سفر حجاز________پارٹ 3

زبان پر یہ کس کا نام آیا:
روضہ رسول سے اٹھ کر واپس ہوٹل کی طرف لوٹنا اک کڑا مرحلہ تھا مگر ستم یہ تھا کہ دن بھر کے سفر کی تھکاوٹ تھی ، تہجد کی نماز مسجد نبوی میں ادا کرنے کی شدید چاہت تھی تو اسی دوپہر عمرے کی روانگی بھی تھی ۔گھڑی دو گھڑی کا آرام نہ کرتے تو عمرہ کی افادیت تھکاوٹ کی نظر ہو جاتی۔ نبی کے در پر حاضری کے بعد رب کعبہ کے در پر حضوری میں بھی اتنی ہی چابک دستی اور مستعدی درکار تھی ورنہ کیا منہ لیکر اسکے در پر جاتے۔یہ بھی پڑھیں:سفر حجاز،پادٹ ٹو

رات بارہ بجے کے قریب مسجد سے واپسی ہوئی تو ذہن میں اک خیال اترتا رہا۔سوچا کہ شاید اسی سرزمین میں، یہیں کے لوگوں میں اتنی طاقت تھی کہ ایسی عظیم ترین ہستیوں کو اپنے اندر سمیٹ سکتیں اور انکے تقدس اور احترام کا بوجھ اٹھا سکتے۔احساس ہوا کہ ہمارے اسلام کے نام پر بننے والی تاریخ کی دوسری ریاست میں جہاں محض چند اولیاء کرام کے مزارات ہیں اور ہم نے انکو ملنگوں،دھمالوں،تعویذ گنڈوں،فقیروں اور منشیات فروشوں کے حوالے کر دیا۔تو یقینا یہ مدینہ کی زمین کی طاقت اور اسکے لوگوں کی ہمت تھی جو اتنی عقیدت بھری جگہوں اور انکی سچائیوں کو صدیوں سے سنبھالے بیٹھے ہیں۔ جو ہوتے یہ مقام گر پاکستان میں تو سوچئے ہم نعوذ باللہ انکا کیا حال کر دیتے۔۔۔

