“جادوگر”__________ثروت نجیب

مجھے پشاور سے بسلسلہ روزگار مسقط آئے چند دن ہی ہوئے تھے ـ ہمیں ایک جزیرے پہ جہاں سمندر سے بجلی بنائی جاتی تھی ایک کیمپ میں رکھا گیا تھا ـ کیمپ میں کوئی پانچ کمرے تھے ‘ہر کمرے جن میں تین تین لڑکے تھے’ اور ہندوستانی کک باوچی خانے سے متصل کمرے میں رہتا ـ سب ہی نئے بھرتی ہوئے تھے ـ صحرائی ماحول ‘ رطوبت بھری ہوا ‘ سردی برائے نام اجنبی شھر اوپر سے کیمپ میں بھانت بھانت کے روم میٹ ‘ میرا دل بلاوجہ اداس ہوجاتا ‘ گھڑی گھڑی گھر کی یاد ستانے لگتی ـ ہمارے کمرے میں کیرالہ کا ملیالی یتین چندر اور تامل ناڈو سے جارج ـ امی کو جب پتہ چلا کہ میرے ساتھ غیر مذہب لڑکے رہتے ہیں تو نصیحتیں کرنے لگیں ” بیٹا پاکی ناپاکی کا خیال رکھنا’ ہندو ‘ عیسائی کے برتن سے نہ کھانا’ اور دیکھ ذرا فاصلے سے رہنا ـ ایسا نہ ہو بساط پسارے تو ان میں گھل مل جا ‘”
میں نے کہا ” امی کون سا کالج کا بانکا ہوں اب یہاں روزی روٹی کمانے آیا ہوں کلب تھوڑی آیا ہوں اب خواہ مخواہ کی فکر نہ کیا کریں ـ میں بہت احتیاط کروں گا ـ
پر میں کیا احتیاط کرتا وہ تو خود مجھ سے یوں کنارہ کر کے چلتے جیسے بارش کے پانی میں چھینٹوں کے خوف سے لوگ سفید کپڑے سمیٹ کر چلتے ہیں ـ
یتیش کمزور ‘پتلی پتلی ٹانگیں ‘ چمکتی ہوئی مُشکی جلد ‘ چونے کی طرح سفید دانت ‘ ابھری ہوئی آنکھیں گھنے سیاہ بال چمک ایسی جیسے تیل لگا رکھا ہو ہلکی نیلی جین پہ ٹی شرٹ جسے وہ دو دن بعد بدل دیتا پر پینٹ وہی رہتی ـ
پراسرار ایسے جیسے کسی خفیہ مہم پہ آیا ہو ـ ہم دونوں ایک ہی پوسٹ کے لیے آئے تھے اب ہم میں سے کسی ایک نے ہیڈ بننا تھا اس لیے بھی ہم ایک دوسرے سے اکھڑے ہوئے تھے شاید ـ یتیش تو پانی کی بوتل بھی ایک فٹ فاصلے سے پکڑ کر پانی حلق میں انڈیلتا اور اپنی پلیٹ دھو کے الماری میں رکھ دیتا البتہ سانولا سلونا درمیانہ قامت کا جارج کانوں میں ہیڈ فون دبائے اپنی دنیا میں مگن رہتا ـ ابھی ہمارے درمیان اجنبیت کی چادر تنبو کی طرح تنی ہوئی تھی ـ میرے دل میں سارے مذہبی واہمے مجھے یہ اجنبی خیمہ پار کرنے سے روکے ہوئے تھے ـ
ورنہ میرا دل کرتا بند کمروں میں چھ انچ کی موبائل میں مقید لڑکوں کو دونوں بازو پھیلا کر ہا ہُر ـــ ہا ہُر کرتا ہوا سمندر کی اور دھکیل چلوں ـــ جیسے میں عصر ہوتے ہی اپنے کبوتروں کا پنجرہ کھول کے انھیں اڑا دیتا اور پھر ان کی پرواز سے لطف اندوز ہوتا ـ
ان سب لڑکوں کی خاموشی مون سون کی بارش کے بعد حبس کی طرح دشوار ہوتی جا رہی تھی ـ روبوٹ کی طرح سب کے میکانی انداز ‘ اور روکھے پن سے وحشت سے ہونے لگی تھی ـ کبھی کبھی دل کرتا ساحل کے بلوچی مچھیروں کی طرح بائیک پہ بیٹھ کے لہروں کی جھاگ اڑواں یا کسی مچھیرے سے جال لے کر کسی جل پری پہ ڈورے ڈالوں ـ سورج کے ساتھ میں بھی افق کے پار جا نکلوں ـ میں فراغت میں ساحل پہ لنگر انداز ہونے والے کارگو جہازوں کے نام پڑھ پڑھ کے اکتا جاتا تو سیپیاں اور گھونگے چنتا ـ
