“فون پیکجز ٬ قربتیں یا فاصلے ؟”__________ڈیر زندگی !

🌹
اک زمانے میں بیٹی بیاہتے وقت جہاندیدہ مائیں بیٹی کے جہیز کے سامان میں ایک ٹوکرا نصیحتوں کا بھی ضرور ساتھ رکھتی تھیں ۔
”جس میں سر فہرست یہ نصحیت ہوتی کہ ” بٹیا رانی نئے گھر میں دل لگانے کے لیے میکے کی محبت کہیں دل کے کسی کونے میں چھپا کر رکھ لو اماں ٬ بابا ٬ بہن بھائی یہ سب تمہارے اپنے ہیں اور یہ ہمیشہ تمہارے اپنے ہی رہیں گے ضروری نہیں کہ اپنوں کے ساتھ یا پاس رہا جائے ۔۔ اب تم نے غیروں کو اپنا بنانے کی ذمہ داری لینی ہے اور اپنی صلاحیتوں کے ساتھ اپنی تربیت پر بھی حرف نہیں آنے دینا ہے ۔۔ساس کو ماں بے شک نہ سمجھ لینا کہ ماں سے تو لاڈ بھی کرتی ہو ماں سے تو لڑ جھگڑ کر ضد بھی منوا لیتی ہو ٬ ماں سے تو منہ پھاڑ کر یہ بھی کہہ دیتی ہو کہ ۔۔ جائیں امی مجھ سے نہیں ہوتی گھر کی صفائی نوکرانی رکھیں یا خود ہی کریں اپنے گھر کا کام ۔۔ تو ساس سے ماں والی توقعات نہ رکھنا لیکن ساس سے محبت ماں والی ہی کرنا کیونکہ جیسے ماں کی محبت میں ڈانٹ کھا لیتی ہو اس کی لگائی ہوئی پابندیاں بری تو لگتی ہیں لیکن ظلم نہیں لگتیں ویسے ہی ساس جب کہے کہ یہ پکاؤ یہ نہ پکاؤ یہ پہنو یہ نہ پہنو تو ماں سمجھ کر یہ پابندیاں قبول کر لیا کرنا کہ ذرا سا دل رکھ لینا یا بزرگوں کی بات کا مان رکھنا تمہاری آنے والی نسلوں کی خاموش تربیت ہے
کل کو تمہیں بھی یہ عزت یہ مان مکافات عمل کے کے طور پر واپس ملے گا ۔
میری بیٹی کنواری نندوں سے بھی بہنوں والے سلوک کی توقع نہ رکھنا کیونکہ بہنیں تو اپنی پسندیدہ چیز اٹھا کر دے دیتی ہیں کہ آپی کو پسند ہے تو میں دوسری لے لیتی ہوں ۔اور بہنوں پر تو غصہ بھی اتارا جا سکتا ہے چھوٹی ہوں تو ایک آدھ جھانپڑ لگا دینا بھی بنتا ہے لیکن نند کو بہن سمجھ کر محبت تو دینا اس کے ساتھ سلوک ایک وی آئی پی مہمان والا کرنا ۔۔کہ اسے اس گھر سے جانا تو ہوگا ۔۔ بے شک یہ تمہاری اپنی قسمت پر منحصر ہو گا کہ یہ مہمان داری کچھ مہنیوں کی ہوگی یا سالوں پر محیط ہو جائے گی لیکن اس مہمان نوازی سے تھکنا نہیں ہے ۔کیونکہ خدمت اور ایثار کا بیچ وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے تناور درخت بن جاتا ہے اور درخت پھل دار نہ بھی ہو تب بھی کڑی دھوپ میں چھاؤں ضرور دیتا ہے اور میری بیٹی ۔عورت کو زندگی کے طویل ازدواجی سفر میں سستانے کے لیے چھاؤں کی ضرورت جلدی جلدی پڑتی ہے ۔
اور اس زمانے میں
ساس نندوں کے ساتھ اچھے سلوک کی نصیحتوں کا یہ ٹوکرا بیٹی سب سے چھپا کر رکھتی تھی اور جب مہینے بھر بعد میکے جاتی تو ماں اس سے یہ رپورٹ نہیں لیتی تھی کہ ساس کتنا ٹھونستی ہے ؟
نندیں کتنی کام چور ہیں ؟
سسر بڈھا ٬ گھر کے خرچ میں کیا دیتا ہے ؟
خاوند ماں بہنوں پر کتنا خرچ کرتا ہے ؟
