سفر حجاز——–پارٹ 4

7-یہ کون سر پہ کفن لپیٹے:

ٹیکسی میں مدینہ سے مکہّ کی طرف عمرے کی ادائیگی کے لئے نکلے تو دوپہر کے تین بجے کا وقت تھا اور میری روضہ رسول سے آخری زیارت کے بعد واپسی پر فیملی ہوٹل سے باہر ٹیکسی میں میری منتظر تھی۔میقات میں لوگوں کے جم غفیر سے اٹے مقام پر جہاں پر غسل اور احرام باندھنے کا وسیع انتظام موجود ہے اور نوافل کے لئے ایک بڑی مسجد کے ساتھ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی شاپنگ کے لئے مارکیٹ بھی موجود ہے ، وضو کر کے نفل پڑھے اور عمرے کی نیت کی۔گھر سے چلتے بڑی محنت اور شوق سے بچوں کے عمرے کے لئے احرام کا مکمل انتظام اور پلان کیا تھا مگر ریاض الجنہ میں رش میں چھوٹے چھوٹےبچوں کو پھنسے دیکھا تو احساس ہوا کہ ایسی جگہوں پر بچوں کو لیجانا خود کو اور بچوں سمیت دوسروں کو بھی مشکل سے دوچار کرنا ہے۔کچھ فراغت سے کی گئی دعاؤں نے بھی للچایا کہ کہ خدا ایمان اور سلامتی دے تو انشااللہ اپنے صحیح وقت پر سر کے بل بھاگے چلے آئیں گے ہمارے بچے بھی اسکے در پر انشااللہ۔تو ان کو اٹھا کر،کھینچ کر،منا کر عمرے کے چکر لگوا بھی لئے تو ہماری پہلی حاضری کے ارتکاز کا کیا ہو گا۔خود ہم زندگی کی پہلی حاضری کو پہنچے تھے اور ہر اک لمحے کو جی بھر کر جی لینا چاہتے تھے۔چناچہ مدینہ میں ہی بچوں کو ساتھ عمرہ کروانے کا پروگرام کینسل کرکے اگلے سالوں اسکا زمہ خدا کے کندھوں پر ڈالا کہ اسکے بندے ہیں خود ہی انکو بھی لیکر آئے گا ہم اپنی باری ہی ڈھنگ سے نبیڑ لیں۔

فوٹوگرافی ـ حرم کعبہ

مدینہ سے مکہّ کی روانگی کے وقت یہ بھی خبر نہ تھی کہ مکہ کتنے گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ سوچا، ہو گا ابوظہبی سے دبئی شارجہ تک کا فاصلہ اس لئے بچوں کو تسلی دی کہ رستے میں کھانا کھاتے ہیں اور ایسا کرتے بھی یہی گمان تھا کہ دبئی ابوظہبی کے موٹر ویز کی طرح ضرور ہر چند کلومیٹرز پر فوڈ کورٹس موجود ہونگے۔مگر جب بہت دیر ہوئی چلتے چلتے اور بچے بھی بھوک بھوک کرنے لگے اور دو تین گھنٹے تک کوئ پیٹرول پمپ بھی نہ آیاتو ہمیں بھی حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور ہم نے ڈرائیور سے پوچھا کہ بھائی کتنی دیر کا فاصلہ ہے۔

“چھ گھنٹے”.

