کہانیوں سے پرے _____________محمد ہاشم خان،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصویر کے عقب میں تحریرشدہ عبارت پڑھنے کے بعد میرے اوسان خطاہوگئے ۔ تاریخ پرنظرپڑی تو حواس معطل ہوگئے،گویا پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہو۔ مجھے کسی بھی حال میں پہنچناتھالیکن میں یہ طے نہیں کرپارہا تھا کہ مجھے جانا چاہئے یا نہیں۔ نئی نئی ملازمت،وسائل کی کمی اور والدہ کی بیماری نے مجھے شدید کشمکش میں مبتلا کردیا تھا، کسی ایک نتیجے پر پہنچنے کی صورت نظرنہیں آرہی تھی اور اس غم کو غلط کرنے کی کوشش میں سگریٹ نکالا،گہراکش لگایااوردھویں کا دبیز مرغولہ فضا میں تحلیل ہوتا ہوا دیکھ کر کچھ مطمئن ہونے کی سعی ناکام کرنے لگا کہ کل۔۔۔۔۔ اور پھر میری پریشانی بڑھنے لگی۔حیرت وبے یقینی ،الجھن اور بے چینی کا سایہ دراز ہوتے ہوتے میرے وجود پر محیط ہونے لگا، وجود گھٹنے لگاتھا،گھٹ کر ایک کیفیت میں تبدیل ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔بے حس و حرکت، جامداورساکت۔۔۔۔۔۔اچانک کوئی ایک خیال میرے ضمیرکو جھنجھوڑنے لگا،مجھے جانا ہے اور مجھے جانا ہی ہوگا اور اس کے لئے مجھے ابھی نکلنا ہوگا،ابھی اوراسی وقت ۔ ائرپورٹ سے باہر نکلنے پر معلوم ہوا کہ مطلوبہ پتے پر پہنچنے کے لئے مزید پانچ گھنٹے لگیں گے،ٹیڑھی میڑھی خستہ حال سڑک اور اوبڑکھابڑ پگڈنڈیوں سے گذرکرجاناپڑے گا۔ایک نیم مرئی خوف،ایک مبہم تجسس،ایک دلگدازاداسی درون ذات خیمہ زن تھی،شام قریب ہوتی جارہی تھی،سورج کی بلغمی شعائیں،تیزی سے پیچھے کی طرف دوڑتے پیڑوں کی سبز پتیوں میں روپوش ہورہی تھیں۔ شام ہوتے ہوتے مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا تھا۔ڈائری کے پنے پلٹتا ہوا۔۔۔۔ورق در ورق،کاغذوں کی لکیروں میں الجھی بکھری زندگی کے دھاگوں کو ایک تار میں جوڑتا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ سے بہتر کون جاسکتا ہے کہ تم چند موہوم نقطوں، ساکن حرفوں،خاموش لفظوں نیزگنجلک سطروں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہو،میں جانتا ہوں کہ تم ایک ٹھوس حقیقت ہو، واہمہ بھی،نقش برآب،سراب اور مغالطہ بھی۔ میں جانتا ہوں کہ تم ایک خبط، ہو خلل ہو اورحسن خیال بھی،تم کائنات کی تکمیل کا استعارہ ہو۔ تمہارے جسم کے نشیب و فراز میں نے دیکھے ہیں۔۔۔جیسے کھڑی دوپہریاکی لُوسے زیروزبر ہوتی زمین۔۔۔۔لہردار،سبزہ زار، شرربار،خوابشار۔۔۔۔ تم سے قبل کوئی چیز مکمل وجود نہیں رکھتی تھی،میں بھی نہیں۔ سب کچھ تشنہ تشنہ،نصف اور سوختہ۔۔میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے ایک ناقابل معافی جرم کیا ہے۔میں نے تمہاری روح کو مجروح کیا ہے، میں جذبات کے کمزور لمحوں میں بہک گیا تھا۔۔۔۔ پگھل گیا تھا۔۔۔مکمل ہوگیاتھا۔۔۔۔جو لمحے ہم محبت میں امرکرسکتے ہیں وہ لڑجھگڑکربرباد کیوں کررہے ہیں،یہ روزروزکی اذیت کیوں۔یہ بیعت،یہ عہدوپیمان۔ کچھ تو یقین کر و۔کتنے سال ہوگئے،تمہیں کچھ اندازہ ہے؟ بہرحال میں اپنے اقدام پر پشیماں ہوں۔ کیا تم انفعال کے وہ قطرے نقطوں کی شکل میں حروف کے رخسار پر محسوس نہیں کررہی ہو؟ لفظ تو تمہارے خاموش تھے میرے نہیں۔ تمہارے الفاظ خاموش نہیں تھے تم سے روٹھے ہوئے تھے کیونکہ تم نے ان کو جذبوں کی روشنائی سے شبنمی کرنا بند کردیا تھا اس لئے وہ سوکھ سوکھ کر کمزور اور روٹھ روٹھ کر سرکش ہوگئے تھے۔۔۔بے معنی،مجرد اور بے نقط۔۔۔۔۔ میرے بھی الفاظ خاموش ہوگئے کیا؟ تم نے ہی کہا تھا میرے لفظوں میں زندگی ہے،روح ہے،حسن ِ کائنات موجزن ہے۔ تو پھریہ تم کو زندہ کرنے میں ناکام کیوں رہے؟تم نے ہی کہاتھا کہ میرے الفاظ دراصل میرے ہی وجودکاجزء ہیں جومکمل کیفیت کے ساتھ تمہاری ذات میں تجسیم ہوتے ہیں،تمہیں احساس لطیف کے ریشمی دھاگوں سے بنتے ادھیڑتے تکمیل کے نئے پیرہن میں ملبوس کرتے ہیں۔ تو پھر تم محبت کایہ نیا پیرہن کیوں اتار پھینکنا چاہتی ہو؟فٹ نہیں بیٹھ رہے؟ راس نہیں آ رہا ہے؟عادت ہے؟تم جہنم ہواوراس وقت تک تمہارا پیٹ نہیں بھرے گا جب تک کہ خدا اپنا بایاں پیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:من موہن کرمکر کی بیٹی کا دکھ

ہاں میں نے ٹھیک سنا ہے کہ میں ایک جہنم ہوں،جو ہمیشہ تشنہ رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہل من مزید، ہل من مزید،ہل من مزید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو ایک پیر رکھے جانے کا منتظر ہے لیکن اس ایک پیر سے قبل پتہ نہیں کتنے پیروں کی وحشت ، تھکن اور مَیل اسے پینا ہے ،میں ایک جہنم ہوں جس سے ہزاروں جہنم پسند آتش نفسانی کو بجھانے کی خواہش رکھتے ہیں،ایک پیرتمہارابھی پڑا ہوا ہے۔ میں ایک جہنم ہوں لیکن یہ بات بھلا کیسے سمجھو ں گی کہ میں زمین زادی نہیں ہوں، پری ہوں، خودسر ہوں،سرکش و پرکشش ہوں۔۔۔ مسام درمسام تشنہ،پیاسی اوراداس ہوں۔۔۔میں دیوداسی ہوں۔۔۔۔۔میں حالت تردید میں جی رہی تھی،جینا ہے اور جیؤں گی کہ خاندانی ورثہ کے نام پر بس یہی ایک فطری اختیارمجھے ملا ہواہے،تم سے بہتر بھلا کون جاسکتا ہے۔ زندگی شمشیرو سناں کے درمیان کسی ایک نوک سے پیوستہ ہوجاتی ہے،کبھی بھی نشترِ فشار رگ جاں کا فصد کھول سکتا ہے،میں جہنم،کبھی بھی جہنم رسید ہوسکتی ہوں۔یہ بات بھلا تم زمین زادے کیسے سمجھو گے۔ میراخیال تھا کہ میں باغ عد ن کے خیابان سے آئی ہوئی کوئی حور ہوں اور ہر پری شمائل کو یہ قسمت نہیں ملتی،لالہ و گل میں نمایاں ہونا سب کا مقدر نہیں جب کہ تم زمین زادے جب تک یہ تسلیم نہیں کرلیتے کہ یہ دنیا ایک جہنم ہے اور یہ زندگی اس کی ایک سزا ہے تب تک تمہارے اندرحیات بخش مقوی کیڑے نمو اورتقویت نہیں پاتے، تب تک تم زندگی جینے کے قابل نہیں ہوپاتے، یہ کیڑے مرنے لگتے ہیں اور ساتھ میں تم بھی۔ تم خاک زادے اسی تصورکی پوجا کرتے آئے ہو کہ یہ زندگی جہنم کے حشرات میں سے ایک کیڑا ہے اور تم اس کیڑے کے مالک ہو،یہی کل تمہاری اوقات ہے لیکن میں پری زادہ تھی، ضد اورحصول آن واحد میں پورے ہونے چاہئیں یہی میری سرشت کا لازمی تقاضا تھا سو میں ضد کرتی رہی۔ ایک پل کے لئے بھی میں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ زمین زادہ صرف ایک کیڑے کا مالک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبڑا،ٹھٹھرا، سکڑا،پژمردہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کن فیکون اس کےاختیارمیں نہیں ہے۔ کس نے کہا کہ میں محبت کےاس پیرہن کواتارپھینکنا چاہتی ہوں،محض مفروضوں کی بنیاد پرحتمی رائے قائم کرنا تمہارا شروع سے وطیرہ رہا ہے۔ تم نے کہا تھا زندگی کے مختلف رنگ ہوتے ہیں،اس رنگ کا انتظار کروجو تمہارا اپنا ہوگا، خالص۔۔۔۔۔۔ آلائشوں، آمیزشوں اور فضلات سے پا ک۔۔۔۔۔۔۔ مجھ کو یقین نہیں آرہا تھا۔اطمینان قلب کے لئے واپس پوچھا تحیر، استعجاب اوراستفہام سے پرلہجے میں،کب چڑھے گا وہ رنگ۔ تم نے کوئی جواب نہیں دیا،بیوی کا فون آگیا،بیٹے کی طبیعت خراب،تمہارے پاس پیسے نہیں،پرس صاف کئے اورچل دیئے اورمیں اس رنگ کا انتظارکرتی رہی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:ملامت
نہیں،تم نے انتظار نہیں کیا،وہی کیا جو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ تمہارے ذہنی ارتقا اورذوق جمال کےارتفاع کے لئے جو دلیلیں اورفلسفے میں نے استعمال کئے وہی اب تم میرے خلاف استعمال کررہی ہو۔مان تو تم نے بھی توڑا پھرفرد جرم صرف مجھ پر ہی کیوں؟آخر،ایسی کیا مصیبت آن پڑی تھی،تم نے میرے بارے میں ایک بار بھی نہیں سوچا،آخر کیوں؟ فکر مت کرو جہاں تم اتنے برے مرگ زدہ اقدام کے باوجود اسی سماج میں اورانہیں اپنوں کے درمیان چل پھرسکتی ہوجو تمہیں ایک بارپیدا کرتے ہیں اور بارباردفن کرتے ہیں تو پھرہم جیسے کیا معنی رکھتے ہیں۔تم نے مجھے بھی تخیل بنا کے رکھ دیا لیکن اطمیان اس بات کا ہے کہ مکمل وجود میں آنے سے قبل ہی مرگیا۔۔۔کوئی مواخذہ نہیں،کوئی محاسبہ نہیں۔۔۔ تمہیں زندگی گزارنے کے لئے جوازکی نہیں جرات کی ضرورت ہے۔جرات جو صرف جہنم زادوں سے مل سکتی تھی۔ تم نے کہا تھا کہ تم شاعرہ ہو،صورت گر ہو، فسانہ نویس ہو، زود حس ہو، تمہاری خواہشوں کی تتلی کے پر نوچ کر پھینک دیئے گئے ہیں اس لئے تم باغی ہوگئی ہو۔تم جھوٹ بولتی ہو۔ ذات کے نہاخانوں میں محبوس پری باغی کیسے ہوسکتی ہے۔ خواہشوں اورنارسائیوں کی کرب انگیز پرافشاں کرچیوں کی کراہ پینے والی لڑکی روایت شکن کیسے ہوسکتی ہے۔