ووٹ اور میں__________رابعہ بصری

⁦🇵🇰⁩
ہم سب فیملی ممبرز کا پلان تھا کہ اپنے ووٹوں کی لوکیشن تبدیل نہیں کرینگے اورراولپنڈی کے آبائی گھر میں سب اکٹھے ہونگے سو سنسان اسلام آباد سے نکلے اور راولپنڈی کے دل” فوڈ مارکیٹ کرتارپورہ” جاپہنچے پنڈی داخلے کے ساتھ ہی جو گہماگہمی جو ہلچل نظر آئی وہ عروج پر تھی ۔۔
اللہ کا نام لے اپنے مقررہ پولنگ سٹیشن پہنچے ۔۔ پولنگ سٹیشنز میں انتظامات کے نقائص پہلے قدم پر ہی نظر آگئے۔
میرے مقررہ پولنگ سٹیشن کے باہر بیحد ہجوم تھا ۔۔فوجی جوان مستعدی سے کھڑے اور گردو پیش پر نظر رکھے ہوئےتھے ۔ جیسے ہی گیٹ سے اینٹر ہوئی دو آرمی کے جوان مزید اندر موجود تھے گیٹ کے اندر ایک خاتون کرسی پر براجمان تھیں جو اٹھ کے کسی کے بیگز تک چیک کرنے کی زحمت نہیں کر رپی تھیں بس پوچھ رہی تھیں موبائل تو نہیں ؟ ہے تو باہر جمع کرواکے آئیں ۔۔ میں شرافت سے مڑی ۔۔ باہر جاکے بھائی کو موبائل تھمایا لیکن اندر داخل ہوئی تو کچھ دور دو لڑکیوں کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کے اپنی شرافت پر باقاعدہ افسوس ہوا 😂
دو لمبی قطاریں دیکھِِیں تو پاوُں تلے سے زمین باقاعدہ کِھنچتی محسوس ہوئی لیکن عزم پختہ تھا سو ڈٹ گئی ۔۔پنکھوں یا کسی قسم کی اس طرح کی سہولت کا انتظام نہیں تھا سو سب پسینوں میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن جم کے کھڑے تھے کہ بھئی قومی فریضہ نبھانا ہے ۔۔سب کی گپ شپ جاری تھی سب متجسس تھے کون کس کو ووٹ دے رہا ۔۔آگے کھڑی خاتون نے مڑ کے سلام کیا اور مسکرا کے گفتگو کاسلسلہ شروع کیا ۔۔ لطف کی بات دو اسکول کی کلاس فیلوز مل گئیں اور ایک کالج کی پروفیسر ۔۔سو ان سے حال احوال دریافت کیا ۔ سبھی پرجوش تھیں لیکن مجھے مسلسل امی کی فکر تھی جو اپنا ووٹ کاسٹ کرکے گاڑی میں میری منتظر تھیں کہ ساتھ جانا تھا ۔۔
اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو خوش قسمتی سے ایک فرشتہ دِکھ گیا جو محض پچیس سے تیس منٹ بعد مجھے پورے پروٹوکول سے اندر لے گیا اور لمبی دو قطاروں میں کھڑی خواتین نے باقاعدہ دہائی دی لیکن میں ڈھیٹ بنی چلتی رہی ۔۔ امی آلریڈی منتظرجو تِھیں جو چلنے پھرنے سے معذور ہیں اور میری منتظر تھیں کہ فری ہوجاوُں تو اکٹھے واپسی ہو ۔۔ میں بھی اسی ایک مسئلے کی وجہ سے ڈھیٹ بنی رہی ۔۔
اندر پہنچی تو پولنگ ایجنٹس نےتو محض تیس سیکنڈ میں فارغ کردیا پریزائڈنگ آفیسرز بیحد خراب موڈ میں نہایت سستی سے مصروفِ عمل تھیں شاید تھکن کی وجہ سے کہ آسان نہیں صبح سے شام تک ایکٹو رہنا وہ بھی کسی وقفے کے بغیر ۔۔
خیر اپنے امیدوار کو ووٹ دے کے نکلی اور جیسے ہی گاڑی میں بیٹھی موبائل سنبھالا کزن کا میسیج ایک تصویر کے ساتھ موجود تھا جس نے مجھے حقیقتاً جٙلا ہی دیا اور پہلی بار اپنی شرافت بیحد ناگوار گزری وہ تصویر بھی شئیر کرتی ہوں اور وجہ بھی آپ لکھے بنا جان جائینگے کہ وہ محترمہ موبائل پولنگ سٹیشن لے جاکے ثبوت کے طور پر تصاویر بھی کھینچ چکی تھی ووٹ پول کرتے ۔۔ 😂 اپنے آبائی گھر کی طرف واپسی ہوئی تو جو راستہ دس منٹ کا تھا وہ پینتیس منٹ میں طے ہوا کہ راولپنڈی جاگا ہوا ہے اور بھرپور جاگا ہوا ۔۔ کچھ دیر بعد اسلام آباد اپنے گھر کو نکلے تو راستے میں اتنی رونق ، گہماگہمی دیکھ کے میری بیٹی بولی
“Mama pindi is so noisy ”
اور میں یہی سوچتے خاموش اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوئی کہ ہمارے بچے ان تمام نعمتوں سے محروم ہیں جو ہم نے اپنے بچپن میں انجوائے کی تھی ۔۔نعرے ، ایکسائیٹمنٹ اور جھنڈے اٹھا کے دیوانہ وار گھومنا وغیرہ وغیرہ

____________________

مصنفہ و فوٹوگرافی: رابعہ بصری

Advertisements

4 Comments

Comments are closed.