چھ گھنٹے کا سنکر تو ہمارے چودہ طبق روشن ہو گئے۔یہ تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مدینہ سے مکہّ اس قدر فاصلے پر ہو گا ، اکٹھے چھ گھنٹے۔۔تشویش سے بچوں کی صورتیں دیکھیں کہ یہ دو گھنٹے کی ڈرائیو میں تھک کر واویلا مچا دینے والے بچے چھ گھنٹے میں کیا کیا نہ شور مچائیں گے۔کچھ خود کو بھی حوصلہ دیا کہ ٹیکسی میں چھ گھنٹےکا فاصلہ ہمارے بے چین بچوں کے ساتھ خاصا مشکل اور لمبا محسوس ہوا۔اسکے ساتھ رستے میں کہیں پر بھی چار گھنٹےسے پہلے قیام وطعام کی سہولت مہیا نہ تھی۔شکر رہا کہ سوتے جاگتے کسی نہ کسی طرح بچوں نے یہ وقت صبر کے ساتھ ذیادہ تنگ کئے بغیر گزار ہی لیا۔عشاء کی اذان کے ساتھ جب مکہّ میں داخل ہوے تو مدینہ کی نسبت مکہّ شہر بہت خوبصورت اور پرکشش لگا۔پہاڑوں اور گھاٹیوں میں کہیں اوپر کہیں نیچے واقع یہ شہر اس قابل تھا کہ اسے ایک بار فرصت سے گھوم پھر کر دیکھا جائے گرچہ یہ وقت ہمارے پاس نہ تھا کہ چار دن کے عمرے کے سفر میں سے آج دوسرے دن کا اختتام تھا۔ گھروں اور عمارتوں کے بیچ میں پہاڑ اور پہاڑوں کو کاٹ کر بنائ گئی عمارتیں۔۔۔اوپر نیچے جلتی یہ روشنیاں خوبصورت نظارہ پیش کرتی رہیں۔

ہوٹل کے کے کمرے میں پہنچ کر سب سے پہلا کام اماں ابا سے رابطے کا تھا جو پہلے ہی عمرہ کی نیت سے مکہّ میں موجود تھے اور کہیں قریب ہی ہمارے منتظر تھے۔رات کا کھانا اماں ابا کے ساتھ کھاتے انکے زبانی علم سے خوب مستفید ہوے اور ضروری معلومات بھی سمیٹنے کی حتی آل امکان کوشش کی کہ اللہ کے فضل و کرم سے یہ حاضری انکو بہت بار نصیب ہو چکی ہے۔ انہیں سے ہم نے ہوٹل سے نکل کر نگاہ نیچی کرکے پہلی نظر محفوظ رکھ کر خانہ خدا کے سامنے پہنچنے کا طریقہ جانا۔کھانے اور ملاقات سے فراغت کے بعد تقریبا رات بارہ بجے کے قریب ہم نے اماں ابا کو بچوں کے پاس کمرے میں چھوڑا اور نظریں آس پاس کی ہر شے سے ہٹا کر زمین پر بچھائے محض چند قدم کے فاصلے پر سوئے کعبہ چلے۔گیٹ پر موجود سیکورٹی کے افسر عموماً مردوں کے ہاتھوں کے تھیلے نظر بھر کر دیکھتے ہیں مگر شاید عورتوں سے انحراف کرتے ہیں تبھی جوتوں اور پانی کی بوتلوں کے لئے لٹکایے گئے میرے بیگ پیک پر انہوں نے نظر ڈالنے کی کوئ زحمت گوارا نہ کی۔ ہم باب عبد العزیز سے داخل ہو کر نیچی نظروں سے زمیں کو دیکھتے برآمدے سے گزرتے لبیک الھم لبیک کی تسبیح کرتے حرم کے صحن کی سیڑھیاں اترنے لگے۔آس پاس کے لوگوں ،مسجد اور اسکی دیواروں اور راہداریوں سے مکمل پردہ کرتے ہم باخبر تھے کہ ہم اس نظارے کے بالکل سامنے پہنچ چکے ہیں جو ہر اہل ایمان پر اگر وہ استطاعت رکھتا ہو تو ایک بار ضرور فرض ہے مگر نظر اٹھا کر اس نظارے سے مستفید ہونے سے ہم نے اجتناب کیا اور دی گئی ہدایت کے عین مطابق لوگوں کے بیچ میں ان سے ٹکرانے سے بچتے اور سامنے والوں کے پاؤں پر نظر رکھتے آہستہ آہستہ چلتے ہم میاں بیوی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جھکی نگاہ سے سیڑھیاں اتر کر عین صحن میں خانہ خدا کے قدموں میں جا پہنچے اور بلاآخر نیت باندھ کر دھیرے سے اپنی نگاہ اٹھائ، کالے کوٹھے پر ڈالی اور پھر اسے پلٹنا بھول گئے۔ہم بھوکے اور منگتے بہت سی مرادیں جھولی میں لئے آئے تھے ،ہمارے بے تماشا ہاتھ تھے اور ہر ہاتھ میں کئی کئی کشکول تھے جو اس چوکھٹ سے بھر جانے کی امید رکھتے تھے اور اس امید کا مکمل انحصار اس پہلی نگاہ پر تھا جسے جھپکنے پر دل تیار نہ تھا۔پلکوں کی لرزش روک کرنظر جما کر ہم نے اپنے بھوکی، پیاسی، سلگتی، اور ہر تھکی ہاری مسافت کی ماری دعا نکال کر رب کعبہ کے قدموں میں ڈھیر کر دی تھی اس امید سے کہ اب ان ٹوٹی پھوٹی دعاؤں کابوجھ کندھوں سے اترے ۔

