عشق محشرسی ادا رکھتا ہے

💖
تھکی ہوئی آنکھوں کو نیند کا سہارا ملے کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ جاگتے دماغ میں ایک کھلبلی سی شروع ہوگئی تھی ۔کچھ پل کے لیے بکھری ہوئی سوچوں نے دوبارہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا اور پھر وہ ایک وفد کی شکل میں اُس کے اعصاب پر سوار ہو گئیں ۔دھڑکے خواب کی صورت آنکھوں پر دستک دینے چلے آئے تو بے چینی گدگدی کی مانند پہلو میں رینگنے لگی ۔ہر لمحہ سائے کی طرح چمٹا ہوا خوف نیند کے خمار میں بھی پورے ہوش سے سنسنا اُٹھا اور پسینے کے ننھے ننھے قطرے اُس کی خوشبو چوس کر اپنا اثر چھوڑ نے لگے ۔ ویلوٹ کا سیاہ لباس اور بھاری بُھر بُھرا کمبل اُس تابوت کی طرح تھے جس میں اُس کا نحیف وجود کچھ دیر پھڑ پھڑا کر سُن ہو چکا تھا۔
وہ زمیں کا آخری کنارہ تھا
اور دل اُڑنے والا تھا
خوابوں اور خیالوں کو
ایک جہاں ملنے والا تھا
اُس آخری کنارے سے
میں یہ دیکھ کر اُڑی تھی
میرا چاند پر بسیرا ہے
ستاروں نے جسے گھیرا ہے
اُس آخری کنارے سے
میں یہ جان کر اُڑی تھی
آزاد پنچھی سی زندگانی ہے
ایک مکمل سی کہانی ہے
اُس آخری کنارے سے
میں یہ سوچ کر اُڑی تھی
خوشبو کے ہر سو سائے ہیں
سب رنگ ہمسائے ہیں
مگر اِس اُڑنے کی چاہت میں
زمیں سے تعلق ٹوٹا ہے
اُن سچّی گہری نگاہوں کا
ہر وعدہ کتنا جھوٹا ہے
جو دنیا پیچھے چھوٹ گئی
وہاں تو اب رسوائی ہے
جس جہاں آگری ہوں میں
چاروں طرف تنہائی ہے
وہ اُڑان وہ منزل کا نشاں
سب ہو چکے دھواں دھواں
نہیں ساتھ کوئی ہمنوا
سر پہ سائباں کوئی نہیں
زمیں چھن گئی قدموں تلے
اب میرا جہاں کہیں نہیں
“پھر آسمان آہستہ آہستہ سکڑتا جارہا ہے ۔ ۔۔
پھر زمین گول گول گھوم کر مجھے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ ۔۔
دودھ جیسا سفید چاند کالے پہاڑوں سے ٹکرا رہا ہے۔۔۔
ننھے ننھے ستارے جل رہے ہیں۔۔۔بجھ رہے ہیں۔۔۔
آہ ! سارے پنچھی لہولہان ہیں۔۔۔
اف! یہ خوشبو نہیں ۔۔۔خوشبو نہیں۔۔۔ تعفن ذدہ بدبو ہے۔۔۔
سب رنگ کتنے اندھے ہیں ۔۔۔ایک جیسے۔۔۔بدصورت۔۔۔
سر پر آسمان نہیں ہے۔۔۔نیچے زمین نہیں ہے ۔۔۔کوئی گہری کھائی ہے۔۔۔
یہ میرا گھر نہیں ۔۔۔
یہ میرا بستر نہیں۔۔۔
یہ میری قبر ہے ۔۔۔
ایک گھٹن ذدہ تاریک قبر ۔۔۔
جہاں گزرے کل کے زہریلے کیڑے میرا بدن نوچیں گے۔۔۔
جہاں روز کا لاحاصل انتظار میری سرکشی کی سزا ہے ۔۔۔
جہاں آنے والا غیر محفوظ کل مجھے تاعمر کوڑے مارے گا۔۔۔ ساری خواہشوں کو مٹی دبوچ رہی ہے ۔۔۔
سارے خوابوں کو آگ کھینچ رہی ہے۔۔۔
روز درد شدت سے گلے لگاتا ہے۔۔۔
روز سانسیں نفرت سے پیچھے دھکیلتی ہیں ۔۔۔
میں یہ بے قراری کا کھیل روز دیکھتی ہوں۔۔۔
میں اِس قبر میں سانس لیتی ہوں ۔۔۔
میں کیوں سانس لیتی ہوں؟
یہ دل کچھ پل کے لیے سو کیوں نہیں جاتا؟
یا پھر میں مر کیوں نہیں جاتی؟”
کچّی نیند کا سحر ٹوٹا تو وہ اضطرابی حالت میں تڑپ تڑپ کر خود کلامی کرنے لگی۔ تنہائی مقدر بن جائے تو انسان خود کلامی کا نشہ کرنے لگتا ہے ،وہ نشہ ہے جو اُمیدوں بھری ہوش مند دنیا سے اکثر دور کر دیتا ہے ،جو محرومیاں جتاتا رہتا ہے ،تکلیف دہراتا رہتا ہے ،وہ نشہ جو کچھ بھولنے نہیں دیتا ۔اُس پر بھی یہ کیفیت اکثر طاری ہوجاتی تھی۔ تب اُس کے پاس اُس کے علاوہ کوئی نہ ہوتا جو دل سے پرانی باتیں کر سکے ۔۔۔دل کی نئی باتیں سُن سکے ۔۔۔جو دل کی ان کہی باتیں سمجھ سکے ۔اپنے آپ کے علاوہ اُس کا نہ کوئی غم خوار تھا نہ ہمراز۔وہ اُس سمندر کی طرح ہو چکی تھی جو ایک پل بے تاب لہروں کو باہر پھینک کر دوسرے ہی پل اُنھیں گلے لگا لیتا ہے۔
وہ بے سدھ لیٹے لیٹے پھر سے وہ دن یاد کرنے لگی جب وہ بے فکری سے سویا کرتی تھی۔نرم لحاف میں نیند کی پری تھپکیاں دیتی تو سارے ضروری کام تکیے کے نیچے رکھ دیے جاتے یا الماری کے اندر چھپا دیے جاتے۔ الارم کی دھمکیاں۔۔۔ماں کی سرزنش ۔۔۔بہنوں کا شور وغل کوئی بھی چیز اُس کے اور نیند کے تعلق کو کبھی کمزور نہ کر پائی تھی۔وہ خواب دیکھنے اور گھنٹوں سونے کی عادی تھی اور جو بھی اُس کے آرام میں خلل ڈالتا تو وہ اُس سے اُلجھ پڑتی۔
“اتنا مت سویا کرو بیٹا ۔۔۔تم سست ہو جاو گی۔۔۔ابھی تم نے بہت پڑھنا ہے ۔۔۔ بہت کام کرنے ہیں۔جوانی میں میری نیند بھی ایسی تھی اب دیکھو بڑھتی عمر نے گولیوں کا محتاج کر دیا ہے۔ اِس نیند کے آگے اِتنا بے بس کبھی نہیں ہونا چاہیے ،یہ روٹھتی ہے تو بڑی اذیت دیتی ہے ۔”
ممی اکثر اُس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہتیں تو وہ کچھ لمحے چپ کرجاتی اور پھر بلا کی حاضر جوابی کا مظاہرہ کرتی۔
“اچھا تو خود نرم نرم گھاس پر سو کر سارے خرگوشوں سے دوستی کی گئی ہے اور ہمیں سیکھایا جارہا ہے کہ ہم تیز رفتار گھوڑے کی بہن بن کر سارے کام فٹا فٹ کر لیا کریں ،واہ کیا منظق ہے ۔”
ایسی عجیب باتوں پر اُس کی ماں کا منہ کھلا ہی رہ جاتا۔وہ ایسی ہی تھی یا تو باتوں کو مذاق میں اُڑا دیتی یا اپنے دفاع میں لڑ پڑتی۔وہ سب کی ہی نہیں اپنے آپ کی بھی لاڈلی تھی۔۔۔اپنے آپ میں من موجی تھی ۔۔۔اپنی دنیا کی نخریلی شہزادی تھی ۔۔۔لیکن محبت نے سب کچھ بدل دیا تھا۔۔۔محبت کا پہلا حملہ اُس کی آزادی ،اُس کے سکون،اُس کی پیاری نیند پر ہوا تھا۔ جب سے اُس نے محبت کو پا یا تھا وہ سکون سے سونے کے لیے ترس گئی تھی ۔لوگ کہتے ہیں محبت میں نیند نہیں آتی ۔ ایک وہ محبت ہوتی ہے جو خوشی کی صورت اُترے ، جس کے خواب کسی نعمت سے کم نہ ہوں تو وہ سرور سے جگاتی ہے، ایک وہ محبت جو سراب کی طرح پیچھے پڑ جائے ، جس کے سپنے دلفریب دھوکے ہوں تو وہ خوش گمانی میں جگاتی ہے، مگر کچھ محبتیں عذاب کی طرح نازل ہوتی ہیں ہوش کی حالت میں جلاتا ہوا عذاب اور نیند کی کیفیت میں ڈراتا ہوا عذاب ،ایسا مستقل عذاب کہ جس میں آنکھیں بند ہوں تو سزا کا منظر اور آنکھیں کھولو تو ذلت کا نظارہ۔
***
اُس کا کمرہ صرف کمرہ نہیں محل کی گود میں ایک عالیشان تہہ خانہ تھا جہا ں ضرورت کا ہر ساما ن ضرورت سے زیادہ موجود تھا۔اچھی نسل کی لکڑی کا بھاری فرنیچر ۔۔۔جگہ جگہ سجے ہوئے عجیب و غریب ملکی اور غیر ملکی شوپیس ۔۔۔دیواروں پر لٹکتی ہوئی نئے پرانے طرز کی بندوقیں ۔۔۔اِرد گرد جھولتی جانوروں کی مہیب کھوپڑیاں اور پائوں کے نیچے زمین کی سطح سے کچھ اونچا سخت سا قالین ۔اُسے گلابی پردے پسند تھے اور وہ ہر روز سیاہ دبیز پردوں سے باہر کی دنیا دیکھتی۔ اُسے بستر پر سجی گہرے شوخ رنگوں کی چادریں بھاتیں ،لیکن ہمہ وقت ایک کے بعد ایک کالی بیڈ شیٹ اُس کا سانس تنگ کر دیتی۔ اُسے پائوں کو مخملی سی چٹکی کاٹتے قالین اچھے لگتے ،مگر ہر پل جھرجھری دلاتا کھردرا سا احساس اُس کے ایک ایک قدم کا حساب لیتا۔ کمرے کی ہر چیز جتنی مہنگی اور قیمتی تھی اُتنی ہی لطف اور خوشی کے ذائقے سے خالی۔سیاہ فرنیچر _سیاہ قالین _کالی چادریں _کالے پردے _یہ رنگ اکثر اُس پر رقت طاری کر دیتا،مگر وہ اِسے حکم کے تابع بے دلی سے دیکھتی اور اُوڑھتی۔ رشتوں کی طلب تو ایک ناممکن تمنا بن چکی تھی ، اپنے آپ سے ملنے کے لیے اُسے ایک آئینہ تک میسر نہ تھا۔وہ جب بھی خود پر گزرتے لمحوں کا اثر دیکھنے کی خواہش کرتی تو کانوں میں کندن کے جھولتے جھمکوں کو کھینچ کر کی گئی وہ پہلی سرگوشی گونجتی۔
” تم آئینہ نہیں دیکھو گی صاحبہ! خوبصورت لوگوں کا دشمن اُن کا آئینہ ہی ہوتا ہے ،بے سبب خوش گمانیوں کے راستوں پر چلا چلا کر تکبر کی چوٹی تک لے جانے والا فریبی آئینہ ۔”
ذہن و دل کو سلگاتی خیالوں کی حدت کچھ کم ہوئی تو ماحول میں بڑھتی خنکی نے اپنے ہونے کا احساس دلایا ۔کچھ دیر پہلے پسینے سے نم ہوتا جسم سرد لہروں سے اکڑنے لگا تو اُس نے ٹھنڈے کپکپاتے ہاتھوں سے کمبل کھینچ کر منہ پر ڈالا۔نمکین آنسو پی پی کر گلا پیاس سے سوکھنے لگا تھا ،مگر پانی کے جگ تک پہنچنے کی ہمت جیسے آنسوئوں میں بہہ گئی تھی۔آخر گلے کو کاٹتی پیاس نے اِتنا مجبور کیا کہ وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ نیم تاریکی اور پُراسرار مناظر ،چھوٹے بلب کی روشنی میں ہر چیز حجم میں بڑی اور ہیبت ناک لگ رہی تھی ۔ خوف سے پیاس کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو وہ پھرتی سے پانی کے جگ کی طرف لپکی اور چند گھونٹ اضطراب کے سمندر میں انڈیل کر خود کو پرسکون کرنے لگی۔
