محبت کا جزیرہ

🌹

مجھے وہ روز کہتا ہے
سنو ! اے زمیں زادی!!
یہ کس کے ہجر میں تم
لکھتی ہو ، گاتی ہو ؟
ایسے گیت جسے سن کر ہوائیں رونے لگتی ہے !!
یہ کس کی یاد میں اکثر رتجگے مناتی ہو
کہ جن لالی آنکھوں کو وحشت زدہ بناتی ہے!!
سنو! اے زمیں زادی!!
یہ عشق اور پیار کے قصے تو سب ماضی کی باتیں ہیں
پتہ بھی ہے ؟ محبت اب اس دنیا میں بالکل بھی نہیں ملتی !!
یہ کھو گئی ہے کسی جنگل میں یا شاید پہاڑوں میں !!
تو کیا تم ڈھونڈ لاو گی ؟
سنو !! تم باز آجاو
محبت کے جزیرے میں کبھی جانے کی کوشش بھی نہیں کرنا !!
میں اس کو روز سنتی ہوں
مگر کچھ بھی نہیں کہتی
اسے کیسے کہوں؟؟؟
محبت کا جزیرہ ڈھونڈنے کیسے میں نکلوں گی!!
جو میرے اپنے اندر ہو اسے باہر کہاں ڈھونڈوں ؟
محبت کا ہی یہ اعجاز ہے لکھتی ہوں ، گاتی ہوں
میں وہ نغمے ، جسے سن کر ہوائیں بین کرتی ہیں! !
اسی بنجر جزیرے پر
اس کی یاد کا پودا محبت سے لگایا ہے !!
اور اب اس کی شاخوں پر درد کے پھول اگتے ہیں
کوئی رت ہو ، کوئی موسم !!
میرے اشکوں کے پانی سے یہ سیراب ہوتا ہے
یہ پودا سبز رہتا ہے !!
درد کے پھول کھلتے ہیں مہکتے ہیں !!
مجھے شاداب رکھتے ہیں
مجھے شاداب رکھتے ہیں______________________

شاعرہ:صبا جرال

فوٹوگرافی:فرحین خالد
Advertisements

1 Comment

Comments are closed.