پچاس لفظوں کی کہانی______پارٹ 4

” قتل “

” کیا واقعی تم نے کسی کا قتل کر دیا ہے ؟”
” ہاں ۔”
” تم کیسے کسی کا قتل کر سکتے ہو ؟”
” اگر میں اسے قتل نہ کرتا تو وہ مجھے مار ڈالتا ۔ سو مجھے اسے مارنا پڑا ۔”
” لیکن تم نے بتایا نہیں تم نے قتل کیا کس کا ہے ؟”
” اپنے ضمیر کا !”

۔۔۔

” جن کا سایہ ”

وہ ایک چھ سالہ سرخ سفید ، گول مٹول سی بچی تھی ۔
ایک روز میدان میں کھیل سے واپسی پر دیر ہو گئی ۔
میدان کے ایک طرف کچھ افراد اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔
اگلے دن اہل علاقہ نے سنا اس پہ جن کا سایہ ہو گیا ہے ۔

(ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﮔﮩﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ گروپ Save The Angels And Fairies ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﮑﮭﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﮩﺎﻧﯽ ‏)
۔۔۔

” یومِ مزدور “

یومِ مزدور کی چھٹی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عادل بچوں کو گھمانے لایا ہوا تھا ۔
جوائے لینڈ سے واپسی پر سڑک کنارے حسبِ معمول مزدوروں کا جھرمٹ نظر آیا ۔

پوچھا : آج تو سب کی چھٹی ہے ۔ تو تم یہاں ۔۔۔ ؟
اداس سے مسکراہٹ لیے جواب آیا : بھوک چھٹی نہیں کرتی صاحب ۔۔۔

۔۔۔

پچاس لفظوں کی کہانی ” یومِ مزدور ”

” تو آپ کیا سمجھتے ہیں آپ نے کیا حاصل کیا آج کے دن سے ؟”
ٹی وی رپورڑر نے یومِ مزدور پر ایک مزدور کے تاثر جاننے کو مائیک آگے کیا ۔
مزدور خوشی سے بولا : ” ناشتے میں حلوہ پوری اور دوپہر میں بریانی ۔۔۔ دیکھتے ہیں شام کے جلسے میں کیا ملتا ہے ۔۔۔ ”

۔۔۔

” جادوگرد ”

جرمن سکول ٹیچر تھرڈ گریڈ سٹوڈنٹس سے : بڑے ہو کر کیا کرنا چاہتے ہو ؟

ٹونی : سائنسدان
بیتھ : مصنف
ایزابیلا : پائلٹ
افریقی نژاد برائن : کسان ۔۔۔ بہت سی خوراک اگا کر دنیا سے غذائی قلت ختم کروں گا ۔
عراقی نژاد ذید : جادوگر ۔۔۔ چھڑی گھما کر سارے جنگی ہتھیار غائب کر دوں گا ۔

_____________

مصنفہ:عروج احمد

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف
۔۔۔

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.