دنیا جہان کی چمکتی،آنکھیں خیرہ کرتی،جگمگاتی،نظروں کو دھندلا کرتی روشنیوں،خوبصورتیوں ،نعمتوں اور ترقیوں کو دیکھ لینے کے بعد آنکھوں کی روشنی دھندلی پڑ جاتی ہے، ان میں پیلا ہٹ اتر آتی ہے، تازگی کملا جاتی ہے تو آج یہ جانا کہ خانہ خدا کا لباس کالا کیوں ہے؛ رب کعبہ کو خبر ہے دنیا کی روشنیوں سے بوجھل آنکھوں کو ترواہٹ کے لئے مزید روشنی کی نہیں بلکہ عمر بھر کی روشنیوں کی حدت کو جزب کر لینے والے کالے لبادے کی ضرورت ہے جو تھکی،تپتی آنکھوں کی ساری تھکاوٹ جذب کرکے انکو ٹھنڈک میں بدل دے۔تو جلتی آنکھیں ہم بھی خانہ خدا کے کالے چغے پر ٹکاے اسکی ٹھنڈک کو نظروں کے رستے دل میں اتارتے رہے۔اے کاش کہ گھڑی کی سوئیاں پھدکنا بھول جاتیں اور ہم صدیوں اور زمانے خانہ خدا کے قدموں میں کھڑے اسکی ٹھنڈی اوس سے خود کو نم کرتے رہتے۔مگر ہم بدقسمت انسانوں کے ہاتھ میں چلتی ہوی گھڑیاں ہیں جو ہر وقت ہمیں دھکے لگا کر آگے کو دھکیلتی رہتی ہیں کہ دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔تو رات ساڑھے بارہ کا وقت ہے،خانہ خدا ہے ،طواف کو بلاتے مدار ہیں اور ہمارے گنتی کرنے والے،اعدادوشمار جمع کرنے والے، ہر شے کا حساب رکھنے والےدماغ ہمیں طواف کی سمت دھکیلتے ہیں اور ہم دنیا کا یہ عظیم ترین نظارہ چھوڑ کر حجر اسود سے اپنے طواف کا آغاز کرتے ہیں اور کعبہ کے گرد گھومتی اس کائنات کا ایک حصہ بن جاتے ہیں جسکے سنگ یہ وقت یہ نظام شمسی اور پوری کائنات گول گول دائروں میں گھوم رہی ہے۔دعاوں کا ورد کرتے ،کبھی نظر بھر کر قبلہ کو دیکھتے اور پھر گھبرا کر گستاخی سے ڈرتے نظر موڑتے، ہم دنیا کے اس عظیم ترین نظام کا حصہ بن جاتے ہیں جسمیں قدم رکھ کر نہ کوئ مرد رہتا ہے نہ کوئ عورت،نہ امیر نہ غریب،نہ کمتر نہ برتر،نسل قبیلے اور پہچان بھول کر سب کے سب سفید کفن اوڑھے اپنے رتبوں کو لباسوں کے ساتھ خانہ خدا سے بہت دور میقات میں چھوڑے اسکی سرکار میں پہنچ کے ایک ہو چکے ہیں۔جمعہ کی رات کی پرسکون مرتکز ٹھنڈک، کعبہ میں تہجد کا وقت اور سامنے خانہ خدا کا جلوہ ٬زندگی کی خوبصورتی اپنی انتہا پر تھی ۔جب بھی آپ پر یہ وقت آئے تو پہلی نظرکے لئے بے تحاشا فرصت بچا کر رکھئے،خانہ کعبہ کے سامنے ٹھہرئیے ایسے کہ پھر ہلنا بھول جائیں، دماغ کو لگی جلدی کی عادت کو لاوارث چھوڑ کرتب تک وہاں قیام کریں جب تک خانہ خدا آپ سے کلام بند نہ کر دے۔جی ہاں! دھیمے ہو کر اپنے رب کے مقدس گھر کو پہلی بار تکتے اپنے رب کا کلام سینیے،جو گفتگو وہ آپ سے اپنے گھر کے دروازے پر کرتا ہے وہ کلام پھر دوبارہ نصب نہیں ہوتا۔اس کلام کو سنئے اور تب تک سنیئے جب تک وہ خود آپکو جانے کا اشارہ نہ کر دے۔

