وقت______

🔮

“کہاں جا رہے ہو برخودار؟ ” اس نے کھنکتی ہوئی آواز میں پوچھا
” لاہور ” میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر یک لفظی جواب پر اکتفا کیا
” واہ بھئ۔ اچھا کیا کرتے ہو پیارے لڑکے۔۔۔ ؟ “
“کچھ نہیں کرتا ۔ ” امی نے سمجھایا تھا کہ سفر میں کسی
سے بات چیت نہیں کرتے ۔ نا ہی اجنبیوں سے کچھ لے کے
کھاتے ہیں۔ میرا شمار ویسے بھی خاندان بھر میں شریف اور فرمانبردار لڑکوں میں ہوتا تھا۔ امی کی بات کو دماغ میں گرہ لگا کے باندھ رکھا تھا
“پھر بھی کچھ نا کچھ تو کرتے ہی ہو گے ” نفیس حلیئے والے شخص نے پیار سے میرے بالوں کو بکھیرتے ہوئے پوچھا مگر میں بدک کے ایک قدم دور ہوا ۔ مجھے اس اجنبی سے ایسی کسی حرکت کی امید نہیں تھی
“میں کچھ بھی نہیں کرتا “۔ اس وقت میرے لہجے کی ترشی کوئی بھی محسوس کر سکتا تھا ۔ مگر وہ عجیب ڈھیٹ انسان تھا جیسے
“پھر تو کمال کرتے ہو ۔”
“وہ کیسے ۔؟ “میں نے اچھنبے سے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔ سفید کاٹن میں ملبوس ، وہ اونچے قد کا مالک انسان تھا ۔ لبوں پر مسکراہٹ پھیلی تھی ۔ خدا جانے یہ مسکراہٹ اس اجنبی کی شخصیت کا مستقل حصہ تھی یا وہ میرے ساتھ شغل کر رہا تھا ۔ اس وقت میں کچھ بھی سمجھ پایا نہ ہی میرا فہم اس قدر وسیع تھا کہ کسی اجنبی کو ایک نظر دیکھ کے اس کا مزاج پرکھ سکتا
“بھائی کچھ نہ کرنا بھی کمال ہی ہوتا ہے ۔ “
“مجھے سمجھ نہیں آئی آپ کی بات ۔ “
“آجائے گی کبھی ، ضرور آئے گی ۔ “
“آپ کیا کرتے ہیں ؟ ” اس کے نرم لہجے اور الفاظ نے ہمارے بیچ کی دوری کم کر دی اور میں واپس اپنی پہلی جگہ پر آگیا ۔
“میں مسیحا ہوں” ۔ اس نے مجھے اپنے پیشے سے متعلق بتایا
“وہ کیا ہوتا ہے ۔۔۔؟” میں حیران ہوا میری لغت اتنی بھی اچھی نہیں تھی ابھی ۔
“زخم سیتا ہوں ، مرحم رکھتا ہوں ، رفو گر ہوں ۔ “
“ڈاکٹر ہیں آپ ۔۔۔؟ ” میں نے زخموں اور مرہم سے اندازہ لگایا
” ہاں تم یہی سمجھ لو “
” میرا اکلوتا بیٹا بھی تمہارا ہی ہم عمر ہوگا بہت فرمانبردار ہے میرا بیٹا ” وہ خود سے ہی بیٹے کی تعریفوں میں رطب اللسان ہو گئے ۔ بیٹے کے تصور سے ہی شاید ان کے سرخ سرخ ہونٹوں پر مسکان آٹھہری۔
پر مجھے کیا وہ جتنا بھی فرمانبردار ہو ۔ مجھے امی کی بات اچھی طرح یاد تھی کہ اجنبوں سے زیادہ علیک سلیک نہیں بڑھاتے سو ان کی بات پر عمل بھی کیا
میں نے چپ سادھ لی ۔ حالانکہ گاڑی کے آنے میں ابھی بہت وقت تھا مسافر بھی اکا دکا ہی نظر آ رہے تھے ۔ ہم باتیں کرتے ہوئے وقت کو دھکے دیتے انتظار کی گھڑیاں اچھے سے کاٹ سکتے تھے ۔ مگر شاید میرے مزاج کی غیر دلچسپی دیکھ کر انہوں نے مزید کوئی پیش قدمی نہیں کی۔
۔
گجرانوالہ بس سٹاپ پر یہ میری ” ان ” سے پہلی ملاقات تھی ۔ وہ پکی عمر کے مرد تھے ۔ شاید پینتیس کے آس پاس ۔ حلیئے اور کپڑوں سے بھی نفاست جھلک رہی تھی ۔ آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگا تھا ۔قلموں سے سفیدی پھوٹ رہی تھی ۔