رات کے آخری پہر تین بجے جب میں مسجد نبوی کے لئے تنہا نکلی تو گرچہ ریسیپشن سے لیکر مسجد تک ہر شے،ہر دکان اور ہر روشنی جاگتی تھی ،سناٹا گر نہ تھا تو خموشی ضرور تھی۔کچھ فاصلے کے ہوٹلز میں قیام رکھنے والے زائرین راتیں مسجد ہی کی صفوں پر سوتے جاگتے گزار دیتے ہیں۔قریب کے ہوٹلز والے کہیں کہیں کوئی اکا دکا لوگ نکلتے دکھائی دییے۔رات کے تین بجے ،ایک غیر ملک کی سڑک پر،چند قدم کا فاصلہ تنہا پار کیا تھا تو ایسا کرنے والی یہ زندگی کی پہلی رات تھی۔سالہا سال ابوظہبی کی محفوظ گلیوں میں بھی کبھی یہ ہمت اور وقت زندگی نے نہ دیکھا تھا کہ اندھیری رات میں پھیل جانے والی تاریکی کی قوتوں، وسوسوں،شیطانی ارواح سے ڈر طبیعت کا اک خاص خاصا ہے۔مگر آدھی رات کو پاکستان کے اک روایت پسند گھرانے کی تنہا عورت کا اک انجان دیس کی گلی میں نکلتے خوفزدہ نہ ہونا بھی ان مبارک مقامات کی نورانی تاثیر کا اک معجزہ تھا۔دماغ کو جکڑا ہر وسوسہ اور دل کو جکڑا ہر خوف انسان کو رہائ دے دیتا ہے۔دنیا بھر کی عموماً اور جنوبی ایشیاء کی خصوصاً پسی ہوی،دبای ہوی،چھپائ گئی عورت اس گھر کے قریب پہنچ کر دلیر ہو جاتی ہے۔آدھی رات کو سویا خاندان چھوڑ کر ہوٹل سے نکل آتی ہے،مسجد کی سمت چل دیتی ہے، نبی پاک کے حجرے نے اسکی گردن اور کندھوں پر رکھے بھاری وزن اٹھا دئیے ہیں اور اسکے آس پاس کھڑی پابندی اور زمہ داریوں کی دیواروں سے اسے آزاد کر دیا ہے،آج اسکی رہبر،اور وکیل پیارے نبی پاک کی ذات ہو جاتی ہے۔گھر کے سات پردوں میں،آخری کونے میں چھپا کر رکھی گئی ،عورت کا جھکا سر اٹھ جاتا ہے اور وہ اپنی تمامتر زندگی سے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے۔آج اس مسجد پر،روضہ رسول پر،ریاض الجنہ پر،باجمعاعت نمازوں پر، مصلوں پر ،تہجد اور راتوں کی عبادت پر اسکا برابر کا حق ہے وہ حق جو اپنے شہر کی گلیوں میں کسی نہ کسی بہانے اس سے چھین لیا جاتا ہے۔آج کوی خوف،کوی رعب،کوئ حکم،کوی زمہ داری اسے اس روضے کی جالی تک پہنچنے سے روک نہیں سکتی۔آج وہ حفاظت،عزت اور تقدس کے نام پر چار دیواری میں قید نہیں کی جا سکتی کہ آج رحمت لقب پانے والے کی رحمت کا سہارا اسکے ہاتھ ہے۔اسی لئے جنوبی ایشیا کی عموماً اور پاکستان کی خصوصا تھکی ہوئی،پسی ہوئ عورت سر اٹھائے بے نیازی سے مسجد نبوی کے صحنوں میں آدھی رات کو تنہا بیٹھی ہے،بھائیوں بیٹوں،باپوں اور شوہروں سے لاپرواہ،غیر مردوں کی موجودگی سے بے نیاز،پردیس کی ہواؤں سے لاتعلق،اک پیارے نبی کے آستانے کا سایہ ہی بہت ہے ہر اندیشے،ہر خوف،اور ہر وہم پر چھا جانے کے لئے۔ کچھ دنوں کے لئے یہخودمختار طاقتور عورت جی بھر کر نماز اور تلاوت کرتی ہے،سبز جالی پکڑ کر روتی ہے اور ہرا گنبد دیکھ کر دہائیاں دیتی ہے اور جی بھر کر یہ فرصتیں ،فراغتیں،عبادتیں اور سعادتیں اپنی جھولی میں سمیٹتی ہے کہ آج اسکا حصہ آدھا کرنے کا اختیار اس دنیا کی کسی طاقت کے پاس نہیں۔