8.سلام لیجئے غلام آیا:

حجر اسود کے سامنے لگی ہری بتیوں سے شروع کرتے، خدا کی بزرگی کی گواہی دیتے ہاتھ اٹھاتے ہم ،خدا کی وحدانیت کا اقرار کرتے ،اسکی شان کے گن گاتے اور اس سے التجاء کرتے اس حرکت کرتے ذندہ جاوید محور میں ضم ہو گئے جسمیں آس پاس آگے پیچھے ہر شخص کی نگاہ صرف سامنے کے رخ تھی،ذبان پر ذکرِ رب تھا اور دل میں بیقراری تھی۔ہر نفس اک ایسے پتلے کی مانند تھا جسے خانہ خدا سے دھاگوں سے باندھے کنٹرول کیا جا رہا ہو،اسطرح کہ اسکی نگاہ، ہاتھ نہ نیت کسی اور طرف بھٹک ہی نہیں پاتی۔آدھا کندھا برہنہ کئے آس پاس بے تحاشا مرد اور انکے بیچ بغیر فاصلے کی تمیز کے ،بغیر جھجک اور ہچکچاہٹ کے چلتی عورتیں۔۔۔۔پاکستان کے روایت پسند معاشرے میں پلا میرا ذہن سوچتا رہا کہ یہ کیسے ہوا کہ ہماری خود ساختہ بنائ حدیں اتنی بودی اور بے بنیاد ہیں کہ جہاں پر دو مردوں کے بیچ ایک عورت گھبرائے اور سر جھکائے بغیر خوفزدہ ہوے بنا یا تہمت زدہ ہوے بنا چل نہیں پاتی۔اور آج ننگے جسموں پر آدھا ادھورا کفن لپیٹے مردوں کے بیچ ہاتھ اٹھاتیں،سر اٹھاے چلے جاتی ہیں۔ایسا تضاد کیوں جو ہمارے معاشرے نے مذہب کے نام پر ہمیں سکھایا وہ غلط تھا یا عبادت کے نام پر جو یہاں دیکھ رہی ہوں اس میں کچھ فرق ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ گھروں کے اندر بڑے بڑے خاندانوں کی موجودگی میں ایک دوسرے سے پرے ہو کر بیٹھنے والے سفید پوش پاکستانی میاں بیوی،لوگوں کے سامنے قریب ہونے سے ڈرتے اور اس پر شرمندہ ہونے والے یہاں اللہ کے دربار میں کتنی الفت اور استحقاق سے اک دوجے کا ہاتھ پکڑے ،یا میاں بیوی کو ادھر ادھر کی ٹکروں سے بچاتا اسے اپنے بازؤں کے دائرے میں لئے جاتا ہے تو کئی طرح کے غیر ضروری رواجوں اور روایات پر سوال اٹھتے رہے۔