بھلا سمجھوتوں کو کہیں بغاوت کا نام دیا گیا ہے؟ تم نے سمجھوتے کئے ہیں،قدم قدم پر سوایک اورسمجھوتہ کیوں نہیں کیا۔ ایک اورمعاہدہ صلح حدیبیہ جیسا۔مجھے تم سے محبت ہے،میں چاہتاہوں کہ تم میرے لئے جیو،میں خودغرض ہوں۔یہ احساس کہ تم زندہ ہو میرے زندہ رہنے کے لئے کافی ہے۔تمہارے بغیرزندگی، زندگی نہیں لاحاصلی کا عذاب ہے،کرب کا ناپیداکنارہے،ناکام حسرتوں کا وسیع ریگزارہے۔ وہ وقت جوہم چوروں کی طرح ساتھ گذارتے ہیں،کہیں کسی ریستوران کے کونے میں،کسی خستہ ہوٹل کے بدبودارکمرے میں ڈر ڈڑ کر ان ہزار ساعتوں سے بہترہے جوبغیر کسی کیفیت،محبت اوروصال کے یوں ہی گذرجاتے ہیں۔ یہ زندگی تم نے منتخب کی ہے،تم شادی سے گریزاں ہولیکن موت سے خائف نہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ تم اچھی تعلیم،تمکین اورآسائشیں حاصل کرنے کے باوجود، اشرافیہ کی ساری نزاکتوں کا پیرہن اوڑھ لینے کے باوجوداس راز کو نہیں سمجھ سکیں کہ زندگی اپنے فطری عناصر میں خود جینے کا ایک مکمل جواز ہے۔زندگی خواہ وہ تمہاری ہو یاکسی رنڈی کی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش میں رنڈی ہوتی،عزت نفس اورخاندانی شرافتوں کے تقدس اور کثافت سے مبرا ہوتی، وجود کی یہ لطافت قابل برداشت تو ہوتی۔ توکیا رنڈیاں آزاد ہوتی ہیں؟تم نےغورنہیں کیا تھا کس طرح تم نے یہ لفظ ادا کیا تھا،تمہارے اندر کی ساری کراہیت باہرآگئی تھی،اورکس طرح میں کیفے سے اٹھ کر چلی آئی تھی، ذات کا سارا کرب،خستگی،تھکن اور ذلت و مسکنت وہیں کولڈ کافی کے مگ میں انڈیل کر۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ وہ تم پی جاؤگے لیکن تم نے غصے سے یوں میزالٹ دی تھی کہ سب کچھ الٹ پلٹ گیا، کولڈ کافی میں موجود میرا وجود یوں فرش پر بکھرا پڑا تھا کہ مجھے منتہائے وصال میں فنا ہونے کا منظر یادآگیا جب تم آبنائے شرم و حیا میں قطرہ فشارانڈیل کرغسل خانے میں چلے گئےاورمیں یوں چت لیٹی رہی،شرمندہ سی،سوچتی رہی کہ یہ کیسا وصال ہے جو آسودگی کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے، یہ وصال نہیں محض نقطہ اتصال تھا،میں چاہتی تھی کہ تم میرے اوپریونہی پڑے رہو،ساری تھکن،درد،کرب اور محرومیاں سانسوں کی دھونکنی کے ساتھ باہر نکل جانے دو لیکن آسودہ ہونے کے بعد تم ایک لاش میں تبدیل ہوچکے تھے اورمیں بھی،سوایک تشنہ لاش پرایک آسودہ لاش کا پڑے رہنا کیا معنی؟ لیکن تم مسیحا نفس لاشوں میں روح پھونکنا جانتے ہوسوانجام کارمیں واپس جی اٹھی بلبلے کی صورت بار بار فنا ہونے کے لئے، میں فنا ہوتی رہی،تم وجود بخشتے رہے۔میں مرتی رہی،تم زندہ کرتے رہے، یہ سلسلہ چلتا رہا پھرایک دن تم نے مجھے چاک سے اٹھا دیا،میری لطافت بھی ناقابل برداشت ہوگئی۔