فوٹوز دیکھیں:مسجد نبوی

انہیں آذاد،مضبوط اور خودمختار عورتوں کے بیچ مسجد نبوی کے صحن میں تہجد اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد سب سے پہلی طلب مسجد کے گنبدوں پر پو پھوٹنے کے مناظر اپنے کیمرے میں قید کرنے کی تھی چونکہ روضہ رسول میں داخلے کے اوقات سات بجے کے بعد تھے اور اس سے پہلے مسجد دیکھنے اور تصاویر بنانے کے لئے مناسب فراغت تھی۔ سورج کی یہ پہلی کرنیں مجھے مل نہ سکیں کہ مسجد کے کناروں پر بلند بالا ہوٹلز کی عمارتوں نے سورج کو کہیں پیچھے چھپا رکھا تھا۔بیگ میں کیمرہ لئے دو بار مسجد کا اندرونی دروازہ پار کرنے کی کوشش کی مگر کمر سے کمر جوڑے کھڑی سیکورٹی کی عرب خواتین نے دروازے سے ہی” امانتہ” کا رستہ دکھا دیا۔کہ پروفیشنل کیمرے کے ساتھ اندر جانے کی قطعی اجازت نہ تھی۔سو صبح سویرے کے کچھ لمحات مسجد نبوی کی زیارت کرتے ،اسکے دائیں بائیں گھومتے کچھ مناظر قید کرتے فرصت سے گزارے اور پھر گیٹ کے پاس بنے بند لاکر سسٹم کے تحت بنے” امانتہ” میں دو ریال فی گھنٹہ کی قیمت سے اسے جمع کروا دیا جسکے وجود نے میرے قدموں کو حاضری سے روک رکھا تھا۔پیچھے لٹکائے بیگ میں جوتے گھساے کہ جوتے غائب ہو جانے کا مرض یہاں پر بھی خوب پھیلا ہے اور اب کی بار آرام سے دروازہ پار کیا۔اندر سے آب زم زم کے کولرز سے پانی کی بوتل بھر کر بیگ میں ٹھونسی اور ایک بار پھر کئی راہداریوں سے گزرتے کئی رکاوٹوں کو پار کرتے روضہ رسول پہ پہنچی۔اس بار یہ زیارت کچھ مزید فاصلے سے میسر آئی چونکہ ابھی رکاوٹیں اٹھانے کا آغاز تھا اور شاید میری اس بار کی آخری اور مختصرحاضری بھی کہ اگلے کچھ گھنٹوں میں عمرہ کی روانگی سے پہلے مسجد قبا،جنت البقیع،اور کوہ احدکی زیارت کرنے کی بھی آرزو تھی۔نجانے پچھلے بیس سالوں میں پہلی بار کھلنے والا یہ در پھر کب نصیب ہو،نجانے پھر کب ہماری درخواستیں قبول ہوں،۔۔۔۔۔نصیب میں حاضری نہ ہو تو دور رہنے کے ہزار بہانے بن جاتے ہیں۔ہم بھی مقدر کے ان بہانوں سے ڈرتے ہر اہم زیارت پر کم سے کم اک نظر ڈالنے کے متقاضی تھے۔ کچھ گھڑیاں پھر سے سبز جالی کے سامنے مینار سے ٹیک لگائے اپنے شکوے شکایتوں،مرادوں اور شکرانے کا دفتر سجاے، اپنی ہر طلب،حسرت اور خواب اٹھا اٹھا کر پیارے نبی کے حوالے سے اسکے محبوب کے سامنے رکھتی رہی ساتھ ہی ساتھ ان سارے احباب کے محبت نامے،سندیسے اور سلام بھی جنہوں نے نکلتے سمے یا بیچ راہ یا پہنچتے ہی مجھے روک کر تھماے تھے اسکی چوکھٹ پر چھوڑے جسکے نام کے تھے۔

بہت بار قریب تر عزیزوں کے قبروں پر فاتحہ کے لئے جانا ہوا تو ہمیشہ ایک بات محسوس کی۔قبر کے کنارے بیٹھے آپ کبھی اس ہستی کی تاثیر محسوس نہیں کر پاتے جسکی لہد اس قبر میں لیٹی ہوتی ہے۔عجب سا خالی پن محسوس ہوتا ہے۔ واحد روضہ رسول پر یہ احساس دیکھا کہ آپکی مبارک ہستی کی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔دکھای نہ دینے والی آپکی موجودگی دھڑکنوں میں سنای دیتی تھی اور انسان نہ دیکھتے ہوے بھی آپکی ہستی کے دیدار سے مشرف ہوتا ہے۔کیا آپ نے بھی کبھی یہ محسوس کیا۔؟.روضہ رسول پر جائیں تو یہ فرق ضرور محسوس کریں ۔روضہ رسول میں پیاری نبی کی تاثیر اور خوشبو صدیوں بعد بھی آج بھی حیات ہے۔زندگی کی ان کچھ قیمتی ترین الوداعی گھڑیوں کے بعد مڑ مڑ کر دیکھنے کا عمل تھا،بھاری دل تھا اور پلٹتے ہوے قدم تھے۔دل چاہتا تھا کہ یہیں کہیں قریب کا ہی ٹھکانہ ہو کہ کبھی اس گنبد کو اور اس گنبد کے والی کو یوں چھوڑ کر لوٹنا نہ پڑے۔ ریاض الجنہ میں یونہی چند گھڑیوں کی حاضری لمحوں میں گزر گئی تھی۔نکلنا بھی ضروری تھا چونکہ پیچھے بچے جاگ چکے تھے ناشتہ پر میری موجودگی کے لیے گھڑی گھڑی فون کھڑکاتے تھے۔سو اپنی طرف سے الوداعی بوسے دیتی،واپسی کی گستاخی کی معذرتیں کرتی میں واپس ہوٹل کی طرف لوٹ رہی تھی۔ ہم حقیر اور بیکار لوگ ایک ہی گھنٹے کی دعا سے بھر جاتے ہیں۔ساری عمر آہیں بھرنے والی دعائیں چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہیں کچھ مانگی جاتی ہیں کچھ یاداشت سے ہی اوجھل ہو جاتی ہی ۔وہ مسائل وہ شکوے وہ حسرتیں جن پر ہم اٹھتے بیٹھتے ہاے ہاے کرتے ہیں نظروں میں ایسی حقیر ہو جاتی ہیں جیسے جہاز کے بلندی پر جا کر نیچے کے بلند و بالا پہاڑ بھی کم قیمت اور حقیر لگنے لگتے ہیں۔تو مکہ اور مدینہ دنیا کے بلند ترین مقامات ہیں جغرافیائی حساب سے نہیں،تاثیر کے حوالے سے،کہ یہاں پہنچ کر ذندگی کی ہر حاجت،ہر طلب ہیچ ہو جاتی ہے۔