تب میری عمر صرف چودہ سال تھی ۔ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ میں ماموں کے گھر ان سے ملنے جا رہا تھا ۔
بھائی قریبی دکان سے ضرورت کی کوئی چیز لینے گئے ہوئے تو وہیں اڈے پر ہی میری ان سے یہی مختصر بات چیت ہوئی ۔
ان کی باتوں سے لگتا تھا وہ فرصت سے ہیں ۔
بہت سی باتیں کرنا چاہتے ہیں ۔ مگر شاید میرے مختصر جوابات پر انہوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا ۔
بھائی ایک اخبار اور راستے میں کھانے کی کچھ چیزیں لے کر واپس آگئے ۔ بس آئی اور ہم ایک لمبے سفر کے بعد لاہور جا پہنچے ۔ اپنے ماموں کے گھر ۔
ماموں کے گھر ہمیشہ کی طرح پر تپاک استقبال ہوا ۔ اور ہم اپنی چھٹیوں کا ایک خوشگوار ہفتہ لاہور اماں کے ننھیال میں گزار کر واپس گجرانوالہ آگئے ۔
و قت نے کپڑے بدلے ۔ سیکنڈوں نے منٹوں کا لباس زیب تن کیا ۔ منٹوں نے گھنٹوں کی پوشاک بدلی ۔ اور گھنٹوں نے دنوں کے پیراہن پہنے ، مہینوں کے قالب بنتے گئے اور کئی
سالوں کے سال بیچ میں سے اتنی خاموشی سے نکل گئے
کہ ان کے قدموں کی چاپ تک نہیں سنائی دی ۔
دادی اماں کہتی تھی کہ ” سال تو چکی کا پھیر ہوتے ہیں ۔ پلک جھپکنے کی دیر لگتی ہے بس اور سال ختم “
تب مجھے بغیر دانتوں والے پوپلے منہ کے ساتھ باتیں کرتی ہوئی دادی کی باتوں پر ہنسی آتی تھی ۔ اب سوچتا ہوں تو نہیں آتی ۔ تب ان کی باتوں کی اچھے سے سمجھ بھی نہیں آتی تھیں اب آتی ہیں۔
میں سوچتا تھا سال اتنا لمبا تو ہوتا ہے پورے بارہ مہنے کا۔ اتنے لمبے انتظار کے بعد تو سکول میں سال بعد امتحان آتے ہیں اور ہمیں ایک درجہ ترقی ملتی ہے
ابا چاہتے تھے میں طب پڑھوں ۔ میرا کچھ خاص دل نہیں تھا طب میں ۔ مجھے دواؤں سے بو آتی تھی گندی سی ۔ “چھی ” والی!
بچپن میں جب بھی کبھی بیمار پڑا گولیوں یا انجکشن پر اکتفا کیا ۔ سیرپ کی شیشی ہمیشہ اماں کی نظر بچا کر آدھی زمین پر انڈیل دیتا ۔ اماں کی تسلی ہو جاتی تھی ۔
حیرت کی بات تھی تب میں جلدی سے ٹھیک بھی ہو جاتا تھا ۔ پتا نہیں دواؤں سے یا اماں کی فکر اور دعاؤں سے ۔
میں نے ابا کی خواہش پوری کی ۔ حالانکہ طب کی طرف میرا زرہ برابر بھی دل نہیں تھا ۔ پھر بھی دل لگا کے پڑھتا رہا ابا کی خواہش کیلئے ۔ پورے دل سے پڑھا اور آخر کار دل لگ بھی گیا انہی دواؤں کے ساتھ ۔ جن سے بچپن میں مجھے گھن آتی تھی ” چھی ” والی ۔
اب میرا اپنا کلینک ہے گجرانوالہ والا میں ۔ اچھا چلتا ہے ۔
میں ” مسیحا ” بن چکا ہوں ۔ رفو گر ہوں ، زخم سیتا ہوں
اور مرحم بھی رکھتا ہوں ۔ آلاتِ جراح سے بھی اور
کبھی کبھی لفظوں اور باتوں سے بھی ۔
کیونکہ میں “مسیحا ” ہوں ۔ میرا پیشہ ہے یہی ۔
میرا یقین ہے کہ کچھ بیماریوں کا علاج صرف دواؤں سے
ممکن نہیں ہوتا ۔ لفظوں اور باتوں سے بھی مرحم رکھے جاتے ہیں ۔ زخم سیئے جاتے ہیں ۔ رفو گری اس طرح بھی ممکن ہے ۔
پتا نہیں اب یہ ” لفظوں اور باتوں ” والے مسیحا کون سی قسم کے مسیحوں میں شمار ہوتے ہیں ۔؟
مگر میں نے اپنے کئی مریضوں کو اس طریقے سے شفایاب