سمجھ میں آیا کہ مذہب کے نام پر معاشرے میں کی گئی اپنی روایات اور خودساختہ اخلاقیات کی ملاوٹ نے دین کو بھی خالص نہ رہنے دیا۔ہمارے انتہا پسند دماغوں نے جیتے جاگتے مہذب اور متناسب مذہب کو ایک شدت پسند، محتاط تریں ضابطہ اخلاق میں بدل دیا ہے اور احتیاط کے نام پر اسکی کانٹ چھانٹ کرتے ہم نے اسکو انسانوں کے لئےمشکل تر کر دیا ہے اس قدر کہ انسان اور انسانیت کے لئے اتارے اک خوبصورت دین میں ان کی سانس ہی گھٹنے لگی ہے۔

۔مرد و عورت کے مخلوط دائروں میں چلتے میں نے وہ مکمل ،پروقار اور مہذب رویہ دیکھا جس میں ہر تیز تیز چلتا مرداپنا کندھا اور ہاتھ ساتھ چلتی عورت کو لگنے سے بچاتا تھا اور ہر نگاہ لوگوں کے چہروں سے صرف نظر کرتی صرف کالی چوکھٹ کی طرف مڑتی تھی۔حیرت ہوی کہ معاشرے میں یہ مہذب پن پیدا کرنے کے چکروں میں مغرب نے ہزارہا طرح کے مخلوط معاشرت کے تجربات کر لئے مگر ہزار طرح کا فساد اور شر پھیلا کر بھی ناکام و نامراد رہا،وہ مہذب پن،انسان اور انسانیت کا وقار اور احترام جو دنیا بھر سے آئے ہر رنگ اور ہر نسل اور زبان کے مسلمان اس مخلوط طواف میں بغیر کسی ایڈوانس ٹرینگ کے دکھاتے ہیں۔تو جانا کہ اک زرا سی روحانیت،اک زرا سی رب کی طرف لگی توجہ اور اک زرا سا اپنے شعور کے اینٹینا کا رخ رب کعبہ کی طرف موڑ دیا جاے،دل میں اک اسکی زرا سی طلب اور چاہت جگا دی جاے، تو یہ مخلوط مہذب معاشرہ اور اسکا پروقار نظام خود بخود تکمیل کے مراحل طے کر جاتا ہے۔اہل مغرب اسی لئے ناکام ٹھہرے کہ انکے اینٹینا کی فریکوئنسی رب کعبہ تک کبھی نہ پہنچ سکی نتیجتا ہر طرح کی سائنسی اور تجرباتی کوشش بھی مخلوط معاشرے کو اس قدر مہذب اور باوقار بنانے میں ناکام رہی جس قدر انہوں نے کوشش کی۔