فوٹوز دیکھیں:حرم کعبہ،مکہ

__________

یہاں ہے منزل قدم قدم پر:

مسجد قبا اور جبل احد کی زیارت کو نکلے تو جو ٹیکسی ملی اسکا ڈرایور عرب تھا چناچہ کم زبان سے اور ذیادہ اشاروں سے بولتا تھا۔مسجد قبا کے آس پاس زائرین ،بسوں اور ٹیکسیوں کے ساتھ کبوتروں کا بے تحاشا ہجوم تھا۔اتنے ہجوم میں بھی نوافل پڑھنے کی جگہ ہمیں مل گئی جو ہم نے باہر ہی ایک بچھی دری پر پڑھے۔ ۔ابوظہبی میں ٹیکسی میٹر پر چلتی ہے اور انتظار کروانے کے بھی پیسے کٹ جاتے ہیں مگر سعودیہ کی ٹیکسی شاید میٹر پر نہیں چلتی پھر بھی ہمیں عادت سے مجبور اسکے منتظر ہونے کی بھی فکر تھی ۔سچ تو یہ ہے کہ بدقسمتی سے ان زیارتوں کے بارے میں ہمارا علم بہت ہی بنیادی اور سرسری تھا۔کوی بھی ایسا تفصیلی علم ہمارے پاس نہ تھا جو ہمارے جذبات میں جوار بھاٹا اٹھا سکے۔یہاں ہم بھی ہاتھوں میں کچی گولیاں ہی لئے آے تھے بس یونہی خون لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے کے لئے۔چناچہ اپنی اس بدقسمتی پر شرمندہ ہوتے ہم نے بس بنیادی سی حاضری پوری کی، دیواروں کو ہاتھ لگا کر دیکھا،ذرا سا اندر جھانک کر دیکھا ، کبوتروں سے کچھ دیر خوش کلامی کی اور کچھ کم وقت ہونے کی بنا پر جنتی جبل احد کی طرف روانہ ہوے۔مسجد قبا کی نسبت جبل احد کا فاصلہ کچھ ذیادہ ہے کہ یہ مسجد نبوی سے تقریبا دوسری سمت واقع ہے۔بہت اونچے اونچے پہاڑوں کے بیچ جبل احد اک چھوٹی سی پہاڑی معلوم ہوتا ہے۔اسکی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صدیوں سے ہوتی اسکے اردگرد کی تعمیر یا سڑکوں کی قطاروں نے آس پاس کی زمیں کی اونچائ میں اضافہ کر دیا ہو۔ شہداء احد کے سرہانے کھڑے فاتحہ پڑھتے اور جبل احد پر چڑھ کر ادھر ادھر جھانکتے ایک شے کا بہت شدت سے احساس ہوا کہ کاش کوی گائیڈ، کوی یہاں کا قدیم رہائشی واقف کار یا عزیز ساتھ ہوتا جو ہمیں ہاتھ ہلا ہلا اور انگلی سے اشارے کر کر کے بتاتا کہ یہ پہاڑی۔۔۔مدینہ کی فوج اس طرف۔۔مکہ کی اس طرف وغیرہ وغیرہ۔یقینا بہت سے مقامی لوگوں کے پاس ایسا کثیر علم ہو گا جو اس وقت یقینا ہمارے پاس نہ تھا اور ہم محض اپنے محدود سرسری علم کے سہارے ادھر ادھر جھانکتے تھے اور کچھ سمجھنے یا اخذ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔بورڈز وغیرہ بھی پڑھے مگر سوائے کچھ ضروری ہدایات کے علم میں کچھ خاص اضافہ نہ ہوا۔کسی گائیڈ نے بھی ہمارا راستہ روک کر اپنی خدمات پیش نہ کئیں۔غالبا توقع کی جاتی ہے کہ گھر سے چلتے ہر زائر اپنا مطلوبہ علم ساتھ لیکر آے۔تو بیچ بیچ میں کہیں ہم جیسے نکمے بھی پہنچ جاتے ہیں جنکو الف ب کا بھی علم نہیں ہوتا مگر گناہ بخشوانے جا پہنچتے ہیں توسب زائرین کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی ایک بار اس چوٹی پر چڑھ کر ادھر ادھر دیکھا ۔ہم ناکارہ ناہنجار لوگوں کی ساری عقیدت اور علم مسجد نبوی اور روضہ پاک تک ہی تھا اسکے آگے ہم گونگے بہرے اور اندھے ہوے چلے جاتے تھے۔اپریل کے آخری ایام میں مدینہ کے گیارہ بارہ بجے کے قریب دھوپ خاصی سخت تھی اور سن ہیٹ ،چھتری یا سن گلاسز کی خاصی ضرورت تھی جو اچھی ماں کی طرح میں نے بچوں کو تو خوب پہنا رکھے تھے اور خود اپنا دھوپ سے بچاو کا سب سامان کمرے میں ہی بھول آئ تھی۔تو اب مائیگرین کی بری عادت کا شکار سر لپٹیں پھینکنے لگا تھا چناچہ یہ زیارت بھی ضروری مشق کی طرح ادا کی اور فرض سے فیض یاب ہو کر ہوٹل کی طرف پلٹے۔