اور لفافے بھر کے کمرے میں لے آتا ـ میں پہاڑی آدمی اور یہ سمندر کیا عجب میل تھا ـ مجھے تو ہر روز سمندر سے نئے سرے سے عشق ہوتا ـ کسی پرانی کشتی کو ساحل پہ لاوارث دیکھتا تو مانو دل میں گد گدی ہونے لگتی ـ چپو کھینچ کے سمندر میں اتاروں اور کسی نئے جزیرے کو دریافت کروں جہاں جگنو گھاس پہ اگتے ہوں اور گھاس سمندر سے جھانکتی پانی پہ دیپ جلاتی نظر آئے ـ
میں امی کی نصیحت پہ کب کان دھرنے والا تھا ـــ
میرا دل تو ہر گھڑی یہی کہتا کوئی لڑکا ذرا سی لچک دیکھائے اپنے رویے میں اور میں بساط پسارے بیٹھ جاؤں شطرنج کھیلنے ‘ میں آتے وقت شطرنج بھی ساتھ لایا تھا کبھی کبھی ساحلی پٹی ہی بیٹھ کے اکیلے خود کی توپ سے اپنے ہی بادشاہ کو چیک دیتا مگر مزہ نہ آتا ـ پھر سمیٹ کے بغل میں دبائے جا کر بیگ میں رکھ آتا ـ
اکتوبر کا آخری ہفتہ تھا رات کے کوئی گیارہ بجے کا وقت ہم تینوں روم میٹ اپنے مستطیل نما کمرے میں سوئے ہوئے جس میں دو بیڈ ایک قطار میں ‘ میرے بیڈ کی پائنتی کی طرف یتیش کی مسہری اور اس کے ساتھ جارج کا بستر ایل شیپ میں لگے تھے ـ میں جو بگلوں کی طرح سارا دن لہریں ناپتا رہتا رات تھک کے سوتا تو صبح ہی آنکھ کھلتی جب یتیش سنہری گھنٹیاں بجا کر الماری میں رکھے بھگوان کی پوجا کرتا ـ پر آج نجانے کیوں مجھے نیند آئی پھر اکھڑی اور بھیڑیں گنتے گنتے سو گیا جیسے بچپن میں نیند نہ آتی تو امی کہا کرتیں بھیڑوں کا ایک ریوڑ ہے اور دیکھو ایک دو تین گنو کتنی بھیڑیں ہیں اس ریوڑ میں ‘ یوں میں انھیں شمار کرتے کرتے خواب بھی انھی کے دیکھتا ـ رات کا کوئی دوسرا پہر ہوگا کہ میری آنکھ کسی کی بڑبڑاہٹ سے اچانک اکھڑ گئی کیا دیکھتا ہوں کوئی موم بتیاں جلائے آلتی پالتی مارے مِن مِن کر رہا ہے ـ پر ہے کون؟ اس وقت یہ سب؟ پہلے سوچا جانے دوں پر میں نے کمبل سے منہ نکال کے جھانکا جارج تو کمبل میں لپٹا ہوا تھا تو یہ ــــ ؟ ہو نہ ہو ملیالی کم بخت ہی ہے ! پر کر کیا رہا ہے؟ تھوڑا اور سر نکالا ـ ـ ـ ہوتیری! !!! موم بتیوںِ کے نیچے سرخ سفوف سے کچھ آڑھی ترھی لکیریں کھینچی ہوئی ہیں ـ اب تجسس بڑھنے لگا اور دل میں سوچا یار یہ کیا سین ہے؟ کہیں کالا جادو تو نہیں کر رہا؟ ہاں کالا جادو ـــ
تبھی کل یہ میری میز پہ پڑی سی وی اٹھا کے دیکھ رہا تھا ـ جلنے لگا ہے مجھ سے اور اب اسی جلن کی وجہ سے یہ مجھے ــــ
یہ خیال آتے ہی یقین میں بدل گیاـ
اچھا!! تو یہ ملیالی مجھے رستے سے ہٹانے کے چکر میں ان ہتھکنڈوں پہ اتر آیا ہے اب؟ ـ
میں نے یہ سوچتے ہی کمبل پھینکا اور جست لگا کر نیچے اترتے ہی یتیش کو گردن سے دبوچا اس ٹانگیں چوکڑی کھول کر پھیلیں تو قرینے سے سجا سرخ سفوف بکھر گیا ـ
جلتی موم بتیاں گر کر بجھ گئیں ـ گھور اندھیرا چھا گیا یتیش گردن چھڑانے کے لیے بول رہا تھا ـ
” کون ہے بے! مُنڈی چھوڑ ـ ـ ـ ابے مُنڈی چھوڑ !!!
مُنڈی کیا ہے مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا میں نے اس کی گردن کو اور زور سے دبوچتے ہوئے چلا کے پوچھا!”
یہ ہو کیا رہا تھا؟ ”
کون ـــــ کیا؟ یار کچھ نہیں ہو رہا ــــ”
دبی دبی آواز نکال کر وہ بمشکل بولا ـــ
“بتاتا ہے یا نہیں ــــ ”
میں زور سے بولا ــــ
اسی اثناء میں جارج نے بتی جلا لی بکھرے بالوں کو سہلاتا ہوا بولا یہ ہو کیا رہا ہے یار؟
میں نے گردن چھوڑتے ہوئے کہا!
” یہ دیکھ ملیالی جادوگر نکلا؟
