اعتراف___________از ثروت نجیب

💖

دلِ بیزار کو اب کوئی توقع ہی نہیں تم سے !
نہ خود سے ہے ـ ـ ـ ـ
دل ٹوٹے یا عہد ٹوٹے’
یا بدبخت محبت کی ساری جدو جہد ٹوٹے
میری بلا سے سب چھوٹے
نہ چھوٹے بس تیرا دامن !
کہ اس دامن سے الفت ہے
وہی الفت جو پروانہ کسی شمع سے کرتا ہے
میں برملا کہہ بھی دیتی ہوں جلن اب سہی نہیں جاتی
میرے پر روز جلتے ہیں مگر الفت بھی نہیں جاتی ـــــ

________________

شاعرہ:ثروت نجیب

فوٹو گرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.