مدینے میں ہمارے قیام کا انتہای محدود وقت آخری مراحل میں تھا مگر اب تک ایک زیارت ادھوری تھی جو تھی جنت البقیع کی۔ شومئی تقدیر ہم میاں بیوی دونوں کے ذہن سے جنت البقیع کا لفظ غائب تھا اور ہم ٹیکسی والے سے ریاض الجنہ کا استفسار کرتے تھے جسکے جواب میں اس نے کہا۔”مسجد نبوی اور ریاض الجنہ ۔۔۔سیم سیم”۔اس وقت تک ہم ریاض الجنتہ کی اصل حقیقت سے بھی ناواقف تھے۔سو ہماری تاکید پر وہ ہمیں مسجد نبوی کی دوسری سمت اتار کر چلا گیا۔اس نکڑ سے مسجد میں اندر کی طرف داخل ہوئے تو صحن کے بالکل سامنے سورج کی کھلی روشنی میں سبز گنبد اپنی پوری رعنائی سے جگمگا رہا تھا۔اس نظارے کی نہ مجھے توقع تھی نہ امید کہ صبح میں حسب توفیق سبز گنبد کی ایک تصویر لینے کی خاطر کافی دائیں بائیں گھومتی رہی تھی مگر شاید بالکل مخالف سمت میں ہونے کی وجہ سے ناکام رہی تھی۔اب جو ایک دم سبز گنبد اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ سامنے آیا تو اسے جی بھر دیکھنے کی اور کیمرے میں کچھ مناظر سمیٹ لینے کی مراد تکمیل کو پہنچی۔کچھ گھڑیاں اس صحن میں گزار کر گنبد خضرا کو تھوڑی سی دیر میں بہت سارا دیکھ کر ہم پھر سے ریاض الجنہ (یعنی دراصل جنت البقیع ،جسکا نام ہم بھول بیٹھے تھے) کی تلاشں میں نکلے۔ مسجد کے سامنے واقع ایک اونچی دیوار کے گرد گھومتے جنت البقیع تلاشتے رہےکہ ایک شک سا تھا کہ یہ ہی جگہ ہو سکتی ہےمگر اسکے دروازے تک نہ پہنچ سکے کہ تھکاوٹ اور دھوپ سے بچوں کی بس ہونے لگی اور ہم اپنی قسمت پر آمین پڑھتے کمرے کو لوٹے۔