“کیا؟ ؟؟ ”
جارج حیرت کے مارے آنکھیں پھاڑے ملیالی کو گھورتے بولا؟
کیوں بے سالے؟ کیا چکر ہے؟
یتیش اپنے ہلکے نیلے ٹراؤزر سے سرخ سفوف کو جھاڑتے کھڑے ہوتے ہوئے بولا ـ ـ “ـ ابے سالو ـ ـ ـ جادو کاہے کا؟ ”
میں جھٹ سے بولا ”
“تو پنڈت بن کے کیا مِن مِن کر رہا تھا بتا نا؟ ”
وہ دھیمے لہجے میں منمناتے ہوئے بولا ـــ
“دیپاوالی منا رہا تھا؟”
میں نے بھولپن سے پوچھا
! یہ دیپاولی کیا ہوتی ویسے ؟
تیوہار ہے ہمارا؟
یتیش نے اطمنان سے جواب دیا ـــ
جارج اپنے بیڈ پہ سکون سے بیٹھتے ہوئے بولا”
” دیوالی منا رہا ہے سالا ـــ نیند حرام کر کے رکھ دی ”
ملیالی تہوار کی تاریخ بتاتے ہوئے بولا ” رام سیتا کو راون سے چھڑا کے لنکا سے جب واپس لا رہے تھے تو اماوس کی رات تھی گاؤں کے لوگوں نے دیے جلا کر ان کو رستہ دِکھایا ـ سمجھو تو خیر کو شر پہ جیت کی خوشی میں ہم دپیاوالی مناتے ہیں ـ
“اب گھر سے دور خوشحالی اور لکشمی کے لیے آیا ہوں تو سوچا میں بھی پوجا کر لوں ”
اس نے سرخ سفوف سمیٹتے ہوئے کہا ! “یہ رنگولی بنائی تھی ” تو نے یہ بھی بکھیر دی ” گردن سہلاتے بولا منڈی بھی گھائل کر دی ـ
افسوس تو مجھے بے حد ہوا ملیالی شریف تھا منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بس منمنا کے ہی احتجاج کرتا رہا ـ
میں نے جھک کر موم بتیاں اٹھائیں اور یتیش کو گلے لگا لیا ـ
وہ مجھ سے بھی ذیادہ جذباتی آبدیدہ ہوگیا ”
مجھے کستے ہوئے بولا ـــ
چل خیر ہے دوست کوئی بات نہیں ــ
میں نے گرمجوشی سے کہا!
خیر کس بات کی یار ــــ
” چل پھر اکٹھے مناتے ہیں دیوالی”
تہوار بھی کوئی چھپ چھپ کے مناتا ہے پاگل ـ ـ ـ
اس کے بعد میں نے کیمپ کے سبھی لڑکوں کو دعوت دی اور باورچی خانے سے موم بتیاں اکٹھی کیں ـ اور ان کو ایک ایک انچ میں کاٹ کر چھوٹا چھوٹا کر دیا ـ
کچھ دیر میں سب ہی کیمپ کے ہندو مسلمان عیسائی تہوار منابے کے لیے سلیپر پہنے شوق سے بستروں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوگئے ـ
میں سب سے آگے کیمپ کا گیٹ کھولا اور سمندر کی اور روانہ ہو گئے
ـ ـ ـ بنگالی حسینہ کی زلفوں کی طرح سیاہ گھنی رات اور اس کے نوخیز جذبات کی طرح ٹھاٹھیں مارتا سمندر ـ ـ ـ ـ بنا چاند کے چمکتے تارے اور لہروں پہ جلتی موم بتیاں ـ ـ ـ
یتیش بول رہا تھا ” اسا تو ما ـ ـ ـ ہم پیچھ سے بولتے ارے وا رے وا ـ ـ ـ
ارے وا رہے وا ــــ
شانت سمندر اور سنسناتی ہوائیں ـــ قدموں میں بچھتی ہوئی لہریں ـــ جن پہ موم بتیاں روشن تھیں آسمان پہ تاروں سے ذیادہ روشن مگر ڈانواں ڈول ـــ جیسے میں جاگتی آنکھوں سے سپنا دیکھتا تھا ـ سمندر سے جھانگتی گھاس پہ جگنو ـــ
دل موہ لینے والے جگنو ـــ
یتیش سفید دانت نکالے مسکراتا رہا تھا اسے اتنے عرصے میں پہلی بار اتنا خوش دیکھا ـ
اس نے مجھے دیکھا دو آنکھیں چار ہوئیں اس کی آنکھوں میں دو تارے تھے جھلھمل جھلمل ـ ـ ـ مجھے دیکھتے ہی تارے پگھل کر گالوں پہ بہنے لگے ـ ـ ـ
اور موم بتیاں لہروں پہ ڈولتی دور چل گئیں

_______________

مصنفہ:ثروت نجیب

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements

1 Comment

Comments are closed.