“حد ہے ! نہ وقت کی قدر ہے نہ بیوی کا احساس ۔اِس سے بہتر ہے وہ آج رات نہ ہی آئے ،کم از کم میں سکون سے سو تو سکوں گی۔”
وہ تنفّر سے بولتی ادھ کُھلی آنکھوں سے ڈھائی بجاتی گھڑی کو دیکھ کر دعا مانگنے لگی۔کچھ لمحے بے چینی کی نذر ہوئے اور پھر نیند مہرباں ہو گئی ۔آدھے گھنٹے کی خاموشی کے بعد زمین دھم دھم کی آواز سے چلاتی اور ہلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔اُسے لگا یہ وہی ہولناک خواب ہے ،یہ وہی زلزلہ ہے ، جو اُس کی خوشیوں کے محل کو مسمار کر دے گا ،جو اُس کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لے گا، جو اُسے سب اپنوں سے جدا کر دے گا۔
“مت توڑو اِن دیواروں کو ۔۔۔
مت گرائو مجھے ۔۔۔
مجھے کہیں مت لے جائو۔۔۔
مجھے گھر جانے دو۔۔۔”
وہ فریاد سے لرزتی سہمی آواز میں زور سے چیخی۔اب وہ مکمل ہوش میں تھی، یہ کوئی خواب نہیں تھا حقیقت تھی ، روز پیش آنے والی حقیقت۔ جس کی وہ عادی نہیں تھی۔۔۔جس کی وہ عادی ہونا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔مگر اُسے اِس حقیقت کا عادی ہونا تھا۔اُس نے خود کو اِس شور سے لاتعلق ظاہر کرنے کی کوشش کی ،لیکن زمین کے سینے پر پڑنے والی لاتیں اُسے اپنے وجود پر محسوس ہوئیں۔۔۔ مغرور اور بھاری بوٹوں کی چاپ نے کسی کے آنے کا واضح اعلان کیا ۔۔۔قریب آتی زور زور سے بجائے جانے والی سیٹی کی آواز نے سر پر ہتھوڑے برسا نے کا کام کیا تھا۔
ـ”جانور بھی ایسے اُجڈ انداز میں نہیں چلتے ہونگے ۔اِس شخص میں ذرا سی بھی انسانیت نہیں کہ سوئے ہوئے لوگوں کے آرام کا کچھ لحاظ کر لے ۔مغرور ، جاہل ، سفاک آدمی ۔”
وہ تکیہ سر پر رکھ کر کان بند کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہی ۔بدستور کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھولا اور زور سے بند کیا گیا۔کمرے کی ہر چیز کچھ پل کے لیے کانپ سی گئی ، مگر اُس نے ضبط کا کمبل اچھی طرح لپیٹ کر سونے کی اداکاری کی۔جان بوجھ کر کمرے کی ہر اُس شئے کو چھوا گیا جس سے بدسُری آواز پیدا ہونے کی گنجائش تھی ۔اگلے پانچ منٹ تک دیوار پر پھیلی بڑی سکرین پر بے ہنگم گانا چل چکا تھا ۔۔۔کمرے کی ساری بتیاں جل چکی تھیں۔۔۔اور کمبل فرش پر پٹخا جا چکا تھا۔وہ سُن اور محسوس کر سکتی تھی کہ جوتے ہوا میں اچھالے گئے تھے اور کوٹ اُس کے سر پر پھینکا گیا تھا۔
“اچھی بیویاں تب تک نہیں سوتیں جب تک اُن کے شوہر صحیح سلامت گھر نہ آجائیں، مگر تمھاری نیندیں تو غریب کا جہیز ہیں کبھی پوری ہو ہی نہیں سکتیں۔”
وہ ریموٹ سے چینل بدلتے ہوئے اُسے بے عزتی کی تصویر دیکھانے لگا۔
“اچھے شوہر بھی بیویوں کی عزت کے محافظ ہوتے ہیں جو ہمیشہ وقت پر گھر آتے ہیں کبھی دو۔۔۔کبھی تین۔۔۔کبھی چار بجے نہیں ۔”
صاحبہ نے بھی قالین سے کمبل اُٹھاتے ہوئے اُسے رکھائی سے آئینہ دیکھایا۔
“تم جتنی خوبصورت ہو اُتنی ہی زیادہ بدتمیز ۔تمھاری سزا اِس کمرے کے سات روشن بلب اور یہ گلے پھاڑتے ہوئے بیہودہ گانے ہیں جائو سو سکتی ہو تو سو جائو۔”
اب صرف اُس کی آواز ہی نہیں ٹی وی کا والیم بھی اونچا ہو چکا تھا۔
***
“صاحبہ بی بی آپ کی چائے ۔”
چاچی شگو کی بھاری آواز کانوں سے ٹکرائی تو وہ یکدم چونک سی گئی۔اُس نے اخبار سے نظریں ہٹاکر سامنے دیکھا تو اندر تک جھانکتی لال آنکھیں اُسے ہی گھور رہی تھیں۔ ایک آنکھ سے کانی گہرے سانولے رنگ کی یہ عورت حویلی کے پرانے ملازمین میں سے تھی۔ سب اُنھیں چاچی شگو کہتے تھے ، مگر اُس کا دل اُنھیں اِس نام سے پکارنے کے لیے کبھی نہ مانا ۔چاچی شگو کی ایک آنکھ کی دید دن رات اُس کا پیچھا کرتی اور اُن کے چہرے کے گرد کسّ کے بندھا ہوا سفید ڈوپٹہ ہر وقت اُسے اپنے گلے میں پھندے کی طرح محسوس ہوتا۔کچھ انسان واقعی ایسی پراسرار شخصیت کے مالک ہوتے ہیں کہ اُن کی موجودگی آپ کے اِردگر خوف کا حصار باندھ دیتی ہے ۔ اُس کے نزدیک چاچی شگو کا شمار بھی ایسے لوگوں میں تھا جن کے انسان ہونے پر اکثر شبہ ہونے لگتا ہے ۔اُن کا کام اُس کے کھانے پینے اور باقی ضرورتوں کا خیال رکھنا تھا۔وہ جتنا اِس عورت کا سامنا کرنے سے بچتی اُتنا ہی اُنھیں دیکھنا اُس کے مقدر میں تھا ۔کبھی کبھی اُسے لگتا کہ اُس کے پہرے پر ایک بھٹکتی ہوئی روح مسلط کی گئی ہے جس کا کام بس اُسے خوفزدہ رکھنا ہے۔ اُس نے اُنھیں ہنستے یا زیادہ بولتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ چاچی شگو ہمیشہ کی طرح اُسے ہراساں کر کے جا چکی تھیں۔وہ سرد ہاتھوں میں ٹھنڈی چائے کی پیالی پکڑے اُنھیں جاتا دیکھتی رہی ۔چاچی شگو نے جاتے جاتے اُسے تین بار مڑ کر دیکھا تھا۔
“کاش میرے پاس اتنا اختیار ہوتا کہ میں اِس عورت کو حویلی سے باہر نکال دیتی یا کم از کم اپنے پاس آنے سے منع کرسکتی۔”
کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے وہ بے بسی سے سوچنے لگی۔
فوراً ہی اِس خواہش کو مٹھی میں جکڑ لیا گیا،کیونکہ ایک بار اُس نے اِس اِختیار کی طاقت کو آزمایا تھا اور بدلے میں صرف مایوسی ہی ملی تھی۔
ظالم کبھی کبھی مہربانی پر اُتر آئے تو مظلوم خوش نہیں حیران ہوتا ہے ۔وہ بھی حیران و پریشان تھی کہ آج کتنے دنوں بعد اُسے کھانے کے لیے کمرے سے باہر بلایا گیا تھا۔ وہ بلکل اُس کے سامنے والی کرسی پر براجمان پچھلے آدھے گھنٹے سے کسی سے کاروباری گفتگو میں مصروف تھا۔صاحبہ کو اُس کے جلدی بات ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہ تھی ۔وہ جانتی تھی کہ اُن کے درمیان کوئی خوشگوار گفتگو نہیں ہونے والی۔وہ غور سے اُس کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔دل کی کتاب میں محبت کا صفحہ کب سے مٹ چکا تھا ،لیکن وہ آج بھی اُس کا چہرہ پڑھ سکتی تھی۔
اُس شخص کا سپاٹ چہرہ۔۔۔
بلا عنوان کتاب جیسا۔۔۔
خوشی اور غم کے رنگوں سے عاری ۔۔۔
بنا جواب کے پہیلی کی طرح۔۔۔
اُس کے چہرے کے پیچھے کوئی تو راز تھا جس پر اُس کی سنجیدگی نے ہاتھ رکھے ہوئے تھے ۔وہ اِن ہاتھوں کو ہٹانا چاہتی تھی ،لیکن اُس سے پہلے اُس کے ہی ہاتھ باندھ دیے گئے تھے۔وہ اُسے دیکھتے دیکھتے اُلجھن میں مبتلا ہونے لگی ۔ اُس نے گہری سانس لی اور وقت گزارنے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کردیا۔ وہ اُس وقت حویلی کے سب سے بڑے کمرے میں موجود تھے جس میں کھلنے والے پانچ دروازوں کو وہ حسرت سے دیکھ رہی تھی۔ اِن دروازوں میں ایک بھی دروازہ ایسا نہیں تھا جہاں سے کوئی اُس کے لیے آزادی کی خوشخبری لاتا۔آزادی کا خیال پُھر سے اُڑ گیا جب اُس نے تیسرے بڑے دروازے سے جھومری اور جنداں کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا ۔چھوٹے قد اور موٹے نقوش کی وہ دونوں عورتیں پہلوانی جسامت کی مالک تھیں۔اُن کی آوازیں ایسی تھیں جو کسی غار کی گہرائی سے بمشکل سنائی دیتی ہوں۔ناچاہتے ہوئے بھی صاحبہ کی نظر بار بار اُن دونوں کی طرف اُٹھنے لگی ۔ وہ ہاتھوں میں مختلف لوازمات سے بھری بڑی بڑی طشتریاں لیے اُس کے قریب آچکی تھیں۔پانچ منٹ کے اندر پوری میز لذیذ کھانوں سے سج گئی تھی،جن میں اکثر اُس کی ناپسند کے تھے ۔جھومری اور جنداں کی موجودگی سے وہ تب تک بے چین ہوتی رہی جب تک وہ چلی نہ گئیں ۔یہ احساس ہی اُس کے لیے جان لیوا ہوتا تھا کہ سارا کھانا اُن دونوں کے دھبے دار ہاتھوں سے پکتا ہے۔
“تم کچھ کھا کیوں نہیں رہی؟ ”
سوچوں میں گم اُسے خبر ہی نہ ہوئی کہ وہ کب سے اپنی بات ختم کر کے اُسے ہی گُھور رہا ہے ۔
“اتنا سارا کھانا؟”
کچھ سمجھ نہ آیا تو وہ مختصر بولی۔
“ناشکرے لوگوں کے لیے بہت کچھ بھی بہت کم ہوتا ہے بہت سارے میں بھی اُنھیں بہت تھوڑا پسند آتا ہے۔”
وہ واقعی نہیں سمجھی تھی کہ یہ طنز اُس کی ذات پر تھا اور تھا بھی تو کیوں تھا؟
“ایک بات کہوں۔”
اُس نے چھوٹا سا ایک نوالہ تقریباً نگلتے ہوئے اجازت چاہی۔
“ضرور! کافی دن ہوگئے ہیں تمھیں سنے ہوئے۔”
شیشے کی بڑی پلیٹ میں چاول ڈالتے ہوئے وہ خلافِ توقع مسکرایا تھا۔
“اتنی بڑی حویلی میں ہم دو لوگ ہیں۔مجھے لگتا ہے کچھ نوکروں کو نکال دینا چاہیے۔۔۔جیسے جھومری اور جنداں !”
