ووٹ اور میں________ڈاکٹر سلمی مسعود خان

⁦🇵🇰⁩”ووٹ کاسٹ کر کے ابھی لوٹی ہوں. مجموعی طور پرخوشگوار تجربہ رہا. نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بہت مہذب طریقے سے گائیڈ کر رہے تھے ووٹ ڈالنے کے لئے ہر آنے والی خاتون قطار میں اپنی باری کی منتظر تھی. بہت بڑی تعداد میں لوگ جوق در جوق پولنگ اسٹیشن پہنچ رہے تھی. کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پولیس اور فوج کے جوان موجود تھے. اور حسب ضرورت لوگوں کی راہ نماءی کا فریضہ بھی انجام دے رہے تھے. مختلف پارٹیوں کے امیدوار اپنے لوگوں کو لنچ اور کولڈ ڈرنک کی ترسیل میں مصروف تھے. ایک بہت بڑی تعداد میں ان خواتین سے ملاقات ہوئی جن سے زندگی کے مختلف ادوار میں شناسائی رہی. وہ جو یونیورسٹی میں ایم ایڈ میں شاگرد تھیں. یا بیکن ہاوس سکولوں کی پرنسپل شپ کے دوران اساتذہ کی ٹیم میں شامل رہیں. یا وہ شاگرد جو تعلیم کی تکمیل کے بعد معزز عہدوں پر فائز ہیں. یا وہ پڑوسی یا دوست جن سے برسوں سے مصروفیات کے باعث رابطہ منقطع تھا. غرض ایک میلے کا سا سماں تھا. بلڈنگ کے باہر نوجوان لڑکے اپنی گاڑیوں میں بآواز بلند موسیقی لگائے ماحول کو گرما رہے تھے. لوگوں کی کثیر تعداد کا امڈ آنا اس بات کا غماز تھا کہ آخرکار پاکستانیوں کو بھی ہر انفرادی ووٹ کی اجتماعی طاقت کا احساس ہونے لگا ہے. اندر ڈیوٹی پر موجود تمام خواتین سواءے ایک کے کافی خوش مزاج اور مدد کرنے کے جذبے سے آشنا تھیں. وہ ایک خاتون یا تو عادتاً کرخت مزاج تھیں. یا زبردستی ڈیوٹی پر بھیجی گئی تھیں. بات بے بات آواز میں تحکم اور درشتگی عود کر آتی. اور اگر کوءی سوال دہرا دیتا تو ان کا پارہ چڑھ جاتا. کان بند ہیں کیا؟ ایک دفعہ بتا چکی ہوں. اب ذرا انتظار کرو اور ایک طرف کھڑی ہو جاو. ان کی اس گرجدار آواز سے باقی لوگوں کی ان چاہی توجہ ملنے پر سوالی خواتین جھینپ سی جاتیں. گرمی کافی تھی. ان تک غالباً پنکھے کی ہوا پہنچ نہیں پا رہی تھی یا صحت کا کچھ مسئلہ تھا. جو وجہ بھی تھی انکی طبیعت کی بےزاری عروج پر تھی. اور اس کا خمیازہ بہتوں کو بلا سبب خاص بھگتنا پڑ رہا تھا. میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد واپس جاتے ہوئے اس کمرے کی پریذاءیڈنگ آفیسر (جو یونیورسٹی میں میری سٹوڈنٹ تھیں اور آج تیرہ برس کے بعد مجھے پہچاننے میں پہل کرتے ہوئے بے حد محبت اور عقیدت سے ملی تھیں) کو اللہ حافظ کہنے کے لیے گئی تو نہ چاہتے ہوئے بھی ان خاتون کی بد مزاجی اور ان آفیسر کی انہیں روکنے سے چشم پوشی کی وجہ جاننا چاہی. تو ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولیں. میڈم یہ ایک قابل اور فرض شناس استاد ہیں لیکن جب سے ان کے شوہر اور دو بھائی قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوءے ہین تب سے یہ بھت چڑچڑی اور بد مزاج ہو گئی ہیں. ہر وقت افسردہ اور چھوٹی چھوٹی بات پہ طیش مین آ جاتی ہیں. یہ سن کر نہ صرف میری آنکھیں پرنم ہو گئیں بلکہ دل ڈوب سا گیا. ہم سب ایسی اموات یا شہادتوں کے بارے میں خبروں میں پڑھتے اور سنتے ہیں. اور چند ساعتوں کے افسوس کے بعد اپنی اپنی مصروفیات میں مگن ہو جاتے ہیں. کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ان جانے والوں کے پیچھے رہ جانے والے ہمیشہ کے لئے کلی یا جزوی طور پر ناکارہ ہو جاتے ہیں. زندگی کے فرائض و ذمہ داریوں کو جب تک سانس باقی ہے نباہ رہے ہوتے ہیں ان کے دلو دماغ پہ کیا گزرتی ہے صرف وہ اور ان کا خدا ہی جانتا ہے. اس خاتون کے حوالے سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امن کی بحالی اور قیام کے لئے جو قربانیاں صوبہ خیبر پختون خواہ اور بالخصوص قبائلی علاقوں کے لوگوں نے دی ہیں. پورا پاکستان ان کا حق ادا نہیں کر سکتا. اس بظاہر بد مزاج خاتون کے شب و روز کس اذیت بے بسی اور غم میں گزرتے ہوں گے. زندہ رہنے کے لئے غم روزگار سے چھٹکارا تو نہیں اور نہ کوئی ان کے غم کا مداوا کر سکتا ہے. ہاں یہ عہد ضرور کرنا چاہیے کہ اگر کسی مردوزن کا غیر معمولی یا مایوس کن رویہ دیکھیں تو ان کے بارے میں منفی رائے دینے یا قایم کرنے سے اجتناب کریں. اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حال پر رحم کرنے کی دعا ضرور کریں”

_________________

تحریر:ڈاکٹر سلمی مسعود خان

بشکریہ:Young Women Writers Forum, Islamabad

فوٹوگرافی: رابعہ بصری

Advertisements