“کاغذ قلم کی کہانی”_______از ثروت نجیب

کاغذ قلم کی کہانی انسانیت کی ارتقاء سے جڑی وہ حقیقی داستان ہے جو تین ہزار سال قبل سے آج تک انسان کے ساتھ سفر کرتی آ رہی ہے ـ خواندگی کا انقلاب کاغذ اور کتاب سے جڑا انسانی سرشت میں گھل چکا ہے ـ ہم اگر قلم تھامتے ہیں تو بلا اختیار ہماری انگلیاں حرکت کرنے کو مچل جاتی ہیں کہ کچھ لکھیں ـ انسان جب غاروں میں رہتا تھا تب سے وہ اس جستجو میں تھا کہ لکھے کیسے ؟ تب انسان نے پتھر سے غاروں پہ علامتیں بنائیں اور کبھی چھال اور گھاس سے علامتیں کھودیں ـ لوگ کہتے ہیں یہ کتابوں کی آخری صدی یے تو مجھے تعجب ہوتا ہے درختوں کی چھال سے چمڑے اور کاغذ کی موجودہ ہیت تک انسان نے بے انتہا تگ و دو کی ،مور کے پنکھ سے بانس کے قلم اور اب بال پین تک یہ سلسلہ چلتا رہا ـ مگر ایک مشین کبھی کتاب کے لمس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ـ

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ مصنف

کتاب بھی تو محبوبہ کی طرح ہوتی ہے روٹھ جائے تو منانا پڑتا ہے ـ کتب خانوں میں سجی کتابیں فریاد کرتی ہیں مگر ان کو توجہ دینے والا کوئی نہیں ہے ـ افسوس ہوتا ہے زندگی کو مشین کی طرح گزارنے پہ جب ہم کتاب کو اور کتاب ہمارے لیے ترس رہی ہو مگر ہم اتنا وقت نہیں نکال سکیں کہ اسے اٹھا کر پڑھ لیں ـ اگر یہ ہوتا رہا تو تحقیق کا دور ختم ہو جائے گا افواہوں ‘ سنی سنائی باتوں اور لگائی بجھائی گردش کرے گی ـ ایک فساد برپا ہوگا جو میں آجکل دیکھ رہی ہوں فیس بک کے کمنٹس حتمی بیان کی طرح نیم علم پورا فساد بن کر لوگوں کو آپس میں لڑوا رہے ہیں۔ ہر ایک اپنے دعوے پہ قائم مگر کوئی فریق اس مدعے کے متعلق مستند کتاب اٹھا کر نہیں دیکھتا ـ مجھے افسوس ہوتا ہے جب ہمارے قلم صرف جیب کی سجاوٹ بن چکے ہیں محض ایک خواندہ کا علمی نشان اور بس۔ مگر میں نا امید نہیں ہوں جب میں دیکھتی ہوں کہ بچہ جب قلم پکڑنا شروع کرتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے وہ کچھ لکھے ‘،آڑی ترچھی لکیریں ہی سہی ـ مگر جب وہ دیوار پہ لکھتا ہے تو ہم اس دیوار کی گندگی کے ڈر سے اس سے قلم چھین لیتے ہیں ـ آجکل والدین خوش ہوتے ہیں ایک سال کا بچہ موبائل مانگتا ہے اور وہ دے دیتے ہیں جبکہ دیوار کی گندگی سے ذیادہ نقصان دہ ہے موبائل ہے ـ

ہمارے یہ دوغلے معیار کتابوں اور قلم کا اعتماد چھین رہے ہیں ـ کتابوں کی اپنی کشش ہوتی ہے جو اسے تھامتے ہی نئی دینا دیکھنے کی یقین دہانی کراتی ہے ـ ہم نے الہامی کتاب کو تبرک اور علمی کتابوں کو شو آف کرنے کے لیے الماریوں کی زینت بنا دیا آخر کب تک ؟ کتابیں تخیل کے دروازے کھولتی ہیں وہ ہمارا ہاتھ تھامے ہم کو وہ دکھاتی ہیں جو ہمارا ذہن بناتا ہے ـ ہمارا تخیل ہی وہ کھڑکی ہے جس سے دنیا میں نئی نئی ایجادات ہوئیں ـ بلخ ‘ بغداد ‘ بخارا ‘ غزنی ‘،غور و ہرات اصفہان تمدن کی اوج کو پہنچے ہوئے شہر محض اپنی خوبصورت لالہ زاروں اور لہلہاتے میدانوں کی وجہ سے مشہور نہیں ہوئے بلکہ اپنی تہذیب و تمدن اور کتاب دوستی کی وجہ سے ان کا نام تاریخ کے پنوں پہ روشن ہے ـ جنگ کی بدترین سنگدلی جب کتابیں جلائی گئیں مگر ان کی اہمیت کم نہ ہوئی اور نہ ہی ہوگی ـ میں چاہتی ہوں اکیسویں صدی میں انقلاب ہو ‘ ہر ہاتھ میں کتاب ہو ـ اور اس کی ابتداء گھر سے کریں اپنے بچوں کے ہاتھ میں نصابی غیر نصابی کتابیی پکڑا کر ـ جب وہ قلم تھامیں تو ان کو روکیں نہیں ـ دیوار پہ روغن ہو جاتے ہیں مگر ایک بار بچے کے دماغ میں خوف بیٹھ گیا تو وہ دیوار تو کیا سفید کاغذ کی دہشت سے بھی کبھی نکل ہی نہیں پائے گا ـ البرٹ آئن سٹائن نے کہا تھا ” ایک چیز جو آپ لوگوں کو معلوم ہونی چاہیے وہ ہے کتب خانے کا راستہ ” ـ تاریخ میں انسان دوست جتنے بھی لوگ ابھرے اور جو آج تک فراموش نہیں کیے گئے ان سب میں ایک بات مشترک تھی وہ ہے کتاب سے رشتہ ‘

___________________

مضمون نگار و فوٹوگرافی:ثروت نجیب

Advertisements

8 Comments

  1. ہمیں دنیا سے کیا مطلب مدرسہ ہے وطن اپنا،
    دفن ہوں گے کتابوں میں، ورق ہو گا کفن اپنا

    Liked by 2 people

  2. بہت عمدہ بات کی کہ اگر ابھی سے ہم بچوں کو لکیروں الفاظ اور قلم سے ڈرا دیں گے تو بچہ کبھی ان سے اپنا رشتہ نہیں جوڑ سکے گا. اور یہی ہو رہا ہے. مجھے برقی کتب سے تو خیر کوئی بغض نہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ سیل فون سے اکثریت کتاب پڑھنے کے علاوہ باقی دلچسپیاں پوری کرتی ہے. اور وجہ صرف یہ کہ بچپن سے بچوں کی لفظ سے محبت ختم کروا دی جاتی ہے.

    Liked by 1 person

    1. بہت شکریہ صوفیہ ـــ نور اور ابصار حوصلہ افزائی کے لیے بہت شکریہ ـــ

      Liked by 1 person

Comments are closed.