یہ بھی پڑھیں:سفر حجاز_پارٹ ون

چیک آوٹ کا اور عمرے کے لئے نکلنے کا ٹائم ہوا جاتا تھا ۔سچ تو یہ ہے کہ اس ایک رات اور آدھے دن میں اتنی بھی فراغت نہ ملی تھی کہ دو گھڑی گوگل ہی کر کے دیکھ لیتے جنت البقیع کا رستہ۔یہ تو گھر واپس لوٹ کر جانا کہ جس دیوار کے گرد پھرتے رہے اسی کے اندر ہزاروں عظیم ہستیوں کی جنت تھی۔۔

عمرے کے لئے جلدی جلدی پیک آپ کرتے پاکستان سے بہن کا اک غیر متوقع فون آیا جو ہماری کم علمی کو مدنظر رکھتیں ہمیں اپنے کئی بار کے تجربات کی بنا پر کچھ معلومات دینے لگیں تو علم ہوا کہ ریاض الجنہ تو دراصل روضہ رسول کا وہ حصہ ہے جس پر سبز قالین بچھا ہے اور جسے جنت کا حصہ کہا گیا ہے۔جس پر پہنچ کر پہلے نوافل اور پھر درودوسلام پڑھنا تھا۔یہ تو کم سے کم مجھے خبر نہ تھی نہ ہی سبز قالین کی کوی جھلک دیکھی تھی۔میں تو بہت قریب بھی نہ پہنچی تھی تو امید تھی کہ میں محروم مراد ٹھہری تھی۔اب جو حقیقت کا ادراک ہوا تو دل کو فکر لاحق ہو گئی کہ اب اگر اس نکڑ سے آ کر نکلنے سے پہلے جانتے بوجھتے ریاض الجنہ میں قدم دھرے بغیر وہاں نوافل اور سلام کیے بغیر روانہ ہوگئی تو یہ غم ساری عمر نہ جاے گا اور اس گھڑی اس لمحے میں کسی خسارے کے سودے کے موڈ میں نہ تھی۔میاں صاحب نے میرے تیور دیکھے توسخت نظروں سے گھورا ،وقت کی شدید کمی کا احساس دلا کر،جھوٹی سچی تسلی اور دلاسہ دیکر جلد از جلد نکلنے کا فرمان جاری کر دیا۔مگر میں بھی سوچ بیٹھی تھی کہ آج چاہے آندھی آے ،طوفان آے، دنیا ادھر کی ادھر کیوں نہ ہو جاے،میاں مجھے تنہا چھوڑ کر نکل جا ے یا پھر قتل ہی کر دے ریاض الجنہ تو مجھے ابھی اسی وقت ہر حال میں پہنچنا ہے۔سو غسل کرکے لباس بدل کر میں بغیر کچھ کہے کچھ پوچھے میاں کی سخت نگاہوں کو نظرانداز کرتی کمرے سے نکلی اور ایک آخری بار مسجد نبوی کی طرف لپکی۔فکر یہ بھی تھی کہ خواتین کے لئے روضہ رسول کھلنے کا وقت ہی دو بجے ہے جس سے پہلے ہی ٹیکسی نے گیٹ پر منتظر ہونا ہے اور ریاض الجنتہ تک پہنچتے پہنچتے سب دروازے باری باری کھلتے کھلتے بھی کم سے کم آدھ پون گھنٹا لگ جاتا ہے

