سفر حجاز__________5

🕋

گذشتہ ۔جب بھی آپ پر یہ وقت آئے تو پہلی نظرکے لئے بے تحاشا فرصت بچا کر رکھئے،خانہ کعبہ کے سامنے ٹھہرئیے ایسے کہ پھر ہلنا بھول جائیں، دماغ کو لگی جلدی کی عادت کو لاوارث چھوڑ کرتب تک وہاں قیام کریں جب تک خانہ خدا آپ سے کلام بند نہ کر دے۔ :

9_-فضا میں لبیک کی صدائیں:

صفی و مروہ کے چکر کبھی بھاگتے اور کبھی آہستہ چلتے پورے کئے ،ٹھنڈی ٹایل کا فرش تھا،سنٹرلی ائیر کنڈیشنڈ رستے تھے،اور محفوظ ترین مقام پر ہزاروں نیک نیت لوگوں کی ہمراہی تھی تو ہم بی بی حاجرہ کی سنت پوری کرتے انکا وہ درد تو نہ جان سکے جب تپتے پہاڑوں کے بیچ،نھنھے بچے کو تنہا چھوڑے وہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھاگتی ہونگی ،کبھی زمیں پر چشمہ کبھی آسماں پر ابر تلاشتی ہونگی،اور آبادیوں سے دور کے پرہول پہاڑوں میں تنہا ہونگی اور صرف اللہ کے نام پر بھروسہ کئے جینے کا جتن کرتی ہونگی۔۔۔تو ہم جیسے حقیر لوگ اوربند گھروں کی چار دیواری میں باپوں بھائیوں اور شوہروں کی کفالت میں رہنے والی کمزور عورتیں کیسے جان سکتی تھیں وہ کرب جو بی بی حاجرہ نے وہاں جھیلا ہو گا جب ایک طرف پیاس سے بلکتا بچہ ہو گا،جانوروں،درندوں اور رہزنوں کا ڈر ہو گا،تپتا آگ بھڑکاتا سورج ہو گا اور بی بی حاجرہ کا تنہا وجود ننگے پاؤں ایک پہاڑی سے دوسری تک گھومتا ہو گا۔۔۔۔تو ہم حقیر لوگوں کے تو تخیل سے بھی یہ بہت دور کی منزل تھی۔ہم زندگی کی ہر راہگزر پر معجزوں کا انتظار کرنے والے کیا جانیں کہ معجزے انسانوں کی ہمت سے تشکیل پاتے ہیں خالی خواہشات اور جزبات سے آب زم زم کے چشمے نہیں پھوٹ پڑتے ،اس کے لئے تپتی دوپہروں میں سڑتے پہاڑوں کا ننگے پاؤں طواف کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔تو اتنی ہمت کہاں تھی ہم گرے پڑے عام انسانوں میں،،،، سو سر جھکائے اس ٹھنڈے محفوظ سیدھے رستے پر چلتے رہے اور بی بی حاجرہ کی سنت کی تقلید کرتے رہے۔

اس تقلید میں صرف ہم جیسے نکھٹو نکمے لوگ نہ تھے بلکہ بہت سارے ننھے ننھے معصوم فرشتے بھی تھےجنکے ہاتھ انکے والدین نے تھام رکھے تھے اور جنہوں نے یہ خاصا طویل فاصلہ دونوں سروں پر بھرپور بھیڑ کے باوجود والدین کے ساتھ طے کیا تھا۔مجھے یقین ہے کہ انکے نصیب میں عمرے کی سعادت اور اسکی تاثیر شاید ہم سے زیادہ درج ہوتی ہو گی کہ جانے انجانے میں ہی سہی وہ ساری صعوبتیں وہ برابر کی سہہ رہے تھے جو عمرہ کی ادائیگی کے لئے ہم پرفرض تھیں۔خود پر شرمندہ بھی رہی کہ پاس لا کر بچوں کو یہ سعادت نہ دے سکی، جب جب ان فرشتوں کو دیکھا دل میں کسک سی جاگتی رہی ، خدا سے یہ امید اور دعابھی رہی کہ ہماری کج روی اور کمزوری سے صرف نظر کر کے ضرور رب کعبہ میرے بچوں کو اور ہم سب کے بچوں کو اپنے در پر بلاے گا اک دن ،کہ یہ سعادت دینا اسی کا اختیار ہے۔اگر وہ نصیب کی تختی پر اسکی تحریر لکھ دے تو پھر کوی کمزوری، کوی کوتاہی اور کوئ سستی رستے میں دخل نہیں دے سکتی۔اسکا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا تھا کہ ہم جیسے دو مذہبی چاشنی سے مکمل ناواقف،تفصیلات اور برکات سے ناآشنا،اراکین اور فرائض سے نابلد نہ صرف کہ خانہ خدا میں موجود تھے بلکہ پہلے عمرے کی سعادت بھی حاصل کر چکے تھے۔خدا انسان کو بلاتا ہے کبھی بتانے کے لئے،کبھی جتانے کے لئے،کبھی دکھانے کے لئے اور کبھی ترسانے کے لئے۔کچھ لوگ خانہ خدا کی ایک حاضری کے لئے عمر بھر ترستے رہتے ہیں خدا انکو بلانے میں تاخیر کرتا رہتا ہے،،شاید اس لئے کہ انکی تڑپ رب کعبہ کو انکی حاضری سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔کچھ لوگ خدا کے نام و مقام سے بے پرواہ چلے جاتے ہیں اور رب کعبہ انکو نکیل ڈال کر لے آتا ہے تا کہ انکے سینے میں وہ آگ جلا سکے جس میں عشق بے خطر کود جاتا ہے ،تا کہ انکو جتا سکے کہ جس ہستی سے بے پرواہ وہ جینے کی کوشش کرتے ہیں اس سے بڑا بے پرواہ کوئ نہیں۔اس کے پاس ہزاروں گر ہیں ہم بھٹکے ہوؤں کو سیدھی راہ پر لانے کے،ہمیں گرانے کے اور پھر اٹھانے کے۔یہ دنیا کا کاروبار، یہ دکھ سکھ جھملیے تو صرف رب کعبہ نے آدم کی آزمائش اور کھیل کے لئے لگا رکھے ہیں، اک زرا کرشمہ سازی کے لئے۔ورنہ اسے ہماری عبادتوں کی چاہ نہ ہماری ریاضتوں کی فکر، ہماری گمشدگی کی پرواہ نہ ہماری واپسی کی طلب ۔ہم تو اسکے ہاتھ سے بنے کچی مٹی کے کھلونے ہیں،جدھر چاہے موڑے،جیسے چاہے مروڑے،بناۓ کہ توڑے،یا بار بار توڑ کر جوڑے!یہ اس کی منشا،اسی کی رضا!

فوٹوگرافی:حرم کعبہ

سعی کے اختتام پر ہمارے عمرے کی تکمیل کا آخری مرحلہ بال منڈوانے یا کٹوانے کا تھا۔میرے لئے تو میری بیگ میں اک چھوٹی سی قینچی موجود تھی جس سے کمرے میں پہنچ کر انگلی کے گرد بال لپیٹ کر میں نے انکے آخری سرے کاٹے اور میرے عمرہ کی تکمیل ہوئ۔میاں صاحب کو بھی کوئی پریشانی نہ ہوئی کہ مسجد سے نکلتے ہی ہر صاحب احرام کو متوجہ کرنے کے لئے حجام نکڑ پر موجود تھے جو لپکتے جھپکتے خود آپ تک پہنچتے اور آپکو لئے اپنے سیلون کی طرف چل پڑتے۔

مکہ کی پہلی رات زندگی کا پہلا عمرہ اپنی تکمیل کو پہنچا تو تہجد کا وقت تھا اور جمعہ کی رات تھی۔کیا ہی خوبصورت رات تھی اور کیا ہی مقدس لمحات تھے۔خانہ خدا کے سامنے دعا کے لئے سر جھکاتے اس سعادت کی شگر گزاری مطلوب خاطر رہی۔اس سعادت کو پورا کیا تو اک تکمیل کا احساس رگ جاں میں اتر گیا ایسے ہی جیسے سنتے ہیں کہ حج کرتے ہی ہر حاجی کو واپسی کی فکر لاحق ہو جاتی ہے تو ہماری بھی نفلی عبادت کی تکمیل ہمارے اعصاب پر اک ٹھنڈی نرم پھوار کی طرح پڑی۔۔۔۔۔۔۔یوں لگا کہ حاضری کا مقصد اپنی تکمیل کو پہنچا۔پچھلے دو دن سے مسلسل سفر لاحق تھا اور برکت اور رحمت سے بھرے رت جگے تھے۔تو اس تکمیل کے ہوتے ہی پہلی خواہش اب کچھ گھڑی آرام کی جاگی۔صبح کی دہلیز پر کھڑا دن ہماری گنتی کا تیسرا روز اور جمعہ کا دن تھا اور والدین کی نصیحت کے عین مطابق اگر جمعہ حرم پاک کے اندر پڑھنا تھا تو دس بجے تک لازما وہاں پہنچنا تھا۔ورنہ جمعہ کی جماعت مسجد سے باہر سڑک پر اور سامنے موجود ہمارے ہوٹل کے کمروں تک میں ادا ہو جاتی ہے جہاں پر ہر کمرے میں اقامت کا مکمل انتظام ہے۔ مکہ کے قرب وجوار میں بسنے والے ذیادہ تر افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ جمعہ کی نماز حرم پاک میں ادا کی جاے اس لئے جم غفیر کا اکٹھاہونا اک اٹل حقیقت ہے۔

جمعہ کی نماز کے لئے ہم دس بجے کے قریب نہا دھو کر تیار ہو کر بچوں کو ساتھ لئے نکلے اور حرم کے اندر آسانی سے پہنچ گئے۔کوشش کی کہ کہیں خانہ خدا کے قریب قریب جگہ مل جاے مگر دس بجے بھی مسجد اسقدر بھری تھی کہ قریب قریب کی کوئ بھی جگہ خالی نہ تھی۔نمازیوں نے لائنیں بنا کر راستے تک بھر رکھے تھے ۔ایسے ہی اک راستے پر میں بھی بیٹی کا ہاتھ پکڑے ٹک گئی مگر اسکا کچھ حاصل نہ ہوا کہ کچھ ہی دیر میں سکولوں کے بچے لائنوں میں سیکورٹی کی مدد کو پہنچے اور بھرے ہوے رستوں سے ایک ایک کرکے عورتوں اور مردوں کو اٹھانے اور مناسب جگہ تک جانے کی تاکید کرنے لگے۔کچھ خواتین نیت باندھ کر بیٹھ گئیں، کچھ عرب خواتین نے عربی زبان کا فایدہ اٹھا کر مزاحمت بھی کی۔ابوظہبی کی سالہا سال کی ٹریننگ سے ہم قوانین کا احترام سیکھ چکے تھے اس لئے خموشی سے اٹھنے کا اشارہ دیکھا تو بیٹی کا ہاتھ پکڑے اٹھے اور انکی بتائ سمت چل دئیے کہ خبر تھی اٹھنا تو بہرطور ہو گا ہی۔دو چار نماز کے باقاعدہ خواتین کے لئے بنے مخصوص برآمدوں سے گزر کر ہمیں ایسے خالی برآمدے مل گئیے جنکو ابھی بھرا جانا تھا۔وہاں پر تسلی سے ہم اک مناسب جگہ پر ٹک گئے۔لیکن دو گھنٹے کا نماز کا انتظار ایک ہی جگہ بیٹھ کر کرنا خاصا مشکل امر تھا وہ بھی تب جب آپ صرف ایک جگہ گھیرنے کی خاطر بیٹھے ہوں۔نوافل پڑھتے تو جسم کو کچھ سکون رہتا لیکن نوافل سے تھک جاتے تو کیا کرتے یہ سمجھ نہ آتا۔بہت دیر تک ایک ہی جگہ اکڑوں بیٹھا رہنا مشکل امر تھا وہ بھی ایسے جب دیدار کے لئے قبلہ کا خوبصورت نظارہ بھی سامنے نہ ہو۔جمعہ سے پہلے امام مسجد کا خطبہ شروع ہوا تو ایک اور بدقسمتی آڑے آی۔ویسے تو ہم برصغیر کی عورتوں کی اکثریت باجمعاعت نماز کے تقاضوں اور طریق سے مکمل نا آشنا ہوتی ہے اور پھر مسجد سے دور رہنے کی روایت ہماری گھٹی میں ایسے ڈال دی جاتی ہے کہ ہم عرب امارات جیسے ملک میں رہ کر بھی جہاں مساجد میں عورتوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ہماری حاضریاں گنتی کی ہی رہتی ہیں۔چناچہ پہلے تو سمجھ نہیں آتا جماعت شروع کب ہو گی ،کیسے ہو گی،اذان اور اقامت کا فرق معلوم نہیں ہوتا،پھر یہ خبر نہیں ہوتی کہ کیا پڑھنا ہے،کیا چھوڑنا ہے۔اور اب ہم حرم پاک میں خانہ خدا کے سامنے بیٹھے تھے،امام حرم کا خطبہ سنتے تھے مگر گونگے ،اندھے اور بہرے تھے۔امام کعبہ دنیا بھر سے آئے لوگوں سے اس عظیم مقام پر بیٹھ کر کیا کہتے تھے ہمیں کچھ خبر نہ تھی کہ عربی زبان سے ہماری واقفیت محض ہجے جوڑنے اور تلاوت کرنے کی حد تک تھی۔ہمیں تسلی تھی کہ روز قیامت فر فر ہمارے منہ سے عربی نکلے گی تو ہمیں سرکاری اور نہ ہی ذاتی حیثیت میں کبھی اس محدود سی استطاعت سے زیادہ عربی سکھائی ہی گئی نہ براعظم عرب میں دس سال گزار کر بھی ہمیں ہی آئ۔سو اب اس خطبہ میں کیا بیان ہوے،کیا وضاحتیں کیا تشریحات ،محض اہل عرب جانتے تھے اور ہم برصغیر کے عربی سے ناآشنا لوگ صرف ادھر ادھر دیکھتے تھے اور خطبے کا ختم ہونے کا انتظار کرتے تھے۔امام کعبہ کی امامت میں جب جمعہ کی نماز کا آغاز ہوا تو اک خوبصورت ردھم والی تلاوت کا ہر سو سرور سا چھا گیا۔کیا تلاوت اسقدر خوبصورت بھی ہوتی ہے؟تہجد گزار والدین کی بدولت گھر میں کئی بڑے بڑے قاریوں کی تلاوت ہم نے بھی سنی تھی اپنے زمانوں میں۔مگر آج کے دن کی تاثیر ہی اور تھی،سرور ہی کچھ اور تھا۔تلاوت کے معانی سے بے خبر ہم انکی حلاوت پر ہی سر دھنتے رہے۔روح کی غذا یقینا صرف موسیقی میں نہیں اس سے کہیں بڑھ کر اس تلاوت میں تھی جو اس لمحے وہاں ہم نے سنی۔باجماعت نمازیں ایک دو اور بھی ہم نے اگلے چوبیس گھنٹوں پڑھیں مگر ان میں تلاوت کا اور کلام کا وہ رنگ نہ تھا جو جمعہ کی اس قرات میں تھا.

10-یہاں ہے منزل قدم قدم پر:

عصر اور مغرب کی نماز بروقت نہ پہنچ سکنے کی وجہ سے ہمیں حرم سے باہر سڑک پر ہی پڑھنی پڑی جہاں پر دور دور تک جماعت کی صف بندی ہو چکی تھی کچھ لوگ جائے نماز بچھائے اور کچھ لوگ ننگی زمین پر ہی سجدہ ریز ہو رہے تھے۔ننگی زمیں پر سجدہ کرنے والے اگر یہ سوچ رہے تھے کہ حرم کے باہر زمیں کا فرش مقدس اور شفاف ہے تو جائے نماز والے یقینا سجدے کی جگہ کا احترام کرتے اپنے جائے نماز اپنے بیگز میں لادے پھرتے تھے۔ہم تو یہاں دو گھڑی کے مہمان تھے اور اس سے پہلے کہ بہت سے کام سیکھ پاتے اگلی دوپہر یہاں سے رخصت ہونے والے تھے۔سو اگرچہ جائے نماز ہر نکڑ سے دس ریال میں مل جاتے تھے مگر فی الوقت ہمارے بیگ میں نہ تھے تو ہم بھی دیکھا دیکھی عصر کی نماز کے لئے ننگی زمین پر سجدہ ریز ہو گئے ۔لیکن مغرب سے پہلے ہی پہلے ہم نے ایک جائے نماز خرید کر بیگ میں ٹھونس لی تا کہ دوسرا سجدہ بھی ننگی زمین پر نہ ہو،کہ بحرحال ننگی زمین پر ہزارہا طرح کے جوتے گزرتے ہیں جو قریب موجود بیت الخلا سے بھی نکلتے اور جاتے ہیں.تو اس سجدہ کو جو انساں کو ہزارہا سجدوں سے نجات دلاتا ہے بے تحاشا تعظیم اور تقدس کے ساتھ ایک پاک صاف جائے نماز کی ضرورت ہے،یہ سجدہ آپکی بشریت کی نفی کے لئے نہیں ،بلکہ بشر کے احترام کے ساتھ اسکے قادر مطلق کے مقام کے لئے ہے۔یاد رکھیں یہ مقام انسانوں کو فنا کرنے کے لئے نہیں رب کعبہ نے انکو دوام دینے کے لئے بنائے ہیں سو یہاں سڑک کی ننگی زمین پر سجدے سے آپکے نفس کی تحقییر آپکے پیدا کرنے والے کی تخلیق کے ساتھ بھی ذیادتی ہو سکتی ہے۔ویسے تو قبولیت عطا کرنے والی ذات بھی اسی کی ہے،کسی کی کیا مجال کہ خدانخوستہ جائز اور نا جائز کی بات کرے،رب کعبہ کے گھر کے اندر اور اسکے باہر خانہ خدا کی طرف منہ کئے جیسے چاہے نماز پڑھیے جسطرح چاہے دعا کیجئے کہ یہاں آپکے اور اسکے بیچ اور کوی دوسرا فرمان،ہدایت،نصیحت نہیں۔

فوٹوگرافی:مسجد نبوی

نمازوں کے درمیانی وقفے میں ہم نے سامنے موجود کلاک ٹاورز اور صفہ ٹاورکے کچھ چکر لگائے تا کہ اپنے انتہائی محدود احباب کے لئے کچھ مکہ کے خاص تحائف لئے جا سکیں۔ساتھ ساتھ رات کے کھانے کے لئے ایشیائی ذائقہ کا ریستوراں ڈھونڈا تا کہ رات کا کھانا ہمارے والدین کے ساتھ ملکر کھایا جا سکے۔ہمارے اماں ابا سے یہ ہماری دو سال بعد کی ملاقات تھی جسمیں دو گھڑی انکے ساتھ مل بیٹھنا بھی ہمارے لئے اک عین خوش نصیب تھی جو محض اتفاقاً اس عمرے کی بنا ہمیں نصیب ہو رہی تھی۔عشاء کی نماز کے بعد ہم انکے میزبان بنے اور انکے ساتھ کچھ فرصت کے پل گزارے،بچوں نے نانا نانی کا کچھ پیار بٹورا اور ہم نے انکی محبت اور دعائیں۔سو جمعہ کے بعد جو قدم مسجد سے نکلے تو پھر رات گیارہ بجے سے پہلے مسجد کے اندر پھر نہ لوٹ سکے۔گیارہ بجے کے لگ بھگ جب بچوں کو کمرے میں چھوڑ کر خانہ خدا میں اپنی آخری رات کے لئے میں اکیلی حرم کے لئے نکلی تو لازماً میرے بیگ میں میرا کیمرہ بھی تھا جسکے بارے میں مجھے یقین تھا کہ مسجد نبوی کی طرح اس بار بھی داخلہ سے لوٹایا جاے گا۔کہ باوجود اسکے کہ ہر ہاتھ میں موبائل کا کیمرہ آن تھا،کچھ فوٹوز کچھ وڈیوز اور کچھ فیس بک یا وڈیو چیٹ پر فیملی کے ساتھ لائیو طواف کرتے چلے جاتے تھے مگر معلومات اور تجربات کے مطابق پروفیشنل کیمرہ باقاعدہ ممنوع تھا۔مگر دل کی مراد تھی اور رب کعبہ سے لوٹایی نہ گئی اور کسی محافظ جو سب عرب مرد تھے نے میرے بیگ کی طرف انگلی بھی نہ اٹھائی اور میں بیگ میں کیمرہ لئے خانہ خدا میں جا پہنچی۔۔مجموعی طور پر سعودیہ کے چار دن میں نے عرب مردوں کا رویہ بہت مناسب دیکھا۔عورتوں سے خود کو فاصلے پر رکھتے،اگر بہت مہذب نہ تھے تو اس طرح کے ترش بھی نہ تھے جیسے عرب امارات میں رہتے سنا تھا۔

حرم میں داخل ہوتے ایک ایسا نظارہ دیکھا کہ بے اختیار دل چاہا کہ اب کی بار بیگ سے موبائل نکالا جائے اور اس نظارے کی ایک وڈیو ضرور بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائ جائے۔ہم پاکستانیوں کو بہت کم مواقع ملتے ہیں اپنے آپ پر فخر کرنے کے اور وہ ایک ایسا ہی نایاب لمحہ تھا جسمیں ایک انتہائی متوسط طبقے کے چھوٹے سے پاکستانی خاندان کے ایک جوان سال پتلے کندھوں اور ہلکے جسم والے بیٹے نے اپنی بوڑھی جھکے کندھوں اور سکڑے ہوے جسم والی ماں کو اپنے کاندھے پر اٹھا رکھا تھا اور ایک ہاتھ سے وہیل چئیر کھولنے کی کوشش کرتا تھا۔۔۔۔آہ! وہ کیا نظارہ تھا کہ سر فخر سے بلند ہو گیا کہ ابھی ہماری دھرتی ایسے بیٹے پیدا کرتی ہے جو ماؤں کو کاندھوں پر اٹھا کر طواف کے لئے لاتے ہیں۔اسکے ساتھ اسکے چھوٹے چھوٹے بچے اپنے باپ کو یقینا عام نظروں سے دیکھتے تھے مگر انکے شعور میں یہ لمحہ ہمشیہ بیدار رہنے والا تھا جو ہمیشہ انہیں یہ سمجھاتا رہے گا کہ بوڑھی ماؤں اور باپوں کے لئے یوں سر اور کاندھے تخت بنا دئیے جاتے ہیں۔وہ اک عظیم لمحہ تھا جس نے یقینا رب کعبہ کو بھی ایسا شاد کیا ہو گا کہ اس لمحے اس بیٹے کے ریکارڈ میں نجانے کتنے مقبول حج اور عمرے درج ہوئے ہونگے، نجانے کتنی جنتیں اسکے نام لکھی گئی ہونگی ۔وہ ایک لمحہ جس نے آس پاس سے گزرنے والے بہت سے لوگوں کو احتراماً روک دیا تھا اور یہ عزت اور احترام والا ایک عام سے کپڑوں میں لپٹا یقینا معمولی سی تنخواہ پر چلنے والا اس دنیا کا بہت ہی ادنیٰ فرد تھا کہ جسکے عہدوں میں یکا یک ستاروں اور سورجوں کا اضافہ ہو کر بادشاہوں کا وقار اسکے قدموں میں آ گرا تھا۔ایک چمکتے چہرے والے آسودہ حال عرب نے احترام سے سر جھکائے فورا آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے وہیل چئیر لے کر کھولی اور اس انجان پاکستانی نے بے پرواہ چہرے سے اپنی ناتواں ماں کو بہت نرمی سے اس چلتی کرسی پر بٹھا دیا اور ایسا کرتے اپنے اس عمل کی عظمت سے اسکی بے نیازی اسکے چہرے سے بے تحاشا عریاں تھی،وہ بے خبر تھا کہ طواف سے پہلے ہی نجانے کتنی رحمتیں اسکے اکاؤنٹ میں جمع ہو چکی ہیں۔یہ وہ لمحہ تھا کہ جانے کتنے فرشتے آس پاس سانس روکے بیٹے کی یہ محبت تکتے ہونگے،اور کتنے ہی نادیدہ لال قالین اس ماں اور بیٹے کے قدموں تلے بچھائے گئے ہونگے کہ جس نے ماں کی اسقدر خدمت کر ڈالی اسکا مقام رب کے ہاں جانے کیا ہو گا۔

تو یہ وہ نظارہ تھا کہ اگر اسے ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر پھیلا دیا جاتا تو یہ وقت، یہ لوگ، یہ لمحہ ضرور اس قابل تھا کہ اسے دنیا کی اس نکڑ سے اُس نکڑ تک پھیلا دیا جاتا۔۔مگرعرب امارات کی تربیت نے کہ جہاں کسی کی وڈیو یا تصویر بنانا اک ناقابل معافی جرم ہے مجھے سختی سے جکڑے رکھا اور میں صرف اس لئے دلیل کو لے کر یہ کام نہ کر سکی کہ یہ غریب پاکستانی کہاں ان سخت قوانین سے واقف ہونگے،پر سچ تو یہ ہے کہ اس وقت اس مقام پر شاید اس سے بڑھ کر امیر کوئ نہ تھا،وہ بیٹا جو اپنی سفارش کے لئے ماں کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کے لایا تھا جبکہ اسکے اپنے کاندھے بھی بہت مضبوط نہ تھے۔۔۔آج بھی اس وقت کو سوچتے نظریں جھک جاتی ہیں اور دل کو یہ غم لاحق ہوتا ہے کہ کاش وہ اک لمحہ،،صرف وہ ایک لمحہ میرے موبائل میں ہوتا اور کاش فیس بک کے پاکستانی دیوانوں کے سامنے وہ ایک نظارہ رکھا جاتا تو وہ ہزاروں قسم کی دعاؤں سے بہتر تھا۔

یہ نظارہ چند گھڑیوں میں نظروں سے اوجھل ہو گیا جب ماں اور بیٹا شان بے نیازی سے چلتی کرسی لئے طواف کی سمت چل دیے ۔ اور ساتھ ہی ہم سے بہت سے لوگ سبحان اللہ اور جزاک اللہ کی تسبیح کرتے انکے پیچھے پیچھے چل دییے۔تو وہاں طواف میں بہت سے لوگ کھجوریں اور آب زم زم لیکر کھڑے تھے تا کہ پیاسے حاجی دو گھونٹ پئیں اور اک جزاک اللہ کا لفظ انکے حق میں کہیں اور یہ ایک پاکستانی صرف ماں کو کاندھے پر بٹھا کر آس پاس کے پورے ماحول سے دعاؤں کے انبار سمیٹ گیا تھا۔

_________________

تحریر و فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.