تم نے ایک پل کے لئے بھی نہیں سوچا کہ تم سے ملنے کے لئے کتنے جوکھم اٹھانے پڑتے ہیں،کتنے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں،ہر ایک کی نظروں سے بچنے کے لئے کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں۔تم نے ہی کہا تھا کہ جب ہم لمحوں میں جینے لگتے ہیں تو زندگی مختصر ہوجاتی ہے۔مجھے مختصر کردیا گیا ہے،لمحوں میں جی رہی ہوں۔۔۔۔ادھارمستعارلمحے۔۔۔۔اب گھرسے باہر قدم رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔میں موت سے خائف نہیں ہوں لیکن شادی سے گریزاں ضرور ہوں کہ ایسی صورت میں ہم دونوں کو مار دیں گے،ایک نہ ایک دن انہیں پتہ چل جائے گا، تمہارا بیٹا یتیم ہوجائے گا،تمہاری بے قصوربیوی بیوہ ہوجائے گی،اس لئے جب تک یہ کھیل چل رہا ہے، چلنے دو،مجھے کوئی شکایت نہیں،کوئی بھی عمر مرنے کے لئے اچھی عمر نہیں،لیکن تم مرنے پر بضد تھے،تمہارا خیال تھا کہ تمہارے مرنے سے تمہارا خدا نہیں مرجاتا،تم ٹھیک کہتے تھے لیکن اس خدا کو کچھ نظر کیوں نہیں آرہا ہے،یہ ہمیں گناہ کرتا ہوا کیوں دیکھتا ہے،یہ ان لوگوں کے دلوں کو بدلتا کیوں نہیں جو ہمارے اس مقدس گناہ کا سبب ہیں۔تم ٹھیک کہتے ہو کہ میں کم ظرف ہوں،میں کم ظرف ہوں کہ تم مجھے نہیں ملے،تمہارے علاوہ ہر چیز ظرف سے سوا ملی۔۔۔۔۔۔ترکہ،تحفظ، میراث اورمحرومی۔۔۔۔۔۔ اس دن سے جب تم بڑے بھائی کے ساتھ گھر تشریف لائے تھے دل و دماغ کے تار جھنجھنا رہے ہیں۔رات کے کسی پہر گھنگھرؤں کی چھن چھن تیز ہوجاتی ہے۔یہ تار خاموش ہونے کے لئے تمہاری انگلیوں کے محتاج ہیں۔ گھنگھروکبھی بھی اتارے جاسکتے ہیں،شادی کی تاریخ متعین ہوگئی ہے، ہم سب آبائی گاؤں جارہے ہیں،پرکھوں کو خراج پیش کرنے۔وہاں بھی کئی گلیاں ہیں جو روک روک کر تمہارا پتہ پوچھیں گی۔موت میرے قریب کھڑی ہے اور اس سے آنکھیں ملانے کی ہمت نہیں کہ موت کسی ایک شکل میں نہیں باپ،بھائی،بہن اور شوہرہر روپ میں نظرآرہی ہے۔مجھے معلوم ہے میں کیسے ماری جاؤں گی۔ کاش’گناہوں کاپسینہ‘ پوچھنے کا موقع ملتا۔جو بھی ہو جام فنا او بے خودی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:دیس پردیس
شام ہوتے ہوتے مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا تھا۔ڈائری کی ورق گردانی بھی جاری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسافت کی گرد نے تھکن سے نڈھال کردیا تھا لیکن دھول تھی کہ توانائی بن کرپیروں میں دوڑنے لگی۔۔یادوں کی،محبت کی،وصیت اور حرماں نصیبی کی دھول۔۔۔گورکن کے ہاتھ گرم کئے،بے نشاں ہموار قبروں سے بچتا بچاتا،پتلی کیاریوں سے گذارتا ہوا وہ مجھے ایک قبر کے پاس لے گیا۔قبر زمین کے برابرموزون ہوگئی تھی،آس پاس خودروگھاس اگی ہوئی تھی،سانپ اور بچھو کا خوف بدن میں سرایت کرنے لگا،میں نے دہشت کی اسی پراسرارفضا میں سلام کیا جو سلام کم خوف کی لرزشوں کا اظہار زیادہ تھا۔میں نے محسوس کیا کہ جیسے کوئی مجھ سے ہم کلام ہے’بشیر! تم کیوں نہیں آئے؟‘