گاڑھے شوربے میں روٹی کا ٹکڑا گھوماتے ہوئے وہ ڈر ڈر کر دل کی بات کہہ گئی تھی۔
“مجھے لگتا ہے کچھ نوکروں کا مزید اضافہ ہونا چاہیے ۔”
اُس کی بات اتنی تیکھی اور لہجہ اتنا ٹھوس تھا کہ ہر طرف سناٹا چھا گیا۔صاحبہ کا صرف رنگ ہی نہیں بھوک بھی اُڑ چکی تھی۔
***
“اِدھر آئو نا ذرا ۔”
اُس نے ملگجے جامنی لباس میں پھرتی سے جھاڑو لگاتی نسیمہ کو اونچی آواز سے پکارا۔
“جی بی بی ۔”
نسیمہ اپنا کام چھوڑ کر فوراً انگلی کے اشارے کی جانب بھاگی تھی۔
” مجھے تم یہ بتائو جب پہننا تم نے یہ بیس سال پرانا بوسیدہ جوڑا ہے تو وہ سب کپڑے کہاں ہیں؟ جو تم اِس گھر سے لے کر جاتی ہو۔ ”
مالا کا انداز خالصتاً کرخت مالکن جیسا تھا۔
“بی بی جی وہ تو کہیں آنے جانے کے لیے رکھے ہیں ،کام کاج کے لیے تو پرانے کپڑے ہی پہنتے ہیں ہم ۔”
نسیمہ پیوند لگے ڈوپٹے سے ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے معصومیت سے بولی۔
“کیا بات ہے میڈم جی! ویسے کہاں آتی جاتی ہیں آپ؟ ”
مالا نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
“وہ جی ملنے جلنے والوں میں کوئی خوشی غمی ہوتی ہے تو اچھے کپڑے پہن لیتی ہوں۔”
نسیمہ نے ہچکچاتے ہوئے سر جھکا کر جواب دیا۔
what”؟ ملنا جلنا۔۔۔تم جیسوں نے اپنے جیسوں سے ہی ملنا جلنا ہوتا ہے ۔تمھارے اندر اتنی بھی سمجھ نہیں کہ اِس بدبودار لباس میں تم ہمارے مہمانوں کے سامنے جاکر ہمارا کتنا امیج خراب کرتی ہو،مگر تمھیں کیا پتا کہ امیج کس چڑیا کا نام ہے ،ہو تو تم جاہل ۔”
وہ ممی کی غیرموجودگی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے آج نسیمہ کی خوب کلاس لینے لگی۔
” مالا بی بی روز تو نہاتی ہوں۔پائوڈر بھی لگاتی ہوں جی۔منجن بھی ہے میرے پاس۔ ”
نسیمہ نے شرمسار لہجے میں یقین سے کہا۔
“ہاہاہا ۔۔۔واقعی تمھاری خوشبو تو ہمارے باغیچے سے بھی زیادہ ہے ۔تم دس فٹ کی دوری پر بھی بات کرو تو مہک ناک سے ٹکراتی ہے۔ ”
اُس کے فخریہ انداز پر مالا دل کھول کر ہنسی تھی۔
“یقین کریں جی ! میں بھی بڑی صفائی پسند ہوں۔”
اپنا مذاق بنتا دیکھ کر نسیمہ نے ادب سے احتجاج کیا۔
“بڑی آئی صاف ستھری ۔۔۔تمھارے منہ سے تو نہیں لگتا کہ تم صابن کی شکل بھی دیکھتی ہوگی ۔جائو میرے لیے چائے بنائو کب سے فضول کی بحث کر رہی ہو۔”
مالا نے ناگواری سے اُس پر ایک نگاہ ڈال کر اگلا حکم سنایا۔
“ابھی لائی جی ۔”
نسیمہ اثبات میں سر ہلاتی کچن کی جانب چل دی تھی۔
وہ بھی کچن کے دروازے میں کھڑی نسیمہ کی ایک ایک حرکت کا جائزہ لینے لگی۔
“او مائی گاڈ۔۔۔رک ۔۔۔رک۔۔رک۔۔۔میں کہتی ہوں ۔۔۔یہی رک جائو ۔”
دفعتہ کچھ یاد آیا تو وہ اُس کی طرف دوڑتے ہوئے حلق پھاڑ کر چلائی ۔
“کیا ہوا بی بی جی ؟کیا ہوا ؟”
نسیمہ نے اُس کی طرف مڑتے ہوئے گھبرا کر پوچھا۔
“ابھی تم جھاڑو لگا رہی تھی پھر انھی گندے ہاتھوں سے چائے بنا رہی ہو ۔تمھیں ذرہ عقل نہیں کہ ہاتھ بھی دھونے ہوتے ہیں ۔” وہ اُس کے سانولے ہاتھوں سے کپ کھینچ کر پوری شدت سے غرّائی تھی ۔
“بھول گئی تھی بی بی جی ۔۔۔معافی دے دیں۔”
نسیمہ کے چہرے پر بلا کی بے چارگی تھی جیسے کوئی بڑی چوری پکڑی گئی ہو۔
“ناخن دیکھائو اپنے ۔۔۔میں کہتی ہوں ناخن دیکھائو۔”
اب اُس نے سخت گیر استانی کی طرح نسیمہ کا ہاتھ اپنی طرف کھینچا۔
سیاہ مٹی سے اٹے ہوئے لمبے لمبے ناخن دیکھ کر مالا کا پارہ مزید چڑھ گیا تھا۔
“توبہ ۔۔۔توبہ ۔۔۔اِن ہاتھوں سے پکاتی ہو تم؟ نجانے کب سے ہمارے کھانوں میں جراثیم پک رہے ہیں ۔۔۔ اِس سے پہلے میں تمھیں دو تھپڑ رسید کردوں دفع ہو جائو یہاں سے۔۔۔اب سے تمھاری پکّی چھٹی ۔”
اُس نے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ دروازے کی طرف اشارہ کیا ۔
“ایسا مت کریں ! مالا بی بی، مجھے نوکری سے مت نکالیں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔”
ہاتھ جوڑ کر التجا کرتی نسیمہ تقریباً رو دینے کو تھی۔
“چلو نکلو یہاں سے ۔۔۔نکلو۔۔۔خبردار جو یہ ناٹک یہاں کیا ۔۔۔میں ممی نہیں ہوں جو تمھارے جھانسے میں آجائونگی۔ ”
مالا نے زور سے دھکّا دیتے ہوئے اُسے گھر سے باہر نکالا تھا۔جاتے جاتے کئی بددعائیں اُس کی سماعتوں سے ٹکرائیں ،لیکن اُسے اِن باتوں کی پرواہ کب تھی ۔نسیمہ جاچکی تھی مگر شام کو پھر اُسے ممی کے سامنے اپنی اِس حرکت کے لیے جواب دہ ہونا تھا۔اُس نے سوچ لیا کہ وہ اِس موضوع پر اب کھل کر بات کرے گی۔آج کے دن کرنے کے لیے بہت سارے کام تھے مگر اُس کا موڈ خراب ہو چکا تھا۔کمرے میں آکر اُس نے زور سے دروازہ بند کیا ، فل والیم میں انگلش گانا لگایا اور کسی بات پر دھیان نہ دیتے ہوئے اپنی دنیا میں کھو گئی۔وہ کتنی ہی دیر یونہی بیٹھی جھومتی رہی ۔”مالا آپی۔۔۔مالا آپی۔۔۔” آخر کسی نے اُس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر ہلایا ۔ٹیلر سوفٹ کی مدحوش آواز کے ساتھ کسی کی باریک آواز گونجی تھی۔ اُس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو سامنے چھوٹی بہن روبی کو کھڑے پایا۔کمرے میں ہلکا سا اندھیرا تھا ۔ اُس کا پسندیدہ گانا بند ہو چکا تھا۔ اپنی دنیا میں مگن اُسے پتا ہی نہ چلا کہ دوپہر نے شام تک کا فاصلہ طے کر لیا ہے۔ اُسے باہر بلایا گیا تھا ۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اب اُس کی کلاس ہونے والی ہے۔
” یہ پانچویں ملازمہ تھی جسے تم نے بے تکی وجوہات کی بناہ پر بھگا دیا ۔کسی کے ہاتھ اچھے نہیں ، کسی کا رنگ کالا ہے تو کسی سے بدبو آتی ہے ۔آخر تم چاہتی کیا ہو؟ لوگوں کو اُن کے ظاہری حلیے سے جج کرنا کب چھوڑو گی تم؟ ”
ریحانہ اپنی بڑی لاڈلی بیٹی پر آج حد سے زیادہ برہم تھیں ۔
“گندگی کے تو نسیمہ نے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے۔آپ اُس کے ناخن دیکھ لیتیں تو مجھے شاباشی دیتی کہ میں نے بلکل ٹھیک کیا۔”
مالا نے گردن اکڑا کر کہا۔اُس کے چہرے پر کوئی پچھتاوا نہ تھا۔
“آٹھ گھروں میں کام کرتی ہیں یہ ،ہماری طرح بڑی کرسی پر بیٹھ کر حکم نہیں چلاتیں۔کیا پتا وہ کتنی مجبور ہو۔تم مجھے اُسے سمجھانے کا موقع تو دیتی۔”
ریحانہ کو اُس کا تکبرانہ انداز بلکل نہ بھایا۔
“میں نے جو کیا ٹھیک کیا ۔ہم نہیں تو۔۔۔۔۔اور سہی۔اِن لوگوں کے پاس کام کی کمی نہیں ہوتی ممی۔”
وہ ہر صورت خود کو ٹھیک ثابت کرنے پر تلی ہوئی تھی۔
“یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی کہ جس پر اتنا ری ایکٹ کیا جاتا۔اُسے کام مل جائے گا۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم آئے دن ہر چھوٹی چھوٹی بات پر ملازم تبدیل نہیں کر سکتے۔”
مالا کی ہٹ دھرمی اُنھیں مزید اشتعال دلانے لگی ۔
“مان لیا یہ اتنی بڑی بات نہیں تھی،مگر اُس کی شکل عجیب تھی یہ بڑی بات ہے۔”
مالا نے زچ ہو کر اصل نکتہ اُٹھایا۔
“عجیب شکل؟ کیا مطلب ہے تمھارا؟”
ریحانہ نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔
“مجھے بگڑی شکلوں سے خوف آتا ہے ،گھن محسوس ہوتی ہے ممی۔میں اِن بدصورت ہاتھوں اور بدصورت چہروں کو کبھی قبول نہیں کر سکتی ۔میں اتنا نیچے نہیں گر سکتی ۔میں اِن لوگوں کے ہاتھوں کا پکا نہیں کھا سکتی۔ کوئی اچھی سی ملازمہ تلاش کیجیے تاکہ مجھے اور پھر آپ کو شکایت نہ ہو۔”
وہ نخوت سے اپنی سوچ کا پرچار کر کے پنسل ہیل زمین پر پٹختی چلی گئی ۔
بحث ختم ہو گئی مگر ریحانہ کے دماغ میں نئی سوچوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔
***
“مجھے اُسے سمجھانا ہوگا ۔بڑی اولاد کو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ وہ سب کے لیے بری مثال بن جائے گی ۔میں کتنی لاپراہ ہوں۔ میں نے کیسے اُسے اِتنا آگے بڑھنے دیا ؟یہ کس طرح کی سوچ ہے؟ یہ کیسے خیالات ہیں کہ وہ ہر شئے اور ہر شخص کو گھمنڈ کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہے۔”
ریحانہ کافی دن اپنی غفلت اور اُس کے رویے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتی رہیں۔ اُن کے سامنے بیٹی کا مستقبل لہرا رہا تھا جسے بگاڑنے کا سامان وہ خود تیار کر رہی تھی۔ اپنی غلطی کے باوجود اُس نے کئی دن تک منہ پھولائے رکھا تھا آخر مامتا سے مجبور ریحانہ کو ہی پہل کر نی پڑی ۔
“میں تمھارے لیے بہت پریشان ہوں۔تم اب بچی نہیں رہی کہ تمھیں ڈانٹ ڈپٹ کر یا غصے سے سمجھایا جائے ۔”
ریحانہ کافی فکرمند نظر آرہی تھیں۔
“مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ آپ مجھے سمجھانا کیا چاہتی ہیں؟”
وہ کندھے اچکا کر سرسری انداز سے بولی۔
“لڑکیوں کو اتنا غرور نہیں سجتا بیٹا۔دل اور دماغ میں پلتا یہ اکھڑپن زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔تم جتنا سمجھتی ہو زندگی کا جام اتنا خوش ذائقہ نہیں ! بہت سے ناپسندیدہ گھونٹ خوشی خوشی بھرنے پڑتے ہیں۔”
اُنھوں نے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے زندگی کا اصل رخ دیکھانے کی کوشش کی۔
“آنی فہمیدہ کہتی ہیں زندگی سفر ہے اور آپ کہہ رہی ہیں زندگی جام ہے ۔پلیز لیڈیز ! مجھے کنفیوز مت کریں۔”
مالا نے سر پر ہاتھ مار کر دہائی دی تھی۔
“کنفیوز تو تم ہو۔ جانتی ہو اگر انسان کو اپنا آپ ہی اجلا نظر آنے لگے تو ا ِس کا مطلب ہے اُس کی نظر بہت میلی ہو چکی ہے۔ اور تم اِس مسئلے سے دوچار ہو۔”
ریحانہ نے اُس کے اِن الفاظ پر افسوس سے کہا۔
“کیا ہوا ہے میری نظر کو؟ بتائیے کیا ہوا ہے؟ سب ٹھیک ٹھیک تو دیکھائی دے رہا ہے۔”
اب کے وہ خاصی چڑ گئی تھی۔
“ضروری نہیں کہ سیڑھی کے پہلے قدم سے نظر آنے والی چیزیں چھوٹی ،فالتو اور بیکار ہوں یا آخری قدم سے نظر آنے والی چیزیں بڑی ،خوبصورت اور کارآمد ہوں۔کبھی کبھی ہم ٹھیک سے نہیں دیکھ رہے ہوتے یا کبھی ہم دل کی آنکھ سے نہیں دنیا کی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔”
اُس کی بدتمیزی سے ریحانہ بھی کچھ تپ سی گئیں۔
” ممی کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ یا تو آپ کوئی جذباتی قسم کا ناول پڑھ رہی ہیں یا پھر کوئی ٹریجڈی ڈرامہ دیکھ رہی ہیں۔میرے ننھے سے دماغ کو اتنی موٹی باتیں کیسے سمجھ آئے گیں موم ۔سیدھے سیدھے بتائیں ناں کہ کیا کہنا چاہتی ہیں آپ؟ ”
اُس نے ماحول کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے قدرے مزاح سے پوچھا ۔
“یہ مذاق کی بات نہیں ہے مالا ۔ یہ بہت سیریس معاملہ ہے۔ تم انسانوں کو انسان نہیں سمجھ رہی ۔کبھی سوچا ہے تم نے کہ اگر تمھیں زندگی میں کم صورت لوگوں کے ساتھ رہنا پڑے ۔کبھی سوچا ہے کہ اگر کوئی تم سے زیادہ حسیں تمھیں ہی ٹھکرا دے۔ لوگو کو اُن کی شکلوں سے نہیں اُن کی سیرت اور قابلیت کے بل بوتے پر پہچانو ۔۔۔اُنھیں اپنے برابر سمجھو۔۔۔اُنھیں احترام دو۔۔۔ ورنہ تم اِس خود پسندی کے جال میں پھنس کر تنہا رہ جاو گی۔”
لاپروائی سے ٹیبل پر انگلیاں بجاتی مالا ماں کے اتنے کرخت الفاظ پر رک سی گئی۔
“مائیں تو بیٹیوں کو دعائیں دیتی ہیں۔ آپ مجھے ڈرا رہی ہیں کہ میرے ساتھ برا ہوگا۔”
وہ اُن کی باتوں کا مقصد نہ سمجھتے ہوئے خفا سی ہوئی۔
“میں ڈرا نہیں رہی ۔۔۔میں ڈر رہی ہوں مالا ۔میری باتوں کو مثبت انداز سے سمجھو۔میں تمھارا بھلا چاہتی ہوں ۔”
ریحانہ نے اپنی آواز نرم کرتے ہوئے پیار سے اُس کے کندھے کو مضبوطی سے پکڑا۔
“چھوڑیے ممی ! یہ لیکچر آئیندہ مت دیجیے گا۔اتنا سوچ کر مجھے نفسیاتی مریض نہیں بننا ۔مجھے زندگی انجوائے کرنے دیں ۔میں جو ہوں،جیسی ہوں مجھے خود پر ناز ہے اور اپنی سوچ پر بھی۔”
وہ بیزاری سے ریحانہ کا ہاتھ جھٹک کر اُن کے سامنے سے اُٹھ گئی تھی ،بغیر یہ دیکھے کہ اُس کی ماں کے چہرے پر مایوسی کے کتنے رنگ بکھر چکے ہیں۔
***
“ارے ۔۔۔ ارے ۔۔۔ کہاں بھاگے جا رہے ہو ؟ ہماری کامیابی کی مٹھائی تو کھاتے جائو۔”
جیون نے دودھیا کلائی سے اُس کا راستہ روک کر مٹھائی کی پلیٹ سامنے لہرائی۔
“دماغ ٹھیک تو ہے تمھارا!کونسی کامیابی؟ کیسی مٹھائی ؟ ہم تو بس پاس ہوئے ہیں اور وہ آستین کا سانپ پھر سے پوزیشن لے کر بابا جان کی نظر میں اُٹھ گیا ہے ۔”
جازم کو وہ اُس لمحے مٹھائی سمیت سخت زہر لگی تھی۔
“شکر ہے پاس ہوگئے ہم۔۔۔سوچو اگر فیل ہوجاتے تو؟”
جیون نے ایک لڈو سے انصاف کرتے اُسے مزید تپایا ۔
“تو میں اُس کا خون کردیتا اور تمھارا خون پی جاتا۔”
جازم نے بھی اُسے جلانے کی پوری کوشش کی۔
“اُسے تو مار ہی دو ، مگر ہمیں تم ہاتھ تو لگا کر دیکھائو۔”
وہ بھی کمر پر ہاتھ رکھ کر اُسی کے انداز میں آنکھیں دیکھانے لگی۔
جازم نے اِس دلیری پر اُسے ظالم نظروں سے سر تا پیر گُھورا ۔۔۔گلابی شلوار۔۔۔ہری قمض۔۔۔پیلا ڈوپٹہ ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی میلہ دیکھ کر آئی ہے یا کسی مہندی پر جانے والی تھی۔
“اُس کا دماغ تو میں درست کرونگا، مگر تم پڑھائی چھوڑ کر اپنا حلیہ ٹھیک کرنے پر توجہ دو۔اِس لباس میں تم انتہائی فضول لگ رہی ہو۔”
غصیلے لہجے میں اب جیون کے لیے ناپسندگی اتر آئی تھی۔
“ہر جگہ میری پسند کی تعریف ہوتی ہے ۔میرے کپڑوں کے رنگ، کڑھائی، سلائی ہر چیز کو سراہا جاتا ہے ۔تم تو بد ذوق ہو اور تمھاری یہ آنکھیں بھی خراب ہیں ۔اِس لیے تو تمھارے کم نمبر آئے۔”
اُس نے انگھوٹھا دیکھاتے ہوئے اپنی بے عزتی کا خوب بدلہ لیا۔
“میں کہتا ہوں چلی جائو یہاں سے۔ ورنہ !”