ہوتے دیکھا ہے ٬سچ میں ! اس لیئے اس بات پر میرا یقین کامل ہونا کوئی محیرالعقل بات نہیں ہے ۔
زندگی کی زمین پر اپنے پاؤں سے چلنا آگیا تو ابا نے میری
شادی کر دی ۔ اسی لاہور والے ماموں کی دختر سے ۔
رضیہ کے ساتھ شادی سے پہلے تک کوئی خاص ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے باوجود بھی خاندان بھر میں ہمارے ” جوڑے ” کی مثال دی جاتی ہے ۔ بڑی صابر شاکر اور نیک خاتون ہے رضیہ ۔ ہر دم رب کی رضا میں راضی ۔
بڑے بھیا نے ابو سے لڑ جھگڑ کر اپنی پسند کی شادی کی تھی۔ اپنی یونیورسٹی کی کلاس فیلو سے ۔ بڑےبھیا ابا جی کو تاویلیں دیتے تھے کہ “نیلوفر” کے ساتھ ان کی ذہنی ہم آہنگی ہے وہ دونوں ایک دوسرے کو اچھے سے سمجھتے اور جانتے ہیں ۔ ابا نے جوان بیٹے کے مقابلے میں پسپائی اختیار کر لی اور بھیا کی پسند کو گھر لے آئے ۔
مگر پھر بھی جانے کیوں آئے روز ان دونوں میں جھگڑے ہونے لگے ۔ شادی کے پانچویں سال ہی دونوں میں علیحدگی ہو گئی ۔ حالانکہ شادی سے پہلے تک دونوں میں بقول بھیا بہت زیادہ ” ذہنی ہم آہنگی ” تھی
۔
آج میری عمر پینتیس سال ہے ۔ کنپٹیوں سے سفیدی جھانک رہی ہے ۔ قریب نظری کی بھی ہلکی سی شکایت ہے اس لیئے نظر کا چشمہ لگاتا ہوں ۔ حالانکہ خود ” مسیحا ” ہوں۔
لاہور میں بھرا پرا سسرال ہے میرا ۔ رضیہ کے بعد تو جیسے
لاہور سے اٹوٹ رشتہ ہی جڑ چکا ہے ۔
اس لیئے آنا جانا لگا ہی رہتا ہے ۔ کبھی رضیہ کو والدین سے
ملوانے تو کبھی دوسرے دنیاوی سلسلوں میں ۔
آج بھی ایک کام کے سلسلے میں لاہور جانا تھا ۔
بہت مشکل سے وقت نکالا ۔ بس اڈے آ پہنچا ۔
وقت کے ساتھ اڈے نے بھی تبدیلیوں کی کئی قبائیں بدلی ہیں۔ اب تو اچھا خاصا مصروف سٹیشن بن چکا ہے ۔انتظار گاہ میں آرام دہ نشتیں لگ چکی ہیں ۔ بسوں کی حالت بھی بدل گئی ہے اور سڑکوں کی بھی ۔
اب وہی اکیس سال پہلے والی دقتیں نہیں رہیں ۔ وقت بھی کم لگتا ہے ۔ ہر دوسرے گھنٹے لاہور کیلئے مسافروں سے بھری ہوئی بس نکلتی ہے ۔ پتا نہیں اتنے لوگوں کو کس لیئے لاہور جانا ہوتا ہے ۔ شاید میری طرح سب کے اپنے اپنے ضروری کام ہوں گے ۔ خیر
میں اڈے پر انتظار گاہ میں پہنچا تو وہاں ایک کونے والی نشست پر ایک بوڑھا بیٹھا تھا ۔آنکھوں پر میلے اور بڑے عدسوں والی عینک لگا رکھی تھی ۔ سر کے بالوں کو شاید مہینوں سے دھونے کی فرصت نہیں ملی ہوگی ۔
ریشہ زدہ ہاتھوں میں لاٹھی پکڑے اپنے خیالات کی ندیا میں بہہ رہا تھا ۔ پچپن سے تو اوپر ہی ہوگا ۔ میں نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا ۔ مگر وہ اپنی عمر سے
بھی دس پندرہ سال بڑے لگتے تھے ۔
مخالف سمت والی نشتوں پر کالے عبایوں میں ملبوس دو عورتیں براجمان تھیں ۔ ایک زرا فربہی مائل تھی جو اپنی بچی کو چپ کرانے میں ہلکان ہوئی جارہی تھی ۔
میں بوڑھے کے ساتھ پڑی خالی نشست پر جا بیٹھا ۔ اس نے توجہ ہی دی نہ ہی میرے سلام کا جواب دیا ۔ شاید اونچا سنتا ہو گا میں نے دل ہی دل میں یہی گمان باندھ لیا ۔