پھول چڑھانے اوردعائیں مانگنے کے بعد وہاں سے بسرعت واپس آنا چاہتا تھا لیکن کوئی ایک نامعلوم طاقت مجھے روک رہی تھی اور میں رک گیا۔کوئی آواز میرا تعاقب کررہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے مت جاؤ،آئے ہوتوکچھ بتاکر جاؤ،وہ دنیا کیسی ہے جو مجھ سے چھین لی گئی،کچھ بدلا یا نہیں،کیا اب بھی بے وفائی،بدچلنی،غیرت اور زمین جائداد کے نام پربیٹیاں قتل کی جاتی ہیں؟ تم مت کرنا،اس بچی کے بارے میں سوچنا جس کا باپ اس کی قبر کھودرہا تھا اور وہ باپ کے کپڑے پر سے مٹی صاف کررہی تھی،پسینہ پوچھ رہی تھی،تم ضرور سوچنا کہ عورت کا دل ویجائنا میں نہیں ہوتا اور نہ ہی مرد کی مردانگی اس کے عضو مخصوص میں ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل چاہتا تھا کہ کچھ دیر اور رکوں لیکن شام کے مہیب سائے اورسناٹوں کا لرزہ خیزشوردرون ذات مجھے توڑ پھوڑ رہے تھے۔ میں رنجور، محزون اور فسردہ دل،بے جان قدموں کے ساتھ واپس آگیاکہ کل علیٰ الصبح دوبارہ حاضری دوں گا۔ایک آوازمسلسل تعاقب کرتی رہی۔۔بشیر تم کیوں نہیں آئے؟کیا اب بھی، کیا اب بھی؟؟؟؟؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج درودیوارگریہ کناں ہوں گے، ہر چیز کچھ بولنا چاہتی ہوگی،ہر ایک کے پاس کہانیاں ہوں گی،دیواروں کے پاس حسرت و لمس کی،الماری کے پاس ڈائری کی، باتھ روم کے پاس سگریٹ کی،باقیات میں روشنائی کی ایک شیشی پڑی ہوئی ہے،این لکھا ہوا ہے۔امی کے پاس بھی کچھ کہانیاں ہوں گی،میرے پاس بھی ہیں۔مجھے یاد ہے ڈیڈہم لوگوں میں جیتے تھے،ہنستے تھے،بہت بھرپور اور پھر خاموش ہوجاتے تھے۔بہت خاموش جسے ہم لوگ بھانپ نہیں پاتے تھے،وہ ہمارے درمیان ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوتے تھے۔ہمیں لگتا تھا کہ وہ کوئی کام ادھورا چھوڑ کرآئے ہیں اس لئے ذہن اس طرف چلا گیا ہے۔میں ان کا بڑا بیٹا ہوں،انہیں باپ ہونے کا احساس مجھ سے ملا تھا۔ میں نے ان کی جوانی کے دن دیکھے تھے،وہ سال بھر پہلے بھی جوان تھے اور سو سال بعد بھی جوان ہی ہوتے۔۔۔۔زندگی سے بھرپور لیکن اندر سے کہیں دیمک زدہ جس کا احساس اب مجھے ہورہاہے ۔۔۔۔۔مجھے یاد ہے ایک دن وہ ہم بھائی بہن کو گارڈن میں لے کر گئے،ہم لوگ کھیلنے لگے اور وہ گارڈن میں ایک کنارے بنچ پر بیٹھ گئے،کوئی کتاب ان کے ہاتھ میں تھی،کچھ دیر بعد ہم نے دیکھا کہ وہ سرجھکائے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھے کسی خیال میں مستغرق ہیں۔