ہمارے آس پاس دائیں بائیں زرا زرا سی دیر بعد کسی نہ کسی مڈل ایسٹرن ریاست کا اک گروپ آ جاتا جس کے سب افراد ایک رنگ کے سکارف لپیٹے اک دوجے کا ہاتھ تھامے رہبر کی بلند گرجتی آواز میں مذکورہ دعائیں اور کلام پڑھتے چلتے ،کبھی لال ،کچھ سبز اور کبھی کھٹے رنگ میں لپٹے،گمشدگی اور بھٹک جانے سے ڈرتے وہ خاصی جگہ گھیر کر چلتے تھے۔اگرچہ وہ ہماری نسبت ہر لمحہ ہر ساعت کی دعا صحیح الفاظ اور تلفظ میں ادا کرتے ہمیں شرمندہ کرتے تھے مگر پھر بھی رب کعبہ کے ساتھ اپنی ذاتی زبان میں سرگوشیاں،فرمائیشیں ،التجائیں کرنے کا جو مزا ہمارے ہاتھ میں تھا وہ شاید انکے پاس نہ تھا۔یہ دو طریقوں کے فرق تھے ہمارے اور انکے درمیان مگر اس گھر سے کوئ کبھی نامراد نہیں لوٹا،سو یہاں پر عبادت،دعا،التجا کا کوئ بھی طریقہ کوئ بھی لہجہ ہو کسی سے کمتر یا برتر نہیں ہوتا۔اللہ کے اس دربار میں ہر کٹے پھٹے کاغذ پر ایک جیسی قبولیت کی مہر لگتی ہے۔یہاں پر انداذ،پہناوے،رتبے،اوقات،حسن اورعلم کی کمی دیکھ کر کبھی کوئ دروازے سے لوٹایا نہیں جاتا،یہاں سے کوئ ہاتھ خالی نہیں آتا،یہاں پر ہر چہرہ خدا کا محبوب و مقبول ہے سو اسے احترام سے دیکھیے،اسے عزت سے رستہ دیجیے۔

آدھی رات کے وقت اپریل کی تاریخوں میں حرم کے گرد طواف کے لئے آدھا حصہ مختص تھا اور باقی آدھے پر طواف نہ کرنے والے،حاضری کے خواہاں دیدار کے طالب بیٹھے دعائیں اور عبادت کرتے تھے۔صحن حرم میں خانہ خدا کے گرد طواف کوئ بہت مشکل نہیں تقریبا آدھ گھنٹے میں سات چکر مکمل ہو جاتے ہیں۔اگر آپ یہ طواف دوسری یا تیسری منازل سے کریں تو دور ہونے کی وجہ سے تین سے چار گنا زیادہ کا فاصلہ پڑ جاتا ہے۔حجر اسود اور چوکھٹ سے زرا پرے ہی پرے ہمارے طواف کے سات چکر پورے ہو گئے یہاں بھی دل کچھ محرومِ مراد رہا ، چوکھٹ تک پہنچ سکے نہ حجر اسود کو بوسہ دے سکے ۔کچھ انکے اصل حقائق و فضائل سے ناواقفیت تھی کچھ سب فرائض دھیمے دھیمے کرنے کی خواہش تھی کہ نہ حطیم کی طرف لپکے،نہ چوکھٹ پر جھپٹے اور ان تک نہ پہنچنے کی محرومی دل سے لگائے آئندہ کے وعدے پر لوٹ آے۔

دوران طواف نظر اٹھا کر خانہ خدا کو آنکھ بھر کر دیکھنے کی کوشش کرتے اور پھر اک خوف سے ڈرتے نظر جھکا لیتے،،اندر سے کوئ آواز آتی کہ خدا کی جلالی ذات میں گستاخی نہ ہو جاے۔جانے یہ ٹھیک تھا کہ نہیں مگر بچپن سے کروایا گیا رحمان الرحیم کی بجاے جلالی رب کے نام سے اللہ کا تعارف دل کے اندر ٹوکتا اور روکتا ۔جانے کیوں رب نے اپنے ہر کلام کی ابتدا پر اپنا نام رحمان و الرحیم پسند کیا اور ہم نے اسے نظر انداز کر کے اسے ہر بات میں ڈرانے والا ،آگ میں پھیکنے والا،سزائیں دینے والا رب مشہور کر دیا۔وہی ڈر تھا جو بار بار ہمارا پلو پکڑ کر ہمیں پیچھے کی طرف موڑتا اور ڈانٹ کر نظر جھکانے کا حکم دیتا۔مدینہ کی شفیق اور نرم تاثیر کی نسبت خانہ خدا میں ہم تھوڑا پرے پرے، تھوڑا ہچکچاتے رہے جانے نصیب کی تنگی تھی کہ ادراک کی پستی کہ نہ چوکھٹ سے لپٹ کر دھاڑیں مار سکے، نہ حجر اسود کو چومنے کو بیتاب ہوئے اور کلاس کے نکمے بچوں کی طرح پیچھے پیچھے اور پرے پرے رہ کر دل میں اٹھتی طلب کو دباتے اور روکتے سر جھکاتے طواف کے سات چکر گن کر پورے کرتے رہے۔

