وہ معصوم لڑکی

🌹

وہ بارش ہوتے ہی کھڑکی کے پٹ کھول کر
دیر تک بھیگتے رہنا
وہ بادلوں سے کہنا
ارے اب آئے ہو تو برس کر دکھاؤ
وہ شیشے پہ گرتی بارش کے قطروں سے باتیں
جو پارٹی پہ جانا تو
میچنگ کی پالش ناخنوں پہ لگانا
اور سینڈلوں کے اسٹریپ بند کرتے ہوئے
ڈانٹ کھانا
نمازیں پڑھو گی تو
اسکا کیا کرو گی
کھانا پکانا اور داد کی خاطر
مہمانوں کے سر پہ کھڑے رہنا
وہ بے چینی سے کبھی امی کو تکنا
کبھی آنے والی آنٹی پہ نظریں ٹکانا
وہ گرمی کی دوپہروں میں چھپ چھپ کر بڑوں کی نظر سے بچا کر امی کے رسالے پڑھنا
وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دیکھنا
گھر والے
ابھی سوئے کہ نہیں
وہ آدھی آدھی رات کو چائے بنانا
اور نصرت کو سننا
وہ کانوں میں ہیڈ فون لگائے ٹیرس میں چاند کو تکنا
اور مسکرانا
اندازے لگانا
کہ آج بارہویں ہے کہ چودہویں ہے
قلم کو انگلیوں میں گھمانا
اور ڈائری پہ غزلوں کو نظموں کو نقل کرنا
شاعری کی کتابوں کے صفحے موڑ دینا
کہ عجلت میں ضرورت پڑے تو
موقع کی نسبت سے شعر مل جائیں
ناول ، کہانی ہو یا کوئی افسانہ
رات کے رات ہی نبٹانا
اور چشمہ لگانے پہ ڈانٹ کھانا
پوری رات جاگتی ہو
کتابیں آنکھوں سے چپکائے رکھتی ہو
نظر پر اثر نہ ہو تو اور کیا ہو
وہ ایک نقطے پر گھنٹوں سر کھپانا
اور سامنے والے کے نہ ماننے پر
دیر تک کڑھنا اور خون جلانا
مگر اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے
وہ باتیں پرانی
کہیں کھو گئی ہیں
راتیں آنکھوں کے ہلکے بنے ہیں
چاند کی چاندنی
بالوں میں اترنے لگی ہے
کوئی معصوم لڑکی
زمانے کی بے حسی
سہتے سہتے
مرنے لگی ہے __

________________

شاعرہ:عظمیٰ طور

فوٹوگرافی:فرحین خالد

Advertisements