ہمیں لگا کہ وہ کچھ سوچ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔گھر میں کئی دنوں سے بجلی نہیں ہے،امی کی طبیعت خراب ہے،ہمیں کھانے کی کوئی چیز نہیں دلائی ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن جب پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ زاروقطار رو رہے تھے، انہوں نے ہم دونوں کو بھینچ لیا اور دیر تک اسی عالم میں بیٹھے رہے،آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ہم کچھ پوچھ نہیں سکے۔۔۔۔ برا ہو اس عورت کا جو کل آفس آئی اور مجھ سے ملے بغیرایک مہربند لفافہ چھوڑکرچلی گئی،لفافے میں ایک ڈائری تھی،کچھ تصویریں،کچھ خطوط اور ایک نو ٹ۔ایک تصویر جانی پہچانی سی تھی، ڈیڈ کئی بار مجھے ان سے ملوا چکے تھے،مجھے یاد ہے وہ میرے گال پکڑتے ہوئے ڈیڈ سے مخاطب ہوتیں ’بشیر یہ بالکل تم پر گیا ہے کتنا کیوٹ ہے‘ کاش۔۔۔۔۔‘ اور پھر ڈیڈ خاموش ہوجاتے تھے۔تصویر کو پلٹ کردیکھتا ہوں شاید وہاں کوئی نام لکھا ہو،لیکن وہاں جو کچھ لکھا تھا وہ میرے ہوش اڑانے کے لئے کافی تھا۔۔۔۔۔ناہید! جسے میری وجہ سے دس سال قبل بدچلن ہونے کے نام پر زندہ درگور کردیاگیا۔۔۔۔۔۔۔۔باپ نے بیٹوں کی مخالفت کے باوجود زمین کا ایک بڑا ٹکڑا اس کے نام کردیا تھا۔ان کے مرتے ہی اسے اذیت دینے کا سلسلہ شروع کردیا گیا،اس نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ وہ ہرحال میں زندہ رہے گی اس لئے اس نے خودکشی نہیں کی،بدچلن،بے غیرت اور بے وفا ہونے کا الزام برداشت کرتی رہی تاں آنکہ اسے مارنے کی کوشش کی گئی،اس نے مزاحمت کی اور پھر جاں بحق ہوگئی،وہ جانے سے قبل مجھ سے ملنا چاہتی تھی،لیکن آخری دنوں میں مزاجاً بہت متشدد ہوگئی تھی اس لئے میں نے نظرانداز کردیا کہ شادی کے بعد شاید ٹھیک ہوجائے، مجھے یقین تھا کہ ہم واپس ضرورملیں گے،جلد ملیں گے لیکن پھر وہ وقت نہیں آیا۔مجھے اتنی جلدی نہیں مرنا تھا لیکن مرنا پڑا،میں نے جینے کی بہت کوشش کی ہے لیکن آگہی کا عذاب قطرہ قطرہ خاک کرتا گیااور پھر وہ دن آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی رائگاں تھی رائگاں ہی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں یاد میں کس دن مرا ہوں لیکن فلاں تاریخ کو اس کی برسی ہے،ہرسال بلاناغہ میں اس کی قبر پرحاضری دیتا آیا ہوں اس بار تم چلے جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہہ دینا کہ مجھے معاف کردے،شاید وہ تمہاری بات سن لے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’ڈیئر آنٹی،السلام علیکم‘
’بشیر! تم کیوں نہیں آئے ؟
ڈیئرآنٹی! آج ڈیڈ کی پہلی برسی ہے،انہوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

___________________

تحریر:ہاشم خان،ممبئی ، مہاراشٹر، ہندوستان

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.