آدھ گھنٹے میں طواف مکمل ہوا ، مقدس گردشوں سے نکلے اور پیچھے ہٹ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھاے۔،وہی رٹی رٹای دعائیں نکال کر خموشی سے رب کے قدموں میں رکھ دیں اور اسے ساتھ کھڑی اک عرضی بھی کر دی کہ مولا بس توفیق یہیں تک ہے۔یہ اجڑے بکھرے ،گلے سڑےجذبات،یہ نہ لگنے والا سست خوفزدہ دل، اور یہ ہر گھڑی ڈانٹ کر پیچھے کرتا دماغ اب اس سے بڑھ کر کچھ بھی کہنے اور سننے کی اجازت نہیں دیتا__ تو تیرا کمال ہے کہ بغیر میرے علم ادراک اور شعور کو جانے میرے اس رٹے رٹاے سبق کو منظور کر لے!!،اسی غلطیوں سے بھری درخواستوں پر ٹھپے لگا دے!!!

دعا سے فارغ ہوئے تو سعی کے لئے صفا اور مروہ کی طرف نکلے جو اپنے آپ میں اک الگ ہی دنیا،ایک الگ ہی تاثیر رکھتا ہے۔صفا اور مروہ کے پرہجوم سات چکر ہم نے یوں بھاگتے دوڑتے مزا لیتے لگا لئے کہ جیسے گھر سے باہر واک ٹریک پر گھومنے آ نکلے ہوں۔کہیں اونچائی،کہیں گہرائی،کہیں آہستہ قدم کہیں بھاگنا،،،،سوچا کہ کیا جسم کو متناسب رکھنے کے پیمانے یہاں سے جان کر بتلاے جاتے ہیں یا صدیوں پہلے رب کعبہ کو یہ خبر تھی کہ صحت مند جسم کے لئے کبھی بھاگنا اور کبھی رکنا ہے،کبھی اونچائی پر چڑھنا اور کبھی اترنا ہے۔اور اس میں شک ہی کیا ہے کہ اسے زمانوں سے پہلے بھی زمانے سے بڑھ کر ہر چیز کا علم تھا۔تو ہم ٹریکنگ اور واک کے عادی میاں بیوی صفا و مروہ کی پہاڑیوں کے بیچ اپنی چُھوٹی ہوی واک کے مزے لیتے رہے اور ہر پورے ہوتے چکر کے ساتھ ہزاروں قدموں کی گنتی پوری کرتے دل ہی دل میں خوش ہوتے رہے۔میں نے تو یہ بھی سوچا کہ اگر یہیں کہیں قریب میں ہی گھر ہو تو انسان روزانہ تہجد کی نماز قبلہ میں پڑھے ،اسکے بعد طواف اور سعی کرے اور صبح کی نماز تک دنیا کی خوبصورت ترین محفوظ جگہ پر قریبا بیس پچیس ہزار قدموں کے واک کے ساتھ جسم اور روح دونوں کی صحت کا مکمل کام ہو جاے۔رب بھی راضی اور خوش، جسم بھی سمارٹ اور صحت مند۔یوں بھی لگا کہ جیسے بچوں کو ڈانٹ کر نہلانے کے لئے بھیجنا پڑتا ہے تا کہ وہ ماؤں کو خوبصورت صاف ستھرے دکھائی دیں تو یہی انتظام اللہ نے یہاں اپنے بندوں کے لئے کر رکھا ہے۔بھاگو، دوڑو،روحانی اور جسمانی صحت بناؤ اور ساتھ مزا،عبادت ،محبت اور زیارت مفت کی پاؤ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر و فوٹوگرافی:

صوفیہ کاشف

Advertisements

1 Comment

Comments are closed.