اب یہ تھا کہ قطاروں میں بیٹھے مسلسل یہی دعا کر نے کا عمل تھا کہ مالک یہاں سے اتنی محنت کے بعد اب خالی ہاتھ نہ لوٹائیں۔آدھ پون گھنٹے کے بعد دو بجے دروازے کھلنے شروع ہوے تو کرم یہ ہوا کہ سب دروازے ذرا زرا سے فرق سے کھلتے چلے گئے اور کچھ مناسب وقت میں اس بار میں جالی کے اسقدر قریب جا پہنچی کہ جتنی پہلی دونوں بار میں نہ ہو سکی تھی۔اس بار مبارک جالی تک پہنچی،روضہ کی دیوار کو چھوا ،اسکے ساتھ کھڑے ہو کر ایک بار پھر وہ ساری مرادیں نکال کر پیارے نبی کے قدموں میں ڈھیر کئیں جنکا وزن میں ہر طرف ساتھ ساتھ اٹھاے پھرتی تھی۔اگر جو میں اس بار نہ آتی تو یہ سعادت تو ہر گز نہ پا سکتی تھی کہ دیوار کے اس پار ایک ہاتھ کے فاصلے پر کھڑی تھی ، اتنی قریب کہ یہاں سے سرگوشی بھی کرتی تو اندر ضرور سنای دیتی۔ اب جو مڑ کر دیکھتی ہوں تو اپنی ساری مرادیں محفوظ ہاتھوں میں پاتی ہوں۔۔کہ اس سے بڑھ کر انسان کا سہارا کیا ہو گا،اس ہاتھ کو تھام کر تو انساں بند آنکھوں سے پل صراط پار کر جائے گا یہ تو مجھ بیکار وجود کی کچھ حقیر سی التجائیں تھیں۔ابھی تک پیروں کے نیچے سبز قالین دکھائی نہ دیتا تھا۔ہجوم میں پھنسے کبھی یوں بھی لگا کہ کہیں ناکام ہی نہ لوٹنا پڑ جاے کہ ہجوم ہمیشہ کی طرح اس قدر تھا کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔پیچھے سے دھکے لگتے رہے اور میں ادھر ادھر گرتے آگے کو دھکیلی جاتی رہی۔نظریں کبھی جالی اور کبھی سبز قالین کو تلاشتی پھرتیں۔کئی بار بیچ میں اپنی آخری حد سمجھ کر کھڑے کھڑے اشاروں سے نوافل بھی پڑھے۔مگر یہ آخری حد نہ تھی کہ جس ریاض الجنتہ کی تسبیح کرتے ہم سارا مدینہ پھرے تھے اب اس تک رسائی کے بغیر نکالے جاتے بھلا یہ دنیا کے سخی ترین اور پوری کائنات کے لیے رحمت بنکر آئے پیارے نبی کے شایان شان کہاں تھا۔ایسے ہی گھسٹتے گھسٹتے ایک بار پاوں کے نیچے سبز قالین جھانکنے لگا تو یوں لگا کہ جیسے تپتی دھوپ میں اچانک کوئ نخلستان آ گیا ہو۔آہ! میرے مولا !۔۔۔۔۔۔وہ کیا لمحہ تھا جب قدموں تلے ہرا قالین،ہاتھ بھر کے فاصلے پر نور سے بھری سبز جالی اور میرے بالکل سامنے ایک سجدے کے لئے خالی جگہ تھی ایسے جیسے وہ جگہ صرف میرے ہی لئے گھیر کر رکھی گئی تھی ۔میں ساتھ والی خاتون سے اجازت طلب کرتی وہاں پہنچی اور پہلی بار میں نے اشاروں کی بجائے سر فرش پر ٹکا کر، جنت کی زمیں پر اپنا پہلا سجدہ کیا۔ اک ایسا سجدہ کہ جسکے بعد انساں چاہتا ہے کہ بس آج اسی لمحے اس زندگی اس کائنات کا انت ہو جاے، آج زندگی کی گھڑیاں جامد ہو جائیں اور وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ابدیت کے سفر پر جا نکلے، وہ گھڑی جب انسان کا اپنے آپ سے اس دنیا سے اور اس زمین کی ہر چیز سے جی بھر جاتا ہے اور وہ مڑ کر واپس لوٹنے سے بیزار آگے بڑھ کرفنا ہو جانا چاہتا ہے۔یہ جنت ہے جسمیں داخل ہو کر انسان کو دنیا کی ہر نعمت،ہر خوشی اور ہر محبت سے نفرت ہو جاتی ہے۔

————–

تحریر و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements

One thought on “سفر حجاز________پارٹ 3

  1. Pingback: سفر حجاز——–پارٹ 4 – SofiaLog.Blog

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.