غزل

🌺اپنے غم میں کسی کا گھر جلاؤں کیوں؟
اشک مقیم آنکھ میں، اُسے بےگھر بناؤں کیوں؟

بےفائدہ اس جہاں میں کسی کو دکھ سنانا،
پھر اپنی داستاں سے کسی کو ستاؤں کیوں؟

میں ہوں شبِ تاریک میں اک قطب ستارہ،
تنہائی سے اپنی پھرکبھی گھبراؤں کیوں؟

سچ کو ضرورت نہیں کسی آرائش کی،
اپنے سخن کو میں لگی لپٹی بناؤں کیوں؟

زمانے سے ہٹ کر چلنا اپنی عادت ہے
خیال کو تمھارے میں زباں بناؤں کیوں؟

میرے عروس البلاد کو مقتل بنا دیا،
تُمہیں مسندِ اقتدار پر میں بٹھاؤں کیوں؟

مغرور ہیں تو رہا کریں اپنے غرور میں،
اپنی عاجزی، ان کے غرور کوبڑھاؤں کیوں؟

بڑا دعوٰی ہے آپ کو ہماری سوچ کے فہم کا،
پیامِ دلِ کج فہم بدستِ پیامبر بھجواؤں کیوں؟

محجوب رہنا ہمیشہ ہی شاملِ عادت رہا،
ابرِ غم پس و پیش منڈلائیں تو ہٹاؤں کیوں؟

جان کر بھی خود کو اُس سے دور کر لیا،
اب جدا اپنی اصل سے، نہ پچھتاؤں کیوں؟

منکسر ہونا بےشک سرشتِ خوش ہے،
اب اِس قدر بھی مگر خود کو گھٹاؤں کیوں؟

وجہ بے وجہ منتشر رہنا تو معمول ہے اُن کا،
تو ہر دفعہ پھر میں ہی مناؤں کیوں__

____________

شاعرہ:~نورالعلمہ حسن

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements