جالہ___________علیزے محمد

🌺

کبھی کبھی سوچتی ہوں

دن رات کے فسانوں میں

جو اک خیال سا پھیلا ہے

کہیں دھوکہ ہی تو نہیں

میرے خود ساختہ موسموں کا؟

ایسا تو نہیں یہ جستجو

میری ہی پھیلائی ہوئی ہو؟

یہ بن باس میرے ارادوں کی

میری ہی اک کمزوری ہو؟

جسے محبت کہہ بیٹھی ہوں

یہ چھوٹا سا اک جزبہ ہو..

یا فقط ریت گھروندا ہو….

لفظوں کی سب روانیاں

میری شاعری کا حصّہ ہوں۔۔۔

اور اذیت کی سب کہانیاں

حکایتوں کا قصہ ہوں۔۔۔۔۔

کبھی جو میں جی اٹھوں

اپنے خواب اور ارادوں میں

تکمیل کے سفر پہ نکلوں

تو کہیں بھی ترا عکس نہ ہو

مجھے یوں لگے میرے سفر میں

ترے نام کا کوئ محل نہ تھا

اک خالی تاریک گوشے میں لگا

فقط مکڑی کا اک جالہ تھا

__________

شاعرہ: علیزے محمد

فوٹوگرافی: خرم بقا٬ آئر لینڈ

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.