” بابا جی کہاں جا رہے ہیں آپ ۔؟ ” میں نے ایسے ہی وقت گزاری کو گپ شپ کیلئے پوچھا ۔ اس بار گلے کا والیوم بھی زرا اونچا رکھا
” لاہور ” بوڑھے نے کونے میں تھوک اگلتے ہوئے یک لفظی جواب دیا ۔
” آپ کیا کرتے ہیں بابا جی ۔۔۔؟ ” مجھ سے لفظ ادا ہوئے تو مجھے اپنا ہی سوال بے وقوفانہ سا لگا ۔
” کچھ بھی نہیں ” اس بار انہوں نے لفظوں میں بخل سے کام نہیں لیا تھا
” کچھ نہ کچھ تو کرتے ہی ہوں گے آپ ۔۔۔ ؟ ” خدا جانے کیوں مجھے باتوں کو طول دینے کا خیال آیا ۔ یہ سوچے بغیر کہ بوڑھا برا بھی مان سکتا ہے
” نہیں کچھ بھی نہیں کرتا ” بلغمی حلق سے عجیب سی آواز میری سماعتوں تک بمشکل پہنچی
” پھر تو کمال کرتے ہیں آپ ” سالوں پرانی یاد نے میرے دماغ پر دستک دی ۔ میں اپنے آپ ہی مسکرا دیا ۔ اور بابا جی کو ان کا ” کمال ” بتانے سے گریز کیا ۔
پرانی یادوں نے دماغ کے بند کواڑوں پر دستک دی تو میرے ذہن کی سلیٹ پر سالوں پہلے اسی اڈے پر ملنے والے وجیہہ مسیحا کی شباہت ابھر آئی ۔ وہی مسیحا جو رفوگر تھا ، زخم سیتا تھا اور مرحم رکھتا تھا ۔ عہد رفتہ کی یادیں کیا تازہ ہوئیں میں بوڑھے کے جھریوں بھرے چہرے کو مکمل توجہ سے پڑھنے لگا اور پھر مجھے شناخت کرنے میں زرا بھی دیر نہیں لگی ۔ یہ واقعی وہی مسیحا تھا جس کے وجیہہ چہرے پر وقت نے جھریوں کا جال بن دیا تھا
” لاہور خیر تو ہے کس سلسلے میں بابا جی ۔۔۔؟ “
” کسی کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں “
” کس کو ۔۔۔؟ ” مجھے اب ان کے ساتھ بات کرنے میں مزہ آنے لگا تھا ۔ لبوں پر مسکراہٹ آگئی اور سوچا کہ اب اس عمر اور اس نحیف حالت میں بھلا کس کو ڈھونڈیں گے
” کسی مسیحا کو ۔ سنا ہے وہاں اچھے قابل مسیحا ھوتے ہیں ۔ بڑے بڑے ہسپتال ہوتے ہیں “
” مگر کیوں ۔۔۔ کیا ہوا ہے آپ کو ۔۔۔؟ ” سوال کرتے ہوئے میرے لبوں کی مسکراہٹ اپنے آپ ہی سمٹ گئی ۔ میرے اندر کا مسیحا بھی انگڑائی لے کر جاگ اٹھا
“اکلوتے بیٹے نے گھر سے نکال دیا ہے ۔ کہتا ہے تم اب پاگل ہو گئے ہو ، خبطی ہو، سٹھیا چکے ہو اپنا علاج کرواؤ کسی پاگلوں والے ڈاکٹر سے ۔ ” اس نے پہلی بار سر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔ مجھے ان کی خالی آنکھوں سے خوف سا محسوس ہونے لگا ۔
بوڑھے کے سالوں پہلے ادا کیئے گئے جملے میری سماعتوں پر ہتھوڑے برسانے لگے
” میرا اکلوتا بیٹا بھی تمہارا ہی ہم عمر ہوگا ۔ بہت فرمانبردار ہے میرا بیٹا “
اڈے پر بس آ چکی تھی ۔ باہر اونچی آواز میں بس کا ہارن چنگھاڑ رہا تھا ۔ عورتیں برقعے سنبھالتی چلی گئیں ۔ بوڑھا بابا بھی اپنی لاٹھی ٹیکتے چھوٹے چھوٹے قدموں سے بس کی طرف چل دیا
میں وہیں بیٹھا رہ گیا۔ میں خود ” مسیحا ” تھا مگر میرے پاس “اس ” بوڑھے کا علاج نہیں تھا نا میرے کلینک میں موجود آلات جراحی سے اور نا ہی لفظوں سے
بس نے اپنے وقت پر اڈہ چھوڑ دیا ۔ ۔

میں بیٹھا رہ گیا ۔ کتنا عرصہ گزر گیا میں شاید آج بھی وہیں بیٹھا ہوں

_______________________

تحریر : ارشد ابرار ارش

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.