جیون کے آخری جملے پر وہ سلگ ہی اُٹھا تھا۔
“ورنہ کیا؟ تھپڑ مارو گے؟”
اُس نے ایک آنکھ بند کی اور گال پھُلا کر اُس کے سامنے کر کے بولی۔
“تم یہاں کھڑی رہ کر کرتب دیکھاتی رہو۔جارہا ہوں میں۔”
اِس ہٹ دھرمی پر وہ سخت طیش میں آچکا تھا۔
“اچھا سوری بابا! ویسے ہم کیوں لڑ رہے ہیں ؟میں تو تمھارے لیے اتنی خوشی سے مٹھائی لائی تھی۔”
وہ ہتھیا ر پھینکتے ہوئے ایک بار پھر مٹھائی کی پلیٹ لہرا کر اُس کے سامنے آگئی ۔
“یہ مٹھائی اُس کے منہ میں ٹھونسو اور اُسے یہ بھی کہہ دینا کہ وہ چاہے جتنے تیر مار لے اُس کی حیثیت ہمیشہ دو کوڑی کی ہی رہے گی۔”
وہ اُس کی پٹر پٹر چلتی زبان سے اب عاجز آ چکا تھا۔
“مٹھائی تو تمھیں کھانی ہی پڑے گی !آخر پاس ہوئے ہیں ہم ۔۔۔مذاق تھوڑی ہے۔”
جیون نے کھلکھلاتے ہوئے زبردستی لڈو اُس کے منہ میں ڈالا ۔
“کیا بچپنا ہے یہ پاگل لڑکی ؟”
جازم نے آگ بگولہ ہوتے ہوئے سختی سے اُس کا ہاتھ پیچھے دھکیلا ۔
سونے کے رنگ کے سارے لڈو ایک ایک کر کے سنگِ مر مر کے فرش پر بکھر گئے اور چاندی سی چمکتی ہوئی گول پلیٹ ٹن ٹن کرتی دور جا گری تھی۔
“ستیاناس کردیا ۔۔۔اُس کلوے کا غصہ مٹھائی پر کیوں نکالتے ہو؟ دفع کرو اُس بد شکل کو ، صورت تو اچھی ہے نہیں ،بس ایک تیز دماغ ہے اُسی سے ہی تو کام چلا رہا ہے وہ ۔نفرت کی اِس چنگاری سے اپنا اور میرا خون کیوں جلاتے ہو ؟ دیکھو !تم نے میری ساری محنت ضائع کردی ۔”
جیون بھی بھنا کر شکایتی انداز میں ٹوٹے ہوئے لڈو سمیٹتے ہوئے بولی۔
اُسے خفا ہونے کا پورا حق تھا کیونکہ اُس نے جازم کی پسند کی مٹھائی اپنے ہاتھوں سے بنائی تھی۔
***
وہ تینوں کزنز تھے ۔سیف جازم کی پھوپھی کا اکلوتا بیٹا تھا تو جیون چچا کی چھوٹی لاڈلی بیٹی ۔جازم کے والد ارشد خان تین بہن بھائی تھے ۔بدقسمتی سے ایک کار حادثے میں وہ اپنی بہن اور بھائی دونوں کو کھو بیٹھے ۔حادثے میں نہ صرف اُن کی بڑی بہن اور بہنوئی اُن سے بچھڑے تھے بلکہ چھوٹا بھائی بھی بیوی اور دو بچوں سمیت ابدی سفر پر روانہ ہوگیا۔ اُن دنوں کراچی میں خاندان کی ایک بڑی شادی تھی۔ جیون اور سیف نے جازم کے ساتھ گاڑی میں جانے کی ضد کی اور اِسی ضد نے اُن دونوں کی زندگی بچا لی تھی۔
جازم ارشد خان کی اکلوتی اولاد تھا ۔ اب وہ سیف اور جیون کا بھی ایسے خیال رکھتے جیسے اپنے بیٹے کا۔اُن کی محبت تینوں بچوں کے لیے یکساں تھی۔ بہن اور بھائی کی جدائی کا غم وہ بچوں کی مسکراہٹ سے کم کرنے کی کوشش کرتے ۔ارشد خان کے لیے وہ دونوں ایک امانت کی طرح تھے اور اُنھوں نے خیال ،محبت اور توجہ کی اِس امانت میں کبھی خیانت سے کام نہ لیا ۔سارا دن وہ تینوں حویلی کے بڑے آنگن میں بھاگتے اور کھیلتے رہتے ۔اُس سمے نہ اُنھیں حسد کا پتا تھا نہ نفرت کا احساس۔ ارشد خان کا خون بچوں کی دوستی اور محبت سے بڑھتا تو اُن کی زوجہ ذکیہ بیگم کا دل جلنے کڑھنے لگتا۔ ذکیہ بیگم کے سیف سے بیر کا کارن اُن کی بچپن کی وہ محبت بنی جو سیف کی ماں کے حصے میں آئی اور جیون سے ہمدردی نہ ہونے کی وجہ دیور اور دیورانی سے جائیداد کی اَن بن تھی۔ارشد خان ماضی کے حالات سے خوب واقف تھے اِس لیے اُنھوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ ذکیہ بیگم بن ماں باپ کے بچوں سے پرانی حسرتوں اور رنجشوں کا بدلا نہ لیں۔
***
اپنوں کو کھونے کا غم وہ کبھی نہیں بھول پائی،مگر جازم کی دوستی اور اپنائیت نے اُسے مسکرانے کی وجہ ضرور دی تھی۔بچپن میں کھیل کھیل کے دوران جب وہ دو انگلیوں کی قینچی بنا کر اُس کے چھوٹے چھوٹے بال کھینچتا۔۔۔اُس کی پتلی ناک پر ہلکا سا مکّا مار کر بھاگ جاتا ۔۔۔تب وہ بھی اُس سے بدلہ لینے کے لیے اُس کے پیچھے دوڑتی ۔۔۔مالی بابا سے اُسے پکڑنے کے لیے مدد لیتی ۔۔۔تایا جان کے کان میں اُس کی شکایتیں کرتی ۔۔۔مگر سکون اُسے تب ہی ملتا جب وہ پھولوں میں چھپا کر ڈھیر ساری ٹافیاں لاتا اور اُس سے وعدہ کرتا کہ جب وہ شہر جائے گا تو اُس کے لیے نیلے کاغذ والی لمبی سی چاکلیٹ لائے گا۔ہر لڑائی اور پھر صلح کے بعد وہ اُسے اور زیادہ اپنا لگتا۔ آج بھی وہ بچوں کی طرح لڑتے تھے ۔وہ جان بوجھ کر اُسے چھیڑتی ۔۔۔باتوں باتوں میں اُسے اکساتی۔۔۔اور جب وہ خفا ہوجاتا تو وہ مسکین سی صورت بنا کر معافیاں مانگنے لگتی ۔اُس کا غصّہ تپتے ناراض سورج کی طرح تھا اور اُس غصے کا اترنا ٹھنڈی سلونی شام کے جیسا۔بس اِسی منظر کی جیون دیوانی تھی ۔ لڑکپن تک تو وہ صرف اچھا لگتا تھا مگر جوان بہاروں نے کہہ دیا کہ محبت کے سارے گلاب اُسے جازم کے ہاتھ پر رکھنے چاہیے۔ جازم کچھ کچھ اُس کی کیفیت سے واقف تھا لیکن اِس کیفیت کے پس پردہ محبت کی اصل حقیقت اُس پر کھلنا باقی تھی۔وہ بچپن کی حد سے نکل چکے تھے، وہ بھی چپ کی حد سے نکلنے کو بے تاب تھی۔
“کتنا خوبصورت لمحہ ہو گا جب وہ خود آکر کہے گا ،جیون میرے جیون کے لیے سب سے ضروری تم ہو،جانتی ہو !میں تمھیں اُس وقت سے محبت کرتا ہوں جب محبت کا نام بھی میرے لیے اجنبی تھا ،آج اِس جذبے نے وہ راستہ دیکھایا ہے جس کی منزل صرف عشق ہے ۔”
“تب میں آنکھوں سے سوال کرونگی تو وہ روکے گا،آنکھیں مت جھپکو جیون ! مجھے پڑھنے دو۔ ۔۔ مجھے تمھاری آنکھوں کی زباں سمجھنے دو۔۔۔تم نے اپنی آنکھیں دیکھی ہیں کسی پہنچے ہوئے شاعر کی مشہور غزل جیسی ۔۔۔مفہوم کے کئی در وا کرتیں ۔۔۔ درد اور داد سمیٹتی ہوئی آنکھیں ۔”
“پھر میں کچھ کہنے کے لیے لب کھو لوں گی تو وہ بولے گا، چپ رہو جیون ! کچھ مت کہو ،مجھے تمھارے اِن لبوں کے رنگ کو دیکھنے دو ، تمھارے اِن لبوں کا رنگ جو لال اور گلابی کے بیچ کا کوئی رنگ ہے ،پتا ہے ! میں نے حویلی سے ملحقہ پورا باغ چھان مارا ،مگر اِس انوکھے رنگ کا کہیں کوئی پھول نہیں۔”
“اور جب میں جانے کے لیے پلٹوں گی تو وہ میرے قدموں میں بیٹھ جائے گا۔بس اتنا سنتی جائو ! جب میں چھوٹا تھا تو اِس حویلی کے بہت سارے برآمدوں میں راستہ بھٹک جاتا تھا ، میں اب بھی راستہ بھول گیا ہوں، تمھاری اِن لمبی سیاہ زلفوں میں کھو کر۔تمھیں کیا خبر کہ حویلی کی ساری روشنیاں تمھارے چہرے سے مستعار لی گئی ہیں اور مہکتے ہوئے سارے موسموں کو تمھارے وجود کا اُدھار چکانا ہے۔میں تمھاری راہ میں بیٹھا ہوا ایک معمولی سا فقیر ہوں بس کچھ روشنی کے ٹکڑے کچھ خوشبوئوں کے ذرے میری جھولی میں گرا دو ۔ میری زندگی جگمگائے میری زندگی بن جاو جیون ۔”
وہ خوابوں کے سمندر میں ڈوبتی تو دور دور تک حقیقت کا کوئی کنارہ نظر نہ آتا۔پھولوں سے سجے لکڑی کے خوبصورت جھولے میں جھولتے ہوئے وہ خیالوں میں کتنی ہی دیر جھولتی رہتی۔ وہ یہ سب اُس کے منہ سے سننا چاہتی تھی اور اُسے اُس وقت کا شدت سے انتظار تھا۔
***
ــ”یہ کیا ہے ؟کس کے لیے ہے؟”
سُرخ گفٹ پیپر میں لپٹا چھوٹا سا ڈبہ جازم کے ہاتھوں میں دیکھ کر اُس نے تعجب سے پوچھا ۔
“آج تمھاری سالگرہ ہے میں نے سوچا جگنی بوا کو تحفہ دے دوں۔”
وہ چٹکلہ چھوڑتے ہوئے ڈبے پر انگلیوں سے ساز بجانے لگا۔۔۔
“تحفہ تو انھیں ملنا چاہیے ،سارا دن بیچاری کام کرتی رہتی ہیں۔”
وہ آنکھیں سکیڑ کر مصنوعی ہمدردی سے بولی ۔
“میرے کام تو تم کرتی ہو، اِس لیے تم زیادہ حقدار ہو۔”
جازم نے بھی ویسے تاثرات دے کر اُسے چھیڑا تھا۔
“اچھا! تو میں تمھاری نوکرانی ہوں؟”
اُس نے ابرو اچکا کر خفگی دیکھائی ۔
“ہاں! پڑھی لکھی۔۔۔پیاری پیاری۔۔۔نٹ کھٹ نوکرانی۔”
وہ اُس کی لٹ کھینچ کر شوخ ہو رہا تھا۔
“مجھے لگا تھا پچھلی بار کی طرح ۔ ۔۔تم اِس بار بھی بھول جائو گے۔”
وہ اُس کے انداز سے محظوظ ہوتے ہوئے پرانا شکوہ کرنے لگی۔
“انسان ہوں بھول بھی سکتا ہوں،مگر یہ نہیں بھولتا کہ
تم میری بچپن کی سہیلی ہو ۔۔۔
سنگ میرے کھیلی ہو۔۔۔
آفت کی پڑیا ہو۔۔۔
لگتی بلکل گڑیا ہو۔۔۔”
وہ منہ کے عجیب عجیب زاویے بناکر شرارت سے گنگنایا تو وہ بھی اُس کی حرکتوں پر دل کھول کر ہنس دی ۔وہ ڈبہ کھول کر چمکتی ہوئی گھڑی کلائی میں پہن چکی تھی۔ کچھ دیر وہ گھڑی کی کوائلٹی اور اپنی بہتریں چوائس پر بولتا رہا ،مگر اُس کی باتوں میں آج بھی وہ بات شامل نہیں تھی جو وہ سننا چاہتی تھی۔اِس گھڑی کے ساتھ وہ اُسے انتظار بھی سونپ گیا تھا ۔اب پھر سے اُسے کسی خاص موقعے کی راہ دیکھنی تھی۔۔۔۔
عید پر اُس نے گولڈن کلر کا خوبصورت لہنگا پہنا تھا۔وہ اُس کے کمرے میں عیدی لینے آئی تو وہ کافی دیر اُسے ستائشی نظروں سے دیکھتا رہا۔
“واہ واہ، آج تو تم کافی اچھی لگ رہی ہو۔ماننا پڑے گا کہ تمھاری پسند بہت بہتر ہو گئی ہے ۔چلو اِس خوشی میں تمھاری عیدی ڈبل۔”
اُس نے ہزار ہزار کے پانچ نوٹ اُس کی مہندی سے سجی ہتھیلی پر رکھ دیے ۔
وہ اُس کے انداز پر کچھ شرما سی گئی ۔۔۔دل تیز رفتاری سے دھڑکنے لگا ۔۔۔مگر وہ اُس دن بھی چند توصیفی جملوں سے زیادہ کچھ نہ سن پائی ۔اُس کی سالگرہ ۔۔۔عید۔۔۔۔حویلی میں ہونے والی ہر چھوٹی بڑی تقریب ۔۔۔کتنے ہی موقعے تھے جب اُسے دوست کہا گیا۔۔۔جب اُسے اپنا کہا گیا۔۔۔جب اُس کی تعریف کی گئی ۔۔۔جب اُسے خاص محسوس کرایا گیا ۔۔۔لیکن وہ ایک جملے کی منتظر رہی ۔۔۔بس ایک جملہ ۔۔۔وہ جملہ جو محبت کی سند ہوتا ہے ۔
بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
ایک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا
ہر لڑکی چاہت کی دہلیز پر قدم رکھ بھی دے تو اقرار کا در نہیں کھولنا چاہتی ۔وہ بھی چاہتی تھی کہ جازم اُس کے دل کی چوکھٹ تک خود چل کر آئے ،اظہار کی سب کھڑکیاں کھولے ،تاکہ وہ محبت کی ہوائووں میں اُس کے ساتھ سانس لے سکے۔لیکن ایک ایک کر کے سارے دن صدیوں کی طرح گزر رہے تھے اور اِن صدیوں میں سرکتی انتظار کی گھڑیاں وہ تنہا گن رہی تھی ۔
” یا تو دل کی زمین پر کھلے پھولوں کی خوشبو اُس تک پہنچی نہیں یا پھر اُس کی انا کی دیوار اتنی بلند ہے کہ وہ اِس طرف جھانکنا ہی نہیں چاہتا۔”
وہ آئینے کو اپنا ہمراز بنا کر حالِ دل بیاں کرنے لگی۔
“کبھی کبھی یہ دوستی بھی بڑی دیوار بن جاتی ہے اصل رشتہ نظر انداز ہی ہوجاتا ہے ۔”
اُس نے آئینے کو رگڑ رگڑ کر صاف کر کے اداسی سے سوچا۔
“حویلی پرانی ہے تو کیا ہوا؟ زمانہ تو نیا ہے۔مجھے ہی ہر دیوار گرانی ہوگی ۔ہاں !مجھے ہی پہل کرنی ہو گی ۔آج میں اُسے سب کچھ کہہ دو نگی ۔”
اب وہ سرمئی آنکھوں میں کاجل سے لائن کھینچتے ہوئے فیصلہ کُن انداز میں اپنے با اعتماد عکس سے بولی۔
وہ سنگھار کے سب مصنوعی لوازمات سے پاک تھی ۔اُسے میک اپ کرنا نہیں آتا تھا۔ ہونٹوں کا ہلکا گلابی رنگ لپ اسٹک کی کمی پورا کر دیتا تو بڑی بڑی کالی بدلی جیسی آنکھوں کو کاجل کا چھو جانا ہی کافی ہوجاتا۔اُس نے چمکتے ہوئے شیشے کو مزید تین چار دفعہ صاف کیا اور بار بار خود کو غور سے دیکھنے لگی۔ وہ ایک پرکشش لڑکی تھی جس کا حسن اُس کی سادگی میں پنہاں تھا۔تازہ دو کلیاں کانوں میں ڈالے ،ننھے ننھے شیشوں سے بھرا ہوا بھاری کامدار ڈوپٹہ خود سے لپیٹے وہ جازم کے کمرے کی جانب چل دی تھی۔ایسا لگ رہا تھا وہ حُسن اور اعتماد کے اسلحہ سے لیس محبت کے محاذ پر اُترنے والی ہے۔محبت کا پہلا اظہار اُس کے لیے جنگ لڑنے جیسا تھا جسے وہ ہر حالت میں جیتنا چاہتی تھی۔
***
“تم یہاں ہو؟ میں تمھیں کب سے ڈھونڈ رہا تھا۔”
وہ انگور کی بیل کے پاس اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہوئی تھی۔
“لگتا ہے تمھاری نئی گڑیا کھو گئی ہے۔۔۔ٹیسٹ میں کم نمبر آئے ہیں ۔۔۔ یا پھول توڑنے پر ڈانٹ پڑی ہے۔”
وہ اُس کے اردگرد ٹہلتے ہوئے اندازے لگانے لگا۔
“چپ کیوں ہو؟ جواب تو دو۔”
وہ اُس کی مسلسل خاموشی پر بے چین سا ہوا تھا۔
“تم رو رہی تھی کیا؟”
اب وہ اُس کا ہاتھ چہرے سے ہٹاتے ہوئے پریشانی سے بولا ۔
“دیکھو ! اُس نے میری اتنی پیاری پونی توڑ دی۔بھالو کی آنکھیں بھی نکال دیں۔وہ بہت گندا ہے۔”
اُس نے بند مٹھی کھولی تو سچ سامنے تھا۔کالی پونی کا ربڑ بہت ڈھیلا تھا ۔۔۔چاروں طرف چسپاں سفید نگ جگہ جگہ سے اترے ہوئے تھے ۔۔۔اور اُس پر لگے ننھے منے بھالو کی آنکھیں باہر کی جانب لٹکی ہوئی تھیں۔
“اچھا اِدھر دو، میں اِسے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔”
وہ اُس کا دل رکھنے کے لیے بھالو کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔
“بھالو بیمار نہیں ہے کہ ٹھیک ہوجائے ۔بھالو مر چکا ہے ۔”
وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
“مت رو۔۔۔چپ ہو جائو۔۔۔وہ تمھیں اور لاکر دے گا۔۔۔یہ بھی تو اُس نے ہی دی تھی۔”
وہ اُس کے آنسو صاف کرتے ہوئے نئی امید دے رہا تھا۔
“مگر یہ پونی مجھے پسند تھی ۔۔۔میں اب کنگھی نہیں کرونگی۔۔۔بال نہیں بنائو گی۔”
وہ ایڑیاں رگڑتے ہوئے مزید رونے لگی ۔
وہ اُسے اچھی طرح جانتا تھا۔جب کھیل کھیل میں اُس کے کھلونے اور من پسند چیزیں ٹوٹتیں یا توڑ دی جاتیں تو وہ کئی کئی روز تک رو رو کر خود کو ہلکان کر دیتی ۔اُسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اپنا بدلہ لے چکی ہوگی، مگر بدلہ لینے کے باوجود اُسے اپنا نقصان ہمیشہ زیادہ نظر آتا تھا۔
“اچھا اٹھو ! میں اُسے کہتا ہوں وہ تمھیں ایسی ہی پونی لاکر دے گا۔”
وہ اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے اُس کی طرف ہاتھ بڑھا کر بولا۔
“کیا وہ تمھاری بات مان لے گا؟”
بڑی بڑی نم ناک آنکھوں میں ابھی تک بے یقینی تھی۔
“بلکل مانے گا۔۔۔وہ میرا بھی تو دوست ہے ۔”
اُس نے اعتماد سے اثبات میں سر ہلایا۔
“مجھے ایسی ہی پونی چاہیے! بھالو کی آنکھیں گول ہوں، اور اُس کا کوٹ بھی لال ہو۔”
اُس نے اُس کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ کر اپنی شرط بتائی ۔
“ایسی ہی ہوگی۔۔۔میرا وعدہ ہے ۔۔۔بس تم نے رونا نہیں ہے۔”
وہ اُس کے گال تھپتھپاتے ہوئے یقین سے مسکرایا۔
“چلو پھر اُسے بلا کر لائو۔۔۔ہم کھیلتے ہیں۔”
وہ جوش سے تالیاں بجاتے ہوئے اُچھلنے لگی ۔
وہ اپنی اِس کامیابی پر بہت خوش ہوا جو اُس نے ننھی پری کو ہنسا کر حاصل کی تھی۔اگلے ایک ہفتے میں اُس کی چھوٹی سنگھار میز پر پونیوں کے ڈھیر لگ گئے ۔وہ پرانی جیسی چاہتی تھی ،مگر یہ اُس سے زیادہ خوبصورت، مہنگی اور پائیدار تھیں۔
***
میں چاہتی تھی!
وہ لفظ تمھارے لبوں سے ٹکراتے
جو میرے دل کی زمیں پر ہلچل مچاتے ہیں
میں چاہتی تھی !
وہ احساس تمھاری رگوں میں سرسراتا
جو میری روح کے آر پار جھومتا رہتا ہے
میں چاہتی تھی!
وہ خواب تمھیں دن کو لیے پھرتے
جو مجھے راتوں کے سفر میں روز دوڑاتے ہیں
میں چاہتی تھی !
وہ امیدیں تمھاری لکیروں میں اُلجھتیں
جو میرے بالوں میں سکوں کی انگلیاں پھیرتی ہیں
میں نے سوچا۔۔۔۔ میں نے چاہا
دل کا دروازہ کھلا رکھا
پھولوں سے راستہ سجایا
نجانے تم بے خبر ہو
بے پراہ ہو یا بے قدر ہو
دل کی دہلیز پر بیٹھی
اِس پاگل محبت نے
شب و روز ڈھونڈے ہیں
تمھارے قدموں کے سائے
میں منتظر رہی اور
پھر خود چلی آئی
پر یہ شکوہ ہے جاناں
کہ ! تم نہیں آئے۔۔۔
“تم ۔۔۔تم ۔۔۔اِس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟ ”
وہ اچانک اپنے کمرے میں سبک رفتاری سے داخل ہوتی جیون کو دیکھ کر حیران سا ہوا ۔
” پلیز کھڑکی کے پاس چلو میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔”
وہ اُس کی بات کا جواب دیے بغیر زور سے سانس لے کر بولی۔
اُس کا چہرہ زرد پڑ رہا تھا، ہونٹ کانپ رہے تھے اور پورا وجود پسینے سے شرابور تھا۔
“تم ٹھیک تو ہو جیون ؟ کیا ہوا ہے تمھیں ؟ ”
جازم نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر فوراً سے کھڑکی کھول دی تھی۔
“میں اب ٹھیک ہوں، بلکل ٹھیک۔”
جازم کے مضبوط ہاتھوں نے اُسے تقویت اور پرواہ کا احساس دلایا تو اُس نے مسکرا کر کہا۔
وہ آج اُسے کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی ۔اُس کی خاموش آنکھوں میں کئی جذبوں کے مدوجزر تھے تو کپکپاتے لبوں پر چھپائے گئے کئی لفظوں کے سیپ۔
“مجھے لگتا ہے تم کچھ کہنا چاہتی ہو؟ ”
وہ اُس کی ہچکچاہٹ بھانپ کر تجسس سے پوچھنے لگا ۔
” کیا تم کچھ کہنا چاہتے ہو ؟ ”
جیون نے سوال پر سوال کر کے بڑی آس سے اُس کی آنکھوں میں جھانکا ۔
“مجھے تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔اِس سے پہلے کوئی تمھیں اِدھر دیکھ لے چلی جاو یہاں سے۔”
جازم نے کسی انجانے خوف کے تحت دروازے کی طرف اشارہ کیا تھا۔
اُس نے دروازے اور پھر جازم کی طرف دیکھا۔وہ شرم کے آگے بنا جھکے ۔۔۔بنا رکے سب کچھ کہہ دینا چاہتی تھی۔۔۔وہ کھوئی ہوئی ہمت جمع کرنے لگی ۔۔۔اُسے مایوس نہیں لوٹنا تھا۔۔۔وہ اُس لمحے بھول گئی کہ وہ جیون ہے ۔۔۔بس یاد رہا تو یہ کہ وہ صرف محبت کرنے والی ہے ۔۔۔اُس نے مضبوطی سے اُس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔آنکھیں بند کیں۔۔۔اور لفظوں کو آزاد کر دیا۔
“جازم میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔اب سے نہیں ہمیشہ سے ۔۔۔بچپن سے ۔۔۔ شاید زندگی شروع ہونے سے بھی پہلے۔مجھے لگتا ہے میری محبت مجھ سے کئی سال بڑی ہے ۔مجھے لگتا ہے میری محبت مجھ سے کئی گنا طاقت ور ہے۔مجھے لگتا ہے میری محبت مجھ سے کئی درجے معصوم ہے ،پاک ہے ،خالص ہے۔”
جازم کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا ،مگر وہ چپ رہا۔
“مجھے تم سے تب سے محبت ہے جب ہم کچّے امرود توڑنے کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر دوڑتے تھے ، جب ہم ڈھیر سارے پھول اپنے دامن میں چھپا کر مالی بابا کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے تھے ، جب گھڑ سواری کرتے وقت تم مجھے اتنی مضبوطی سے پکڑتے کہ کہیں میں گر نہ جائو ۔مجھے تم سے تب سے محبت ہے جب تم نے اپنی ساری رنگ برنگی پینٹنگز paintings))مجھے دی تھیں ، جب تم اپنے جیب خرچ سے میرے لیے پنک pink)) فراک لائے تھے ،جب میں نے اپنی نیلی آنکھوں والی گڑیا کی شادی تمھارے پھولی گالوں والے گڈے سے کی تھی ۔”
وہ دل ہی دل میں اُس کی یاد داشت کو سراہے بنا نہ رہ سکا۔
“یہ تب کی محبت ہے جب میری ساری نعمتیں میرے سارے رشتے مجھ سے چھن گئے ،تب تم نے ہی تو جیون میں زندگی پھونکی ،تم نے ہی تو اپنا سب کچھ میرے ساتھ بانٹا،اپنا کھانا۔۔۔اپنے کھلونے۔۔۔اپنی کتابیں۔۔۔اپنا احساس۔۔۔اپنی دوستی۔میری لٹی ہوئی خوشیوں کو آباد کرنے والی،میرے تنکا تنکا خوابوں کو یکجا کرنے والی ، میری مضطرب سانسوں کو قرار بخشنے والی تم ہی تو ایک وجہ ہو۔ سارے خساروں کے بعد تم میری زندگی کا سب سے بڑا انعام ہو۔ ”
وہ خود کو بہت بڑی چیز سمجھتا تھا اور آج تو کسی نے گواہی بھی دے دی تھی۔
“تم مجھے نہ ملے تو میں ہر شخص سے نفرت کر بیٹھو گی _ہر نعمت سے منہ موڑ لونگی _ اِس حویلی کی اینٹ اینٹ سے ٹکرا جائونگی _ہر دالان میں آگ لگادو نگی _ ہر پودے کا گلہ دبا دونگی۔”
وہ بولتے بولتے محبت کی دھمکی آمیز شدت سے ہانپنے لگی ۔
اُس کی گرفت میں جازم کا ہاتھ سن ہو چکا تھا۔جیون کے اندر کی ساری بے چینی اُس میں سما چکی تھی۔ پسینے کے ننھے ننھے بے شمار قطرے اُس کے ماتھے پر چمکنے لگے تھے۔
محبت کا ایسا والہانہ۔۔۔بے دھڑک ۔۔۔ اور خوبصورت اظہار اُسے ساکت کر گیا تھا۔
“بولو کیا تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو؟ ”
جیون نے اُسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
“محبت ! ہاں محبت ! ہاں جیون مجھے تم سے محبت کرنی ہی ہوگی ایسی محبت کو ٹھکرانا تو گناہ کے مترادف ہوگا۔”
وہ تشنہ آنکھوں کے ساحل میں اقرار کا دلاسا گراتے ہوئے گہرائی سے بولا۔
“سچی! ”
جیت کی خوشی لالی بن کر اُس کے چہرے پر سُرخی بکھیرنے لگی تھی ۔وہ کسی پنچھی کی طرح چہکی اور اُس کا ہاتھ چھوڑ کر شرماتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگی ۔جازم نے دور تک سانپ کی طرح بل کھاتے ڈوپٹے کو جاتے ہوئے دیکھا۔سارا زہر اُس کی نس نس میں اتر رہا تھا ۔۔۔حوس اور طلب کا زہر۔
“کچّے امرود۔۔۔باغ کے پھول۔۔۔گھڑ سواری۔۔۔رنگ برنگی پینٹنگز ۔۔۔پنک فراک۔۔۔گڈا گڈی کی شادی ۔۔۔ہاہاہا کتنی احمقانہ باتیں ہیں ۔بھلا یہ بھی کوئی جواز ہوئے محبت کے،یہ بھی کوئی وجہ ہوئی کسی کو چاہنے کی۔مجھے تو یاد نہیں کہ میں نے کب تمھارے منہ میں نوالے ڈالے تھے؟ کب تم سے کھلونے اور کتابیں بانٹی تھیں ؟ کب تمھارے آنسو پونچھے تھے ؟کب تمھیں اپنا بہترین دوست کہا تھا ؟ تم نے بھی کیا کیا یاد کرادیا جیون! اب میں چاہ کر بھی اِس بچپن کی محبت کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔یہ بچپن کی محبت تو کچّی مٹی ہے اور تم اِس سے کھلونا بنا رہی ہو بغیر سوچے سمجھے کہ یہ کھلونا کھیلنے اور ٹوٹنے کے لیے ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ محبت برباد کر دیتی ہے ،لیکن کچھ ناسمجھ دل اِس در پر خود خوار ہونے آتے ہیں۔ــ” وہ کب کی جاچکی تھی، مگر جازم کتنی ہی دیر کھڑکی میں کھڑا اُس کے بارے میں سوچ سوچ کر مکروہ ہنسی ہنستا رہا۔
***
جب اُس سے انگ لاگا ہے ،تو مجھ کو رنگ لاگا ہے
وہ میرے سنگ جاگا ہے ، جو خوشبودار می رقصم
آنکھوں پر بندھی محبت کی پٹی اگر اُجلی اور سچّی ہو تو پہلے سے زیادہ دیکھائی دیتا ہے ، لیکن جس محبت کی پٹی میں کھوٹ اور میل کے دھاگے اُلجھ جائیں تو وہ صرف انسان کی بینائی چھینتی ہے۔
” ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے ہاتھ پر لگی تمھاری خوشبو بول رہی ہے ،مجھ سے وہ کہہ رہی ہے جو تمھیں بہت پہلے کہہ دینا چاہے تھا،چلو کوئی بات نہیں اِس محبت کی خاطر تم بھی میں بن جاتی ہوں۔ ”
وہ محبت اور شرارت سے اپنا دایاں ہاتھ دیکھ کر سہلانے لگی۔ اُس کی گوری کلائی پر جازم کی انگلیوں کے نشان واضح تھے۔ وہ اب تک بے یقینی کی کیفیت میں تھی کہ اُس نے اپنا دل کھول کر اُس شخص کے سامنے رکھ دیا تھا۔
“ہاں میں نے اقرار کر لیا ، ورنہ لوگ تو دل کے صندوقچے میں محبت سینت سینت کر رکھتے ہیں اور خود کو مظلوم اور اگلے کو ظالم بنا چھوڑتے ہیں۔ نہ تو میں مظلوم بنی نہ ہی ڈرپوک ۔میں تو ایک نڈر شہزادی ہوں جس نے اِس حویلی کے شہزادے کا دل جیت لیا۔”
وہ مغرور لہجے میں کمرے کی ہر شئے سے مخاطب تھی۔
اُس کے پیر زمیں پر نہیں ٹک رہے تھے ایسا مسرور کُن احساس تھا کہ خیال کے شیشے میں بیتے لمحے کافی دیر تک جھومتے رہے۔ وہ اقرار کے گھنگرو پہن چکی تھی ،ساری رات دل کا اپنی فتح پر رقص جاری رہا ۔
کوئی روکے اگر ،تو رقص کرنے سے نہیں رکنا
کوئی ٹوکے اگر،تو میں بصد اصرار می رقصم
اُس کے پائوں میں چھن چھن کرتی چاندی کی پائل تھی تو آنکھوں میں جگ مگ کرتا سونے جیسا خواب ۔وہ دو اُوڑھنیوں کے پنکھ بنائے تتلیوں کے پیچھے بھاگتی اور پھولوں کے سنگ گاتی پھر رہی تھی۔شانوں پر جھولتے دو ڈوپٹے اکثر ہی اُس کے لباس کا حصہ ہوتے تھے ۔ایک سفید رنگ کا سادہ دوپٹہ اور ایک آسمانی رنگ کا چھوٹے بڑے شیشوں سے بھرا ہوا بھاری ڈوپٹہ جنھیں اُوڑھے وہ دودھ سے نہائی ہوئی آسمانی حور لگتی۔ اُس کا لباس ۔۔۔اُس کی آواز۔۔اُس کی ادا ۔۔۔اُس کا انداز سب کچھ ہی تو طلسماتی تھا ۔وہ یہ جادو پھونک کر جازم کو پاگل کرنے جارہی تھی اِس بات سے لاعلم کہ یہ جادو تو سیف کو کب کا دیوانہ کر چکا تھا۔محبت ملنے کا احساس ہوا میں اُڑتے تیز رفتار پنچھی کی طرح ہوتا ہے جسے پوری زمین اپنی سلطنت لگتی ہے پورا آسمان اپنی جاگیر نظر آتا ہے ۔ آج اُس کی اڑان بھی ایسی تھی کہ زمین والے نظر ہی کہاں آتے۔
“اندھے ہو کیا ؟کچھ دیکھائی نہیں دیتا ۔ ”
اُس کا سیف سے تصادم اتنا شدید تھا کہ نہ صرف آسمانی ڈوپٹہ پھسل کر سیف کے کندھے پر جا گرا بلکہ پھولوں سے بھری ہوئی پلیٹ بھی اچھل کر اُن دونوں پر سارے پھول برسا گئی ۔گلابی ہونٹوں اور سفید گالوں سے ٹکراتے ہوئے سرخ پھول ایک پل کے لیے سیف کو کسی اور ہی دنیا میں لے گئے تھے۔وہ دنیا ۔۔۔ جہاں جیون کی مخروطی انگلیوں سے سجایا ہوا ایک چھوٹا سا گھر تھا ،جہاں وہ محبت کے حکم سناتی ہوئی اُس کی ملکہ تھی تو وہ ہر حکم بجا لاتا ہوا اُس کا خادم ۔پھولوں میں نہائی ہوئی یہ لڑکی اُس کی دلہن ہی تو تھی اُس کے خوابوں ۔۔۔اُس کے خیالوں ۔۔۔اُس کے ارمانوں کی دلہن۔
“ہٹو پرے کمتر کہیں کے ، ایک تو جان بوجھ کر تم نے اپنا غلیظ وجود مجھ سے ٹکرایا اور پھر جناب کے منحوس چہرے پر شرمندگی کی بجائے ہنسی دوڑ رہی ہے۔”
جیون کے نازک ہاتھوں کا دھکا کھا کر سیف خواب سے حقیقت کی زمین پر زور سے گرا ۔وہ پھولوں سی لڑکی کو جاتے ہوئے حسرت سے دیکھنے لگا جس کے پاس اُس کے لیے صرف کانٹے ہی تھے۔
***
“مالا آخر کیا کمی ہے فراز میں کہ تم بار بار انکار کر رہی ہو ؟”
ریحانہ نے اُس کے ہاتھوں سے کتاب چھین کر کریدنے والے انداز میں متانت سے پوچھا۔
“ممی اُس کی لمبی ناک کچھ ٹیڑھی سی ہے ،کان خوفناک سے بڑے بڑے اور گردن جیسے کندھوں سے چپکی ہوئی ہو ، اِس کے علاوہ تو خاص نقص نہیں۔ ”
اُس نے برا سا منہ بنا کر ہنسی دبائی ۔وہ اُس وقت شرارتی موڈ میں تھی۔
” یہ کوئی لطیفوں کا وقت نہیں ہے ۔تمھارے تایا جان باربار کال کر کے جواب مانگ رہے ہیں۔وقت کم ہے مالا،اگلے ہفتے فراز کی فلائیٹ ہے ۔”
ریحانہ بارہا دوہرائی گئی صورتحال ایک بار پھر سابقہ لہجے میں دوہرا نے لگیں۔
“ہاں تو دے دیجیے جواب کہ آپ کے ہونہار ،تمیزدار بیٹے کے لیے ہماری نالائق ،بدتمیز بیٹی موزوں نہیں۔”
وہ گردن اکڑا کر دونوں بازو ریحانہ کے گلے میں ڈال کے زور سے ہنسی تھی۔
“یہ پاگلوں جیسی حرکتیں چھوڑو ، سنجیدہ ہو جائو مالا۔تم ہماری نرمی کا ناجائز فائدہ اُٹھا رہی ہو۔”
بے وقت لاڈیاں کرنا اُنھیں بلکل نہ بھایا۔
“ہاں تو سارا قصور ہی آپ کی نرمی کا ہے اور آپ کے اِن نرم نرم گالوں کا۔”
اُس نے ریحانہ کا گال پیار سے چھو کر اور مستی کی۔
“بس بہت ہوگئے تمھارے نخرے اصل بات کا جواب دو۔ہمیں تمھاری ہاں چاہیے بس !”
اُنھوں نے اُس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے بلند آواز میں اُسے ڈانٹا۔
“ہاں بھی چاہیے اور پوچھ بھی رہی ہیں یہ تو وہ بات ہوئی کہ پھانسی دینی بھی ہے اور پوچھا جائے پھانسی کھائو گے کیا؟”
وہ بھی غصے کے جوا ب میں تڑخ کر بولی تھی۔
ریحانہ کو اُس کی بات سخت ناگوار گزری ۔اُنھوں نے افسوس سے گہری سانس لے کر اُسے دیکھا اور پھر کچھ سوچنے لگیں۔
“سمجھنے کی کوشش کرو بیوقوف لڑکی ،وہ مالدار ہے۔۔۔اکلوتا ہے۔۔۔سیدھا سادھا ہے۔۔۔ سب سے بڑھ کر تمھیں پسند کرتا ہے ۔ چند سالوں کی بات ہے پھر وہ تمھیں بھی باہر لے جائے گا۔”
اُنھوں نے اب آہستہ آواز کرتے ہوئے اُس کی توجہ فراز کی خوبیوں پر دلائی تھی۔
“میں یہ تھرڈ کلاس زندگی نہیں گزار سکتی ممی کہ میرا شوہر وہاں انٹرنیشنل سہولتوں کے مزے لوٹے اور میں یہاں اُس کی بھیجی جانے والی بھیک پر قناعت کرلوں ۔مجھے وہ انسان چاہیے جو مجھے ہر قدم کا ساتھ دے ،جس کی شخصیت میں کوئی جھول نہ ہو،اِس لیے میری طرف سے ناں ہے۔ ”
اُس نے تیکھی آواز میں حتمی فیصلہ سنایا تھا۔
ریحانہ کی نااُمید آنکھوں میں اُس وقت غصہ اور دکھ واضح تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مالا نے اپنے رشتوں کی مالا میں نافرمانی کا پہلا موتی پرویا ۔دن با دن ماں باپ ناراضگی میں آگے بڑھتے رہے، مگر وہ اپنے ضد سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹی تھی۔
***
وہ جانتی تھی ممی ڈیڈی کی ناراضگی کچھ دن تک ختم ہوجائے گی۔اُس پر اُن کی سختی کا کوئی اثر نہ تھا کیونکہ وہ اُن کا بہت زیادہ پیار دیکھ چکی تھی۔تایا جان ڈیڈی پر دبائو ڈال رہے تھے اور ممی اُس پر۔ماںباپ۔۔۔بہنیں۔۔۔بڑی خالہ ۔۔۔بیسٹ فرینڈ ،کوئی ایسا نہ تھا جو اُسے سمجھا سکا۔ایک دن تایا جان گھر آگئے تو اُسے شدید تائو آیا ۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اُن کی آمد کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔اب اُس نے اِس معاملے کو جڑ سے ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
“یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم نے ؟ جب ایک بار فون پر کہہ دیا تھا کہ نہیں کرنی تم سے شادی تو کیوں تایا جان کو گھر بھیجا تم نے ؟”
فراز مالا کے استقبال کے لیے پھول لے کر کھڑا ہی ہوا تھا کہ اُس کے سخت الفاظ سُن کر عدم اعتمادی سے ڈگمگا گیا۔
“ایک بار سکون سے بیٹھ کر مجھے میرا قصور بتا دو، مجھے ٹھکرانے کی وجہ بتا دو۔”
وہ ساری ہمت مجتمع کرکے اُس کی منت کرنے لگا۔
مالا بادل ناخواستہ پرس ٹیبل پر پھینکتے ہوئے کرسی پیچھے دھکیل کر بیٹھ گئی ۔وہ یہاں فراز کے بلانے پر اسی لیے آئی تھی کہ اُسے طریقے سے سمجھا سکے مگر اُس کی شکل دیکھ کر دبّے ہوئے غصے کو جیسے اُبال سا آگیا تھا۔
“تم مجھے پسند نہیں ہو اور نہ ہی میرے مطابق ہو بس یہی تمھارا قصور ہے۔ اِس بات کو سمجھو اور میری جان چھوڑ دو۔”
اُس نے انگلی لہرا کر تنبیہی انداز میں اُس سوال کا جواب دیا جس کا وہ منتظر تھا۔
“ناپسند کرنے کی کوئی تو وجہ ہوگی ،آخر کیا کمی ہے مجھ میں مالا ؟”
وہ اپنی بے عزتی پر روہانسا ہوتے ہوئے مزید بے چارگی سے پوچھ رہا تھا۔
“ممی کو بھی وجہ جاننے کا شوق تھا اور اب تمھیں بھی ہے تو سنو! یہ جو تم چوہے جیسے تاثرات دے کے منمنا کر بات کرتے ہو نفرت ہے مجھے ایسے کمزور مردوں سے۔باہر جا کر groom ہونے کی بجائے تمھارے اندر کا دیہاتی پن مزید مضحکہ خیز ہو گیا ہے۔ تمھاری پسی ہوئی اردو اور ٹوٹی ہوئی انگلش میری سماعت کا امتحان لیتی ہے ۔ مغرب اور مشرق کے بیچ جھولتا ہوا تمھارا یہ زنانہ لباس میری آنکھوں کو تکلیف دیتا ہے۔ اُف ! فراز تمھارا حلیہ کارٹونز سے بھی گیا گزرا ہے کارٹونز دیکھ کر انسان انجوائے کرتا ہے مگر تمھیں دیکھ کر بس غصہ آتا ہے ۔اپنے کپڑوں کی چوائس ، بیٹھے کا ڈھنگ اور بات کرنے کا انداز دیکھو۔ایسی بے ڈھنگی (personality)والے لوگوں سے سخت چڑ ہے مجھے۔”
وہ منوں بے زاری چہرے پر لائے حقارت سے بغیر رکے جو دل میں آیا کہتی چلی گئی۔
” مگر یہ سب کچھ ٹھیک کیا جا سکتا ہے مالا۔”
وہ ٹشو ماتھے پر پھیرتے ہوئے اٹک اٹک کر افسردگی سے بولا۔
“اچھا! وہ کیسے ؟”
مالا نے استہزائیہ لہجے میں دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر پوچھا تھا۔
“میں پریکٹس کروں گا کہ رک رک کر بات نہ کروں،بلکہ اعتماد سے بات کروں،اور میرے تاثرات نہ چوہے کی طرح ہوں نہ شیر کی طرح بلکہ انسانوں جیسے ہوں۔”
“اور۔۔۔۔”
“میں اپنی زبان ٹھیک کرنے کے لیے کوئی استاد رکھ لوں گا۔تمھیں میری انگلش اور اُردو دونوں پر فخر ہوگا۔”
“اور۔۔۔۔”
“تمھیں جو سٹائل پسند ہیں جو رنگ پسند ہیں اب سے میرے کپڑے ویسے ہی ہونگے۔”
“اور۔۔۔”
“میر اُٹھنا بیٹھنا ، ہنسنا بولنا تمھیں شرمندہ ہونے یا بھڑکنے پر نہیں بلکہ محبت کرنے پر مجبور کردے گا۔”
فراز کی آخری بات پر وہ اور نہیں بولی ، کیونکہ اُس کی برداشت اِن بچکانہ باتوں پر جواب دے رہی تھی۔
“میں کوشش کر سکتا ہوں مالا اور میں تمھاری خاطر ہر ممکن کوشش کروں گا۔ تمھاری پسند کے مطابق بن جائو ں گا ۔تمھارے سارے شکوے دور کردوں گا۔ بس انکار مت کرو۔”
وہ اُسے خاموش دیکھ کر ایک بار پھر مصمّم ارادے سے کہنے لگا جیسے وہ مالا کے غرور کے آگے گھٹنے ٹیک کر پختہ وعدہ کر رہا ہو۔
“اور اپنی شکل کا کیا کرو گے ؟کیا وہ بھی تبدیل کر لو گے؟ مجھے تمھاری شکل بلکل بھی اچھی نہیں لگتی۔ دس منٹ دیکھنا مشکل ہے اور شادی تو پوری زندگی کا سوال ہے۔”
مالا نے اُس کی ْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تکبر کی انتہا کو چھوا تھا۔
فراز کو یوں محسوس ہوا جیسے اُس کا دل مسل کر آگ پر رکھ دیا گیا ہو۔وہ اُسے دھواں دھواں ہوتا چھوڑ کر بے پروائی سے چلی گئی تھی۔
***
حویلی سے کچھ دور ایک اور حویلی میں غالباً شادی کا سماں تھا۔ دور پار سی آتی روشنی کی چھن چھن اور پے در پے بندوقوں کی چلتی گولیاں اِس بات کی تشہیر کر رہی تھیں کہ شادی بہت دھوم دھام سے کی جارہی ہے ۔
“یقیناً یہ پسند کی شادی نہیں ۔ پسند کی شادیاں تو ذلت اور رسوائی سے کی جاتی ہیں ۔ گیتوں کے بول اور ڈھول کی تھاپ پر تو وہی دل ملتے ہیں جو دوسروں کی مرضی سے ملائے جائیں۔”
صاحبہ نے پردے کی اوٹ سے دوسری طرف کی ہنگامہ پرور دنیا کا نظارہ کرتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھر سوچا ۔
باہر کی دنیا اب اُس کے لیے دوسری دنیا ہی تھی ،جہاں ایک کھڑکی کے ذریعے ہوا اور روشنی کا دخل ہوتا تھا ۔کبھی گاڑیوں کا شور زندگی کے دوڑنے کی علامت لگتا تو کبھی پرندوں کی چہچہاہٹ زندگی کے مسکرانے کی وجہ نظر آتی۔اپنی مرضی اپنے اُصولوں سے زندگی گزارنے والی صاحبہ اِس حویلی کی مالکن بھی تھی اور قیدی بھی۔ ہفتے میں دو دن اُسے آزادی سے حویلی میں گھومنے پھرنے دیا جاتا ،لیکن تب بھی چاچی شگو کی طواف کرتی ہوئی نظریں اُس کے پائوں کی زنجیریں بن جاتیں۔
“یہ میری غلطی ہے جس کی مجھے سزا ملی ۔۔۔
یہ میرا قصور ہے میں نے تم سے محبت کی۔۔۔
یہ میری خطا ہے میں نے تم پر اعتبار کیا ۔۔۔
یہ میرا جرم ہے کہ میں نے اپنوں کا دل توڑا ۔۔۔”
وہ پشیمانی سے سارے پردے گرا کر صوفے پر ڈھے سی گئی۔
اپنی مرضی اور اپنی پسند کے شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ بعض دفعہ خود کو دیا جانے والا سب سے بڑا دھوکہ ہوتا ہے ۔اُس کا دل کرچی کرچی تھا۔اُس کی عزت دو کوڑی کی تھی ۔اُسے وہ کھیل یاد تھا جو اُس نے بہت سے لوگوں کی عزت اور مان کے ساتھ کھیلا تھا ۔باہر ہوا رک چکی تھی۔۔۔بادل زور زور سے گرجے ۔۔۔اُس کا دم گھٹنے لگا۔۔۔ ٹپ ٹپ گرتے آنسو پھر سے ملال کی بارش میں بھگونے لگے ۔۔۔وہ گھبرا کر کمرے سے باہر نکل آئی۔
حویلی سے دور پار ہونے والی شادی کی دھوم حویلی کے اندر تک پہنچ چکی تھی ۔تمام ملازموں کے لبوں پر اُنھی رونقوں کے چرچے تھے جو کھڑکی کے راستے اتر کر اُس کے دل پر وار کر گئی تھیں۔آج قید خانے سے چھٹی کا دن تھا وہ اپنی مرضی سے پوری حویلی میں گھوم پھر سکتی تھی ۔۔۔کھا سکتی تھی ۔ ۔۔سانس لے سکتی تھی۔
“سنا ہے دلہن کو زیورات سے لاد دیا ہے چودھرائن نے۔”
گوری سیڑھیوں کے بائیں جانب لائن میں لگی تصویروں کو صاف کرتے ہوئے حیرت سے کہنے لگی۔
“سلیمی بتا رہی تھی کہ دلہن کا لباس شہر کی بڑی دکان سے بن کر آیا ہے۔”
میگھا نے بھی آنکھیں گھما کر اردگرد رکھے چھوٹے بڑے گلدانوں کو جھاڑتے ہوئے اُس کی معلومات میں اضافہ کیا۔
” چودھری کے بیٹے نے بڑا خرچہ کیا ہے شادی پر، لگتا ہے سارے ارمان نکالے گئے ہیں ۔ ”
گوری نے اپنے بڑے دانت ہونٹوں پر دبا کر اپنے تئیں آہستہ آواز میں کہا ۔
“اری دل کی بات ہے ساری ایسے ہی نہیں دلہن کے ناز نخرے اٹھائے جارہے ۔ چھوٹا چودھری بڑی شان سے بیاہ کر لایا ہے بھاگ بھری کو۔ـ ”
جواباً چھوٹی چھوٹی بٹن جیسی آنکھوں والی میگھا نے بھی للچاتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھا تھا۔
وہ سیڑھیاں اتر ہی رہی تھی کہ دالان میں کھڑی گوری اور میگھا کی کُھس پُھس اُس کے کانوں تک پہنچی۔اُس پر نظر پڑتے ہی وہ فوراً بھاگ گئی تھیں ۔
“اچھا ہی ہوا چلی گئیں ورنہ اِن دونوں کی شکلوں کے ساتھ اِن کی مزید باتیں بھی آج کا سکون برباد کر دیتیں۔”
وہ بل کھاتے ہوئے دالان سے گزر کر بڑے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کوفت زدہ لہجے میں بولی ۔
میرون قالین سے آراستہ یہ ہوا دار کمرہ اُسے ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔ وہ بالوں کو جوڑے سے آزاد کر کے مخملی قالین پر لیٹ گئی ۔ نظریں ہر بار کی طرح اردگرد پھیلے گول تکیوں پر ٹھر گئی تھیں ۔کڑھائی سے بھرے خوبصورت گول تکیے حویلی کی خادمائوں کے فن کا شہکار تھے۔ بدصورت ہاتھوں سے کی گئی باریک اور نفیس کڑھائی اُسے ہمیشہ استعجاب میں مبتلا کر جاتی ۔”دل کی بات ہے ساری ایسے ہی نہیں دلہن کے ناز نخرے اُٹھائے جا رہے ۔” جس سکون کے بچنے پر وہ مطمئن تھی وہ تو اِس جملے نے لوٹ لیا تھا ۔اُس نے بے چینی سے کروٹ بدلی زندگی نے بھی ساتھ کروٹ لی تھی۔
“اِسے کہو ! کسی بھی چیز کو ہاتھ لگائے بغیر نکل جائے اِس گھر سے ۔”
گھر کے سربراہ کی حکمانہ آواز ہر طرف گونجی۔
“دنیا کیا کہے گی؟ ایسا مت کریں!”
سہمی نسوانی آواز میں زمانے کا خوف عیاں تھا۔
“دنیا۔۔۔دنیا سے تو نکال دیا ہے اِس نے ہمیں۔کیا ہم اب دنیا کے سامنے سر اُٹھا سکتے ہیں؟کیا ہم عزت سے جی سکتے ہیں؟میں اِس نافرمان کی اب شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا ۔”
جلالی آواز افسوس اور نفرت سے مزید بلند ہوئی۔
“بیٹی ہے ہماری۔ایک بار بات سن لیں اُس کی ۔معاف کر دیں اُسے۔”
مجبور ماں روتے روتے ہاتھ باندھنے لگی۔
“کبھی نہیں ۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔اور اگر اب تم نے اِس لڑکی کی حمایت کی تو تم بھی اِس کی سزا میں برابر کی شریک ہوگی۔”
لہو ٹپکاتی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ اُس لمحے کچھ بھی کر گزریں گے۔
اُس نے سوچا تھا کہ یہ بات سن کر اُسے ڈانٹا جائے گا ۔۔۔ ِمارا جائے گا۔۔۔مگر پھر اُسے معاف کردیا جائے گا ۔۔۔لیکن اُس کے باپ کو اِس قدر صدمہ پہنچا کہ انھوں نے بغیر کوئی دلیل سنے اُسے سزا سنادی۔وہ اُسے مڑ کر دیکھنے کو بھی تیار نہ تھے۔اُس نے بھیگی پلکوں سے چاروں طرف دیکھا۔اُس کی بہنیں سہم کر دوسر ے کمروں میں چھپ گئی تھیں۔مامتا کے چہرے پر درد اور بے بسی کی کئی لکیریں اُبھریں ۔انھوں نے ناچاہتے ہوئے بھی مجازی خدا کے حکم پر گھر کا دروازہ کھول دیا تھا۔دروازے کے اِس پار کا طوفان دروازے کے اُس پار کھڑے شخص کا ہاتھ تھامنے کا نتیجہ تھا۔وہ خالی ہاتھ دوڑتے ہوئے گھر سے باہر نکلی اور سامنے کھڑی لمبی سفید گاڑی میں بیٹھ گئی ،جہاں وہ شخص اُس کی راہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔جو اُس کا محبوب تھا ۔۔۔اُس کا پیار تھا ۔۔۔جس سے دو گھنٹے پہلے وہ سب کے خلاف جا کر کورٹ میرج کر چکی تھی۔
وہ ہچکیوں سے رو نے لگی، گاڑی اتنی تیزی سے چلائی گئی کہ اُسے بولنے اور سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔منزل پر پہنچ کر اُسے احساس ہوا کہ وہ تو صدمے کی چادر اوڑھے ننگے پائوں ہی چلی آئی ہے۔گاڑی سے باہر نکل کر اُس نے سر اُٹھایا تو سامنے ایک عالیشان حویلی تھی۔ وسیع رقبے پر پھیلی خوبصورت حویلی کو متحیر اور ستایشی نظروں سے دیکھ کر اُسے اپنا قد چھوٹا سا محسوس ہوا۔سُرخ اینٹوں پر لہراتے ہوئے کالے بادل اندر کے خدشوں کو مزید ہوا دینے لگے ۔وہ بنا گاڑی کا دروازہ کھولے بغیر اُسے مخاطب کیے اندر جا چکا تھا ۔ وہ بھی پھرتی سے ڈوپٹہ سنبھالے اُس کی تقلید میں اُس کے پیچھے دوڑی۔ایک کمرے کے بعد دوسرا ، دوسرے کے بعد تیسرا ،نجانے وہ کتنے کمروں اور کتنے نوکروں سے ٹکرائی ، لیکن نہ کسی شئے نے اُسے اپنائیت سے دیکھا ،نہ کسی انسان نے مسکرا کر خوش آمدید کہا۔اچانک وہ ایک کھلے ہوئے دروازے کے پاس رک گیا ۔ شاندار سے اِس کمرے میں ایک روایتی قسم کی بوڑھی عورت چہرے پر کرب اور الجھن لیے بڑی سی کرسی پر براجمان تھی۔اُس عورت نے ناگواری سے اُسے دیکھا اور خاموشی کے دو موٹے موٹے کنگن اُس کی نازک کلائیوں میں ڈال دیے ۔”اتنی عالیشان حویلی کی دلہن کا اتنا سستا استقبال؟” وہ زبردستی مسکراتے ہوئے تڑپ کر رہ گئی۔ابھی تھکن اُتری ہی نہ تھی کہ اُسے پھر سے چلنے کا اشارہ کیا گیا ۔صاحبہ نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھ کر سوچا کہ کیا یہ اُس کی منزل نہیں؟ وہ اِس بات سے بے خبر تھی کہ اُس کی منزل اور اُس کا استقبال ایسا ہے جو مدتوں تک یاد رکھا جائے گا۔
ٌٌٌ***
وحشت بڑھنے لگی تو اُس نے بال سمیٹ کر نرم قالین اور گول تکیوں کو الوداع کہا۔دو چار کمروں میں بے مقصد گھومنے کے بعد وہ کشادہ سے باورچی خانے کے قریب چلی آئی ۔ کوئی ملازمہ سل وٹے پر پورے جوش سے مسالے پیسنے میں مگن تھی۔اُسے خوشبو اور شور کا ملاپ گیت اور موسیقی سا لگنے لگا۔ قید تنہائی حد سے تجاوز کر جائے تو ہر قسم کا شور مدھر دھن کی طرح لگتا ہے۔ سنگِ مر مر پر رینگتے رینگتے نازک پیر گیلی گھاس پر اتر آئے تھے۔اُس نے حسرت سے سامنے دیکھا ۔ حویلی کا بڑا دروازہ مضبوطی سے بند تھا۔ بیرونی دروازے اور حویلی کے داخلی دروازے تک کا طویل رستہ دونوں اطراف سے پھولوں سے گھرا ہوا تھا ۔تعجب تھا کہ اُس کے استقبال میں کسی نے ایک پھول تک نہ ضائع کیا تھا۔دکھ کا ایک اور کانٹا چبھا تو بیتے لمحوں سے لہو پھر سے رسنے لگا۔۔۔۔
“ہم اب کہاں جا رہے ہیں ؟ ”
اُس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے جھنجھناہٹ سے پوچھا۔
“اپنے محل اپنے گھر ۔ ”
خوشگوار لہجے میں محبت سے جواب دیا گیا۔
“واقعی ! مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم نے میرے لیے ایک الگ گھر بنایا ہے ۔”
وہ اِس خوشخبری سے اتنی پرجوش ہوئی کہ تھکن کا کہیں نشان نہ رہا۔
“خوبصورت اور محبوب لوگ سنبھال سنبھال کر رکھے جاتے ہیں اُنھیں حویلیوں میں حصّہ نہیں دیا جاتا بلکہ اُن کے نام سے منسوب حویلیاں کھڑی کی جاتی ہیں۔”
وہ اُس کا ہاتھ پکڑے رومانی انداز میں کہہ رہا تھا ۔
وہ بنا پلکیں جھپکائے اُسے چند ثانیے دیکھتی رہی محبت کے اِس بھرپور پل نے گزرے سارے کڑوے لمحوں کو میٹھا کردیا تھا۔باتوں ہی باتوں میں اُسے خبر نہ ہوئی کہ میلوں کا راستہ کیسے کٹ گیا ۔ہوش تب آیا جب گاڑی ایک بڑے سے دروازے کے سامنے رک گئی ۔ وہ بلکل ویسا ہی دروازہ تھا جس سے وہ گزر کر آئی تھی ۔دروازہ کھلا تو حیرت سے صاحبہ کا منہ بھی کھل گیا۔ وہ ہوبہو ویسے ہی طرز کی حویلی تھی ،وہی لمبا وسیع رستہ ،اردگرد ہر رنگ کے مہکتے پھول ، ویسی ہی اونچی مضبوط دیواریں ، اور ویسی ہی سُرخ چوڑی اینٹیں ۔
“شاید اُسے اپنی پرانی جگہ سے بہت محبت ہے اسی لیے اُس نے اِس حویلی کے نقشے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔”
وہ اپنے سے چند قدم آگے چلتے شوہر کی دلی کیفیت سمجھ کر کسی نتیجے پر پہنچ گئی تھی۔ پھولوں کا راستہ طے کرنے کے بعد اُس نے پہلا قدم اند ر رکھا تو یکایک جیسے سکتے میں آگئی۔ اُس کے ہاتھ ٹھنڈے ہونے لگے اورچہرہ رنگ باختہ ہوگیا۔سامنے کھڑے ملازمین کی ایک لمبی صف تھی۔
بونے اور لمبے لمبے قد۔۔۔
گہرے سیاہ رنگ ۔۔۔
چھوٹی یا حد سے بڑی آنکھیں۔۔۔
موٹے یا بے حد باریک ہونٹ۔۔۔
بلکل غائب یا منہ سے لٹکتے دانت ۔۔
اور سانپوں کی طرح لہراتی باریک باریک چوٹیاں۔۔۔
اُس نے ایک قطار میں پھیلی ہوئی اِس قدر بدصورتی پہلی بار دیکھی تھی۔ وہ بے اختیار چیخ کر سیڑھیوں کی طرف بھاگی ۔بے تاثر آنکھوں اور خاموش لبوں نے اُس کا اوپر تک پیچھا کیا تھا۔اُس نے جلدی سے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا ۔وہ مسلسل دروازہ پیٹ رہا تھا ، اُسے لگا وہ بھی اِن چڑیلوں کا سردار ہے ۔وہ اپنے آپ کو انسانوں کی دنیا سے بہت دور محسوس کر رہی تھی۔

______________________(جاری ہے)

مصنفہ:حمیرا فضا

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

Advertisements

5 Comments

  1. پہلی قسط پڑھی۔۔۔۔افففف کیا بہترین آغاز ہے ۔۔۔بہت ہی زبردست کہانی ۔۔۔۔۔کہانی کی بنت ،جملے ،فلسفہ سب کمال 👌۔ناول کا عنوان اور کرداروں کے نام بھی خوبصورت ہیں ۔ایسا لگتا ہے لکھنے والی نے پورا دل اس میں رکھ دیا ہے ۔ہر لائن پر محنت نظر آتی ہے ۔کافی عرصے بعد کوئی اچھا ناول پڑھنے کو ملا۔بہت شکریہ صوفیہ لاگ ڈاٹ بلاک ایک معیاری قسط وار ناول کے لیے ❤❤❤

    Liked by 1 person

    1. آپکا بھی بہت شکریہ ہمارے لئے وقت نکالنے کے لئے😍😍😍ہمارے ساتھ رہیے آپ کو اچھی اچھی تحریر یں ملتی رہیں گی۔💖💖💖

      Like

  2. عشق محشر سی ادا رکھتا ہے ۔۔
    سب سے پہلے تو حمیرا تمہارے ناول کے عنوان نے توجہ کھینچ لی ۔۔ سچ کہوں تو مجھے افسوس ہے کہ اپنے ناول کا یہ عنوان کیوں نہ رکھا ۔ یہ اک ایسا ناول ہے جیسے شاہکار بنانے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ ہے کتاب نہ چھپنا ۔۔۔مجھے یقین ہے یہ ناول کتابی شکل میں آ کر تہلکہ مچا دے گا ۔۔۔میں نے اردو ادب کا سرمایہ کہلانے والے کئی شاھکار ناول پڑھے ہوئے ہیں اور تمہارے ناول میں کوئی کمی نہیں جو ان ناولز کے مقابلے میں نہ رکھا جا سکے ۔۔سب سے منفرد تمہارا انداز بیاں ۔۔ جس طرح ڈرامہ دیکھتے ہوئے ڈائیلاگز سن کر ناظرین اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ ڈرامہ خلیل الرحمٰن قمر صاحب کا ہے اسی طرح اگر تمہارا نام ساتھ نہ بھی لکھا ہو تو میں تمہاری تحریر کو پہچان لیتی ہوں اور میں ہی کیا ۔۔۔کوئی بھی تمہارے منفرد انداز سے پہچان لے گا ۔۔کہ یہ حمیرا نے لکھا ہے تمہاری محنت ہر لفظ ہر جملے میں نظر آتی ہے ۔۔تم کوئی ایک لفظ بھی صرف اندازے سے نہیں لکھتیں اس کا پتہ مجھ سے زیادہ کس کو ہوگا ۔۔لفظ کی تاریخ لفظ کے معنی لفظ کا استعمال ہر چیز کی تم اتنی تحقیق کرتی ہو کہ لفظ اور جملے اپنی قدر دانی پہ خود ہی محو حیرت ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے کہتے ہوں گے ۔کہ ۔ایک ایسی لکھاری بھی ہے جو ہاتھ دھو کر ہمارے اصل نسل اور قبیلے کے پیچھے پڑ گئی ہے ۔۔
    کہانی اور کردار سبھی اپنی جگہ یوں فٹ ہیں کہ جیسے انگوٹھی میں نگینہ فٹ ہوتا ہے ۔۔محبت کے مختلف رنگوں سے سجی یہ دھنک رنگ کہانی پڑھنے والے کو یوں اپنے سحر میں جکڑنے کی طاقت رکھتی ہے کہ جیسے پریوں کی کہانی کسی معصوم بچے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے ۔۔وہ ننید سے مندی آنکھیں پھیلا پھیلا کر کھولنے کی ناکام کوشش کرتا ہے کہ کہیں نیند کی زیادتی سے سو نہ جائے اور کہانی کی پری رستہ بدل کر کہیں اور نہ نکل جائے ۔۔وہ بچہ کہتا ہے نانی ! پھر کیا ہوا ؟
    ایسے ہی میں تمہارے لفظوں کے کوہ قاف کی سئیر کو نکلی ہوں اور پوچھ رہی ہوں حمیرا جانی آگے کیا ہوا ؟ ۔۔ بہت سی کامیابیوں کی دعائیں اور لامحدود محبتوں کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار
    گل ارباب

    Like

Comments are closed.