بلکہ یہ پوچھتیں کہ بٹیا ! اپنی اماں کی ناک تو نہیں کٹوائی سسرال میں ؟
ساس کی حدمت کرتی ہو ؟
سسر کا دل جیتا کہ نہیں ؟
نندوں کو کوئی آرام دیا کہ نہیں
مہمان داری میں کوئی کمی تو نہیں آئی ؟
تب بیٹی ہر دفعہ یہ عزم نو کرکے سسرال لوٹتی کہ اب کی بار امی کو اپنی اس کامیابی کی خوشی ضرور دوں گی اور ساس ٬ سسر ٬نندوں ٬دیوروں کے دل جیت کر ہی رہوں گی ۔اس طرح گھر بھی آباد رہتے تھے مائیں بھی پرسکون ٬اور بیٹیاں بھی خوش رہتی تھیں کیونکہ گھر کی چھوٹی چھوٹی باتیں اسی وقت ماں کے کان میں ڈالنے کے مواقعے نہیں ہوتے تھے
ساس دو چار باتیں سنا دیتی تو بہو کا دل برا ہوتا سوچتی اب کہ میکے گئی تو اماں سے ضرور پوچھوں گی کہ اماں آپ نے نصیحتوں کے ٹوکرے میں جن دلوں کو جیتنے کی تاکید کی تھی وہ گوشت پوست کے نہیں ہیں پتھر کے ہیں کہ میری ساری کوششیں ناکام ہوگئیں ۔
۔لیکن جب شام کو ساس ٬بہو کو پیار سے پکارتی تب اسے دوپہر کی جھڑپ بھول بھال جاتی یوں اماں کی سماعتیں بیٹی کے دکھڑوں کے سیسوں سے جلتی نہیں تھیں لیکن
اب دیکھیں آج کی ماں بیٹی کا حال ۔
اماں کے پاس بھی فون پیکج اور بٹیا کے پاس بھی فون پیکج ۔
رحصتی کے وقت یہ نصیحت ” دیکھنا جاتے ساتھ ہی بیڈروم کی پکچر واٹس ایپ کرنا اس ٹانگوں کے درد نے بستر کا کر دیا ہے ورنہ میں خود سر پر کھڑی ہو کر تیرے سسرالیوں سے کمرے کی سیٹنگ کرواتی اتنا مہنگا چنیوٹی فرنیچر ہے ان کنگلوں نے تو ڈراموں میں ہی دیکھا ہوگا ایسا فرنیچر “
ابھی دولہا بیڈروم میں آتا نہیں ہے کہ دلہن کا رابطہ ماں سے ہوجاتا ہے ۔
”مما یہ کیسے بدذوق لوگوں میں میری شادی کرادی ہے بیڈروم میں پینٹ ہی پرپل کلر کا کروایا ہوا ہے ۔جہالت کی حد ہے کوئ کلر سینس ہی نہیں ہے
”ہاں تو تیری ساس کولڈ کافی کو بھی چائے کی طرح پھونکیں مار مار کر پینے والی عورت ہے اس نے بان کی چارپائی پر سو کر عمر گزاری ہے وہ کیا سمجھے گی ۔۔کلر سکیم یا ڈیکوریشن کو ؟
دوسری صبح ۔
“مما جانی آپ کا بھیجا ہوا ناشتہ جو نوکر دے گیا وہ سارے خاندان نے مل کر ٹھونس لیا ہے ۔
آپ ہولڈ پر رہیں میں دیکھتی ہوں کہ ہمارے لیے کیا چھوڑا ہے دلہن ٹرے دیکھ کر اماں کو رپورٹ دیتی ہے بس جیم ٹوسٹ اور مکھن ہے چائے کے ساتھ ۔“
ہاں بے چاروں کو طریقہ نہیں آتا ہوگا کہ یہ کیسے کھائیں ورنہ یہ بھی چٹ کر جاتے “ مذاق اڑایا جاتا ۔
تو آج کل فون پیکجز کے مرہون منت ماں بیٹی کے درمیان کے سارے پردے ہٹے ہوئے ہیں ۔چھوٹی سے چھوٹی بات اماں کے کانوں میں ڈالنی پانچ نمازوں سے بھی ضروری ہوتی ہے اماں نند کے افئیر کی مرچ مصالحہ لگی کہانی سنتے سنتے کہیں گی “نماز کا وقت ہے میں بعد میں بات کرتی ہوں “ بیٹی جھنجھلا کر ”اماں آپ بھی بس ہر وقت نماز روزے کی فکروں میں ہی پڑی رہتی ہیں ۔۔ قضا پڑھ لیجیے گا ابھی جنید آ جائیں گے ان کے سامنے تو بہن کے کارنامے بیان نہیں کر سکتی ۔اچھا یہ بتائیں چھوٹی کو جو لڑکا پسند ہے وہ لوگ رشتہ لا رہے ہیں یا نہیں ؟ اسے کہیں کہ بس اس امیرزادے کے پیچھے پڑ جائے کہ ماں باپ کو بھیجو ۔۔ اور خدا کے لیے مما بھابھی کو اس معاملے کی کانوں کان خبر نہ ہونے دیں وہ فرسودہ اور چھوٹے ذھن کی عورت ہے کہیں اپنی ماں بہنوں کو ہماری چھوٹی کی محبت کی کہانیاں نہ سنانے لگ جائے ۔اور چھوٹی کو بھی سمجھا دیں کہ اب ہوٹلز میں نہ ملے اس لڑکے سے ۔۔کل جنید نے بھی دیکھا تھا اسے دونوں ایک ہی کپ میں کافی پی رہے تھے ۔“
اچھا سنیں تو سہی نا ۔۔
صبح گیارہ بجے میں اٹھی تو ساس پراٹھے بنا چکی تھیں ساس نے اور جنید نے مجھے تو کچھ نہیں کہا لیکن اس نے ماں کے ہاتھ کے پکے پراٹھوں کی اتنی تعریفیں کیں کہ میں جل بھن گئی اور بڑی اماں کی خوشی دیدنی تھی ۔۔
بھابھی کو کو آٹھ بجے تک سونے کیوں دیتی ہیں آپ ؟ اور آج آپ نے خود اپنے لیے چائے بنائی ؟ بھائی کو غیرت نہیں آئی ہوگی نا ؟ وہ تو ہے ہی زن مرید ۔۔ایسی بد شکل عورت کے پیچھے پاگل ہو رہا ہے اگر اس کی پسند کی وہ طوبی بیگم بیاہ لاتے پھر تو سر پر ہی بیٹھائے رکھتا اسے ۔۔۔
یہ اور ایسی کئی باتیں رشتوں میں دوریاں بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں ۔
بیٹے عجیب آزمائش میں پڑے ہوئے ہیں کہ ماں بہنوں کی طرف داری کریں تو گھر برباد اور بیوی کی بات مانیں تو دین دنیا دونوں کی خرابی ۔۔
خدارا بیمار ماؤں کو مزید دکھ نہ دیا کرو میری بہنو ۔
جب اسی گھر میں کھاتی پیتی ہو شوہر کی محبت اور گھر کے سکون کو انجوائے کرتی ہو اس وقت تو ماں کو نہیں بتاتیں کہ ماں میں بہت خوش ہوں کہ ماں بھی بیٹی کے سکھ دیکھ کر بہو کی زندگی میں زہر گھولنے کے نت نئے طریقے سوچنے سے باز رہے اور گھر گھر کی یہ کہانی کہیں تو جا کر ختم ہو جائے کسی ماں کو تو سکون ملے ۔۔۔کوئی بہو تو اچھے دن دیکھے کوئی بیٹا تو ماں بہن اور بیوی سب کو خوش رکھ سکے اور خود بھی مطمعن زندگی گزارے ۔
شادی شدہ لڑکیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ فون پیکج اپنے گھر میں موجود رہیں نہ کہ ماں کے گھر میں ۔۔ یہ سوچ کر کہ اک آپ جیسی ہی اک لڑکی نئی زندگی کے بہت سے سنہرے خوابوں کو زاد راہ بنا کر آپ کے بھائی کی زندگی میں آئی ہے اسے موقع دیں کہ وہ اس گھر گو گل بنائے نہ گلدستہ بلکہ اپنی محبتوں کی خوشبو سے اس گھر کو گلزار بنا دے۔ ________________تحریر:گل اربابفوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements

3 Comments

  1. بے لاگ خوبصورت تجزیہ
    معاشرے کے دوغلے پن کی زبردست عکاسی کرتی ہوئی تحریر

    Liked by 1 person

  2. افف کمال. لکھا آپی….
    بہت ساری حقیقتیں پوشیدہ ہیں اس میں

    Like

Comments are closed.