور اک آہ زدہ مسکراہٹ سے کہا

“آج کے بعد بھٹکنا چھوڑ دینا!”

اسکی مسکراہٹ پر میں سر پٹخ پٹخ کر رو سکتا تھا۔میرے ہاتھوں میں اسکا نرم و نازک ہاتھ جیسے روی اور پھر روی سے ہوا ہونے لگا اور میرے قدم بھی زمیں سے اٹھ کر ایک ہوا سے ڈولتی بدلی سی بننے لگے۔ہمارے سفید دھواں دھواں سے وجود کشش ثقل سے نکل کر اس سے پہلے کہ عالم غائب کی طرف پھر سے لوٹتے ،اسکی بہار سی خوشبو سا وجود میں نے اپنی بدلی نما بانہوں میں لپیٹ لیا تھا ۔ بادلوں سے آسمانوں کی سمت چلتے اک روح میں ہمارے دو دل دھڑکتےتھے۔

__________________

تحریر و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements